سالک ’کی کہانی، درویش کی زبانی


خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار!
چلیے، آج دَرویش اور دُرویش میں فرق پر بات نہیں کرتے اور سیدھے ’سالک‘ پر آ جاتے ہیں۔

جن ’سالکین‘ سے میں، نام کی حد تک ہی سہی، بچپن سے آشنا تھا ان میں سے مولانا علم الدین سالک اور پروفیسر عبدالمجید سالک کے نام میں کبھی فراموش نہ کر سکا کیوں کہ و الدِ گرامی جناب یزدانی جالندھری ان علمی ہستیوں کا ذکر علامہ تاجور نجیب آبادی اور مولانا افسر امروہوی کے تذکرہ کے ساتھ انتہائی احترام سے کیا کرتے تھے۔

اور پھر یوں ہوا کہ ادیب و صحافی دوست طارق کامران کے توسط سے لاہور میں علامہ خالد رشید سے ملاقات ہو گئی۔ ایک امام مسجد کے لختِ جگر ہونے کی حقیقت اپنی جگہ مگر ’علامہ‘ کا خطاب انہیں کسی دینی ادارے نے نہیں بلکہ ان کے حلقہ ٔ احباب نے عطا کیا تھا اور یہ حلقہ خالص دہریوں پر مشتمل تھا۔ اس کلین شیو، سوٹڈ بوٹڈ، آوارہ گرد دہریے کو یہ خطاب دینے کا سبب یہ تھا کہ علامہ صاحب فکر و فلسفہ، ادب و موسیقی، فنونِ لطیفہ، سائنسز اور دینیات، گویا ہر مضمون میں درک رکھتے تھے اور جب بات کرتے تھے تو ذہن میں یہ مصرع گونجنے لگتا:

وہ کہیں اور سُنا کرے کوئی

وقت گزرا۔ علامہ صاحب نے قانون کی ڈگری حاصل کرلی اور صوبہ کے عدالتی شعبہ سے منسلک ہو کر سول جج مقرر ہو گئے مگر طبیعت کی آوارہ گردی اور ذہنی آزادی کی روش تبدیل نہ ہوئی۔ مگر نوے کی دہائی میں چند برس جرمنی گزار کر جب میں لاہور لوٹا تو ایک مختلف خالد رشید سے ملاقات ہوئی۔ اب کے شلوار قمیص پہنے ایک باریش، ’ٹوپی پوش‘ بزرگ میرے سامنے بیٹھے تھے۔ باتوں باتوں میں پتہ یہ چلا کہ علامہ صاحب دہریت کے موڑ سے سفر کرتے ہوئے تصوف کے راستے دین کے نکتے پر پہنچ گئے تھے اور اس میں خوش اور مطمئن تھے۔ میں نے ازراہِ تجسس کریدا تو ان کی گفتگو میں سالک اور صوفی جیسے الفاظ بھی گونجنے لگے۔ بات میرے پلے کچھ پڑی نہیں۔

بعد ازاں فارسی کی لغات سے سامنا ہوا تو لفظ ’سالک‘ کے آگے جو معانی درج تھے ان میں مسافر اور سالکِ در راہِ خدا کے ساتھ ’عارف‘ بھی لکھا ہوا پایا۔ تو میں اس لفظ کا مطلب فوری سمجھ گیا کیوں کہ کم از کم ایک ’عارف‘ سے تو میں آگاہ تھا اور عجب اتفاق کہ وہ بھی ’علامہ‘ صاحب ہی کی طرح فکری دائرہ مکمل کر کے یعنی دہریت سے ہوتے ہوئے براستہ تصوف دین تک پہنچے تھے۔ میں نے اس بات کا ذکر علامہ صاحب سے کیا تو کہنے لگے کہ ان الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ سالک راہی ہوتا ہے اور عارف منزل آشنا۔ میں نے پوچھا کہ کیا لوگ خود کو واقعی عارف سمجھتے ہیں؟ تو مسکرا کر کہنے لگے کہ عارف خود کو سالک ہی سمجھا کرتا ہے۔ وہ ازرہِ انکسار و تواضع خود کو عارف نہیں کہتا۔ ہاں، لوگ کہیں تو کہیں۔ اُن کی بات سُن کر میرا ذہن لفظ ’پروفیسر‘ کی جانب گھوم گیا۔ مجھے یاد آیا کہ علوم و فنون کے بلند پایہ ماہرین اور اساتذہ بھی تو خود کو اپنے ڈسپلن کے سٹوڈنٹ کے طور متعارف کرواتے ہیں یعنی ایک طالب علم۔ جب کہ مجھ سے لیکچرار محکمہ تعلیم میں بھرتی ہوتے ہی یک گونا فخر سے ’پروفیسر‘ کا سابقہ اپنے نام کے ساتھ نتھی کرلیتے ہیں۔ گویا اپنے تئیں ’استاد‘ بن جاتے ہیں اور حصول و طلبِ علم کے دروازے اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں۔

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار!

سچ یہ ہے کہ ”سالک“ کے ستر ابواب اور ایک سو چونسٹھ صفحات میں بکھری اور یکجا ’خضر‘ کی یہ خوش اور خود نوشتہ علامتی سوانح جس کی تعارفی تقریب آج بپا ہے اسے پڑھتے ہوئے مجھے اپنے درویش اور دانشور دوست تخلیق کار ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے ذہنِ رسا کی داد دینا پڑی جنھوں نے کتاب کے مرکزی کردار ’خضر‘ کو مغرب کے ”سِیکر“ سے مشرق کے ”سالک“ تک پہنچا دیا۔ نیلے، جامنی اور سبز رنگوں کے امتزاج سے بنائے گئے سرورق پر درج کتاب کے نام پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ خضر کا سالک سے کیا رشتہ ہے؟ کیا سالک خضر کا ہم زاد ہے؟ پھر خیال گزرا کہ نہیں خضر خود ہی سالک ہے۔ انسانی اور علمی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں کتنی ہی ایسی ہستیاں دکھائی دیں گی جنھوں نے علم کی کسی نہ کسی شاخ یعنی کسی نہ کسی رُخ سفر اختیار کیا اور انسانیت کے دامن کو نایاب جواہر سے بھر دیا۔

یاد پڑتا ہے کہ معروف قصے میں بھی تو خضر متلاشی ہی ہوتا ہے آبِ حیات کے پیالے کا۔ اس سفر میں وہ سکندر کی راہبری یا ہمراہی کرتا ہوا بھی بتایا جاتا ہے مگر اختتام میں استفادہ کو خود تک ہی محدود کر لیتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ’خضرِ سالک‘ نہ تو خود غرض ہے اور نہ ہی مطلب پرست۔ وہ تو ایک خود بیں اور خود آشنا مسافر ہے جو اخلاص و محبت اور اشتراکِ فکر و عمل کا زادِ راہ لے کر چلتا ہے۔ وہ ہر ہر باب میں اپنے ان احباب کا بڑی محبت سے ذکر کرتا ہے جو حقیقت کے سفر میں اس سے ملے۔ اشتراکِ استفادہ کے باوجود دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ ہر بار ہمیں یہی بتاتا ہے کہ اس نے ان احباب کی صحبت سے کیا کچھ پایا۔ ازراہِ تواضع اس امر کا ذکر کہیں نہیں کرتا کہ اس نے ان احباب کو کیا کچھ دیا۔

گویا خضر ایک سچا سالک ہے۔ ایک ایسا سالک جس کا سفر ایک نا مختتم سفر کی داستان سنا رہا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ایسے سفر نہ کبھی مکمل ہوئے ہیں اور نہ ہی ہوں گے۔ اس کی کہانی حقیقت کے کھوج کی کہانی ہے کسی علامتی پیالے کی تلاش کی نہیں۔

ویسے کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پیالہ کیا حقیقت کا ایک گھونٹ بھی حلق سے اُتر جائے تو رگ و پے میں وہ سرمستی رقصاں ہوجاتی ہے کہ ’عارف‘ یک دم ’منصور‘ کی مسند پر فائز ہو کر سولی کا سزاوار اور حق دار ٹھہرتا ہے۔

سچ کا ذائقہ شاید کچھ ایسا ہی عجیب اور نرالا ہوتا ہے۔ جس نے نہیں چکھا وہ اسے جان نہیں سکتا اور جس نے چکھ لیا وہ نعرہ لگاتا ہوا اپنی پہچان کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے سالک کو بھی اس سفر پر روانہ کرتے ہوئے درویشِ جہاں دار نے یہی خبر دی تھی کہ جتنے ذہن، اتنے سچ۔ مگر میں سالک کی ہمراہی میں یہی سوچتا رہا آیا احساس و ذہن کی اس مسافت میں یہ متعدد انفرادی سچ ہیں جو ایک خورشیدِ جہاں تاب میں ڈھل کر روشنی بکھیر رہے ہیں یا یہ ایک ہی خورشید کی کرنیں ہیں جو چشمِ بصیرت کے منشور یا پرزم سے گزرتی ہوئی جدا جدا رنگوں میں جلوہ گر ہو رہی ہیں؟

سچائی کے اس سورج کا دوسرا نام انسان دوستی اور محبت ہی تو ہے۔ جس کی کرنوں کے خواب سے درویش نے سالک کی آنکھیں روشن کر رکھی ہیں۔ ان آنکھوں کی ’خواب در خواب‘ جھلملاہٹ میں وہ انسانی رشتوں اور اقدار کی تعبیریں ’تلاش‘ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ ’نگر نگر کی کہانیاں‘ بیان کرتے ہوئے ’تخلیقی اقلیت‘ کے ’نفسیاتی راز‘ جاننے والے ’پاپی‘ ’دیوتا‘ کے انسان دوست ’آدرش‘ کا آئینہ بھی دکھاتا جاتا ہے اور ’پرسکون زندگی کی طرف سات قدم‘ اٹھانے کی دعوت بھی دیتا جاتا ہے۔

سوچیں تو قدم بھی تو سفر ہی کا ایک استعارہ ہے اور ہم دیکھتے ہی کہ ہر سوچنے والا ذہن مسلسل محوِ سفر ہے۔ وہ ذہن کسی فن کار کا ہو یا شاعر کا یا کسی سالک کا! سفر ہمہ وقت اس کا رفیق ہوتا ہے۔ فرق محض یہ ہوتا ہے کہ یہ سفر کبھی سیدھے خط کے رُخ پر ہوتا ہے اور کبھی ترچھی لکیر کے متوازی اور کبھی دائرے میں۔ کبھی عمودی دائرے میں اور کبھی افقی دائرے میں۔ افقی دائرے کا سفر یک سطحی ہوتا ہے جب کہ عمودی دائرے کے مسافر ترفع کے نقطہ کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ شاید سالک کا سفر مجھ پر ایسے سفر ہی کی صورت منکشف ہوا۔

کتاب پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سالک کا یہ سفر درحقیقت اپنی ہی پہچان کا سفر ہے۔ یہ سوچ سے سچ تک کا سفر ہے۔ دیکھیں تو بس سوچ کے عین بیچ میں واقع ’واؤ‘ ہی کو ہٹانا ہے مگر سوچیں تو اس میں عمریں بیت جاتی ہیں۔ یہ سادہ سا حرف ’و‘ ہٹتا ہی نہیں اور بندہ کہہ اٹھتا ہے

عُمراں لنگھیاں پباں بھار

اس سفر میں سالک کو قدم قدم پر منزل دکھائی دیتی ہے جو اسے دعوتِ قیام دیتی ہے مگر وہ اس پر اُچٹتی سی نظر ڈالتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کردار کے خالق یعنی ہمارے درویش صفت ادیب دوست ڈاکٹر خالد سہیل نے اس کے پاؤں میں شاید وہی گھنگھرو باندھ رکھے ہیں جو کبھی بلھے شاہ نے اپنے محبوب مرشد کو منانے کے لیے زیب پا کیے تھے یا شاید وہ جو مادھو لعل حسین کے دربار کے احاطہ میں گھوم گھوم کر دھمال ڈالتے درویشوں نے پہن رکھے ہوتے ہیں۔

اب نہ دائرہ دائرہ دھمکتی دھمال دھیمی پڑتی ہے اور نہ ذہن میں گونجتی عارفانہ دُھن۔ سفر تھمے بھی تو کیوں کر تھمے۔ یہاں ہمارا سالک زبانِ حال سے یہ گنگناتا ہوا ہمارے سامنے سے گزر جاتا ہے :

اک رقصِ سفر پاؤں ٹھہرنے نہیں دیتا
اک دُھن کہ مِرے سر سے نکلتی ہی نہیں ہے
(حامدیزدانی)

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار!

دیکھیے، میں اپنی ہی دُھن میں کہاں سے کہاں نکل گیا۔ بات اتنی سی تھی کہ مجھے فیملی آف دی ہارٹ کی اس تقریب میں صابر نذر اور عظمیٰ بنت عزیز کی فنی کارگزاری سے آراستہ ڈاکٹر خالد سہیل کی تازہ ترین تصنیف پر انھیں مبارک باد پیش کرنا تھی جو امجد سلیم منہاس صاحب کے ادارہ ”سانجھ“ لاہور نے شائع کی ہے اور جس کا نام ’سالک‘ رکھا گیا ہے۔

یہ وہی سالک ہے جس سے ہم پہلے ’سِیکر‘ کے نام سے بھی مل چکے ہیں۔ وہی کبھی ہمیں خضر کے نام سے ملتا ہے اور کبھی خالد سہیل کے نام سے۔ یہ سب ایک ہی شخصیت کے روپ ہیں، ایک ہی آئینہ کے عکس ہیں، ایک ہی حقیقت کے پرتو ہیں۔ کم از کم میں تو یہی سمجھتا ہوں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟ بتائیے گا۔

(یہ مضمون علمی، ادبی و ثقافتی تنظیم فیملی آف دی ہارٹ کی جانب سے کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں منعقد ہونے والی ”سالک“ کی تقریبِ تعارف و پذیرائی کے لیے تحریر کیا گیا)

Facebook Comments HS