ڈیرہ اسماعیل خان: محبتوں کے شہر کا بدلتا چہرہ
اے مہمانو! اے ہجرت کر کے آنے والو!
یہی وہ شہر ہے جس نے تمہیں اپنی بانہوں میں سمو لیا، تمہیں اپنوں کی طرح گلے لگایا، تمہیں زمین دی، روزگار دیا، محبت دی۔ جب تم اپنے علاقوں سے نکالے گئے، جب تمہارے گھر اجڑ گئے، جب تم بے سروسامانی کے عالم میں تھے، تو یہی ڈیرہ اسماعیل خان تھا جس نے تمہیں پناہ دی، اپنے دل و دامن میں جگہ دی۔
مگر آج، یہ شہر وہ نہیں رہا جو کبھی تھا۔ کبھی یہاں امن تھا، بھائی چارہ تھا، محبتوں کی خوشبو تھی۔ مگر دیکھو، آج یہاں کیا ہو رہا ہے!
یہ سب لکھنے پر کیوں مجبور ہوا؟
آج بائی پاس سے گزرتے ہوئے قریشی موڑ پر نظر پڑی۔ ٹرالر سے لے کر ہاتھ ریڑھی تک، چنگچی رکشوں کی بھرمار، اور مین شاہراہ پر بے ہنگم رش۔ ایسا لگا جیسے میں کسی مصروف چوراہے پر نہیں بلکہ ایک بے ترتیب، بے قابو بازار میں کھڑا ہوں، جہاں ہر کوئی اپنی مرضی کا راج چلا رہا ہے۔
یہ منظر دیکھ کر دل میں ایک خلش جاگ اٹھی۔ سوچنے لگا کہ اس شہر نے ہم سب کو کیا کچھ نہیں دیا، اور ہم نے اسے کیا لوٹایا؟ یہی احساس مجھے مجبور کر گیا کہ میں یہ سب لکھوں، تاکہ شاید ہم سب اپنی کوتاہیوں کا احساس کریں اور اس شہر کے بگڑتے حال کو بہتر بنانے کے لیے کچھ کر سکیں۔
یہ خوبصورت شہر کیسے بدل گیا؟
جب تم آئے، تو تمہارے ساتھ بہت کچھ آیا۔ نئے رسم و رواج، نئی ثقافت، نئی زبانیں۔ یہ سب تو قابلِ قبول تھا، مگر جو چیز سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی، وہ وہی عناصر تھے جو تمہارے اپنے علاقوں کو ویران کر چکے تھے :
بدامنی:
کبھی یہاں کے بازار رات گئے تک آباد رہتے تھے، لوگ بے خوف و خطر گھروں سے نکلتے تھے، مگر اب ہر کوئی خوف میں جیتا ہے۔ چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، اور منشیات فروشی عام ہو چکی ہے۔ تمہارے ساتھ وہی جرائم پیشہ لوگ بھی آ گئے جن سے تم خود بھاگے تھے، اور انہوں نے اس شہر کا سکون بھی چھین لیا۔
ٹریفک اور تجاوزات:
اس چھوٹے سے شہر میں آبادی بے تحاشا بڑھ گئی، مگر اس کے مطابق کوئی منصوبہ بندی نہ ہوئی۔ تم میں سے بہت سوں نے سڑکوں پر کاروبار جمانا شروع کر دیا، بغیر کسی اصول و ضابطے کے۔ چنگچی رکشوں اور بے ہنگم ٹریفک نے ڈیرہ کی سڑکوں کو چلنے کے قابل نہ چھوڑا۔ پلازے ایسے تعمیر کیے گئے جن کے لیے پارکنگ تک نہ چھوڑی گئی۔
تعلیم کی زبوں حالی:
جب تمہارے بچے یہاں کے اسکولوں میں آئے، تو امید تھی کہ یہ علم حاصل کریں گے، ترقی کریں گے، مگر افسوس! نقل عام ہو گئی، منشیات تعلیمی اداروں میں داخل ہو گئی، طلبہ تنظیموں کے نام پر غنڈہ گردی شروع ہو گئی۔
زرعی زمینوں کی بربادی:
یہاں کے زرخیز کھیت تمہارے لیے قربان کر دیے گئے، زرعی زمینوں کو رہائشی کالونیوں میں تبدیل کر دیا گیا، مگر کیا کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ نہیں! تمہیں زمینیں بیچنے والے مالا مال ہو گئے، مگر اس شہر کی فضا آلودہ ہو گئی، قدرتی حسن برباد ہو گیا، پانی کی سطح کم ہو گئی، گرمی میں اضافہ ہو گیا۔
سیاست میں انتشار:
پہلے یہاں کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، مگر اب سیاست جھگڑوں، گالی گلوچ اور خرید و فروخت کا کھیل بن چکی ہے۔ ووٹ بیچنے کا کلچر عام ہو گیا، اور شہر کے مسائل پسِ پشت چلے گئے۔
یہ سب کیوں ہوا؟ کیا اس شہر نے تمہیں کم پیار دیا تھا؟ کیا یہاں کے لوگوں نے تمہارا کم خیال رکھا تھا؟ کیا تمہیں وہ سب نہیں ملا جو ایک بھائی دوسرے بھائی کو دیتا ہے؟
تم سے شکایت ہے کہ جس شہر نے تمہیں اپنایا، تم نے اسی کا سکون چھین لیا۔ تمہیں اس شہر کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا تھا، مگر تم نے اس کے اصل باشندوں کے لیے زندگی دشوار بنا دی۔
اب بھی وقت ہے!
یہ تحریر لکھنے کا مقصد کسی پر الزام لگانا یا نفرت پھیلانا نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کو آئینہ دکھانا ہے۔ میں خود بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جو کبھی باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے، جنہیں اس شہر نے پناہ دی، عزت دی، روزگار دیا۔ میں نے بچپن سے ڈیرہ اسماعیل خان کو ایک خوشحال، پرامن، اور محبتوں سے بھرا شہر دیکھا ہے، مگر آج جب میں اس کے حالات دیکھتا ہوں، تو دل افسوس سے بھر جاتا ہے۔
اب بھی وقت ہے! آؤ، اس شہر کو بچائیں۔ اس کی محبت، اس کی خوبصورتی، اس کی روایات کو بحال کریں۔ جو غلط ہو چکا ہے، اسے درست کریں۔ تاکہ آنے والی نسلیں تمہیں بربادی کا نہیں، تعمیر کا حصہ سمجھیں۔ یہ شہر ہمارا بھی ہے، اور تمہارا بھی۔ اسے مل کر سنوارنا ہو گا!


