نفرت کی دیوی کو سب سے بڑا ایوارڈ
ہندوستان وہ ملک ہے جہاں سیاست کی بنیاد مسلم دشمنی پر رکھی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے ہاں کا ایک طبقہ اسے انسان دوست ریاست تصور کرتا ہے مگر کاش یہ تخیل حقیقت ہوتا یہ تو وہ ملک ہے جہاں مشہور ہونے اور مقام حاصل کرنے کے لیے اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کو نشانہ بنانا لازمی قرار پاتا ہے۔ جس کا اظہار تسلسل سے جاری ہے۔ سال کی ابتداء میں وہاں کی ایک متنازعہ شخصیت کو سب سے بڑا سول اعزاز دے کر مودی حکومت نے مسلم دشمنی پر مہر ثبت کر دی ہے۔ سادھوی رتمبھرا جن کا اصل نام نرملا دیوی ہے بھارت کی ایک معروف ہندو مذہبی رہنما اور وشوا ہندو پریشد کی سرگرم کارکن ہیں۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں رام جنم بھومی تحریک کے دوران اپنی شعلہ بیانی مسلم دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے بعد اسلام دشمن انتہا پسند طبقوں میں شہرت حاصل کی۔
گودی میڈیا نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا کر انہیں ایک رہنما کا روپ دیا۔ نرملا دیوی نے کم عمری میں ہی ہندو مذہب کی طرف رجوع کیا اور سادھوی رتمبھرا کے نام سے معروف ہوئیں۔ انہوں نے ہندو مذہبی تعلیمات کو فروغ دینے اور ہندو قوم پرستی کے نظریات کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ البتہ ان کو اصل شہرت اسلام مخالف اقدامات کے سبب ملی۔ سادھوی رتمبھرا کی تقاریر میں اکثر مسلمانوں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز بیانات شامل ہوتے ہیں۔ ان کی تقاریر کو لاؤڈ سپیکرز پر چلایا جاتا تھا تاکہ ہندوؤں میں قوم پرستی کے جذبات کو ابھارا جا سکے۔ وہ۔ شروع ہی سے اشتعال انگیز بیان بازی اور مختلف فرقہ ورانہ تنازعات میں ملوث رہی ہیں۔
مودی کی اسلام دشمن حکومت نے حال ہی میں ہندوستان کا سب سے بڑا اعزاز پدم بھوشن دینے کا اعلان کیا ہے ان کا سب سے زیادہ قابل اعتراض اقدام بابری مسجد کے انہدام میں رہا ہے جس میں انہوں نے اشتعال انگیز تقاریر کر کے ایک بڑے مجمعے کو حملہ کرنے پر اکسایا۔
6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام میں سادھوی رتمبھارا کا کردار نمایاں تھا۔ اس واقعے کے بعد ہونے والی تحقیقات میں ان کا نام 68 افراد کی فہرست میں شامل تھا جو اس انہدام کے ذمہ دار تھے۔ سی بی آئی نے ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی جیسی اہم شخصیات کے ساتھ سادھوی رتمبھرا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ، سادھوی رتمبھارا نے رام مندر کی تعمیر کی تحریک میں بھی حصہ لیا۔ ان کی تقاریر اور سرگرمیوں نے ہندو قوم پرستوں کو مندر کی تعمیر کے لیے متحرک کرنے میں مدد دی۔ سادھوی رتمبھرا پر بابری مسجد کے انہدام اور اشتعال انگیز تقاریر کے سلسلے میں مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ تاہم، 2020 میں انہیں دیگر تمام ملزمان کے ساتھ بری کر دیا گیا۔ سی آئی اے نے بھی سادھوی کو انتہا پسند ہندو مسلح جتھے کا اہم رکن بتایا تھا۔
حال ہی میں، بھارتی حکومت نے سادھوی رتمبھرا کو سماجی خدمات کے زمرے میں ملک کے تیسرے اعلیٰ ترین ایوارڈ پدم بھوشن سے نوازا ہے۔ ان کی اشتعال انگیز بیان بازی اور مختلف فرقہ ورانہ تنازعات میں ملوث ہونے کی طویل تاریخ کے پیش نظر، اس ایوارڈ نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔ ان کے ایسے بے شمار بیانات اور تقاریر موجود ہیں جن میں وہ کھلم کھلا انتہا پسندوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دیتی اور اکساتی نظر آتی ہیں۔
سادھوی رتمبھرا کی زندگی اور سرگرمیاں بھارت کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک متنازعہ باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے اقدامات اور بیانات نے ملک میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ایک متنازعہ ترین اسلام مخالف شخصیت کو بڑا سرکاری اعزاز دینا مودی کے ہندوستان کی سرکاری پالیسی کا واضح اظہار ہے کاش او آئی سی اس معاملے کا نوٹس لے کر متفقہ اقدامات اٹھا سکے۔


