کھانے کے لیے جینے والے لوگ اور الٹی سفارشیں


گورنمنٹ ہائی سکول پاکپتن میں دسویں جماعت کے پریکٹیکل کا امتحان لے رہا تھا۔ میں ابھی ایک گروپ کا امتحان لے کر فارغ ہی ہوا تھا کہ سکول کے ہیڈ ماسٹر الہ بخش طارق آ گئے۔ موصوف عمدہ ادبی ذوق کے مالک ہیں اور ایک کتاب کے لکھاری بھی ہیں۔ پوچھنے لگے کہ فارغ وقت میں یہاں کیا کرتے رہتے ہو۔ میرے پاس دفتر میں آ جایا کرو۔ گپ شپ لگ جایا کرے گی۔

اگلے دن میں نے ایسے ہی کیا جونہی اُن کے دفتر میں داخل ہوا وہاں نسبی صاحب تشریف فرما تھے۔ مجھے دیکھ کر ہیڈ ماسٹر صاحب بولے آئیے آپ کو ہمارے ہی ایک نابغہ روزگار پیٹی بھائی سے ملواتے ہیں میں نے انہیں بتایا کہ میں انہیں جانتا ہوں۔ بولے آپ انہیں بالکل بھی نہیں جانتے۔ میں نے کہا حضور والا میں واقف ہوں اُن سے میں نہ مانوں کے انداز میں بولے تمہیں کچھ نہیں پتہ میں بتاتا ہوں مجبوراً مجھے خاموش ہونا پڑا۔ اب انہوں نے اپنی کہانی شروع کی

بولے پچھلے سال آپ کی جگہ نسبی صاحب پریکٹیکل کا امتحان لینے کے لیے یہاں آئے تھے میں علی الصبح سکول میں سیر کرنے کے لیے آیا تو انہیں لیبارٹری میں موجود پایا۔ میں نے کہا، کہ ابھی تو پریکٹیکل شروع ہونے میں کافی وقت باقی ہے۔ چلو گھر چلتے ہیں۔ وہاں ناشتہ وغیرہ بھی کر لیں گے اور وقت بھی گزر جائے گا تو فرمانے لگے کہ ناشتہ کیا میں تو گھر سے پیٹ بھر کر کھانا کھا کر آیا ہوں لیکن بہرحال چلو آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور پریکٹیکل شروع ہونے سے آدھ پون گھنٹہ پہلے آ جائیں گے۔ ہم دونوں گھر چلے گئے میں نے انہیں بیٹھک میں بٹھایا اور خود اندر چلا گیا۔ گھر میں میری بیوی میرے لیے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔ اس نے چھابی میں مکئی کی ایک روٹی رکھی اور ایک کولی میں ساگ ڈال کر کچن کے ساتھ ہی پڑی ہوئی ایک چھوٹی سی میز پر میرے کھانے کے لیے رکھ دیا۔

میں کولی اور چھا بی اٹھا کر نسبی صاحب کو کمپنی دینے کی غرض سے بیٹھک میں آ گیا اور اُن کے سامنے بیٹھ کر ناشتہ شروع کر دیا ساتھ ہی میں نے انہیں بھی مکھن، ساگ اور مکئی کی روٹی چکھنے کی دعوت دے ڈالی۔ کمال فیاضی سے فرمایا چلو چکھ لیتے ہیں۔ کھانا تو ویسے میں گھر سے کھا کر آیا ہوں۔ یہ کہہ کر ناشتے میں میرے ساتھ شامل ہو گئے۔ پہلا لقمہ منہ میں ڈال کر بولے یار یہ تو بڑا مزیدار ہے۔ چھابی میں پڑی ہوئی بقیہ نصف روٹی کے اُوپر پورا ساگ ڈال کر کولی میرے حوالے کر دی کہ یار ساگ اور لے آؤ۔ ساگ بہت مزے کا ہے۔ میں ساگ لے کر واپس آیا تو روٹی ختم کر چکے تھے۔ چھابی میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولے روٹی ختم ہو گئی ہے اور لے کر آؤ۔

روٹی لے کر واپس آیا تو ساگ ختم تھا۔ کولی مجھے تھماتے ہوئے بولے یار ساگ بہت مزے کا ہے میں نے تو اسے بغیر روٹی کے ہی کھا لیا ہے۔ بہرحال اب چھابی اندر اور کولی باہر اور کبھی کولی اندر اور چھابی باہر کا چکر کچھ ایسا شروع ہوا جو ساگ اور مکئی کے گندھے ہوئے آٹے کے خاتمے تک جاری رہا۔ اس مرحلہ پر میری بیوی مجھ سے الجھ پڑی کہ آپ نے خواہ مخواہ میری ہتک کروا دی۔ اگر آپ کے ساتھ ناشتہ کرنے میں اور لوگوں نے بھی شامل ہونا تھا تو مجھے بتا دیتے میں ناشتے کا سامان اسی حساب سے تیار کر لیتی۔ میں نے اس کا بازو پکڑا اور اسے اپنے ساتھ بیٹھک میں لے آیا اور اُسے بتایا کہ بھلی لوکے، غور سے دیکھ لو میرے ساتھ ناشتہ کرنے والا یہ واحد آدمی ہے شکر کرو کہ یہ ابھی گھر سے پیٹ بھر کر کھانا کھا کر آیا تھا اگر یہ بھوکے پیٹ آتا او ر تم نے ہی اس کا پیٹ بھرنا ہوتا تو پھر تمہارا کیا حشر ہوتا۔ بہرحال اس کا تو مجھے پتہ نہیں ہے کہ پیٹ بھرا یا نہیں بھرا لیکن میں اس دن بغیر ناشتہ کیے سکول آیا تھا کیوں کہ مجھے تو اس نے آنے جانے کے چکر سے ہی باہر نہیں نکلنے دیا اور خود ہر چیز سمیٹ گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ نسبی صاحب کے ساتھ شرف واقفیت کے حصول کی میری اپنی داستان بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔

آپ گورنمنٹ بی ٹی ایم ہائی سکول بورے والا میں پریکٹیکل ایگزامینر بن کر تشریف لائے۔ میں اُن دنوں نواحی گاؤں 495 /EB کے ہائی سکول میں ہیڈماسٹر تھا اور میرے سکول کے بچوں نے بی ٹی ایم ہائی سکول میں پریکٹیکل کا امتحان دینا تھا۔ میں نے مقررہ تاریخ پر اپنے ڈپٹی ہیڈ ماسٹر راؤ انور صاحب کو بچوں کے ساتھ بی ٹی ایم ہائی سکول میں بھجوا دیا اور خود ایم سی ہائی سکول میں جا کر بیٹھ گیا۔ جہاں میری سروس کا بیشتر حصہ گزرا تھا۔ اُن دنوں روایت یہ تھی کہ پریکٹیکل ایگزامینر کی خوب آؤ بھگت کی جاتی۔ اُسے کھلانے پلانے اور سیر سپاٹا کروانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے۔ میں نے 12 بجے کے قریب حال احوال لینے کے لیے راؤ صاحب کو فون کیا تو وہ آگے سے بھرے بیٹھے تھے۔ فوراً بولے، صاحب آپ یہاں خود تشریف لاکر نسبی صاحب کو سنبھالیں یہ میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ میں نے پوچھا کہ ہوا کیا ہے۔ کہنے لگے کہ پہلے گروپ کا امتحان ختم ہونے کے بعد ہم تین چار سائنس ٹیچر نسبی صاحب کے پاس بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ میں نے پینے کے لیے دو لیٹر کوک منگوا لی۔ جونہی ملازم کوک لے کر کمرے میں داخل ہوا اور نسبی صاحب کی نظر کوک پر پڑی انہوں نے کوک کی بوتل پکڑ کر کھولی اور اسے منہ کو لگا کر آدھی سے زیادہ ایک ہی سانس میں پی گئے اور بقیہ اپنے سامنے میز پر رکھ کر بولے یہ میں تھوڑی دیر بعد پی لوں گا۔

میں نے سوچا کہ باقی دوستوں کے لیے اب آئس کریم منگوا لیتا ہوں میں نے ملازم کو آئس کریم کا ایک لیٹر پیک لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب آئس کریم آئی تو نسبی صاحب نے اس پر بھی قبضہ جما لیا اور بولے، یہ میرا بڑا فیورٹ فلیور ہے آپ لوگ اپنے لیے اور منگوا لیں۔ اب کھانے کا وقت ہوا چاہتا ہے اور میری عقل جواب دے رہی ہے کہ اسے کھانا کس طریقے سے کھلایا جائے۔ بخدا آپ آ کر انہیں سنبھال لیں۔ بہرحال وہ تو ہم نے سنبھال لیا اور پریکٹیکل کے چار پانچ دن جیسے تیسے ہو سکا گزارا کر لیا لیکن اُن کے جانے کے بعد اس ماہ کا ٹیلی فون کا لمبا چوڑا بل سکول ہیڈ ماسٹر کے لیے درد سر بنا رہا۔

اس سے اگلے سال ہی نسبی صاحب سے ساہیوال میں ملاقات ہو گئی۔ میں نے پوچھا، یہاں کیسے، فرمانے لگے پریکٹیکل لینے آیا ہوں۔ پریکٹیکل کب ہے۔ تین چار دن بعد کی تاریخ بتائی۔ مجھے اس کمزور اور منحنی سے سانس ٹیچر پر ترس آ رہا تھا۔ جن کو موصوف کی میزبانی کا شرف حاصل تھا۔ ویسے بھی اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ غالباً سعید صاحب میرے ساتھ تھے۔ کہنے لگے، اس نوجوان سائنس ٹیچر کی ہوائیاں کیوں اُڑی ہوئی ہیں۔ میں نے وضاحت کی کہ سعید صاحب آپ کا کبھی نسبی صاحب سے واہ نہیں پڑا ورنہ یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

پاکپتن میں دورانِ پریکٹیکل جو خلاف توقع بات ہوئی وہ یہ تھی کہ اس سکول کے تمام سائنس ٹیچرز نے مل کر اجتماعی طور پر مجھ سے ایک ہی سفارش کی ایک رول نمبر چٹ دے کر بولے کہ اسے امتحان میں پاس نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سن کر میرے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ساری عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزارنے کے باوجود ایسا اتفاق پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ لوگ بچوں کو پاس کروانے کے لیے اچھے نمبروں کے لیے اور پورے نمبروں کے لیے سفارش کرتے تو دیکھے تھے لیکن فیل کرنے کی سفارش پہلی بار سامنے آئی تھی۔ بہرحال میں نے خاموشی سے وہ چٹ جیب میں ڈال لی۔ جب وہ طالب علم امتحان دینے کے لیے آیا تو میں نے بطور ِ خاص اس کا جائزہ لیا۔ اس کو پریکٹیکل پرفارم کرتے دیکھا اس کی کاپی کا جائزہ لیا۔ زبانی امتحان بطور خاص لیا اور مجھے اس بات پر سخت حیرانی ہوئی کہ میرے حاصل حصول کے مطابق وہ بچہ اس سکول کا ٹاپ کا طالب علم تھا۔

میں نے باتوں ہی باتوں میں اس سے معلوم کیا کہ اس کے سائنس ٹیچرز اس سے نالاں کیوں ہیں۔ اس نے بتایا کہ ہمارے سکول میں سائنس ٹیچرز اور آرٹس کے ٹیچرز کے درمیان پارٹی بازی ہے اور ہم طلباء کو بھی اس پارٹی بازی میں جبراً دھکیل دیا گیا ہے اور میں آرٹس ٹیچرز کے ساتھ ہوں اسی لیے سائنس ٹیچرز میرے خلاف ہیں۔ بہرحال میں نے اُسے حوصلہ دیا کہ وہ بے فکر رہے۔ اس کو اس کی کارکردگی اور اہلیت کے مطابق ہی نمبر دیے جائیں گے جو بہت اچھی رہی ہے اور وہ خوش ہو گیا۔

اُن دنوں پریکٹیکل ایگزامینر ہی اپنا ہیڈ ایگزامینر بھی ہوتا تھا اور پریکٹیکل ایگزامینر بھی عموماً مارکنگ اس سے متعلقہ لسٹیں اور بقیہ سارا لکھائی پڑھائی کا کام اپنے سنٹر پر ہی مکمل کر کے بورڈ کو بھجوا دیا کرتے تھے۔ اب مجھے پر بھی یہی دباؤ تھا کہ لائیں جی، آپ گھر جا کر اس کام میں الجھے رہیں گے یہیں مل جل کر سارے کام نمٹا لیتے ہیں لیکن میں انہیں ٹالتا رہا۔ جب پریکٹیکل ختم ہو گئے تو سارا ساز و سامان اٹھا کر گھر لے آیا۔ گھر میں دو تین دن بیٹھ کر مارکنگ مکمل کی ایوارڈ لسٹیں مکمل کیں اور حسبِ وعدہ طالب علم مذکور کو پچیس میں سے پچیس نمبر یعنی پورے پورے نمبر دے دیے لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے اس کا رول نمبر بھی اپنے پاس درج کر لیا۔ دو تین ماہ بعد جب میٹرک کے نتیجہ کا اعلان ہوا تو میں نے گزٹ میں پاکپتن کے اس پورے سکول کا رزلٹ چیک کیا تو وہ لڑکا اپنے سکول میں پہلی پوزیشن پر تھا۔ اس کا رزلٹ دیکھ کر مجھے بہت خوشی بھی ہوئی اور اپنی کارگزاری پر اطمینان بھی حاصل ہوا۔

Facebook Comments HS