جیئں تو جئیں کیسے؟


جنوری 2025 کو مغربی افریقہ میں کشتی الٹنے سے 44 پاکستانی ہلاک ہو گئے۔ 17 جنوری کی صبح، جب 2025 کے پہلے مہینے کی روشنی سنہری اور روپہلی کرنوں نے پورے ملک کا احاطہ کیا ہوا تھا، شمالی علاقوں کے برف سے لدے پہاڑ سینہ تانے آسمان کی بلندیوں سے ہم کلام تھے، جب پنجاب کی زرخیز زمین پر گنے سے لدے ٹرک پورے ملک کی جانب رواں دواں تھے، اُدھر ترشاوا پھلوں میں اوس رس بھر رہی تھی، جب سندھ کے دریاؤں کی شان پَلا مچھلی دسترخوانوں پر سج کے سندھیوں کی مہمان نوازی کی گواہی دے رہی تھی، عین اُسی وقت اس سرزمین کے چند گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی۔

یہ گھر اس مملکتِ خداداد کے اُن نوجوانوں کے گھر تھے جو نام نہاد ترقی اور کامیابی اور وسعتِ رزق کی تلاش میں اندھیری اور تاریک راہوں کے مسافر ہو گئے تھے۔ یہ سرد سیاہ راتوں میں سمندر کے بیچ و بیچ کھڑی اُس کشتی کے مسافر تھے ڈوبنا جس کا مقدر تھا۔ یہ وہ راستہ تھا جس پر چل کر مسافر منزل کی جانب نہیں بلکہ موت کی جانب سفر کرتے ہیں۔ کیونکہ افسوس صد افسوس اب معجزے نہیں ہوتے۔ اب کوئی مچھلی یونس علیہ السلام کی توبہ کا ثمر بن کر بچانے نہیں آتی۔ اب کسی موسیٰ علیہ السلام کا عصا دریا میں راستہ نہیں بناتا۔ اب خضر علیہ السلام کا دیا راستوں کے بھٹکے ہوئے مسافروں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔ کیونکہ یہ آزمائش ہمارے رب کی جانب سے نہیں ہے۔ یہ تو ناآسودہ خواہشات کا وہ سلسلہ ہے جس کا انجام جانتے ہوئے بھی ہم اس کا انتخاب کرتے ہیں۔ یورپ جانے کے خواب اتنے سہانے ہوتے ہیں کہ حقیقت کی کڑی دھوپ ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ اور بیچ سمندر میں انسانی خواہشات کے ٹائٹینک ڈوب جاتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق اس وقت ملک سے ہجرت کر کے جانے والوں میں پاکستانی پہلے نمبر پر ہیں۔ باہر جانے کی خواہش رکھنے والوں میں پچھلے چند سالوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس عمل کو اگر حقیقت پسندی کی نگاہ سے دیکھیں تو ملک کی موجودہ صورتحال اور نوجوان طبقے کا اس صورتحال سے مایوس ہونا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام، بیروزگاری، کاروباری سہولیات کا فقدان، یوٹیلٹی بلز میں ہوشربا اضافہ، بے لگام مہنگائی، فرقہ واریت جیسے مسائل جتنی تیزی سے بڑھے ہیں پچھلی چند دہائیوں میں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ لیکن کیا یہ ان مسائل سے نکلنے کا مناسب طریقہ ہے؟ یہ سچ ہے کہ آج ہر پاکستانی اپنے گھر، کرائے، فیسوں، اور بلوں کو لے کر جتنا پریشان ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں تھا۔ کیا مشکلات کی اس گھڑی سے گھبرا کر ہم سب کو دریا میں کود جانا چاہیے؟

اگر خودکشی ہی کرنی ہے تو پھر 28 سے 30 لاکھ کی خطیر رقم دے کر کیوں؟ کیا ڈوب جانے والے محض 44 افراد تھے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ ایک مکمل جہان تھے، کسی کے باپ، کسی کے بیٹے اور کسی کے سر کا سائبان تھے۔ کسی بہن کی آس تھے تو 44 خاندان برباد ہو گئے۔ ان سے وابستہ رشتے جیتے جی ختم ہو گئے۔ والدین عمر کے اس حصے میں زندہ درگور ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام عوامل کا ذمہ دار کون ہے؟ حکمران طبقہ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ معصوم لوگ، ان کو کیا پتا کہ فاقہ کیا ہوتا ہے، بل کیسے دیے جاتے ہیں۔ وہ تو، ان کے نوکروں کے بچوں نے بھی کبھی تنگ دستی نہ دیکھی ہو گی۔ ان سے کیا گلہ کرنا۔ تو پھر کون لوگ؟ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے؟ جن کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ آخر یہ انسانی اسمگلنگ کرنے والے لوگ کون ہیں؟
نہ تو یہ واقعہ پہلا ہے اور نہ ہی آخری ہے۔ یہ سلسلہ تو کئی دہائیوں سے عروج پر ہے۔ اور کیا اس کے ذمہ دار افراد اس معاشرے میں جادو کی ٹوپی پہن کر غائب ہو جاتے ہیں؟ اور ہم نئے سرے سے ایک نئے سانحہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ کیا دو جنوری سے سمندر کے درمیان کھڑی اس کشتی کے لیے بین الاقوامی ایجنسیز اور این جی اوز چیخ چیخ کر حکمرانوں کو آگاہ نہیں کر رہی تھیں؟ تو پھر آخر کسی کے کان میں کیوں جوں نہ رینگی؟ کسی کو احساس کیوں نہ ہوا؟ حصولِ رزق کے لیے باہر جانا ہرگز غلط عمل نہیں ہے۔ یہ عین اسلامی شریعت کے مطابق ہے کیونکہ یہ دنیا میرے ربِ ذوالجلال نے بنائی ہے اور انسانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رزق میں وسعت اور کشادگی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ کس کا رزق کہاں پر کشادہ ہے، یہ نہیں معلوم۔ لیکن کیا اس طرح ہجرت کرنا درست ہے؟ بالکل نہیں۔
درحقیقت لوگوں کو ان کے حالات نے اتنا مایوس کر دیا ہے کہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ اشرف المخلوقات ہیں۔ وہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں۔ وہ اپنا رزق اور کامیابی کہیں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ بس نیت کا نیک ہونا اور سعی کا خالص ہونا بے حد ضروری ہے۔ اگر نیت نیک ہو اور سعی خالص ہو تو جنابِ ہاجرہ علیہ السلام جیسی سادہ خاتون بھی زمزم جاری کر سکتی ہیں۔ مایوسی تو شیطان کا ہتھیار ہے مومن کا نہیں۔ میری ہر لکھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اس موضوع پر لازمی قلم آزمائیں تاکہ ایک منظم اور مضبوط آگہی کی مہم چلائی جا سکے اور سادہ دل طبقے کو اس کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ ہم سب کو اپنے اپنے حصے کی شمع جلانی ہو گی۔ شاید اس کی روشنی سے ہی خواہشوں کا کوئی اور ٹائٹینک ڈوبنے سے بچ جائے۔ ورنہ اس قوم کا کیا ہی ہو گا جسے امید مرنے نہیں دیتی اور خواب جینے نہیں دیتے۔

Facebook Comments HS

7 thoughts on “جیئں تو جئیں کیسے؟

  • 02/02/2025 at 2:05 شام
    Permalink

    کیا آپ واضح کریں گی کہ وہ سروے کہاں اور کب ہوا اور کس نے کیا جس کے مطابق بقول آپ کے

    ایک سروے کے مطابق اس وقت ملک سے ہجرت کر کے جانے والوں میں پاکستانی پہلے نمبر پر ہیں۔

    اگر تعداد مین دیکھا جائے تو یہ تعداد انڈیا میں سب سے زیادہ ہے۔
    ہمارے کئی مسائل ہیں۔ ہمارا نوجوان عمومی محنت سے گھبراتا ہے اور تعلیم گریجویٹ کی بھی واجبی ہوتی ہے۔ نہ بول سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ جب کہ انڈیا کے نوجوان کا اتنا برا حال نہیں۔
    ہمارا ایک اور المیہ پمارا پاسپورٹ بھی ہے جسے دیکھ کر گھٹیا سے گھٹیا ملک بھی ویزا دینے میں نخرے کرنے لگتے ہیں اور ترکی جیسا ملک جو سالوں پہلے تک پاکستانیوں پر جان نچھاور کرتا تھا اور یورپ کا داخلی راستہ ہونے کے ساتھ آسابی سے ٹورسٹ ویزا دے دیتا تھا وہ بھی سوچ سوچ کر فیصلہ کرتا ہے۔

    • 03/02/2025 at 10:48 صبح
      Permalink

      شکریہ لیکن اس رپورٹ میں کچھ مسائل ہیں۔
      حسابی اعداد کا مسئلہ ہمیشہ ٹیڑھا رہتا ہے۔ مثلا اگر پاکستان کی آبادی 25 ملین ہے اور اس میں سے 1 ملین بقول اس رپورٹ کے ہجرت کرجاتے ہیں تو تعداد تو دس لاکھ ہوگی مگر شرح تناسب 1/25 یعنی 4 فی صد۔
      جب کہ 250 ملین آبادی کے ساتھ یہ شرح اعشاریہ 4 یعنی 0.4 فی صد ہوگی۔
      دوسری طرف اگر کسی ملک کی آبادی محض دس ملین ہو اور اس میں سے 50 ہزار لوگ ہی کسی وجہ سے ملک چھوڑجائیں تو اس ملک کی تعداد پاکستان سے بہت کم ہوگی مگر شرح تناسب بڑھ جائے گی۔
      یعنی کسی کے لئے گلاس آدھا بھرا ہوگا اور کسی کے لئے آدھا خالی۔

      جس رپورٹ کا آپ نے ذکر کیا وہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے 2023 کے جاری شدہ اعداد شمار سے بنائی گئی ہے۔ اور اس کے مطابق emigration کی تعریف محض یہ ہے کہ کتنے لوگ پاکستان سے نکلے اور کتنے پاکستان میں داخل ہوئے۔ گویا اگر 12.6 ملین پاکستان سے گئے تو 11 ملین واپس آئے یوں ہجرت کرنے والے لوگوں کی تعداد سولہ لاکھ ہوگئی ؟

      اس میں اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ رپورٹ ملک چھوڑنے اور ملک میں داخل ہونے والوں کا فرق بیان کرتی ہے اور اسی کو ہجرت متصور کرتی ہے۔

      کیا واقعی یہ اعداد درست ہیں۔
      ان جانے والے لوگوں کی جو وجوہات لکھی ہیں وہ بہت سطحی ہیں۔

      کیا پتہ جس تاریخ کو کٹ لگایا گیا اس دوران لوگ حج یا رمضان کے عمرے پر گئے ہوئے ہوں؟
      ایک بڑی تعداد لوگوں کی ملک سے باہر نوکری کے لئے جاتی ہے اس میں کیا برائی ہے۔
      لیکن سب سے اہم بات جو اقوام متحدہ کے لوگ بھول گئے
      وہ یہ ہے کہ 2023 کے سال میں افغانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان سے واپس اپنے ملک چلی گئی تھی یہ لوگ کس کھاتے میں جائیں گے ؟ ظاہر ہے وہ لوگ جو پاکستان سے باہر گئے۔ یہ رپورٹ یہ نہیں بتاتا کہ آنے جانے والوں میں کتنے پاکستانی اور کتنے غیر ملکی تھے ؟
      یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا فرق یہاں نظر آتا ہے۔

      اس رپورٹ کے مطابق 2023 میں سولہ لاکھ پاکستانی ہجرت کرگئے۔ کیا ایف آئی اے سے آپ نے تصدیق کی ہے ؟

      اب آتے ہیں ایک اور رپورٹ کی طرف جو امریکی سی آئی اے کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے زیادہ مستند اس لئے ہے کیونکہ دنیا بھر کی امیگریشن کا ڈیٹا امریکی ایجنسیوں سے منسلک ہے تو آن لائن چند منٹوں میں مستند معلومات ملتی ہیں۔
      آپ کی رپورٹ کے پیچھے اقوام متحدہ کا جو ڈیٹا ہے اسے ڈھونڈنا بھوسے میں سوئی ڈھونڈنے جیسا ہے ۔

      • سی آئ اے کی ویب سائٹ کا لنک یہ ہے۔

      https://www.cia.gov/the-world-factbook/field/net-migration-rate/country-comparison/

      اور یہ 2024 کے وسط کے اعداد ہیں۔

      مگر یہاں تعداد کی بجائے شرح تناسب دی گئی لیکن یہ مستند معلومات ہیں۔
      اس رپورٹ کی رو سے سب سے زیادہ 1000 آبادی میں سے 36 شہری ایک ملک سے ہجرت کرکے گئے یہ بہر بڑی تعداد ہے اور ملک یوکرین ہے جس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔
      پھر جنوبی سوڈان کے 19 اور وینزویلا کے 13 لوگ۔
      12 ویں نمبر پر سعودی عرب ہے جہاں سے 1000 میں سے 7 لوگ ملک چھوڑگئے۔
      پھر سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، آئرلینڈ اور کنیڈا ہیں۔
      یہ ٹاپ کے 20 ملک ہیں۔ جہاں واقعی ہجرت کرنے والوں کا شرح تناسب سب سے زیادہ ہے۔

      ہالینڈ، امریکہ، برطانیہ، ڈنمارک میں 1000 میں سے 3 لوگ ہجرت کرگئے۔ یہ سیریل 40 تک کی معلومات ہے اور اس میں ابھی تک پاکستان انڈیا اور چین آئے ہی نہیں۔

      انڈیا کے ہجرت کرنے والے شہریوں کی تعداد دس ہزار میں ایک ہے یعنی 1000 میں سے 0.1
      افغانستان اور چین میں حیران کن طور پر دس ہزار میں سے 1 یعنی 1000 میں سے 0.1 واپس آئے ہیں یعنی منفی ہجرت ہوئی ہے۔

      یہ سو ممالک کی تفصیل ہے اور ابھی تک پاکستان نہیں آیا۔

      کشتی کے حادثے میں مرنے والے لوگ جن ممالک کے ہوتے ہیں سی آئی اے کے اعداد کچھ اور کہتے ہیں اس کے مطابق 2024 کے وسط تک 147 نمبر پر ملک شام ہے 148 پر پاکستان اور ان دونوں ممالک میں منفی ہجرت ہوئی ہے یعنی یہاں لوگ واپس آئے ہیں۔

      یہ تعداد ہے ہر ہزار کے بدلے میں 1 فرد یوں لگ بھگ ڈھائی لاکھ لوگ 2024 میں واپس آئے ہیں جب کہ آپ کی رپورٹ کے مطابق سولہ لاکھ ہجرت کرگئے ہیں۔

      میرے لئے سی آئی اے کی رپورٹ اس لئے مستند ہے کیوں کہ یہ دنیا بھر کے آن لائن ڈیٹا سے منسلک ہے اور یہ تک جانتی ہے کہ کونسا شہری کس ملک میں غائب ہوگیا۔

      لب لباب یہ ہے کہ 2024 میں سولہ لاکھ لوگ پاکستان سے ہجرت کرکے نہیں گئے بلکہ ڈھائی لاکھ لوگ واپس آئے ہیں۔ ہرجاء کہ یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ مگر پھر بھی یہی کہیں گے کہ جی آیاں نوں۔

    • 03/02/2025 at 10:52 صبح
      Permalink

      ویسے وکی پیڈیا کوئی مستند حوالہ نہیں مگر مجبوری کا نام شکریہ ہوتا ہے۔
      وکی پیڈیا پر 2022 کے اعداد موجود ہیں جو سی آئی اے کے اعداد سے ملتے جلتے ہیں۔

      https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_sovereign_states_by_net_migration_rate

      اس کے مطابق 2022 میں پاکستان میں منفی ہجرت 0.1 فی دس ہزار رہی اور یوں پاکستان 148 نمبر پر رہا۔

      یادرہے سولہ لاکھ لوگوں کا ملک چھوڑجانے کا مطلب ہے اتنے پاس پورٹ بھی بنے ہونگے۔

    • 03/02/2025 at 11:30 صبح
      Permalink

    • 03/02/2025 at 12:13 شام
      Permalink

    • 03/02/2025 at 12:15 شام
      Permalink

      وکتوریہ ہیتھ کی جو رپورٹ آپ نے لنک کی اس کا ماخذ عالمی بنک کی معلومات ہیں۔

      اور اس تعداد کو وہ اس طرح بیان کرتے ہیں۔

      Net migration is the net total of migrants during the period, that is, the number of immigrants minus the number of emigrants, including both citizens and noncitizens.

      یعنی اگر دو لاکھ لوگ پاکستان میں نوکری کرتے تھے اور واپس چلے گئے یا دس لاکھ افغانی واپس گئے تو بھی وہ اسی سولہ لاکھ میں شامل ہونگے۔

      اسی عالمی بنک کی رپورٹ کا مزید آپریشن کریں تو ایک اور دلچسپ نتیجہ ملتا ہے۔

      Emigrants from Pakistan

      2016 میں 23 لاکھ

      2017 میں ساڑھے پندرہ 15.5 لاکھ

      2018 میں تیرہ 13 لاکھ

      2019 میں بارہ 12 لاکھ

      2020 میں محض ساڑھے پانچ 5 لاکھ

      2021 میں ساڑھے پانچ 5.5 لاکھ

      2022 میں تیرہ 13 لاکھ

      2023 میں سولہ 16 لاکھ

      2020 اور 2021 کا ظاہر ہے کرونا سے تعلق ہے اس میں بھی دس لاکھ لوگ نکل لئے۔ حیرت ہے۔

      اس میں یقیناً ایک بڑی تعداد ان بچوں کی بھی ہے جو اعلی تعلیم کے لئے ملک سے باہر جاتے ہیں۔

      یہ اعداد یہاں دیکھے جاسکتے ہیں لیکن ان کا مفہوم وہ نہیں جو نکالا گیا ہے۔

      یوں عالمی بنک کی اس رپورٹ اور مصنفہ کے مطابق پچھلے آٹھ سال میں ایک کڑوڑ پاکستانی ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔۔۔۔۔۔یقینا غلط ہے۔

      میں نے اپنے طور ان نمبرز کا آپریشن کیا تو ایک اور دلچسپ وجہ سامنے آئی۔
      انڈیا اور دوسرے ممالک کے برعکس پاکستانی کئی ممالک کی شہریت رکھ سکتے ہیں۔
      پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے سفر کے لئے الگ الگ پاسپورٹ استعمال کرتی ہے اور یوں ایک غلط نتیجہ عالمی بنک اخذ کرتا ہے۔ ورنہ وہی بات کہ پچھلے آٹھ سال میں ایک کروڑ پاکستانی ملک چھوڑکرجاچکے ہیں۔ جو غلط ہے

Comments are closed.