پاکستانی سوشل میڈیا کلچر: ترقی کی دوڑ میں ہمارا ”منفرد“ میدان


دنیا مسلسل ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔ مغرب مصنوعی ذہانت (AI) میں انقلاب لا رہا ہے، جاپان اور کوریا روبوٹکس میں حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، چین دنیا کا سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹر بنا رہا ہے، امریکہ اور یورپ ماحول دوست ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہے ہیں، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی معیشت پر قبضہ جما رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایک منفرد ترقی ہو رہی ہے۔ ہم نے اخلاقی زوال، بدتہذیبی، گالم گلوچ، اور نفرت انگیز رویوں کی ایسی ”ٹیکنالوجی“ ڈویلپ کی ہے جو دنیا میں کہیں اور اس سطح پر نہیں ملتی۔

1۔ دنیا کی ٹیکنالوجی، ہماری ”ترقی“

·دنیا چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بنا رہی ہے، اور ہم سوشل میڈیا پر بوٹ اور جعلی اکاؤنٹس بنا کر دوسروں کی عزتیں اچھالنے میں مصروف ہیں۔

·امریکہ، چین، اور جنوبی کوریا جدید پروسیسرز اور چپس پر کام کر رہے ہیں، اور ہم بدزبانی، کردار کشی، اور سیاسی مخالفت میں گالم گلوچ کے نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔

·یورپ اور جاپان گرین انرجی اور بیٹری پر چلنے والی گاڑیاں بنا رہے ہیں، اور ہم سوشل میڈیا پر ”ٹرینڈ“ بنانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ چاہے وہ ٹرینڈ نفرت پھیلانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

یہ موازنہ صرف ٹیکنالوجی میں ترقی کا نہیں، بلکہ اخلاقی اقدار، سوشل میڈیا کے استعمال اور جدید دنیا کے ساتھ چلنے کے عزم کا بھی ہے۔

2۔ پاکستانی سوشل میڈیا: گالیوں کا نیا میدان جنگ

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کا بنیادی مقصد معلومات کی فراہمی، مثبت مباحثے اور سماجی ترقی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں لوگ سوشل میڈیا پر سائنسی ترقی، کاروباری مواقع، اور سماجی مسائل پر تعمیری بحث کرتے ہیں۔

لیکن پاکستان میں؟ یہاں سوشل میڈیا کا مطلب ہے :
گالیوں اور دھمکیوں کے ساتھ ہر اختلاف رائے کو کچلنا۔

کسی کی سیاسی وابستگی پسند نہیں؟ تو اسے گالی دو، خاندان پر حملہ کرو، اور اس کے خلاف ”ٹرینڈ“ چلا دو۔

طنز و مزاح بھی گالیوں کے بغیر ممکن نہیں! مزاحیہ ویڈیوز ہوں یا میمز، ہر جگہ تضحیک اور کردار کشی۔

اگر کسی نے اختلاف کیا، تو اس کی ماں، بہن، اور پورے خاندان کو گالیاں دینا ”حب الوطنی“ سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کس کے بچے ناجائز ہیں یا کون عیاشیاں کرتا رہا ہے۔

3۔ میڈیا اور یوٹیوب: آگ میں مزید تیل

پاکستان کے روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے یوٹیوبرز نے بھی اس رجحان کو بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

·ٹی وی چینلز سنجیدہ مکالمے کی بجائے چیخ و پکار، الزام تراشی اور تضحیک کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
·یوٹیوبرز محض ویوز اور سبسکرائبرز کے لیے جھوٹے دعوے، افواہیں اور اشتعال انگیز مواد تخلیق کرتے ہیں۔

·سوشل میڈیا انفلوئنسرز عوام کو تعلیم دینے کی بجائے سیاسی منافرت، سازشی نظریات اور غلط اطلاعات پھیلانے میں لگے ہیں۔

جب مین اسٹریم میڈیا خود غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، تو عوام سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟

4۔ سماجی اثرات: ایک اخلاقی دیوالیہ پن

یہ بدتمیزی اور بدتہذیبی صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی سرایت کر چکی ہے۔

·نوجوان نسل اخلاقی اقدار کھوتی جا رہی ہے، اور گالم گلوچ کو ”بہادری“ سمجھتی ہے۔
·تعمیری مکالمہ ختم ہو رہا ہے، اور نفرت انگیز رویے عام ہو رہے ہیں۔
·عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ہم ایک غیر مہذب قوم کے طور پر پہچانے جا رہے ہیں۔

جب ملک میں ہر طرف بدتمیزی، تضحیک اور نفرت کا ماحول ہو، تو ترقی اور جدید دنیا میں قدم رکھنے کا خواب کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟

5۔ حل: کیا ہم سدھر سکتے ہیں؟

اس زوال سے نکلنے کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات لینے ہوں گے :
·ڈیجیٹل لٹریسی: عوام کو یہ سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا کو مثبت طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

·سخت قوانین: آن لائن بدتمیزی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون سازی کی جائے۔

·تعلیمی نصاب میں اخلاقی تربیت: اسکولوں اور کالجوں میں ڈیجیٹل اخلاقیات کا مضمون شامل کیا جائے۔

·ذمہ دار میڈیا: ٹی وی چینلز اور یوٹیوبرز کو سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

·سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی: ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کو ایسے مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے پالیسیز اپنانا ہوں گی۔

نتیجہ: ترقی کی دوڑ میں کہاں کھڑے ہیں؟

جب دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، اور گرین انرجی میں انقلاب برپا کر رہی ہے، ہم سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کے نت نئے طریقے ایجاد کر رہے ہیں۔ جب دنیا آگے بڑھ رہی ہے، ہم اپنی اخلاقی گراوٹ میں مزید پستی میں جا رہے ہیں۔

یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے :

ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں؟ یا صرف زبانی دعوے کر کے اخلاقی بدحالی کے دلدل میں دھنستے جانا چاہتے ہیں؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے سوشل میڈیا کلچر پر نظرثانی کریں اور پاکستان کو اخلاقی اور سماجی طور پر ایک مہذب ملک بنانے کی کوشش کریں۔ ورنہ دنیا ترقی کرتی رہے گی، اور ہم صرف ایک ”گالیوں والے ملک“ کے طور پر پہچانے جائیں گے۔

Facebook Comments HS