پاکستان کی دو طرفہ مشکلات اور وزیر اعظم کی سہل کوشی


تحریک انصاف نے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے گزشتہ سال منعقد ہونے والے انتخابات کی تحقیقات کرانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی، قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور شبلی فراز نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں سیاسی تحریک چلانے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے اور حکومتی کمیٹی کا جواب سننے سے انکار پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ خلوص دل سے اپوزیشن پارٹی کے ساتھ بامقصد بات چیت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ البتہ انہوں نے تحریک انصاف کی طرف سے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی بات کرنے کی بجائے پارلیمانی کمیٹی بنا کر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ مذاکرات کے بارے میں وزیر اعظم بظاہر اپنی آمادگی اور اپوزیشن کے مطالبے پورے کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن وہ سامنے آنے والے مطالبات پورے کرنے کی بجائے انتخابی دھاندلی پر تحقیقات پر آمادہ ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس معاملہ کو ایک سال ہو چکا ہے اور تحریک انصاف نے دھاندلی کو قومی ایجنڈے پر لانے کی تمام کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد بالآخر اپنے مطالبات کو عمران خان کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات تک محدود کیا تھا۔ ان مطالبات کے تحت پارٹی درحقیقت اپنے سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کی رہائی کے علاوہ سیاسی پارٹی کے طور پر کام کرنے کی مہلت مانگ رہی ہے۔

وزیر اعظم، تحریک انصاف کی طرف سے مذاکرات سے انکار کا مرثیہ پڑھتے ہوئے خود سرخرو ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک بھی کہا ہے کہ تحریک انصاف نے تحریری مطالبے پیش کرنے کے بعد حکومتی کمیٹی کا تحریری جواب سننا بھی گوارا نہیں کیا جو 28 جنوری کے اجلاس میں پیش ہونا تھا۔ البتہ عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کے وفد نے مذاکرات کے اس دور کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ پارٹی قیادت کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے دو بنیادی مطالبات پر سنجیدگی دکھانے میں ناکام ہوئی ہے اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ایسے مذاکرات میں شریک ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کا یہ موقف معروضی سیاسی صورت حال کے حوالے سے درست جائزے پر مشتمل ہے۔ اگرچہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا تھا لیکن میڈیا میں سامنے آنے والے بیانات سے اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ حکومت اس حوالے سے کوئی مطالبہ ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ لیکن اب وزیر اعظم اور ان کے ساتھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ہم نے تو تحریری جواب تیار کیا تھا لیکن تحریک انصاف ہی مذاکرات سے منکر ہو گئی۔ بہتر ہوتا کہ شہباز شریف جس جواب کا حوالہ دے کر خود کو سیاسی طور سے درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس جواب کو بیان کے ساتھ جاری کر دیا جاتا۔ یا حکومت اگر تحریک انصاف کے مطالبات کے جواب میں متبادل حل پیش کرنا چاہتی تھی، تو اس کے بارے میں تفصیلات دی جاتیں تاکہ تحریک انصاف کو بھی احساس دلایا جاسکتا کہ اسے بھی ہٹ دھرمی چھوڑ کر معاملات طے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وزیر اعظم کے بیان میں اب تحریک انصاف کو واپس انگیج کرنے کا جو طریقہ تجویز کیا گیا ہے، اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ سوال گندم اور جواب چنا۔ تحریک انصاف اپنے بانی چیئرمین کی رہائی چاہتی ہے اور 9 مئی اور 26 نومبر کے سانحات کی پرچھائیں سے نکلنا چاہتی ہے لیکن حکومت اس پر غور کرنے کی بجائے، اب انتخابی دھاندلی کی ’مشروط‘ پیشکش کر رہی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے اپوزیشن کے احتجاج کے بعد انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ موجودہ حکومت بھی اب ویسی ہی کمیٹی بنانے پر تیار ہے بشرطیکہ کہ 2018 والی پارلیمانی کمیٹی بھی اپنا کام مکمل کرے اور نئی کمیٹی 2024 کے انتخابات کا بھی جائزہ لے۔ حالانکہ تحریک انصاف بھی یہ باور کرچکی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحقیقات سے اب کچھ حاصل نہیں ہو گا، اس لیے دوسرے مطالبات پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے برعکس شہباز شریف انتخابات کے لگ بھگ ایک سال بعد پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کی ’پیش کش‘ کر رہے ہیں۔ اس کوشش کو دھوکہ دینے کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ ایک ایسی حکومت میں شامل پارٹیاں اور ان کے ارکان کیسے ان انتخابات میں دھاندلی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر سکتے ہیں، جن میں گڑ بڑ کی وجہ سے ہی وہ مبینہ طور پر کامیاب ہو کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ ایسے میں عمر ایوب کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ شہباز شریف کے پاس یہ مطالبہ بہت دیر سے پہنچا ہے۔ اب پارٹی اس مطالبے کی بجائے دوسرے مطالبات پورے کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

حیرت انگیز طور پر ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے ساتھ سیاسی اختلافات دور کرنے کے لیے وزیر اعظم جس پارلیمانی حل کی پیشکش کر رہے ہیں، ایک تو اسے پہلی کمیٹی کے کام سے مشروط کیا جا رہا ہے اور دوسرے انہوں نے خود ہی واضح کر دیا ہے کہ ایسی کمیٹیاں صرف خانہ پری کے لیے ہوتی ہیں اور ان کے ذریعے کبھی کوئی سچ برآمد نہیں ہوتا۔ اسی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’2018 میں ہم سے کمیٹی کے لیے نام مانگے گئے اور کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا۔ کمیٹی تو بنی مگر وہ دن ہے اور آج کا دن کمیٹی ضرور بنی ہوگی، ایک آدھ اجلاس بھی ہوا ہو گا مگر باقی سب تاریخ کا حصہ ہے‘ ۔ یعنی وزیر اعظم خود یہ بتا رہے ہیں کہ وہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے پی ٹی آئی سے ایک جعلی اور ایسا وعدہ کر رہے ہیں جس پر عمل درآمد کے بعد بھی نتیجہ صفر ہی رہے گا۔ حکومت نے حال ہی میں پیکا قانون میں تبدیلی کر کے جھوٹی خبریں پھیلانے اور نشر کرنے والوں کو سزا دلوانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بہتر ہوتا کہ کسی قانون کے تحت جھوٹے اور جعلی بیان دینے پر بھی پابندی لگائی جاتی تاکہ سیاسی لیڈر اور حکومتی رہنما عوام اور ساتھی سیاست دانوں سے جو جھوٹے وعدے کرتے ہیں، ان کا احتساب بھی ممکن ہو۔

وزیر اعظم کو ملک میں سیاسی تعطل کے خاتمہ کے لیے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور اسے محض اپنے حامیوں کے سامنے پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ ملک کا ایک مقبول لیڈر جب تک قید میں رہے گا اور سب سے بڑی پارٹی کو اس کے جمہوری حقوق سے محروم کیا جاتا رہے گا، اس وقت تک ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے سوالات ہوتے رہیں گے۔ اس لیے یہ حکومت ہی کے فائدے میں ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ معاملات طے پا جائیں تاکہ سب مل کر ملک کو درپیش دیگر اہم معاملات پر کام کرسکیں۔ اس وقت ملک کو اندرونی طور پر معاشی بہتری کے منصوبے پورے کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر سفارتی تعلقات میں مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد مسلسل یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ پاکستان پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت جیسے سیاسی مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی مناسب اور قابل عمل پروگرام پیش نہیں کر سکی، ویسے ہی امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے کے لیے بھی کوئی واضح اور قابل فہم حکمت عملی سامنے نہیں ہے۔ یہ حقیقت تو سب پر واضح ہے کہ پاکستان اب امریکہ کے لیے اہم نہیں ہے۔ افغان جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ کی اسٹریٹیجک ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد واضح ہو رہا ہے کہ نئی امریکی حکومت کا بنیادی مسئلہ امریکہ کے حالات بہتر بنانا اور ملکی معیشت کا استحکام ہے۔ اسی لیے اسرائیل و مصر کے سوا سب ملکوں کو دی جانے والی امداد 90 دن کے لیے معطل کردی گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کو گزشتہ پانچ چھے سال کے دوران امریکی امداد کا سلسلہ بند کیا جا چکا ہے لیکن مختلف فلاحی منصوبوں کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ امداد ملتی رہی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کے لیے اس امریکی امداد کا حجم 116 ملین ڈالر تھا جو اب معطل کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کو یہ امریکی امداد بند ہونے سے شاید کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات میں وضاحت اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے صراحت، پاکستان کی ترجیح ہونی چاہیے۔ البتہ شہباز شریف کی حکومت اس بارے میں مکمل طور سے خاموش ہے۔ پاکستان کو طے کرنا چاہیے کہ اگر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت نہیں ہے تو وہ بھی اب امریکہ پر انحصار کرنے پر تیار نہیں ہے۔ حکومت چین کو پاکستان کا سب سے اہم اسٹریٹیجک پارٹنر تو کہتی ہے لیکن وہ یہ تعلق امریکہ کو ’ناراض‘ کر کے برقرار نہیں رکھنا چاہتی۔ پاکستانی اشرافیہ جس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو خاص اہمیت حاصل ہے، تاریخی طور سے امریکہ نواز رہی ہے اور کسی صورت امریکہ کے ساتھ دوری کی حامی نہیں۔ حالانکہ امریکہ اب پاکستان کو کسی سطح پر اہمیت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی حکومت کوئی واضح اور جرات مندانہ خارجہ پالیسی بیان جاری کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

ملکی سیاسی بحران کے ساتھ غیر واضح خارجہ پالیسی کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا میں پاکستان کے دوستوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ یہی صورت حال ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ حکومت کو یہ مان لینا چاہیے کہ سیاسی بحران اور تصادم کی موجودہ صورت حال ختم کیے بغیر سفارتی طور سے بھی پاکستان کوئی واضح اور جرات مندانہ حکمت عملی نہیں بنا پائے گا۔

وزیر اعظم تحریک انصاف کو عاجز ور کمزور سیاسی قوت سمجھ کر اسے نظر انداز نہ کریں۔ سیاسی بیانات دینے کی بجائے سیاسی اختلاف کم کرنے کے لیے شفاف اور دو ٹوک حکمت عملی اختیار کی جائے۔ تاکہ سب سیاسی قوتیں مل کر ملک کے لیے کام کر سکیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali