چیھپا ڈھپاک ڈھم ڈھم
مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ گوریاں بہت حسین و جمیل ہوتی ہیں لیکن ہمارے پاکستانی بھائی ہمیشہ بہت موٹی بہت بھدی گوری کا انتخاب کرتے ہیں اور اب یہ بات بار بار ثابت ہونے کے بعد اب ایک بار پھر ثابت ہو گئی جب امریکہ سے سانولی سلونی اونیجہ اینڈریو رابنسن اچانک پاکستان آ گئی اور اس کو حقیقت میں اپنے سامنے دیکھ کر ندال فرار ہو گیا اور پوری قوم حیران و پریشاں رہ گئی اور اس معاملے کی موافقت اور مخالفت میں بحث کا آغاز ہو گیا۔
مختلف ذرائع سے جو بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ متذکرہ خاتون دو بچوں کی والدہ ہیں اور ان کی ندال احمد سے جو صرف 19 برس کا نوجوان ہے سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت ہوئی اور یہ بات چیت اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ ان کا شادی کا ارادہ بن گیا اور اونیجہ اپنے بچوں کو چھوڑ کے اپنے شوہر سے طلاق لے کے پاکستان آ گئی متذکرہ خاتون کی عمر 33 سال بتائی جا رہی ہے۔ یہ خاتون پاکستان ابھی نہیں آئی ہے ان کو پاکستان آئے ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں ذرائع کے مطابق یہ اکتوبر 2024 سے پاکستان آئی ہوئی ہیں اب جنوری میں ان کا ویزا بھی ختم ہو چکا اور یہ واپسی کے لیے جہاز میں بھی سوار ہو چکی تھی مگر پھر ان کا ویزہ ایکسٹینڈ کیا گیا اور اب یہ فروری کے پہلے ہفتے تک پاکستان میں رہ سکتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اونیجہ کی بیک پر ان کی ایمبیسی اور دیگر لوگ موجود ہیں اور ہماری پولیس بھی ان کو پروٹوکول دے رہی ہے تاکہ ان کو کسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ جب تک بھی پاکستان میں رہیں باحفاظت رہیں اس سارے معاملے میں کئی سماجی انجمنیں اور ان کے سربراہان بھی پیش پیش نظر آئے۔ ابھی حال میں ہی ان کے بیٹے کا بیان بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں اس کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا لیکن اس کے ہاتھ میں ایک برتھ سرٹیفیکیٹ ہے جس میں بطور والدہ ان کا نام درج ہے اور اس نے یہ کہا ہے کہ والدہ جو ہے وہ ذہنی مریضہ ہیں اور ان کو دماغی مرض کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہے یہ اور یہ بات نظر بھی آتی ہے کہ وہ خاتون کبھی کچھ کہتی ہیں کبھی کچھ کہتی ہیں اور جب سوشل میڈیا پہ براہ راست ان سے ایک چینل کے اینکر نے سوال کیا تو انہوں نے بڑے آرام سے اس کو کہہ دیا کہ ”نان آف یور بزنس“ دیگر یہ خاتون مختلف مطالبات بھی کرتی نظر آتی ہیں اس بنیاد پر یہ کہنا کہ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت درست نہیں تو اس بات کو قبول کرنا مشکل لگتا ہے۔
بہرحال ابھی تک صورت حال یہ ہے کہ وہ خاتون فی الحال پاکستان میں ہی ہیں اور ان کے حوالے سے جو سوالات اٹھے تھے وہ اپنی جگہ پہ موجود ہیں اور وہ لڑکا ندال احمد اپنی فیملی کے ساتھ غائب ہے، اس کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ وہ کہاں گیا ہے کیوں گیا ہے اور کب تک کے لیے گیا ہے اور کیا اس کی واپسی کا کوئی امکان ہے جو امر سامنے نظر آ رہا ہے وہ یہ کہ اس لڑکے کو ان خاتون سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ ان سے پیچھا ہی چھڑانا چاہتا ہے اور یہ خود ہی اس کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، دیگر تفصیلات تا حال پس پردہ ہیں۔
اب بہتر یہ ہو گا کہ ان خاتون کو واپس بھیج دیا جائے اور اس لڑکے پر ممکنہ قانونی گرفت کی جائے اور قانون کے مطابق اس معاملے کو حل کیا جائے۔


