انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی
سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو ہی سنبھالنا ہے تو اس کے واسطے کالج جانا کیا ضرور ہے۔ مگر ریوتی نے گریجویٹ بن کر دم لیا۔ انتظار حسین چھٹیوں میں میرٹھ سے ہاپوڑ پلٹتے تو ان سے پوچھتے کہ کالج میں کیا پڑھا۔ ان سے رہنمائی حاصل کرتے۔ یہ سب بے سود نہ گیا اور سرن نے بطور پرائیویٹ امیدوار ایف اے کر لیا اور تھرڈ ائر میں دونوں دوستوں کا کالج میں پھر اکٹھ ہو گیا اور انتظارحسین اکیلے دکیلے ہونے سے بچ گئے۔
انتظار حسین کے سکول میں داخلے کی بھی سن لیں۔ انتظار حسین کے والد کا ارادہ ان کو مولوی بنانے کا تھا، بیٹے کو گھر میں انھوں نے اتنا کچھ تعلیم کر دیا تھا کہ جب وہ مدرسہ میں داخل ہو تو آسانی سے چل نکلے اور اسے وہاں کوئی چیز مشکل نہ لگے۔ اس منصوبے میں کھنڈت اس وقت پڑی جب خاندان ڈبائی سے ہاپوڑ منتقل ہوا، یہاں انتظار حسین کی سب سے بڑی بہن کا گھر تھا، جن کے کہے کا باپ کو بہت پاس تھا، اس لیے جب انھوں نے کہا کہ خاندان میں ایک مولوی کافی ہے، ہمارا بھائی سکول میں پڑھے گا تو والد کو یہ بات مانتے ہی بنی البتہ یہ ضرور کہا کہ اس کا سکول جانا ہی قرار پایا تو پھر نویں جماعت میں داخلہ کراؤ کیونکہ میں نے اسے پڑھائی میں اس قابل بنا دیا ہے کہ یہ اگر اس وقت بھی میٹرک کا امتحان دے تو پاس ہو جائے گا۔ گورنمنٹ ہائی سکول کو نویں چھوڑ، ساتویں میں داخلہ دینا بھی خلاف ضابطہ نظر آیا، اس لیے شہر میں موجود ایک دوسرے سکول، کمرشل اینڈ انڈسٹریل ہائی سکول سے رجوع کیا، جس نے آٹھویں میں داخل کر لینے کی ہامی بھری۔ اس سکول میں استاد اور کلاس فیلو سب ہندو تھے مگر اس سے واحد مسلمان طالب علم کو کوئی پریشانی نہ ہوئی بلکہ ایک حوالے سے الٹا اس نے انتظامیہ کے لیے مشکل پیدا کی۔ انتظار حسین نے ہمیں بتایا تھا کہ ایک بار انھوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وہ سکول ریفریشمنٹ میں شریک نہیں ہوتے تو پھر اس کے لیے فیس کے ساتھ جو اضافی پیسے لئے جاتے ہیں، اس سے انھیں مستثنیٰ قرار دیا جائے، پرنسپل نے ان کو سمجھایا، پر وہ نہ مانے اور آخر کار ریفریشمنٹ چارجز ان کی فیس سے منہا ہوئے۔ اپنے اس سٹینڈ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بس وہ ناسمجھی کا زمانہ تھا، جس میں بندہ چیزوں کو اور طرح سے لیتا ہے۔
انتظار حسین اور ریوتی نے اکٹھے رائٹر بننے کا خواب دیکھا تھا اور یہ طے بھی کر لیا کہ دونوں کا ادب میں کون سا میدان ہو گا۔
سہیل احمد خان کو انٹرویو میں انتظار حسین نے بتایا:
” ہاں، بات یہ ہے کہ افسانہ لکھنا میرا مقصود نہیں تھا۔ مجھے کچھ یہ تصور تھا کہ افسانہ تو ریوتی ہی کو لکھنا ہے، میں کچھ تنقید لکھوں گا یا شاعری کروں گا۔“
بی اے کے بعد ریوتی نے جب دلی میں نوکری کر لی تو اس وقت ان کے دوست کیا کر رہے تھے، انھی کی زبانی سنیے :
” میں ہاپوڑ کی گلیوں میں خاک پھانکتا پھرتا تھا۔ ملازمت کے لیے عرضیاں بھیجنی اور شعر و ادب میرا مشغلہ ٹھہرا اور اندر ہی اندر ہنڈیا پک رہی تھی کہ مجھے ایم اے کرنا ہے۔ ادھر دلی سے ریوتی کے ذریعے کچھ اس قسم کی کتابیں موصول ہونے لگیں۔ ماورا، نقش فریادی، میرا جی کی نظمیں۔ ارے نئی شاعری تو یہ ہے۔ میں اقبال کی شاعری کو نئی شاعری سمجھ رہا تھا۔ اسے سنگھوا کر الگ رکھا اور نظم آزاد کو شاعری کی معراج جان کر پڑھنا شروع کر دیا۔ ادھر فسانہ آزاد طاق میں رکھا اور کرشن چندر کے نام کی مالا جپنے لگا۔“
انتظارحسین تو کرشن چندر کا دم بھرنے لگے، ادھر دلی میں ریوتی نے کرشن چندر کی بہن کو اردو کی ٹیوشن دینی شروع کردی، جس کے بیچ محبت کا شگوفہ پھوٹا۔ یہ مبارک خبر سنانے ریوتی خاص طور سے دلی سے ہاپوڑ آئے اور داستان محبت دوست کے سامنے بیان کی
انتظار حسین ”چراغوں کا دھواں“ میں لکھتے ہیں :
” قصہ یوں شروع ہوا کہ ایک مرتبہ ریوتی دلی سے محض ایک خبر سنانے کے لیے ہاپوڑ آیا اور بڑی گرمجوشی سے مجھے ایک خبر سنائی“ یار، ایک لڑکی ہے۔ میں نے اسے اردو پڑھانی شروع کی ہے۔ ”
”اچھا۔ لڑکی خوبصورت ہے؟“
اس سوال کو اس نے گول کر دیا۔ کہا کہ ”اس کے بھائی کا تقاضا تھا کہ تم اردو سیکھو۔ پتہ ہے بھائی کون ہے؟“
”کون ہے؟“
”کرشن چندر۔“
”کرشن چندر کی بہن؟“ اچانک ساری صورتحال ہی بدل گئی۔ میں نے شوق سے اس لڑکی کے بارے میں ایک ایک تفصیل پوچھی۔
بات اردو پڑھانے سے شروع ہوئی تھی مگر بات اس سے آگے نکل گئی اور وہ مرحلہ آ گیا کہ میرا بھی اس سے ملنا ضروری ہو گیا۔ آخر دیکھنا تو تھا کہ دوست کہیں غلط جگہ تو نہیں پھنس گیا۔ خیر وہ عام معنوں میں تو خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔ نہ کوئی چاند کا ٹکڑا، نہ کوئی زہرہ جبیں۔ بس اس کی اپنی ہی ایک پھبن تھی۔ سیدھی سادی شکل و صورت، سانولی رنگت، چھریرا بدن، بر میں سادہ سی سفید سوتی ساڑھی۔ کوئی ناز و ادا والی بات نہیں۔ طور اطوار، نشست و برخاست، بول چال، سب میں ایک سادگی اور متانت۔
” ہاں جب ریوتی کے ماتا، پِتا کے کان میں یہ بِھنک پڑی تو قیامت اٹھ کھڑی ہوئی۔ کرشن چندر کا خاندان کائستھ۔ اِدھر ہمارا دوست برہمن بچہ۔ اس کے پِتا جی نے مجھے بلا بھیجا“ سنا تم نے تمہارے مِتر نے دلی جا کر کیا گُل کھلایا ہے۔ ذات گوت تو دیکھ لی ہوتی۔ اسے سمجھاؤ۔ ”
میں نے سمجھانے کا وعدہ کیا اور پھر ریوتی سے آ کر کہا کہ ”تیرے پِتا جی تو بہت تاؤ میں آئے ہوئے ہیں۔ اب تو سوچ لے، پچک تو نہیں جائے گا۔“
”نہیں۔ “
”ہاں پہلے سے سوچ لے۔ ایک تو وہ لڑکی بہت شریف ہے اور پھر کرشن چندر کی بہن ہے۔ اس سے دغا کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔“
میں تو اسے منجدھار کے بیچ چھوڑ کر چلا آیا تھا۔ چند ہی دنوں بعد وہ خود آیا اور رپورٹ دے کر چلا گیا۔ پھر کچھ دنوں تک کوئی خبر نہیں ملی کہ ذات گوت کا قضیہ کس مرحلہ میں ہے مگر تھوڑے ہی دنوں بعد حلقہ ارباب ذوق میں ایک نئی شکل نمودار ہوئی۔ یہ ڈاکٹر عبادت بریلوی تھے جو دلی سے ہجرت کر کے لاہور آن پہنچے تھے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے فوراً خبر سنائی ”ارے ارے، آپ انتظار حسین ہیں۔ آپ کے دوست ریوتی سرن شرما، آپ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ارے بھئی ان کی شادی ہو گئی۔ بس ہم چند مسلمان دوست ہی ان کے براتی بن کر کرشن چندر کے گھر پہنچے تھے۔ “
انتظار حسین خود اظہار محبت کے سلسلے میں پھسڈی رہے ہوں تو رہے ہوں مگر ایسے معاملوں میں یاروں کا خوب حوصلہ بڑھاتے، سو، ریوتی کے سلسلے میں بھی یہی ہوا، لیکن محبت کی ناؤ کنارے لگنے سے پہلے انتظار حسین اکتوبر 1947 میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔ ریوتی خطوں میں اپنی شادی کے لیے ہونے والی پیش رفت کا بتاتے رہے، البتہ ان کے معرکہ عشق سر کر لینے کی خبر انھیں ڈاکٹر عبادت بریلوی کی زبانی معلوم ہوئی۔
شادی کے بندھن سے پہلے 1948 میں ریوتی کو دوست کی محبت لاہور کھینچ لائی۔ فسادات اس وقت تک ختم ہو چکے تھے لیکن ماحول میں ان کا زہر موجود تھا، اس لیے یار سے ملاقات پر انتظار حسین نے چھوٹتے ہی پوچھا :
” آنے سے پہلے مجھ سے پوچھا تو ہوتا کہ کیا حالات ہیں؟“
ادھر سے ترکی بہ ترکی جواب آیا۔ ”تو نے ادھر آتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ میں پاکستان جا رہا ہوں۔
یہ وہ دن تھے جب انتظار حسین ”نظام“ کی ادارت کر رہے تھے اور وہ کرشن نگر میں محمد حسن عسکری کے یہاں ٹھہرے تھے، جو ڈاکٹر آفتاب احمد کے ریڈیائی پیغام کے ذریعے لاہور پہنچے تھے اور پھر اسی ذریعے سے انھوں نے انتظار حسین کو بلایا۔ انتظار حسین کا اس وقت تک اپنا گھر بار نہیں تھا، اس لیے انھیں یہ پریشانی تھی کہ دوست کے لیے سبزی ترکاری کا بندوبست کیسے ہو، اس زمانے میں ہر پھر کر کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے وہ حسن عسکری کی طرف دیکھتے تھے۔ ان سے ذکر کیا تو یہ الجھن دور ہو گئی، ان کی والدہ نے ریوتی کے لیے کھانا بنانے کی ہامی بھر لی۔ انتظارحسین نے ہمیں بتایا تھا کہ چند برس پہلے ریوتی سے ملاقات میں ان کے لاہور آنے کا ذکر چھڑا تو وہ عسکری صاحب کے یہاں بنی سبزی ترکاری کھانے سے مکر ہی گئے۔ ریوتی کو محمد حسن عسکری پر اس لیے بھی غصہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ انھی کی وجہ سے ان کا دوست پاکستان گیا۔
کرشن چندر کے بھائی اور ریوتی کے بہنوئی، مہندر ناتھ جن سے انتظارحسین کی تقسیم سے پہلے دوستی ہو گئی تھی، 47 ء کے بعد انھیں بھی یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ عسکری کی صحبت ان کے دوست کو خراب کر رہی ہے۔ اس سے ملتی جلتی پریشانی احمد ندیم قاسمی کو منٹو کے بارے میں تھی، جن کا خیال تھا کہ وہ عسکری کی صحبت میں خراب ہو رہے ہیں۔ منٹو ہو یا انتظار حسین، اس کینڈے کے ادیبوں کو کسی کی صحبت نقصان نہیں پہنچاتی کیونکہ وہ انتظارحسین کے لفظوں میں کسی تحریک کا ڈنگر بننا پسند نہیں کرتے۔ منٹو جیسے بڑے ادیب اور انتظار حسین جیسے نووارد، دونوں ہی کے بہی خواہوں نے انھیں عسکری سے دور رہنے سے متنبہ کیا اور فہمیدہ ریاض تو آج بھی عسکری کے لاہور چھوڑ کر کراچی چلے جانے کو انتظارحسین کے حق میں بہتر جانتی ہیں۔ یہ بات انھوں نے کچھ عرصہ پہلے آصف فرخی کے ”دنیا زاد“ میں لکھی۔ بات ریوتی کی ہو رہی تھی اور ہم کدھر نکل گئے۔
ریوتی کے دورہ لاہور کا قصہ ”چراغوں کا دھواں“ میں یوں بیان ہوا ہے :
” بس پھر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ اطمینان سے سیل سپاٹوں میں یاروں سے ملنے جلنے میں گزرا۔ ترقی پسند دوستوں نے ملنے میں زیادہ گرم جوشی دکھائی۔ پہلے حیران ہوئے کہ اچھا یہ خالی دوست کی صورت دیکھنے کے لیے پاکستان آیا ہے اور بلا خوف و خطر آیا ہے۔ اور پھر خوب تواضع کرتے۔ اب ہم بلاخوف و خطر شہر میں گھوم پھر رہے تھے۔ مجھے پہلے حیرت ہوئی اور پھر ایک مسرت بھرا اطمینان کہ قیامت گزر جانے کے بعد لاہور شہر کو اب سکون آ گیا ہے۔ اب کسی کو کرید نہیں ہوتی کہ ہندوستان سے آنے والا کون مخلوق ہے اور کیا لینے آیا ہے اور پتہ چل بھی جائے کہ یہ کون مخلوق ہے تو بس ہلکا تجسس ہوتا ہے نفرت کا جذبہ نہیں جاگتا۔“
یہ ریوتی کا یار سے ملنے کے لیے پاکستان آنے کے لیے پہلا او ر آخری پھیرا تھا، وہ دفاع سے متعلق محکمہ میں تھے اس لیے ان کا ادھر آنا ممکن نہ تھا۔ اس کے بعد خطوں میں ریوتی دوست سے بار بار ہندوستان آنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایک خط میں لکھا :
” انتظار ایک بار ہندوستان آ جاؤ۔ بہت باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ تیری قسم بڑا جی چاہتا ہے کہ تو آ جائے۔ میں ابھی تک نئی سڑک کے کمرے پر ہوں۔ پہلے کی طرح اکیلے رضائیاں لپیٹ کر آدھی رات تک گپیں ہانکیں گے۔ کتنا مزا آئے گا۔ انتظار بدلہ چکانے کے لیے ہی آ جاؤ۔ میں تو ایک دفعہ تمھارے پاس آ چکا ہوں۔ “

1951 میں انتظار حسین تقسیم کے بعد پہلی دفعہ ہندوستان گئے۔ ہاپوڑ میں چند دن رہنے کے بعد دلی جانے کی ٹھانی تو بڑی بہن نے خوفزدہ ہو کر کہا ”دلی، ارے تیرا دماغ خراب ہے۔ دلی میں تیرا کون بیٹھا ہے۔ ریوتی تو خود آ کر مل گیا۔“ اس پر بھائی نے بہن کو جواب دیا کہ اس نے سرلا سے ملنا ہے۔ بہن بولی ”اس کے پیروں میں کیا مہندی لگی ہوئی ہے۔ وہ بھی ہاپوڑ کا پھیرا لگا جائے۔ “
اس پر انتظارحسین بولے ”اس غریب کو ہاپوڑ میں کوئی قدم رکھنے دے گا۔ آپ کو پتہ نہیں ہے۔ یہ شادی کیسے ہوئی ہے۔ “
خیر، وہ دلی گئے اور وہاں لودھی کالونی پہنچے، جہاں فلیٹ ہی فلیٹ۔ کاڑھ بنتی عورتوں سے دوست کا پتا پوچھا تو انھوں مشکوک نظروں سے دیکھا، جس کی وجہ ان کے بقول، ان کی اچکن تھی۔ وہ ریوتی کے گھر پہنچے تو دروازے پر دستک ہوئی، ایک خاتون نے کچھ پوچھا تو سرلا نے اسے جواب دیا ’وہ شرما جی کے متر ہیں اور میرے بھیا ہیں۔ ”خاتون نے پھر کچھ پوچھا تو سرلا بولی“ ہاں مسلمان ہیں مگر آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ”اس پر کہیں جا کر وہ خاتون ٹلی۔ ادھر پاکستان سے گئے مہمان پر گھبراہٹ طاری ہو گئی جو ریوتی کے دفتر سے گھر لوٹ آنے پر دور ہوئی۔
لاہور میں ریوتی کو تو انتظار حسین نے ترقی پسندوں سے ملوایا تھا لیکن خود دلی میں ترقی پسندوں سے ملنے سے مجتنب رہے کیوں کہ ”نظام“ کے مدیر کی حیثیت سے وہ ہند سندھ کے ترقی پسند اپنے خلاف کر بیٹھے تھے۔ ریوتی دفتر کو سدھارتے تو وہ گھر بیٹھے لارنس کے مضامین کا مجموعہ پڑھتے رہتے جس کے پس منظر میں جو ہو رہا ہوتا اس باب میں لکھتے ہیں :
”پس منظر میں تھالوں اور پرانتوں کے منجھنے دھلنے کا شور کبھی کٹوریوں کے کھنکنے کا شور اور میں حیران ہوتا کہ سرلا نے شادی ہوتے ہی اس گھر میں کتنی تھالیں، پرانتیں اور کٹوریاں اکٹھی کر لی ہیں۔ پھر دھلے ہوئے فرش پر سیتل پاٹی بچھتی۔ بیچ میں ایک تھالی رکھی جاتی جس میں چھوٹی چھوٹی پیتل کی کٹوریاں چنی ہوتیں۔ “
انتظار صاحب کی 1966 میں جب تک شادی نہیں ہو گئی، ریوتی خطوں میں ان پر شادی کرنے پر زور دیتے رہے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں :
” تم شادی کب کر رہے ہو؟ ابے الو کے پٹھے شادی کر ڈال۔ سالے کیوں محروم رہتا ہے اس بوٹی سے، جسے عورت کہتے ہیں، اچھی چیز نہیں لیکن بری بھی نہیں، یوں کہو کہ یہ محض اتنی بری ہے جتنے برے تم ہو۔ قسم خدا کی شادی کر۔ مجھے چاہے نوکری چھوڑنی پڑے، آ جاؤں گا۔ ہاں منظور ہے شرط۔“
دوست کی شادی ہو گئی تو اب اس سے ہی نہیں، اپنی بھابی سے بھی ہندوستان آنے کا اصرار ہونے لگا، جس کی نوبت آنے میں بارہ برس لگ گئے۔
1951ء کے بعد 1978 میں ہی انتظار حسین کا ہندوستان جانا ممکن ہو سکا۔ اس بیچ دونوں دوستوں میں خط کتابت رہی۔ ایک دوسرے کو اپنے یہاں بلانے پر اصرار رہا۔
ریوتی نے ایک خط میں لکھا: ”تم نے آنے کو کہا ہے۔ پیارے میں نہیں آ سکتا۔ میں محکمہ دفاع کا اب ایک افسر ہوں اس لیے مجھے نہ پاسپورٹ ملے گا اور نہ ویزا۔“
ناصر کاظمی اور انتظار حسین نے ”خیال“ نکالا تو اس میں لکھنے کے لیے دونوں میاں بیوی کو دعوت دی گئی۔ ادھر سے مشورے بھی ملتے رہے۔ ایک خط میں لکھا ”خیال“ کو ”نظام“ نہ بنا دینا۔ ریاست پرستی کا بھوت چڑھتے تم کو دیر نہیں لگتی جب یہ بھوت سوار ہوتا ہے تو رسالے سے بو آنے لگتی ہے۔ ”فکشن نگار کو اپنے افسانوں کا فیڈ بیک بھی ملا۔“ ہمایوں ”میں“ آخری موم بتی ”چھپا تو اپنے تاثر کا اظہار یوں کیا : ’بھئی جیسا پرسوز عنوان ویسا پرسوز موضوع اور ویسے ہی کردار۔ مجھے تو یہ افسانہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ تم عورت کے جذبات کو بھی اس خوبی اور اثر کے ساتھ بیان کر سکتے ہو۔“
ادھر لاہور سے بھی دوست کو لکھنے پر اکسانے کا سلسلہ جاری رہا، ریوتی کا ناول چھپا تو انھوں نے یار عزیز کو بھجوایا اور کہا ”ناول تمھیں بھیج چکا ہوں۔ یہ ناول تمھارا ہے جو کچھ میں نے سیکھا ہے، اچھا یا برا، تمھاری ذہنی صحبت کا اثر ہے ورنہ بنیے کا بیٹا تو ڈنڈی ہی مارتا ہے۔ “
ایک اور خط میں کہتے ہیں : ”یہ تو تمھاری زور زبردستی ہے ادب کی ڈگر پر دو چار قدم چل لیا ورنہ بنیے کی اولاد کا ادب سے کیا سروکار۔“
انتظار حسین، ادب لطیف کے ایڈیٹر بنے تو سرلا سے بھائی کے بارے میں کچھ لکھنے پر زور دیا تو سرلا نے ”کرشن جی“ کے عنوان سے خاکہ لکھ کر بھجوا دیا۔ اس کی اشاعت پر یہ مصیبت کھڑی ہو گئی کہ کرشن چندر کی پہلی بیوی کے گھر والوں نے اسے عدالت میں پیش کر دیا کہ یہ حضرت دوسری شادی سے انکاری ہیں، لیجیے بہن کی تحریر، اس سے دوسری شادی ظاہر ہوتی ہے۔ اس پر ریوتی کا خط آیا کہ یار بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ خیر، یہ قضیہ بعد میں نمٹ گیا۔
1963 میں انتظار حسین کے زیر ادارت ”ادب لطیف“ کا جوبلی نمبر شائع ہوا تو اس میں کرشن چندر کا مشہور افسانہ ”کچرا بابا“ اور ریوتی سرن شرما کا ڈراما ”کچھ سفیدی کچھ سیاہی“ شامل تھے۔ سرلا کو انتظار حسین منہ بولی بہن بولتے تھے۔ باہمی احترام کا گہرا رشتہ تھا، جس میں ایک دفعہ اس وقت تریڑ آئی، جب تقسیم کے بعد کرشن چندر کی تحریروں پر انتظار حسین نے کڑی تنقید کی، جس کا سرلا نے برا مانا، لیکن یہ ناراضی زیادہ عرصہ چلی نہیں اور دونوں میں صفائی ہو گئی۔ 1978 میں انتظار حسین ہندوستان گئے تو اس سے ایک برس پہلے سرلا ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے باعث فوت ہو چکی تھیں۔ ریوتی کے نئے تعمیر کردہ گھر میں انتظارحسین نے پڑاؤ ڈالا اور 27 برس پہلے کے اس سمے کو یاد کیا جب ڈائننگ ٹیبل کے بجائے سیتل پاٹی پر بیٹھ کر کھایا تھا۔ اس سفر کے بعد 1980 اور 1983 میں بھی وہ ہندوستان گئے۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں وہ متعدد بار ہندوستان گئے۔ پریم چند فیلوشپ بھی انھیں ملا۔ دوست کی اپنے دیس میں پذیرائی دیکھ کر ریوتی کا دل کھل اٹھتا۔ وہ اس کے اعزاز میں ہونے والے والی تقریبات میں شریک ہوتے۔ ادھر اس وقت تک ریوتی بھی ڈراما نویس کی حیثیت سے اپنے ملک میں معروف نام بن چکا تھا۔
لگے ہاتھوں کچھ ذکر ریوتی کی ڈراما نگاری کا ہو جائے۔ ریوتی نے فکشن سے لکھنے کا آغاز کیا۔ افسانے لکھے۔ ناول لکھا لیکن بعد ازاں انھوں نے اپنی توجہ ڈراما نویسی پر مرکوز کر لی۔ ریڈیو کے لیے متعدد ڈرامے لکھے اور اب تو لوگوں کو شاید عجب لگے مگر ایک زمانے میں برصغیر میں ریڈیو ڈرامے بڑے شوق سے سنے جاتے تھے۔ قومی نشریاتی رابطے پر چلنے والے ان کے نو ڈرامے بعد ازاں مختلف علاقائی زبانوں میں ترجمہ ہو کر براڈ کاسٹ ہوئے۔ ان میں سب سے بڑھ کر انہیں ”لاؤ زہر پلا دو“ پسند تھا۔ وہ زیادہ تر سماجی ناانصافیوں پر قلم اٹھاتے۔ سٹیج اور ٹی وی کے لیے بھی انہوں نے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ان کی ڈراما سیریل ”اور بھی غم ہیں زمانے میں“ نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔ زبیر رضوی کے بقول ”وہ عوامی ترسیل کے ہر میڈیم سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور ایک مستند حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندی تھیٹر کے لیے ان کی خدمات پر 2007 میں انھیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا۔
ہندوستان میں دونوں دوست ملتے تو آپس میں خوب گپ بازی اور لفظی چھیڑ چھاڑ ہوتی۔ ایک دفعہ انتظارحسین نے ان سے کہا کہ ’رتھ یاترا کو تو تمھارے نیتاؤں نے رسوا کر دیا، اب میرا بیل گاڑی یاترا کرنے کو جی چاہتا ہے۔
ایک بار پرانی دلی میں اپنے سکول کے استاد وجیندر جی سے ملنے گئے جو اب سنسکرت کے بہت بڑے عالم تھے اور دلی میں سنسکرت کے شعبہ کے سربراہ بھی رہے۔ استاد کے ملازم کو جب بتایا گیا کہ مہمان پاکستان سے آیا ہے تو اس نے ترنت سے پوچھ لیا کہ شاستری جی سے آپ کا سمبندھ کیا ہے؟ اس پر انتظار حسین نے جب یہ کہا کہ ان کا شش ہوں تو وہ حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ گرو، ہندوستان میں، شش، پاکستان میں۔ اس کی حیرت یہ جان کر دور ہوئی کہ یہ پرانے وقتوں کا قصہ ہے، جب برصغیر ایک تھا اور پاکستان سے آیا مہمان سکول میں پڑھا کرتا تھا۔ خوب یادیں تازہ کی گئیں۔ استاد کی ایک بات سن کر انتظار حسین ہک دک رہ گئے۔ وجیندر جی نے کہا: اب یہ بابری مسجد اور رام مندر کا جھگڑا شروع ہو گیا ہے۔ رکے۔ پھر آہستہ سے بولے۔ ”رام مندر الگ رہا۔ پتہ نہیں رام جی پیدا بھی ہوئے تھے یا نہیں ہوئے تھا۔“
اس کہے پر انتظار حسین کا ردعمل یوں سامنے آیا:
” میں اس بیان پر چکرایا مگر میں نے اس پر کوئی سوال نہیں کیا۔ باہر آ کر ریوتی سے پوچھا“ وجیندر جی یہ کیا کہہ رہے تھے کہ رام جی پیدا بھی ہوئے تھے یا نہیں۔ ”
وہ ہنسا اور بولا ”وجیندر جی اصل میں کرشن بھگت ہیں۔ رام جی کو زیادہ نہیں مانتے۔ “
”بستی“ میں سریندر کے روپ میں ریوتی سرن شرما کو ہی پیش کیا گیا ہے۔ مظفر علی سید نے سریندر کے کردار کو ناول کے ہیرو ذاکر کا ہمزاد یا اس کی ضمیر کی آواز قرار دیا ہے۔ سریندر ہی ریوتی ہے، اس کا اندازہ ناول سے بھی ہو جاتا ہے، جس میں فکشن نگار نے اور بھی دوستوں کے کردار نام بدل کر ڈالے ہیں، حقیقی زندگی میں ”بستی“ کو پڑھنے کے بعد ریوتی نے انتظار حسین کو جو خط لکھا، اس کے نیچے باقی خطوں کی طرح تمھارا ریوتی کے بجائے تمھارا سریندر لکھا۔ انتظار حسین اور ریوتی کا ملک جب ایک تھا، دونوں میں خوب گپ شپ رہتی، پرلطف مکالمے ہوتے، جن میں سے چند ایک ”بستی“ میں فکشن کے روپ میں ذاکر اور سریندر کے درمیان مکالمہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
تو نے دیکھا؟ سریندر نے پتھر والی گلی سے جلدی جلدی نکلتے ہوئے پوچھا۔
” نہیں یار! مجھے تو کوئی دکھائی نہیں دیا۔“
”چوبارے میں جو کھڑی تھی، اسے نہیں دیکھا؟“
”نہیں، کون کھڑی تھی؟“
”رم جھم اور کون!“
”رم جھم؟“
”ہاں، میں اسے رم جھم کہتا ہوں، بس تو اسے دیکھے گا تو سالے ہلاک ہو جائے گا۔“
”ایک پھیرا، دوسرا پھیرا، تیسرا پھیرا، پھر نظر ہی نہیں آئی۔“ یار وہ تو غائب ہو گئی۔ ”
سریندر مایوس نہیں ہوا تھا۔ بندر والے کو دیکھ کر کھل اٹھا۔ ”یار سن! اس کے ساتھ چلتے ہیں۔ “
بندر والا کھڑی دوپہر میں ڈگڈگی بجاتا ایک گلی سے دوسری گلی میں، دوسری گلی سے تیسری گلی میں۔ آخر کو پتھر والی گلی میں تماشا شروع کیا۔ بندریا نہیں مانی تو بندر نے اسے ڈنڈے سے پیٹا، اتنا کہ روٹھ کر میکے چلی گئی۔
سریندر کی نظریں چوبارے پر جمی تھیں۔ اسے یقین تھا کہ وہ بندر کا تماشا دیکھنے ضرور آئے گی۔
”ابے سالے دیکھ“
”کہاں“
”چوبارے میں وہ کھڑی ہے۔ “
اس نے دیکھا۔ سانولی رنگت، دبلا دبلا نرم نرم بدن۔
”اری ماں مسلا۔“ ایک دم سے بھڑکی اور غائب۔ ”
جنوری 2016 کے آخری دنوں میں ہسپتال داخل ہونے سے قبل جہاں سے ان کی واپسی نہ ہو سکی، انتظارحسین نے ہندوستان جانے کے لیے ٹکٹ بک کرا رکھا تھا، وہاں ان کے پروگرام کا لازمی جزو ریوتی سے ملنا ہوتا مگر یہ ملاپ اب قسمت میں نہ تھا، 2 فروری 2016 ء کو دوستی کی لگ بھگ 80 سالہ پارٹنرشپ ٹوٹ گئی اور ڈبائی کی مٹی لاہور میں آسودہ خاک ہوئی۔ ریوتی نے دوست کی موت کی خبر بڑے بھاری دل سے سنی ہوگی اور سوچا ہو گا کہ دوست پہلے اکیلا چھوڑ کر پاکستان چلا گیا جس پر انہوں نے خط میں لکھا تھا ”۔ تم کیا گئے میرا تو غمگسار چھن گیا۔ پاگل سا میں تو اب ہر آدمی کو اپنا غمگسار سمجھ بیٹھتا ہوں۔ تم نے مجھے کسی طرح کا نہ رکھا۔“ دوست کے ملک چھوڑنے پر یہ عالم تھا تو دنیا سے چلے جانے پر غم کا عالم نجانے کیا ہو گا، وہ اس درد کے ساتھ زیادہ عرصہ نہ جیے اور یکم اکتوبر 1924 کو ہاپوڑ میں آنکھ کھولنے والے ریوتی نے 23 ستمبر 2016 ء کو دلی میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔
تم کیا گئے میرا تو غمگسار چھن گیا
(ریوتی بنام انتظار)
٭ اور کیا حال ہے۔ شادی وادی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں یا قبر میں کنوارے ہی جاؤ گے۔ ابے کیا کوئی ادیبہ سارے پاکستان میں تمھیں نہیں ملتی؟ یہ مانا کہ تم نکمے ہو۔ کیا ایسی خدا نے پیدا نہ کی جو تمھارا اغوا کر لے۔ کبھی پھوٹے منہ سے اس موضوع پر کچھ بکا کرو۔ میں ہر خط میں پوچھتا ہوں مگر تم اس ٹاپک کو یوں اڑا جاتے ہو، جیسے شیرا نہ ہوا پانی کا گلاس ہوا۔ غٹ سے پی گئے۔
٭۔ ہم جب اپنے اپنے سماج کے مذہبی تعصبات کی پروا نہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ٹہلنے نکلتے تھے اور پنڈت والے یا دوسرے لوگ ہم پر انگلی اٹھاتے تھے تو کتنا مزہ آتا تھا۔ ہم ایک ساتھ محسوس کرتے تھے کہ ہم اس فرسودہ تعصب زدہ سماج کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں اور ان کٹر ہندوؤں اور مسلمانوں کی جھلاہٹ گویا ہمارے تمھارے تعلقات کا ”نمک“ تھی۔
٭۔ تم کیا گئے میرا تو غمگسار چھن گیا۔ پاگل سا میں تو اب ہر آدمی کو اپنا غمگسار سمجھ بیٹھتا ہوں۔ تم نے مجھے کسی طرح کا نہ رکھا۔
٭میری شادی 11 مارچ 1950 کی طے ہوئی ہے۔ گھر کا کوئی حصہ نہ لے گا۔ تم آؤ گے؟ اصرار نہیں کروں گا۔ صرف اتنا کہوں گا کہ اگر تم بھی نہیں آؤ گے تو مجھے تم سے بھی شکایت نہ ہوگی۔ جہاں باپ بھائیوں پر صبر کیا وہاں تم پر بھی کرلوں گا۔ سرلا کہتی ہے انھیں ضرور بلانا۔ اپنی طرف سے نہیں بلکہ میری طرف سے۔ اب کے کمرے پر آئی تو اس کے ہاتھ سے لکھوا دوں گا۔ ویسے نہ آؤ گے تو وہ بھی طعنہ نہ دے سکے گی۔ بین الملکی تنازعات ہر آدمی کی سرد مہری اور غیریت کا جواز بن گئے ہیں۔ تم بھی اس کی آڑ لے سکتے ہو۔
٭لاہور آنے کا وعدہ ضرور کیا تھا مگر اس وقت یہ نہ سوچا تھا کہ تناتنی جنگ کی صورت اختیار کر لے گی۔ جب لڑائی کا شور اٹھ رہا ہو تو میری ہمت نہیں ہوتی کہ ایک دوسری مملکت میں جا کر اپنے لیے اور تمھارے لیے مصیبتیں کھڑی کروں۔ آج تک اس بات کا ڈر ہے کہ میں تمھیں ملنے جاؤں اور لاہور میں پولیس کے عتاب کا شکار بنوں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ لاہور آتے جاتے ہیں مگر اپنی ہمت نہیں پڑتی، فضا صاف ہو لینے دو، آؤں گا۔ ضرور آؤں گا۔
٭ میرٹھ کی ریوڑیاں اور گزک بھیج رہا ہوں تاکہ پرانا ذائقہ تازہ ہو جائے۔ اتنی اچھی تو نہیں ہیں لیکن ناسٹلجیا کے لیے کافی ہے۔ بدلے میں اپنی کتابیں بھیج دینا۔
(ریوتی سرن شرما کے انتظار حسین کے نام غیر مطبوعہ خطوط سے اقتباسات)












