جیل بیتی


 

بصری فنون کی کائنات میں Natflix کی مثال ایک ایسے باغِ دلکشا کی سی ہے جو غالب کی یاد تازہ کرتا ہے

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا

ہم جسے عرفِ عام میں فلم کہتے ہیں اس کی کون سی صورت ہے جو یہاں موجود نہیں۔ حال ہی میں سات قسطوں پر مشتمل ایک کہانی دیکھی جس کا نام بلیک وارنٹ ہے۔ دلی کی مشہور تہاڑ جیل کو بنیاد بنا کر یہ کہانی بنی گئی ہے جو یہاں ستر اور اسی کی دہائی کی جیل کی زندگی پر اثر انداز ہونے والے ملکی حالات کو ان کی تمام تلخیوں کے ساتھ گالیوں سے لبریز مکالوں کی صورت میں بیان کرتی ہے۔

بلیک وارنٹ میں مرکزی کردار نوجوان زہان کپور نے نبھایا ہے جو ششی کپور کے پوتے ہیں۔ ششی کپور نے شہرت اگرچہ کمرشل سینما سے پائی لیکن جب بھی خود کوئی فلم بنائی تو وہ آرٹ فلموں کی دنیا میں ایک بے مثل اضافہ ثابت ہوئی۔ ان میں ”کل یگ“ اور ”جنون“ کے نام نمایاں ہیں۔ جنون بحیثیت ہدایتکار شیام بینیگل کی ابتدائی فلموں میں سے ایک تھی۔ یہ نامور ہدایت کار حال ہی میں اس جہاں کو سدھار گئے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کے نہیں آیا۔

آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کارِ جہاں بے ثبات، کارِ جہاں بے ثبات

یہ سیریز اس کتاب کی ڈرامائی تشکیل ہے جسے تہاڑ کے ایک ریٹائرڈ جیلر سنیل گپتا اور ایک صحافی سنتیرا چوہدری نے لکھا اور 2019 میں Cofessions of a Tehar jailer کے نام سے شائع ہوئی۔

چار سو ایکڑ پر قائم نیو دلی میں تہاڑ گاؤں کے قریب واقع یہ جیل نو بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کے نظام میں بہتری لانے والوں میں ایک نام آئی پی ایس افسر کرن بیدی کا بھی ہے جو آئی جی جیل خانہ جات رہیں۔ انہوں نے اپنے اے ایس پی کے دور سے ہے بڑی شہرت کمائی تھی اور ان کے سخت مزاج کی وجہ سے وہ ڈنڈا بیدی کے نام سے جانی جاتی تھیں۔

بلیک وارنٹ دیکھنے کے بعد مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ راجہ انور کی کتاب ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ کی ڈرامائی صورت ہے کہ دونوں میں بیان کردہ ماحول بے حد مماثل ہے۔ راجہ انور جنہوں نے ”جھوٹے روپ کے درشن“ سے اپنے زمانے کی یوتھ کو سحر انگیز کیا، نے سیاسی قیدی کے طور پر 1969۔ 70 کے سالوں میں راولپنڈی اور بہاولپور کی جیلوں میں بتائے دنوں کا احوال رقم کیا۔ ان کے اس وقت کے ساتھیوں میں معراج محمد خان اور پرویز رشید جیسے مشہور سیاستدان بھی شامل تھے۔ راجہ انور نے ایامِ اسیری کے تجربوں اور مشاہدات کو قلم کی بجائے نشتر سے رقم کیا ہے جنہیں پڑھ کر قاری حیرت سے یہ سوچتا ہے کہ افسوس پانچ دہائیاں پہلے بھی ہم ایسے ہی بد عنوان، بے حس، بے ضمیر اور ظالم تھے جیسے آج ہیں۔

میری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی

بلیک وارنٹ اور راجہ انور کی کتاب میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ جیل کے عملے کی آمریت اور قیدیوں کی مظلومیت کی ایسی کہانیاں ہیں کہ بعض اوقات دل مانتا نہیں کہ یہاں یہ کچھ ایسی دیدی دلیری سے ہوتا ہے۔ اپنی پولیس کی نوکری کی وجہ سے چونکہ میں بھی ان حالات سے ایک حد تک آگاہ رہا ہوں لہذا ان دلدوز تفصیلات کی صحت پہ شبہ ممکن نہیں۔

راجہ انور کا بیان بہت نادر ہے۔ دو سالوں میں پسِ زنداں گزارے ہوئے دنوں کی داستاں کے کینوس کو جیل کی دیواروں کے باہر تک پھیلا کر ایسی ایسی کہانیاں بیان کی ہیں کہ اردو کا بہت سا افسانوی ادب اس کے سامنے بونا نظر آتا ہے۔ اس کتاب میں جہاں جیل کے عملے کی بد عنوانیوں کا ذکر ہے وہیں ایک ایسے جیلر کا تذکرہ ہے جو بہاولپور جیل کے حاکم تھے۔ آبائی تعلق نواب خاندان سے تھا۔ شاعر بھی تھے اور علمی مرتبہ بھی بلند تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ خوبی تھی کہ بہت بلند اخلاق رویے کے مالک تھے۔

میر مل کے ہوئے ہیں تم سے بہت خوش پیارے
اس خرابے میں میری جان تم آباد رہو

یہاں مجھے اردو کی کچھ اور کتب یاد آ رہی ہیں جو زندانی ادب میں خاص مقام رکھتی ہیں۔ کیوں نہ ان کا ذکر بھی کر دیا جائے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS