ایک غیر مقبول بیانیہ


اک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں اک سفید داڑھی والے بزرگ کو ایس ایچ او صاحب پیٹ رہے ہیں۔ سب کو یہ ظلم لگا افسران بالا کو بھی اس لیے انہوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر کے ایس ایچ او نیو ملتان شفیق لنگاہ کو پابند سلاسل کر دیا۔

یہ خبر کا ایک رخ ہے جو سب کے سامنے ہے جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ اس ملک میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پہ حملہ ہوتا ہے اور کئی سال اس ملک میں کرکٹ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ عام آدمی کے نزدیک یہ صرف ایک کھیل ہی تو ہے مگر بزنس پوائنٹ آف ویو سے دیکھیں تو آئی سی سی کے میچز ہماری اکانومی کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ پیسہ کمانے والے پیشوں میں کرکٹر پہلے نمبر پہ ہیں اگرچہ دوسرے ممالک میں ایکٹرز کرکٹرز سے بھی زیادہ کماتے ہیں۔ مگر پاکستان میں کرکٹرز سب سے زیادہ پیسہ کماتے ہیں۔ سیاستدانوں ایکٹرز سنگرز اور سرکاری بیوروکریٹس سے بھی زیادہ۔ اگر یہاں آئی سی سی کا ٹورنامنٹ ہوتا ہے تو ملک میں ڈالرز آتے ہیں۔

اس کرکٹ کا ذمہ آج کل پاکستان کے دوسرے طاقتور ترین انسان محسن نقوی کے ذمہ ہے۔ نون لیگ والے کہتے ہیں کہ شکر ہے محسن نقوی نے وزیر اعظم کی کرسی نہیں مانگ لی ورنہ انہیں وہ بھی مل جانی تھی۔ خیر محسن نقوی صاحب ایک طرف کرکٹ کے مائی باپ ہیں دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی انہی کے ماتحت ہیں بلکہ اس وقت تو ہر محکمہ ان کا ماتحت ہے۔ سو اس کرکٹ ٹیم کی حفاظت میں کوئی کمی کوتاہی برداشت سے باہر سمجھی جاتی۔ پولیس نے ناکے لگائے ہوئے تھے کچھ روڈ عام پبلک کے لیے بند تھے ایس ایچ او خود سڑکوں پہ تھا۔ تبھی اک بزرگ شخص بائیک پہ ناکہ توڑتا ہے اور اس سے قبل وہ ایک پولیس والے کے پیٹ میں لات رسید کرتا ہے۔

اب جس ملک میں دہشت گردوں نے ہر کسی کو مشکوک کر دیا ہے کیا بچے کیا بوڑھے کیا عورتیں سب خودکش حملہ آور کے کردار میں دیکھے جا چکے ہیں خود ملتان بھی خود کش حملوں کا وکٹم رہ چکا ہے۔ اس لیے وائرلیس ہوتی ہے اور آگے ایس ایچ او بزرگ کو پکڑ لیتا ہے اور جھنجھلاہٹ، غصہ، خودکش حملے کا خوف اور سیکیورٹی توڑنے کی وجہ سے افسران بالا کا ڈر اس سب کا نتیجہ بزرگ کو تھپڑ مارنے جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔

ایس ایچ او کی بات کریں تو شفیق لنگاہ اپنے محکمے میں ایماندار فرض شناس اور خلق خدا کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کا یہ عمل کیا اتنا غلط تھا کہ اسے عبرت کا نشانہ بنائے جانے پہ عمل شروع کر دیا جاتا۔ ایک منٹ کے لیے سوچیں کہ اگر یہ بائیک والا واقعی کوئی خودکش حملہ آور ہوتا تو کیا ایس ایچ او نے جان پہ کھیل کر اسے نہیں روکا اس وقت اگر جیکٹ پھٹ جاتی تو کیا ہم سب، یہ میڈیا، یہ سوشل میڈیا، یہ افسران بالا سارے کے سارے اس کی بہادری کی تعریفیں نہیں کر رہے ہوتے۔ میں ایک بات اکثر کرتا ہوں کہ پولیس محکمہ اک ہی وقت میں ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی۔ یہ محکمہ ظلم کرنے پہ آتا ہے تو حدیں پار کر دیتا ہے شاید اسی وجہ سے بدنام بھی ہے۔ دوسری طرف ہر حکم کی تعمیل کرانے والے افسران بالا کبھی اپنے اہلکار کے لیے سٹینڈ نہیں لیتے یہ اپنے اہلکار کو ہمیشہ قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔ اور شفیق لنگاہ کا کیس اس کی ایک اور مثال ہے بس۔

کچے کے علاقے میں کبھی ان پولیس والوں کو قابل رحم حالت میں دیکھیں۔ ان کی سال کے تین سو پینسٹھ دن اور دن کے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پہ حاضر رہنے کو دیکھیں ہمیشہ منفی ماحول میں رہنے کو دیکھیں تھوڑی سی تنخواہ اور اسی تنخواہ میں نوکری سے متعلقہ اخراجات کو دیکھیں۔ فیملی سے دوری بچوں کو بڑا ہوتا نہ دیکھ سکنا اوپر سے افسران کا دباؤ درحقیقت یہ مظلوم ہیں اگر ایسے ماحول میں سے کوئی شفیق لنگاہ نکلتا ہے اور محکمے میں اچھا نام بناتا ہے تو اسے کچھ مارجن دیا جانا چاہیے کیونکہ دوسری طرف سفید داڑھی اور مظلومیت کے پیچھے چھپنے والا شخص آخرکار قانون توڑنے والا ملزم ہی ہے جس نے حساس وقت میں حساس جگہ پہ حساس معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہوئے قانون کے اہلکار کو لات رسید بھی کی۔

میں ایس ایچ او کے عمل کو ٹھیک نہیں مانتا مگر شفیق لنگاہ جیسا بندہ اتنی نفرت اور گالیوں کا مستحق ہرگز نہیں۔

Facebook Comments HS