کتاب۔ بنجارا


مصنف۔ سعود عثمانی
حاصل مطالعہ۔ نعیم فاطمہ علوی

بنجارا سات ملکوں ( پاکستان، سعودی عرب، آذربائجان، ترکیہ، امریکہ، کینیڈا اور بھارت) کا سفر نامہ ہے۔ جو سعود عثمانی کے اسفار کی کتھا ہے۔ جس کتاب کو وصول پاکر احساس تفاخر ہو اور پڑھ کر قاری فرحت و انبساط میں ڈوب جائے۔ وہ کتاب کتنی بھید بھری ہوگی۔

سعود عثمانی، جتنے خوبصورت شاعر ہیں، اتنی ہی خوبصورت اور توانا نثر بھی لکھتے ہیں۔ قدرت بھی اِن پر مہربان ہے۔ انہیں دنیا گھومنے اور اسے اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جس انسان کا باطن، حسن و لطافت سے بھرا ہوا ہو تو گرد و پیش کا حسن اُس پر خود بخود آشکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ کائنات کے روبرو کھڑے ہو کر بلا لسی شرکت غیر اُسے دیکھتے اور پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور پھر یہ پہچان عشق میں بدل جاتی ہے۔ اور یہ عشق وہ ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

”بے تکلف دوست کی ہم نشینی کا اپنا لطف ہے اور اکیلے پن کا اپنا مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا ہے کہ خود سے ملاقات کے لئے سفر بہترین موقع ہوا کرتا ہے۔ سفر، تخلیہ، اور فراغت، خود سے بھرپور ملاقات کے لئے اور کیا چاہیے؟ سو خود کلامی کی لذت وافر تھی زیرلب خود کلامی کی لذت گفتگو کرنے والے سے پوچھنی چاہیے اور خود کلامی شاعر کی ہو تو محفوظ بھی رہ جاتی ہے“

ان کے شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ملاحظہ فرمائیے!

اسلام آباد میں میرے گھر پر سعود عثمانی کے اعزاز میں تقریب تھی۔ لاہور سے آتے ہوئے موٹر وے پر ان کی کار کا خوفناک حادثہ ہوا، جس کا ذکر انہوں نے اپنی اس کتاب میں بھی کیا ہے۔ اس تفصیل کو پڑھنے کے بعد رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ مگر جب میں نے واقعے کا اُس تقریب سے تقابلی جائزہ لیا تو حیرت دو چند ہو گئی کہ گو وہ قدرے تاخیر سے پہنچے تھے مگر ایسا ضبط کے محفل کے شرکاء کو احساس تک نہیں ہونے دیا کہ وہ کچھ ہی دیر پہلے کس کرب سے گزر کر آئے ہیں۔ شعر سناتے رہے اور محفل کو گرماتے رہے۔

سعود عثمانی، صاحبِ مطالعہ ہیں، لہذا وہ مناظر کی جس خوبصورتی سے عکس بندی کرتے ہیں، اسی مشاقی سے علمیت کے در بھی وا کرتے چلے جاتے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے قاری، مصنف اور واقعات میں بُعد کا گمان نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے تینوں ہم کلام ہیں۔

نثر سجی سنوری اور اسلوب کسی صاف شفاف جھرنے کی طرح رواں دواں ہے۔ کہیں بھی مصنوعی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ انہوں نے روایتی حربوں سے سفرنامے کو خوشنما بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی دلربا یا مہرباں محبوبہ سے سفر نامے کو مزین کرنے کی اکتسابی کوشش کی۔

بنجارا میں بہت سے اسفار کی روداد ہے۔ جو کالمز کی صورت میں مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں۔ مگر اِن میں کہیں بھی جھول نظر نہیں آتا سفر تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ واقعات اور منظر نگاری میں لکھاری کے ساتھ قاری بھی گھُل مِل جاتا ہے۔ اور سفر سے لطف اُٹھاتا چلا جاتا ہے۔

اب میں کچھ نثر کے ٹکڑے شامل کروں گی۔ یہ کتاب کا نعم البدل تو ہرگز نہیں، ہاں کتاب پڑھنے کا اشتیاق ضرور بڑھائیں گے۔ بنجارا کا صحیح لطف اٹھانے کے لیے کتاب کو خود پڑھنا پڑے گا۔ آپ بھی میری طرح پڑھیے اور اِس سے لطف اٹھائیے۔

مال روڈ پر برف باری کا منظر

”ہم مال روڈ پر آ گئے، سفید کبوتروں کے پر ہمارے گالوں، بالوں اور کپڑوں پر اترتے گئے اور جمتے گئے۔ اس خنکی اور سردی میں ایک آگ تھی جو جوانی کی آگ کے ساتھ مل کر دو آتشہ ہوتی تھی اور اس کے نارنجی شعلے جسم کی رگ رگ میں بھڑکتے تھے۔ یہ ہماری زندگی کی پہلی برفباری تھی، خالص، بے لوث اور بہت خوبصورت محبت کی طرح۔ ایک سفید رنگ میں کتنے ہی رنگ تھے جو ہمارے اندر بکھرتے تھے۔“

مناظر سعود عثمانی کی شخصیت کا حصہ بن کر یوں ہم کلام ہوتے ہیں کہ ہوبہو لفظوں میں تصویریں بناتے چلے جاتے ہیں۔

”کافی کا کپ ہاتھ میں لئے ہوٹل کے حسین عقبی لان میں نکلا تو چھاجوں مینہ برس رہا تھا۔ بارش ایک ایسی دیرینہ دوست ہے جو ہر کہیں آ ملتی ہے، سمندروں، میدانوں، پہاڑوں، وادیوں اور دریاؤں میں جب سب دوست کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں تو بارش مسکراتی، اٹھلاتی، لہراتی، چھیڑتی اور بھگوتی آتی ہے اور آپ کے گالوں، بالوں اور ہونٹوں پر بوسے ثبت کرتی اور پھول کھلاتی جاتی ہے۔ پیاری دوست تمہارے سوا کون ہے جو ہر جگہ پیار دے سکتا ہو“

سمندر کے سفر کے مناظر ملاحظہ فرمائیے۔

”ہم نے کھڑے ہو کر چاروں طرف سمندر اور ساحلوں کو دیکھا چاروں اور ہلکے نیلے فیروزی زمردی اور گہرے لاجوردی رنگوں کی سیج سج ہوئی تھی دور جزیروں کی کاہی اور سبز رنگ پہاڑیاں ہمیں اشارے سے بلاتی تھی سورج اب بلند ہو کر کرنوں کے زاویے بدل چکا تھا اور پانی میں دھوپ کے پھول نہا رہے تھے تیز اور قدرے سرد ہوا جسم میں گدگدیاں کر کے گزرتی تھی اور کشتی کے کنارے لگا ہوا ترک جھنڈا مسلسل پھڑپھڑاتا تھا“

”اسی شام جب سورج ڈھلے افق پر سرخ روشنیاں جل اٹھی تھی اور ساحل کے ساتھ ساتھ رنگ برنگے قمقمے روشن ہو رہے تھے، میں اس ہلالی سڑک پر داتچا کی سیر کے لیے نکلا۔ موسم ایسا شاداب اور منظر ایسا حسین تھا کہ میلوں تک پیدل چلنے پر بھی تھکن کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ میرے بائیں ہاتھ سمندر میں شفق کے پھول رقص کر رہے تھے۔ اور حد نگاہ پر سرمئی چادر لمحہ لمحہ نقرئی سمندر کو ڈھانپتی جا رہی تھی“

بسا اوقات واقعات کی تلخی افسردہ بھی کر دیتی ہے۔ جو لکھاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ دکھ سے بھرے جذبات یوں گویا ہوتے ہیں۔

”میں سیاہ پہاڑوں، سرمئی چٹانوں، کالے تنوں اور درختوں کے ٹھنٹھ دکھ کے ساتھ دیکھتا رہا، اگر یہ آگ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی، تب بھی کتنے دکھ کی بات ہے؟ حکومت یا حکومت کے افراد سے دشمنی ان درختوں سے نکالنا کیسی بے رحمی ہے؟ ان بے زبان درختوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جو منظر کو ہریالی دیتے ہیں، پرندوں کو ٹھکانہ اور خوراک دیتے ہیں، بھیڑ بکریوں کو چارہ بخشتے ہیں، انسانوں کو سایہ اور پھل بخشتے ہیں، یہ تو محسن درخت ہیں، محسنوں کو آگ لگا دینے والے پاگل ہی ہو سکتے ہیں۔

میں پہاڑی جنگلات دیکھتا گیا اور دکھ سے بھرتا گیا لیکن اسی کے ساتھ ساتھ میں نے قدرت کے اس کمال نظام کا بھی مشاہدہ کیا جو ہر زخم بھر دیتا ہے، بہت سے جلے ہوئے تنوں اور سیاہ شاخوں میں سے ہری کونپلیں نکل رہی تھیں، یہ شجر ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، یہ سوختہ جسم اندر سے ہرے تھے اور زندگی ان کے اندر نمو کرتی تھی۔ ہریالی کی آرزو ان کے خمیر میں تھی اور یہ امنگ سبز پتے بن کر دنیا کو زندہ رہنے کا ہنر سکھا رہی تھی۔ سعود عثمانی، تم جو اس منظر کے گوشے میں کھڑے ہو، اپنا شعر یاد کرو،

راکھ سے پھوٹتی کونپل کو تو دیکھو کہ یہ بات
کتنی دشوار تھی اور کیسے ادا ہو گئی۔ ”

بہرحال میں نے اس کتاب کے ساتھ تین دن گزارے۔ ندی نالے، آبشاریں، پہاڑ پھول، پھل برف باری اور دنیا بھر میں بکھرے حسن کے ہر منظر کو محبت، حیرت اور تحیر کی اُسی نگاہ سے دیکھا، جس نگاہ سے سعود عثمانی نے دیکھا۔

Facebook Comments HS