عمران ریاض کی جلاوطنی، صحافت کے لیے پاکستان میں بدلتے حالات


پاکستان میں آزادیٔ اظہار رائے پر قدغن لگانے کے لیے ایک اور متنازع قانون، پیکا ایکٹ ترمیمی بل، منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ بِل بنیادی طور پر حکومت کے مخالفین اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانے کی ایک کوشش ہے۔ صحافیوں کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کی شدید مخالفت کر رہی ہیں، لیکن حکومت اپنی پالیسیوں کے حق میں ترمیمی بل لا کر عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

یہ قانون خاص طور پر پاکستان میں سوشل میڈیا ورکرز، سیاسی کارکنان، اور صحافیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ صحافیوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، اور اگر کوئی حکومت پر تنقید کرے تو اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عمران ریاض خان جیسے مشہور اینکر پرسن کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ معروف صحافی حامد میر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ”میں صحافی ہوں اور لوگ مجھے صحافی کہتے ہیں، لیکن بنیادی طور پر میں پاکستان میں صحافت نہیں کر سکتا“ ۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں صحافت اب ایک مشکل ترین پیشہ بن چکا ہے۔ آزادانہ رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عمران ریاض خان کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔

عمران ریاض خان، جو کہ پاکستان کے معروف اینکر پرسن ہے، اچانک ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ان پر درجنوں مقدمات درج کیے گئے، انہیں قید میں رکھا گیا، اور یہاں تک کہ 142 دنوں تک انہیں نامعلوم مقام پر تنہا رکھا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں نہ صرف بولنے سے روکا گیا بلکہ ہر ممکن طریقے سے دباؤ میں لایا گیا۔

پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے تحت اگر کوئی حکومت یا کسی طاقتور ادارے پر تنقید کرتا ہے تو اسے تین سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ قانون صرف ٹی وی چینلز اور اخبارات تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، اور یوٹیوب سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اس کا اطلاق ہو گا۔

پاکستان میں پہلے ہی میڈیا ہاؤسز پر سرکاری دباؤ بڑھ چکا ہے۔ اشتہارات کی بندش اور سینسرشپ کے ذریعے صحافت کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں صحافت کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔

صحافیوں کی مزاحمت اور بائیکاٹ کی ضرورت

پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کیا چند دن کے مظاہروں سے کوئی تبدیلی آئے گی؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کی تمام تنظیمیں اور میڈیا ہاؤسز حکومت کا بائیکاٹ کریں اور کسی بھی سرکاری پروگرام کو کوریج نہ دیں۔ میڈیا مالکان کو چاہیے کہ وہ اپنے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور حکومت کے خلاف مضبوط موقف اپنائیں۔

اگر صحافی برادری اور عوام نے پیکا ایکٹ جیسے قوانین کے خلاف مضبوط مزاحمت نہ کی تو پاکستان میں جمہوریت، آزادیٔ اظہار، اور انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہ وقت ہے کہ تمام صحافتی تنظیمیں متحد ہو کر حکومت کے ان غیر جمہوری اقدامات کے خلاف عملی طور پر آواز بلند کریں، ورنہ پاکستان میں صحافت کا مستقبل مزید تاریک ہو سکتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے، اور ایسے حالات میں صحافیوں اور سوشل میڈیا پر متحرک افراد کے خلاف سخت اقدامات ملک کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ہوں گے۔

حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور آزادیٔ اظہار، انسانی حقوق، اور سیاسی آزادیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی بھی جمہوری ملک کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں رائے کی آزادی ہو، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، اور ہر شہری کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہو۔

اگر حکومت نے ان معاملات پر توجہ نہ دی تو نہ صرف جمہوری اقدار کمزور ہوں گی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت تعمیری تنقید کو سنے اور عوام کی آواز دبانے کے بجائے، ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے۔

Facebook Comments HS

One thought on “عمران ریاض کی جلاوطنی، صحافت کے لیے پاکستان میں بدلتے حالات

  • 03/02/2025 at 9:22 شام
    Permalink

    نکاح سے پہلے ولیمے کے خوف سے گھبرانے والے لوگ

Comments are closed.