اردو میڈیم، قسط چہارم
جب ہم پانچویں جماعت اور اپنے اسکول کے فائنل ائر میں پہنچے تو بورڈ کے تحت لیے جانے والے امتحان کا طریقہ بدل دیا گیا۔ اللہ جانے ایسا کیوں کیا مشرف گورنمنٹ نے مگر اب کے ہمیں پانچ کے پانچ پرچے ایک ہی دن میں دینے تھے۔ اور ظلم یہ کہ ہمارا فیورٹ سینٹر ”گورنمنٹ ماڈل اسکول قلعہ سوندھا سنگھ“ بھی بدل دیا گیا۔ چونکہ 100 نمبر کا ایک ہی پرچہ ہونا تھا لہٰذا سب مضامین کی چیدہ چیدہ تیاری ضروری تھی مگر پڑھنے کو بس ایک ہی ماڈل پیپر تھا جو استاد محترم پرچے سے ایک دن پہلے لے کے آئے تھے۔ معروضی طرز کا یہ پہلا پرچہ تھا جو ہم پہ آزمایا گیا اور ہم اس میں بُری طرح ناکام رہے۔ مگر مزے کی بات یہ تھی کہ اُس دفعہ بورڈ کا رزلٹ فیصلہ کُن نہیں تھا لہٰذا نتیجے کی پرواہ کیے بغیر سب کو جماعت ششم میں داخلے کے لیے اہل قرار دے دیا گیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہمارے پاس اب دو آپشن تھے۔ ایک، پاس والے گاؤں ”بھٹہ محبت“ کے سرکاری ہائی اسکول میں داخل ہوں یا تھوڑا دور ایک پرائیویٹ اسکول۔ چونکہ بڑے بھائی اُسی پرائیویٹ اسکول کے پاس ایک جنرل سٹور چلاتے تھے اور اسکول کے عملہ سے ان کے اچھے مراسم بھی تھے، لہٰذا یہ طے پایا کہ میں ”آئیڈیل پبلک اسکول“ سے ہی اپنی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھاؤں گا۔
نئے اسکول میں وردی تو بدلی ہی مگر ساتھ ساتھ پڑھنے کا انداز بھی بدل گیا۔ خاکی وردی کی جگہ کالی پینٹ اور نیلی شرٹ آ گئی جو ہمیں پہننا بھی نہ آتی تھی۔ خیر بھائی کو اندازہ تھا اور وہ اس وقت کے رواج کے مطابق پتلون ناف کے اوپر لے جا کے کس کے باندھ دیتے تھے اور بھلے سانس مشکل ہو یا قضائے حاجت کا مسئلہ ہم سارا دن ڈر کے چھیڑتے نہ تھے کہ کھل گئی تو یہ بلا گلے پڑ جائے گی۔
نصاب میں ہمدرد کی اکلوتی گائیڈ کی جگہ ہر کتاب کی الگ سے کی بُک نے لے لی اور اس پہ ظلم یہ کہ انگریزی کی ایک نہیں دو دو کتابیں شامل ہو گئیں۔ استاد کی جگہ سر (درحقیقت سروں ) نے لے لی اور ٹھیٹ پنجابی کی جگہ گلابی اردو آ گئی۔ چھیویں جماعت کی بجائے اب ہم کلاس ششم کے طالب علم کہلائے، نصاب سلیبس اور پرچہ پیپر میں بدل گیا۔ چھٹی اور تفریح کی دو گھنٹیوں کی جگہ ہر آدھ گھنٹے بعد گھنٹیاں بجنے لگیں۔
کلاس ششم میں ہمارا واسطہ کلاس انچارج سر اللہ دتہ اور دیگر چند کرداروں محمد نوید (پوپی) ، ندیم عباس (جھارا) ، محمد آصف (کیدو) ، سعید (کھیڑا) غلام علی (عُرف لکھنے لائق نہیں ) اور محمد شبیر وغیرہ سے پڑا جن میں سے سردار نور حسن (نُوری) سرفہرست ہیں (کیونکہ شروع ایام میں ہی موصوف کسی بات پہ خفا ہوئے اور بولے ”کاکا تیرے نال جھری پئے گئی اے“ اب مجھے اس ڈائیلاگ کی تو سمجھ نہیں آئی تھی مگر جس انداز میں اس نے بولا تھا وہ اتنا ڈراؤنا تھا کہ اگلے پانچ سال اس ڈر کی شدت میں کمی واقع نہ ہوئی۔ چونکہ ہم انگریزی سے نابلد تھے لہٰذا ہمیں نرسری کلاس کے بچے کی طرح چھوٹی اور بڑی اے، بی، سی سیکھنے پہ لگا دیا گیا۔ کام نرسری کے بچے والا ہی دیا گیا مگر وقت بالکل نہیں دیا گیا اور دوسرے ہی دن سر اللہ دتہ نے جو چھوٹے قد اور زیادہ سارے غصے کے مالک تھے ہماری درگت بنا ڈالی۔ نتیجتاً انگریزی زبان سے نفرت شدت اختیار کر گئی اور پہلے کی طرح اس سے چھٹکارے کی دعائیں مانگنے لگے، مگر اب کے یہ ممکن نہ تھا۔ خدا کا شکر کہ باقی سلیبس اردو میں ہی تھا لہٰذا دوسری کتابوں میں تو کبھی کوئی دقت پیش نہ آئی مگر انگریزی کا ہماری تشریف سے بیر کوئی سال بھر چلا، ہم نے انگریزی کو اور انگریزی نے ہمیں خوب رسوا کیا۔ بندہ نا چیز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے اپنے تعلیمی کیریئر میں جتنی بھی کُٹ کھائی وہ انگریزی کے صدقے ہی کھائی۔
بہرحال جیسے تیسے کر کے سال ختم ہوا اور نتیجے کی چاند رات، لگ بھگ 7 بجے بھائی سٹور سے گھر آئے تو آتے ہی مجھے اٹھا لیا اور سب کو اعلان کرتے ہوئے بتانے لگے کہ ابھی ابھی اس کے استادوں سے مل کے آیا ہوں اور ماشا اللہ ہمارے لڑکے نے سالانہ امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ لمحہ بھر توکچھ سمجھ نہ آئی مگر بیس روپے کا انعام ملتے ہی ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی اور پھر لگا کہ شاید سچ میں ہم نے کوئی معرکہ سرانجام دیا ہے۔ پوزیشن تو خیر پہلے بھی آتی تھی مگر ہمیں اس کی اہمیت اور مطلب کا اندازہ نہ تھا اور اس بیس روپے کے انعام نے اس کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے تھے۔


