مہک
ندیم تھکے ہوئے قدموں سے ایک نجی کمپنی کی بس میں بیٹھنے کے لیے ٹرمینل کی طرف جا رہا تھا۔ وہ رات اچھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ سفر سے پہلے اسے ہمیشہ ایک بے چینی ہوا کرتی ہے۔ اور ایسا بچپن سے ہی ہے اسے سفر کا ہمیشہ خوف ہوتا ہے، مگر سواری میں بیٹھ کر وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ ویسے تو اس کے پاس کار بھی تھی مگر وہ ڈرائیونگ کا ایسا شوقین نہیں تھا۔ بس کا سفر اسے زیادہ آرام دہ لگتا جس میں وہ سکون سے سفر کر لیتا تھا۔ اپنی مقررہ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے سکون کا سانس لیا اور رفتہ رفتہ اس کی طبیعت بحال ہونا شروع ہو گئی۔ ندیم نے دیکھا کہ ابھی زیادہ مسافر نہیں آئے تھے اور بس کے چلنے میں ابھی کچھ وقت ہے اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں اور دھیرے دھیرے غنودگی میں چلا گیا۔ کچی اور پکی نیند کے درمیان کہیں جہاں اسے مسافروں کی آوازیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
اس کچی پکی نیند میں اسے کسی عورت کے کپڑوں کی سرسراہٹ سنائی دی اور ایک مانوس سی کسی آشنا بدن کی مہک محسوس ہوئی۔ وہ مہک جو کسی خوبصورت عورت کے بدن، سانسوں اور ملبوس کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ جانی پہچانی خوشبو اس کے حواسوں ب پر چھانے لگی اور اسے برسوں پہلے کی شہناز یاد آ گئی جو یونیورسٹی میں اس کے ساتھ پڑھا کرتی تھی۔ تیکھے نقوش، میٹھی آواز اور مہکتے بدن والی سانولی شہناز جس سے ندیم کو ایک خاص لگاؤ تھا۔ اور دونوں میں خوب جمتی تھی اسے شہناز کو دیکھنا اور سننا بہت پسند تھا۔ جب وہ اس کے قریب بیٹھ کر چائے پیتی اس کے بدن سے مس ہوتے ہوئے ملبوس سے ایک مسحور کن خوشبو اسے اپنی گرفت میں لے لیتی۔ اسے ایڈم سمتھ اور کارل مارکس کی تھیوریاں بھی اچھی لگنے لگتیں جب وہ شہناز کی زبانی سنتا۔ ندیم دل ہی دل میں شہناز سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس نے کبھی اظہار نہیں کیا تھا مگر وہ سمجھتا تھا کہ شہناز کو اندازہ ہے اس کے جذبات کا۔ وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔ ایم اے کے دو سال پلک جھپکتے میں گزر گئے اور ندیم اس سے اظہار محبت نہ کر سکا۔ ندیم نے سوچا تھا کہ وہ شہناز کی بات اپنے گھر والوں سے کرے گا مگر اس کی نوبت نہیں آئی۔ ایم اے کے آخری دن شہناز نے ندیم کو اپنی شادی کا کارڈ دیا اور ندیم کے سارے منصوبے دھڑام سے زمین بوس ہو گئے۔ مگر ندیم کو محسوس ہوا کہ شہناز نے اسے وہ کارڈ خوشی خوشی نہیں دیا۔ شہناز کی آنکھوں میں بھی نمی تھی، مگر ہو سکتا ہے یہ ندیم کا وہم ہو۔ ندیم پژمردہ سا یونیورسٹی سے گھر آ گیا۔ چند دن وہ بہت اداس اور بے قرار رہا اسے شہناز بہت زیادہ یاد آتی تھی ابھی موبائل فون کا زمانہ نہیں تھا کہ وہ اسے ٹیکسٹ پیغامات بھیجتا اور ویسے بھی جب اس کی شادی طے ہو چکی تھی تو اس سے کیا رابطہ رکھنا؟
کچھ عرصے بعد ندیم کو بینک میں ایک اچھی ملازمت مل گئی اور پھر وہی ہوا جو مڈل کلاس میں ہوتا ہے، اس کے ماں باپ نے اس کی شادی کر دی اب وہ تین بچوں اور اپنی خوبصورت سی بیوی کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا۔ مگر یہ مانوس مہک اسے 20 سال پیچھے لے گئی۔ دفعتاً اس کی آنکھ کھل گئی اسے محسوس ہوا جیسے ابھی ابھی شہناز اس کے قریب سے گزری تھی۔ کوئی عورت بہرحال بس سے اتری ضرور تھی مگر وہ بھلا شہناز کیسے ہو سکتی تھی وہ تو کراچی میں تھی لاہور میں اس کا کیا کام؟ ندیم کو لگا کہ ذرا سی دیر میں وہ ایک خوبصورت خواب دیکھ چکا تھا اسے شہناز کی یاد پھر سے بہت زیادہ آئی۔
پرائیویٹ لگژری بس میں ایک میچور عمر کی خوبصورت عورت داخل ہوئی اس نے اپنا سیٹ نمبر تلاش کرنا شروع کیا۔ اس دوران اسے سیٹ پر نیم دراز ایک مانوس چہرے والا مسافر نظر آیا اسے دیکھ کر چند لمحے وہ مبہوت ہو گئی۔ وہ اسے اپنا پرانا کلاس فیلو لگا۔ اس کے بال ذرا سے سفید ہو چکے تھے اور عمر کے نشان چہرے پہ آ گئے تھے۔ مگر بند پلکوں کے پیچھے سے بھی اس کی بڑی بڑی گہری آنکھیں اسے نظر آ رہی تھیں۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اس کے چہرے کو چھو کر اسے اٹھائے اور پوچھے کہ آپ کا نام کیا ہے۔ مگر اسی اثنا میں بس ہوسٹس آ گئی اور پوچھنے لگی کہ میڈم اپ کا ٹکٹ نمبر کیا ہے۔ اس نے اسے اپنا ٹکٹ خاموشی سے دے دیا، ہوسٹس بولی میڈم آپ غلط بس میں آ گئی ہیں۔ یہ بس اسلام آباد جا رہی ہے آپ کا ٹکٹ تو سرگودھا کا ہے۔ ایک دم شہناز کو ہوش آ گیا اور وہ تیزی سے بس کے دروازے کی طرف گئی، اترنے سے پہلے اس نے ایک بار مڑ کر دیکھا ندیم بدستور سو رہا تھا۔


