انتظار صاحب، آنسو اور معذرت
انتظار صاحب کی آنکھوں میں آنسو؟ ان کے ہونٹوں پر معافی کے الفاظ؟
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ آنکھوں دیکھی کہتا ہوں نہ کانوں سُنی۔ بلکہ اس کے لیے نیا محاورہ گھڑ لینا چاہیے، آنکھوں پڑھی۔ میں نے یوں پڑھا۔ اور پھر شش و پنج میں پڑ گیا کہ کیا واقعی؟ بے یقینی کے سے عالم میں اس صفحے کو دیکھتا گیا اور یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔
اس صفحے پر آننتھ مورتی کا نام لکھا تھا اور اس نام سے میری واقفیت انتظار صاحب کے ذریعے سے ہوئی تھی۔ انتظار صاحب کے تعارف سے پہلے اسی قدر معلوم تھا کہ وہ جنوبی ہندوستان کی کنّڑ زبان میں لکھتے ہیں اور معاصر عہد کے بڑے ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے ہم زبان گریش کرناڈ کے ڈرامے تغلق پر ان کا تعارفی مضمون پڑھنے کو مل گیا تھا۔ ان کا ناول سنسکار بعد میں پڑھا اور جب پڑھا تو قائل ہو گیا۔ اب ان کا نام دیکھ کر یادوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ گریش کرناڈ سے ان کا ذکر۔ ساہتیہ اکادمی کی سربراہی۔ برلن میں ملاقات، پھر انتظار صاحب کے ساتھ سینما ہال میں جا کر اس ناول پر بننے والی فلم کا خاص شو۔ ساہتیہ اکادمی کے لیے پاکستانی کہانیوں کا انتخاب۔ اس انتخاب میں انتظار صاحب کا مجھے نتّھی کر لینا۔ نئی دلّی۔ پھر مین بکر بین الاقوامی انعام کے لیے انتظار صاحب اور آننتھ مورتی کی نام زدگی۔ وہ انعام کے لیے حریف بننے کے بجائے ایک دوسرے کے دوست نظر آئے۔ انعام کی تقریب میں ملاقات۔ دو شاندار بوڑھے ادیبوں کی معانقہ کرتی ہوئی یادگار تصویر۔ غرض پورا ایک تذکرہ۔
اس موقعے پر خوب تصویریں کھنچیں۔ خوش گوار یادوں کے ساتھ تقریب تمام ہوئی۔ آننتھ مورتی نے یہ فقرہ بھی کہا کہ انعام کے مُنصفین ایشیا اور افریقہ کے ناول نگاروں کی جدوجہد اور تحریروں کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے اہل نہیں۔ اس پر کوئی تنازعہ نہیں اٹھا۔ انھوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان کے بجائے انعام کے حق دار انتظار حسین ٹھہرائے جاتے تب بھی ان کو اتنی ہی خوشی ہوتی۔ انعام جس کو ملنا تھا، اسے مل گیا، ہم سب اپنے اپنے گھر کو سدھارے۔ تنازعہ اس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب آننتھ مورتی نے ہندوستان کے الیکشن کے بارے میں رائے دی۔ بیمار وہ لندن میں بھی تھے مگر واپس گئے تو بیماری نے شدّت اختیار کر لی۔ اس کے باوجود انھوں نے نریندر مودی اور الیکشن میں بی جے پی کی (اس وقت تک) ممکنہ کامیابی کے بارے میں ایسے دو ٹوک اور سخت بیانات دیے کہ وہ ایسے ملک میں رہنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ ان کے مخالفین نے کہا کہ ان کے لیے کراچی کے یک طرفہ ٹکٹ کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ مگر آننتھ مورتی ڈٹے رہے۔ یہاں تک کہ اپنے ملک سے ملکِ عدم کا سفر اختیار کیا۔
بیماری کی شدّت کے دنوں میں انھوں نے چھوٹی سی کتاب اس طرح لکھی گویا اپنے مقصد کی تکمیل کر رہے ہیں۔ Hindutva نام کی یہ کتاب میں نے پڑھی تو پہلا خیال انتظار صاحب کا آیا۔ اگر وہ یہ کتاب پڑھ لیتے تو اپنے اس دوست کے اور گرویدہ ہو جاتے۔ مگر اس کتاب کی اشاعت سے پہلے انتظار صاحب بھی رُخصت ہوچکے تھے۔
یہ خبر مل گئی تھی کہ آننتھ مورتی نے اپنی خودنوشت سوانح مکمل کر لی تھی اور اس میں انتظار صاحب کا ذکر بھی ہے۔ آننتھ مورتی کا دیہانت 2014 ء میں ہوا۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ایس آر راما کرشنا نے کیا ہے جو حال ہی میں ہندوستان میں شائع ہوا ہے۔ ہندوستان سے کسی بھی کتاب کا یہاں پہنچنا اب جوکھم کا سفر بن گیا ہے۔ مگر اس دوران ایک کتاب دوست شخصیت جئے بھٹا چاریہ روز متعلقہ باب انٹرنیٹ پر لگا دیا اور یوں ہہم تک اس کی رسائی ہو گئی، اور اس باب کو پڑھ لیا۔
”زمان و مکاں سے ماورا لمحے“ نام کے اس مختصر باب میں آننتھ مورتی نے 1996 ء کے دوران نیپال کی ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے جب ہندوستان، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے چند ادیب بغیر کسی ایجنڈا کے اس مقصد کے لیے جمع ہوئے تھے کہ بابری مسجد کے انہدام اور مذہب کے نام پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بارے میں باتیں کریں۔ ساری کارروائی غیررسمی تھی، اس لیے باتیں بھی پورے خلوص دل کے ساتھ ہوتی نظر آتی ہیں۔ آننتھ مورتی پس منظر کی تفصیلات اور باریک جُزئیات سے صرف نظر کر کے چند فقروں میں تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ انہی چہروں میں انتظار حسین کی تصویر بہت صاف ہے اور وہ اس روپ میں نظر آتے ہیں جس میں ان کو کم دیکھا گیا ہے۔
وہ اس حلقے میں شامل بنگلہ دیش کی ایک خاتون ادبیہ کا ذکر کرتے ہیں جو ساڑھی باندھے ہوئے ہیں، بکھرے ہوئے بال سامنے گر رہے ہیں اور وہ اپنے شوہر کی گم شدگی کا ذکر کر رہی ہیں جو 1971 ء میں یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکلے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔ اپنے شوہر کی تلاش میں وہ یونیورسٹی جاتی ہیں جہاں پاکستانی فوج کے سپاہی بندوقیں تانے موجود ہیں اور لاشوں کی ڈھیر میں سے اپنے شوہر کو شناخت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی آواز بھّرا جاتی ہے اور ان کے چبھتے ہوئے سوالات کا رُخ آخر میں پاکستان کے ادیبوں کی طرف ہو جاتا ہے۔

آننتھ مورتی کے برابر پاکستانی ادیب انتظار حسین بیٹھے ہوئے ہیں جو ان کے بقول اپنے دوست بھٹّو کی طرح جناح کے طرف دار تھے اور سمجھتے تھے کہ اسلام پر بغیر رکاوٹ عمل درآمد کے لیے علیحدہ ملک ضروری ہے۔ جناح کی حد تک تو بات درست ہے کہ انتظار حسین ان کے قائل تھے مگر بھٹّو کی دوستی کا حوالہ سمجھ میں نہیں آیا۔ لیکن اس کے بعد تصویر صاف ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔
”نوکیلی ناک والے انتظار حسین نے اپنے ہاتھ گود میں رکھ لیے تھے جیسے مراقبے کی حالت میں ہوں اور ان کی بات سُن رہے تھے۔ جب بنگلہ دیشی خاتون اپنی بات کہہ چکیں تو پاکستان کی ایک نوجوان مصّنفہ بے اختیار سسکیاں بھر کر رونے لگی۔ انتظار حسین نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ ان کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں اور گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ “ اپنے ملک کی جانب سے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں ”انھوں نے انگریزی میں کہا۔“ میں اس کے سوا کیا کہہ سکتا ہوں کہ ہم نادانستگی میں آپ کے شوہر کے قتل میں شریک ہیں؟ ”انھوں نے تائید کی خاطر دوسرے پاکستانی ادیبوں کی طرف دیکھا۔ تین خاتون لکھنے والیوں نے سر جھکا لیے اور اپنے آنسوؤں سے ان کے الفاظ کی توثیق کر دی۔“
”یہ ایسا واقعہ ہے کہ میں بھول نہیں سکتا۔“ آننتھ مورتی نے لکھا ہے۔ اسے پڑھ کر ہم بھی نہیں بھول سکتے۔ چند ادیبوں کی یہ ملاقات ایک پورے دور کی کیفیت کو سمیٹ لیتی ہے۔ بنگالی ادیبہ کی تکلیف دل کو چھو لیتی ہے اور نہ جانے کتنی بے کس و مجبور عورتوں کا مقدر ٹھہری ہوگی، کتنے خاندانوں کی آزمائش۔ اور جیسے یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بنگلہ دیش میں نہیں، پاکستان میں۔ اور پھر انتظار حسین کا ردعمل۔ ان کا یہ رنگ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں بھی جذباتیت سے پرہیز کرتے تھے اور ذاتی زندگی میں بھی۔ ان کے بارے میں ایسا کوئی بیان نظر سے نہیں گزرا جب ان پر رقّت طاری ہو گئی ہو یا وہ فرطِ جذبات سے مغلوب نظر آئے ہوں۔ دو ایک مرتبہ ان کو ایسی صورت حال میں بھی دیکھنے کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے جب وہ قریبی عزیز کے انتقال کے صدمے سے دوچار ہوئے۔ مگر ایسے موقعوں پر بھی اپنے جذبات پر قابو رکھنے کے قائل تھے۔ مگر یہاں انتظار صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔
یہ بیان اس عمومی تصویر سے مختلف ہے جو ہم سب کے ذہنوں میں محفوظ ہے مگر یہ لحاظ رہے کہ یہ بیان آننتھ مورتی کا ہے جن کو خود انتظار صاحب اپنا قریبی دوست گردانتے تھے۔ اور ان پر پورا مضمون لکھ دیا تھا۔

اعتبار کیسے نہ کیجئے، میں اس دُبدھا میں تھا کہ وہ مضمون میرے دھیان میں آ گیا۔ ”دوست اس طرح بھی بنتے ہیں۔“ اس مضمون کا نام ہے اور یوں شروع ہوتا ہے : ”یہ تو لندن جا کر کھلا کہ آننتھ مورتی جی سے میرا تعلق اب رسمی علیک سلیک والا نہیں ہے۔ چپکے ہی چپکے دل کو دل سے راہ ہوئی ہے۔ اور ایک قلبی رشتہ قائم ہو چکا ہے۔“ دوست نئے ہوں یا پرانے، جذباتی وابستگی کا ایسا برملا اظہار ان کے ہاں کم نظر آتا ہے۔
لندن میں ملاقات کے دوران آننتھ مورتی نے یہ ذکر کر دیا تھا کہ وہ آپ بیتی لکھ رہے ہیں اور ایک باب انتظار صاحب پر بھی باندھا ہے۔ یہ بات انتظار صاحب کو یاد رہ گئی اور اپنے مضمون کے آخر میں اس کا تذکرہ کر ڈالا:
”اور ہاں وہیں لندن کی ملاقات میں وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے اپنی جیون کتھا لکھی ہے۔ اس میں تمہارا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ اچھا؟ میں کتنا حیران ہوا۔“
اس سے وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں ؛ جو مضمون کا نقطۂ منتہا ہے :
”ارے تو کیا واقعی کسی سچی پکی دوستی کا ڈول پڑ چکا ہے۔“
ذکر لکھا جا چکا تھا، اس کی اطلاع مل گئی مگر یہ کیسے معلوم ہوتا کہ اس میں لکھا کیا ہے اور اس کا کیا شاخسانہ بن سکتا ہے۔ اس قصّے کو پورا ہونے میں وقت لگتا ہے۔
اس مضمون کے ساتھ بھی ایک یاد جُڑی ہوئی ہے مضمون لکھ رہے ہیں، یہ میں نے سُن لیا تھا، پھر موضوع سے بھی مجھے دل چسپی تھی۔ اس لیے فوراً ان سے مانگ لیا۔ انھوں نے مضمون پورا اور میرے رسالے کے لیے بھیج دیا۔ میں نے پڑھا تو ایک کمی کا احساس ہوا۔
اس میں کئی شہروں میں ملاقات کا ذکر ہے مگر برلن کا نام بھی نہیں۔ ”برلن میں کون سی ملاقات ہوئی تھی؟“ انھوں نے الٹا مجھ سے پوچھ لیا۔ میں تو وہاں موجود تھا، اس گفتگو میں بھی شریک تھا جب آننتھ مورتی نے ساہتیہ اکادمی کے لیے پاکستانی کہانیوں کا انتخاب کرنے کی بات کی تھی۔ انھوں نے میری بات سن لی مگر جیسے اس پر اعتبار نہیں کیا۔ ”مجھے ایسی کوئی ملاقات یاد نہیں آ رہی۔“ انھوں نے صاف جواب دے دیا۔
دوچار تصویروں کے حوالے دیے۔ پھر ان کی تحریر کا حوالہ دیا۔ ان کے سفروں کا احوال ”نئے شہر پرانی بستیاں“ میں درج ہے جو 1999 ء میں شائع ہوا۔ نیپال کے اس سفر کو چھوڑ کر کتاب زیادہ تر ہندوستان کے اسفار کا تذکرہ ہے۔ باقی ساری شہر آخر میں سمیٹ لیے ہیں اور ”پورب گئے پچھّم گئے“ کے نام سے آخری باب میں یورو پ کے شہروں کے ساتھ برلن کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس باب میں لکھا ہے :
” 97 ء میں اسی ادارے نے برصغیر کی آزادی کی گولڈن جوبلی منانے کا اہتمام کیا۔ ہندوستان سے جو لکھنے والے آئے ان میں اردو کا لکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ دوسری زبانوں کے تھے جن میں صرف پروفیسر اننت مورتی سے پہلے سے متعارف تھا۔ باقیوں سے تعارف وہیں ہوا۔“
باقیوں میں نرمل ورما، کیدار ناتھ سنگھ، دلیپ چترے، گیتا ہری ہرن جیسے لوگ تھے مگر انھوں نے نام صرف اننت مورتی کا لیا۔ پھر اسی سفر کو بھول گئے۔ ان کو وہ سفر یاد آیا نہ انھوں نے مضمون میں ترمیم کی۔ مضمون جیسا لکھا گیا تھا، اسی طرح ”دُنیازاد“ میں چھپ گیا۔ اس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے اس طرح کے شخصی مضامین کم لکھے ہیں۔ آخری دنوں میں وہ ارادہ کر رہے تھے کہ دوچار لوگوں پر اور لکھیں گے۔ سعید محمود پر مضمون باندھا تھا اور مظفر علی سیّد پر۔ مظفر صاحب کا کچھ احوال ان کے کتاب کے دیباچے میں آ گیا مگر یہ منصوبہ ادھورا ہی رہ گیا کیونکہ ان کی زندگی کا افسانہ ختم ہو رہا تھا۔
خیر، یہ اکلوتا مضمون ہی کافی ہے۔ راوی ثقہ ہے اور اسے صاحبِ افسانہ کا قرب بھی حاصل ہے اس لیے نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں۔ مجھے حیرت ہے تو اس بات پر کہ یہ ذکر کہیں اور آیا کیوں نہیں۔ یہ بات ایسی تو نہ تھی کہ چپ چاپ دبا دی جاتی۔ انتظار صاحب کا ردعمل یعنی ان کے آنسو بہت واضح ہیں اور ان کی معافی محض انفرادی فعل نہیں، ہم سب کی طرف سے ہے۔ اس لیے اس کی خبر بھی ہونا چاہیے۔ ان کے آنسوؤں کے بھی تو معنی ہیں۔
ذاتی زندگی میں نہ سہی، انتظار صاحب قوی سانحات پر رو سکے تھے؟ اب میرے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہے، 1971ء کے واقعات کا پورا ایک سلسلہ ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے افسانوں میں بیان ہوا ہے، ”شہر افسوس“ پھر ”بستی“ میں ڈھل جاتا ہے۔ ان تحریروں کے علاوہ مجھے دو اور مواقع یاد آتے ہیں جب میں نے ان کو اس بارے میں بولتے سنا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں ڈاکٹر جعفر احمد نے ایک گفتگو کا اہتمام کیا تھا۔ انتظار صاحب نے ”بستی“ کا یہ باب پڑھ کر سنایا تھا، پھر مجھ سے اس بارے میں مکالمہ کیا تھا۔ یہ گفتگو رکارڈ بھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کی پروفیسر نیاز زمان نے 1971 ء کے حوالے سے پاکستان اور بنگلہ دیش کی نثری تحریروں کا انتخاب Fault۔ lines کے نام سے کیا تھا جس میں مَیں ان کا شریک کار تھا۔ پروفیسر نیاز زمان کراچی آئی تھیں تو صبین محمود والے ٹی ٹو ایف میں باضابطہ ایک پوری محفل منعقد ہوئی تھی۔ اس میں اسد محمد خان اور مسعود اشعر بھی شریک تھے اور نیاز زماں نے اپنی تلخی بھرے گلے شکوے کو شکر میں لپیٹنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انتظار صاحب کی گفتگو میں ایسی کوئی بات نہ تھی جو ان کی تحریروں سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
کھٹمنڈو والی صورت حال پھر پیدا نہیں ہوئی۔ مگر میں سوچ رہا ہوں کہ یہ آنسو اور معذرت والی بات سامنے کیوں نہ آئی۔ اس کا کوئی ذکر سننے میں نہیں آتا۔ یہ آنسو ہے وقعت تو نہیں ہوسکتے تھے۔
یہی بات سوچتے ہوئے انتظار صاحب کی کتاب دوبارہ الٹ پلٹ کردیکھی۔ خود انھوں نے یہ تذکرہ نہیں کیا۔ وہ وہاں تک پہنچتے ہیں پھر دوسری طرف مُڑ جاتے ہیں کہ ہمیں شک بھی نہیں ہوتا کہ یوں بھی ممکن تھا۔ شہید اللہ قیصر کی بیگم سے اپنے تعارف کا ذکر کرتے ہیں :
”بنگلہ دیش کی خواتین کو اس سفر میں پہلے نیلم احمد بشیرنے دریافت کیا۔ انتظار صاحب لکھتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ گُھلی ملی بیٹھی“ ہے اور آواز دے کر بلاتی ہے، پھر پوچھتی ہے ”انتظار صاحب ان سے آپ نہیں ملے۔“ ان میں ایک نمایاں اور باوقار خاتون پنّا قیصر ہیں، شہید اللہ قیصر کی بیگم۔ اس نام پر انتظار صاحب چونک جاتے ہیں۔
پھر یہ بتاتے ہیں کہ جب یہ خبر وہاں یعنی پاکستان پہنچی تھی تو ”اس خبر نے سب سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو پریشان کر دیا تھا۔“
یہ مکالمہ آگے چلتا ہے مگر پھر رک جاتا ہے :
”ہم سب ہی چپ ہو گئے۔ ایک افسردگی کی فضا پیدا ہو گئی۔“ اور اس کے بعد ”پھر خاموشی چھا گئی۔“
انتظار صاحب کے اپنے بیان میں بعض اسی تفصیلات مفقود ہیں جن کا ذکر آننتھ مورتی نے کیا ہے۔ یہ کیسے؟ ان کی مانیں یا اُن بات مانیں؟ دونوں میں سے کس کی بات؟ ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انتظار صاحب نے دانستہ طور پر یہ ذکر گول کر دیا ہو۔ وہ اپنی بعض تفصیلات اور احساس کو نجی اور ذاتی سمجھتے ہوئے اپنے پڑھنے والوں سے چھپا جاتے تھے۔ انھوں نے شاید یہ لکھنا مناسب نہ سمجھا ہو۔ لیکن ایسا کیوں؟ جب واقعہ یوں ہوا تو لکھا جانا چاہیے تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال کہ کیا انتظار صاحب خود اپنی روداد کے نامعتبر راوی un۔ reliable narrator ہیں جیسے کہ جدید ناول میں ہوا کرتا ہے۔
دونوں بیانات میں تفادت ہے۔ پھر کس کی بات کا اعتبار کریں اور کس کی بات کا نہ کریں؟ پھر خیال آیا اس سفرمیں انتظار صاحب نے ایک رفیق سفر کا ذکر بھی تو کیا۔
”دل کو دلاسا دیتے ہوئے میں نے سوچا کہ اچھا اکیلا تو نہیں ہوں۔ اکیلے سفر سے بھی تو میں ڈرتا ہوں۔ نیلم احمد بشیر بھی توہمراہ ہوں گی۔ یہ سہارا اس وقت کتنا غنیمت نظر آیا۔“
تو اس سہارے کو ہم بھی غینمت سمجھ لیتے ہیں۔ اس واسطے کہ نیلم احمد بشیر نے نیپال جاکر سفرنامہ بھی لکھ دیا، اور یوں ایک بڑی داستان کا ادبی حصّہ بن گئیں۔
نیلم احمد بشیر کا سفرنامہ ”نیلہ نیپالہ میں“ بہت پہلے پڑھا تھا۔ اب پھر ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکالا۔ کتاب اپنے طور پر دل چسپ ہے اگرچہ پہلا سفر نامہ لکھنے کے اکسائٹمنٹ میں کہیں کہیں سانس پھولنے لگتی ہے جیسے پہاڑی اونچائی پر سے تیزی کے ساتھ اُتر رہی ہوں۔ خیر اس وقت تو میں اس کتاب کو جمال ہم نشیں کی تلاش میں پڑھ رہا ہوں کہ انتظار صاحب کی جھلک نظر آ جائے مگر وہ بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔
بنگلہ دیش کے ادیبوں سے ملنے کے بعد 1971ء کا سایہ نیلم احمد بشیر کے خوش گوار موڈ پر بھی پڑجاتا ہے :
”یہ سُن کر مجھے بہت افسوس اور کچھ شرمندگی سی محسوس ہوئی کہ بنگلہ دیش کی 1971ء کے بعد کی جنریشن کے لوگ ہمیں کتنا ظالم اور کیسا monster سمجھتے ہیں۔ انھوں نے ویسے بھی ہم مغربی پاکستانیوں سے کبھی deal ہی نہیں کیا اس لیے ان کی تاریخ ہمیں اسی طرح پیش کرتی ہوگی! کیا واقعی ہم اتنے بُرے، اتنے غاصب، اتنے بے انصاف تھے؟ کیا واقعی تاریخ ہمیں بددیانت رقم کرے گی؟“
اس قسم کے کے معصومانہ جذبات کے بعد وہ شہید اللہ قیصر کی بپتا ان کی بیگم سے سُنتی ہیں۔ نیلم احمد بشیر نے یہ ماجرا دکھ کے گہرے احساس کے ساتھ اور قدرے تفصیل سے لکھا ہے۔ اور اس طرح لکھا ہے کہ ہم سب کو پڑھنا چاہیے۔ پھر اس کے بعد ان کا بیان اس لمحے کی طرف مڑ جاتا ہے جس کو آننتھ مورتی نے زمان و مکاں سے ماورا قرار دیا تھا۔ ان کے بیان میں بھی آننتھ مورتی سامنے آتے ہیں مگر ان کا رول بدل گیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں :
”پنّا قیصر کی کہانی اتنی درد ناک تھی کہ ہر شخص Spell۔ bound سا ہو کر بس سُنتا ہی چلا گیا۔ بہت سی خواتین کے چہرے غم گین ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ شوبھا اور سدھارتھ نے چائے کی بریک کا اعلان کر دیا کیوں کہ ماحول بہت سوگوار اور گمبھیر ہوچلا تھا۔“
اس اقتباس میں چند خواتین کے چہروں اور آنسوؤں کا ذکر ہے، جس زمرے میں انتظار صاحب نہیں آتے۔ نیلم احمد بشیر نے کم لکھا ہے مگر یہاں بھی تناؤ کا احساس واضح ہے۔ لیکن پیراگراف ختم ہونے سے پہلے آننتھ مورتی بیانیے میں داخل ہو جاتے ہیں :
”اس سے پہلے کہ سب لوگ اٹھتے آننتھ مورتی صاحب نے اپنی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ سب کو باہر آنے کی دعوت دی۔ وہ سب کو کچھ دکھانے کے لیے بہت مشتاق نظر آرہے تھے۔“
ظاہر ہے کہ جو وہ دکھانے کے لیے مشتاق تھے، ہمالیے کا نظارہ تھا، کسی کے آنسو نہیں۔ نیلم بھی وہ منظر دیکھنے چل پڑتی ہیں، آنسوؤں کا ذکر ہے نہ معذرت کا۔ فصیلِ کشور ہندوستان یعنی ہمالیہ کی چوٹیاں کہر سے نکل کر سامنے آ گئی ہیں اور انتظار صاحب آنکھوں سے اوجھل۔
نیلم احمد بشیر بہرحال اپنی وضع کی لکھنے والی ہیں اور ان کے ہاں بعض تفصیلات مختلف ہیں۔ اب آپ صورت حال دیکھیے کہ ایک کمرے میں کئی ادیب موجود ہیں جن میں سے تین افسانہ نگار اس کمرے میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں لکھیں گے۔ ان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تینوں نے لکھنے کا الگ الگ انداز اختیار کیا ہے۔ کیا وہ ایک ہی واقعے کے بارے میں لکھ رہے ہیں؟ یا پھر انتظار صاحب کے ایک اور دوست، اور 71 ء کے بارے میں بڑے موثر افسانے لکھنے والے مسعود اشعر کے الفاظ میں اپنی اپنی سچائیاں بیان کر رہے ہیں۔ اگر وہ واقعہ پیش آیا تھا تو کس طرح، جیسے آننتھ مورتی نے لکھا یا جیسے نیلم احمد بشیر نے؟ کس کا بیان واقعیت کے مطابق ہے، اس لیے کہ یہ سوال کسی خیالی موشگافی کی بات نہیں، انتظار صاحب کے آنسوؤں اور معذرت کی بات ہے، جس کی اہمیت ادبی بھی ہے اور اس تناظر میں سیاسی بھی۔
انتظار صاحب کے دوست اور معروف نقاد مظفر علی سیّد کو جاپان کی فلم ”راشومون“ بہت پسند تھی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آکوٹا گاوا کی اس کہانی کا بھی اردو میں ترجمہ کر ڈالا جس سے اس فلم کی کہانی ماخوذ تھی۔ بدلتے ہوئے راوی اور راوی کے ساتھ بدلتے ہوئے واقعات کو اس فلم میں بڑی چابک دستی سے نبھایا گیا ہے یہاں تک کہ بعض تجزیہ نگار ایسی صورت حال کے لیے ”راشومون“ کے نام کو اصطلاح کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں۔ ممکن ہے کہ مظفر علی سیّد کے توسط سے ”راشومون“ کا اثر انتظار صاحب تک بھی پہنچا ہو۔ یہ اس لیے قرین قیاس ہے کہ مظفر علی سیّد کے اصرار پر انھوں نے تانی زاکی کے ایک افسانے کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ مگر یہ کسی نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ راشومون کا سا اثر خود انتظار صاحب کے گرد قائم ہو جائے گا اور ہم سوچتے رہ جائیں گے کہ آنسو خیالی ہیں یا امر واقعہ؟ آننتھ مورتی کے بیان پر انتظار حسین کے رفیقِ دیرینہ ناصر کاظمی کا شعر یاد آتا ہے :
واقعہ یہ ہے کہ بدنام ہوئے
بات اتنی تھی کہ آنسو نکلا
اس شعر کے حوالے سے انتظار صاحب نے احمد مشتاق کی غزل پر مظفر علی سیّد کی داد کا ذکر کیا ہے جو ہتھیلی پر ٹپکنے والے ایک آنسو کی صورت ادا ہوئی تھی۔ بدنامی کا محل نہیں لیکن آنکھ کا ایک آنسو بھی واقعہ بن سکتا ہے۔
اپنے بارے میں جب بھی لکھنے کا موقع آتا تو انتظار حسین کنّی کاٹ جاتے۔ مگر اس بار ان کے آنسو ان کے دوست آننتھ مورتی نے تاریخ کے مال خانے میں محفوظ کر دیے۔ اب یہ محض ایک فرد کا شخصی روّیہ نہیں۔




