بے روزگاری اور پاکستان سے پرواز
یہ ”بے روزگاری، ایک المیہ“ کا فالو اپ کالم ہے جس میں کچھ مزید وجوہات کا ذکر کروں گا اور بات آگے بڑھاؤں گا۔ آپ انٹرویو دینے جاتے ہیں 10 سے 15 منٹ کا انٹرویو ہوتا ہے جس میں کوئی جانچ ہی نہیں سکتا کہ یہ شخص کس لیول پر ہے اور کیا کچھ کرتا آیا ہے، کیا کر سکتا ہے اور کس چیز میں زیادہ عبور رکھتا ہے۔ بس جنرل سے سوالات پوچھے اور کہا کہ ٹھیک ہے آپ کو بتا دیں گے۔ اور پھر اُس کے بعد خاموشی، نہ کوئی کال نہ کچھ اور۔ ”باس! اگر رکھنا نہیں تو اپنے ایچ آر سے ایک ای میل یا میسج ہی کروا دیں کہ میں شارٹ لسٹ نہیں ہوا“ ۔ پروفیشنلزم گُم ہو گیا ہے کہیں۔
یہ ہے المیہ کہ آپ انٹرویو کے لئے محنت کر کے جاتے ہیں، اپنا پٹرول لگا کے جاتے ہیں اور اُس کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ جو بیچارہ انٹرویو دے کے آیا ہوتا ہے وہ کال کا ہی منتظر رہ جاتا ہے اور پھر اُس کی امیدیں دم توڑ جاتی ہیں۔ دوسرا ایک اہم نقطہ ہے کہ آپ انٹرویو دینے جائیں تو بِگ باس تو انٹرویو لے گا ہی، آپ خود پوچھیں کہ مجھے رپورٹ کس کو کرنا ہو گا، یعنی آپ اپنے ڈائرکٹ باس کو رپورٹ کریں گے اور یہاں بجتی ہے خطرے کی گھنٹی! فرض کیا آپ کو رکھ لیا گیا ایک بڑی سیٹ پر لیکن آپ کا یا آپ کی باس جو چار پانچ سال سے وہاں بیٹھا یا بیٹھی ہے، وہ کبھی بھی یہ ہضم نہیں کر پائیں گے کہ اتنا قابل بندہ رکھ لیا۔ یہاں پر انسیکیورٹی کا عنصر موجود ہے۔ آپ کا باس اپنے آپ کو انسکیور محسوس کرنا شروع کردے گا کہ کہیں یہ میری جگہ پہ آ کے نہ بیٹھ جائے کچھ عرصے بعد اور بِگ باس کے کان بھرے جائیں گے، آپ کو ایسے ایسے کام دیے جائیں گے جو وقت پر مکمل کرنا مشکل ہو گا اور آخر میں کامیابی ہو گی آپ کے باس کی کیونکہ اُس کا وہ ڈر نکل گیا کہ آپ کی قابلیت کی بنا پر آپ کو اُن کے اوپر یا اُن کی جگہ پر نہ بیٹھا دیا جائے۔
ایک بڑا اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ کی سی وی میں 2022 تک کا تجربہ لکھا ہے اُس کے بعد اگلا تجربہ 2024 میں شروع ہو رہا ہے ؛ سب سے پہلا سوال ہو گا کہ 2 سال آپ مارکیٹ سے آؤٹ رہے، کیوں؟ بھائی صاحب کوئی بھی مسئلہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے 2 سال مارکیٹ سے دُور رہے، کوئی نجی مسئلہ یا کوئی بھی لیکن آپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ انٹرویو دینے آئے ہوئے فرد کو اِس وجہ سے نہ رکھیں کہ آپ مارکیٹ سے دُور رہے، آپ کے تجربے پہ اثر ہوا ہو گا۔ میں یہاں ایک مثال دیتا ہوں کہ جب ایک دفعہ گاڑی چلانی سیکھ لی جاتی ہے اور کتنے سال گاڑی پہ سفر بھی کیا جاتا ہے، چلیں کسی مجبوری کی وجہ سے گاڑی بیچ دی تو اس کا مطلب ہوا کہ آپ گاڑی چلانا بھول گئے؟ یعنی آپ نے جو کام اتنے سال کیا وہ آپ بھول گئے۔ افسوس اِن سیٹھوں کی سوچ پر۔ سر آپ اُسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھائیں تو سہی ایک دفعہ لیکن پہلی ہی دفعہ میں انکار۔ کیا کریں اب اِس نجی سیکٹر کا جس میں نوکری کا حصول ممکن ہی نظر نہیں آتا۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر آپ کو بڑی سیٹ پر رکھ لیا جائے جس پہ آپ کی ساری اتھارٹی ہے، ایچ آر کا ٹانکا پہلے سے فِٹ ہو گا پرنٹنگ والے کے ساتھ اور ایسے لوگوں کے ساتھ جن سے آپ نے اس طرح کے کام کروانے ہیں۔ آپ کو مجبور کیا جائے گا کہ پرنٹر نے جو ریٹ بتایا ہے اُس سے تین چار روپے اوپر رکھ کے باس سے سائن کروائیں، آپ بھی کھائیں ہمیں بھی کھلائیں۔ اگر آپ حرام کھا سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ اُس کمپنی میں آپ کی جگہ نہیں بنتی اور ایچ آر کسی نہ کسی کے ساتھ ملی بھگت کر کے آپ کو نکال باہر کرتا ہے۔
اِن سب تجربات کے بعد آپ کے دماغ میں سوچ آتی ہے کہ پاکستان میں کچھ نہیں رکھا باہر ہی نکل جائیں اور واقعی اِس وقت پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کے پڑھے لکھے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں لیکن جا نہیں پا رہے کیوں کہ کسی کے گھر کی کوئی ذمہ داری ایسی ہے یا کسی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ جن کا جیک پاٹ لگ گیا وہ تو نکل گئے اور جن کا نہیں لگ پاتا وہ بیچارے بہت مجبور ہو کے، غریبی سے تنگ آ کے جھول جاتے ہیں اور دنیا سے ہی فراغت حاصل کر لیتے ہیں۔ بے روزگار افراد کا رجحان آج کل اس طرف بہت زیادہ ہے لیکن کوئی نہیں سوچ رہا کہ اگلے پر کیا بیت رہی ہے اور سونے پہ سہاگہ اگر وہ کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے۔ پھر تو جیسے جیسے کرایہ چڑھتا جائے گا، اُس شخص کے دل و دماغ میں یہ خیال گردش کرنے لگے گا، وہ مدد مانگے گا لیکن انسانیت ناپید ہو کر رہ گئی۔ انسان تو یہاں موجود ہے لیکن اندر سے انسانیت غائب ہے، باہر نکل کے دیکھیں آپ کو صرف چلتے پھرتے اُڑتے ہوئے کپڑے ہی دکھائی دیں گے، اندر انسان بہت کم نظر آئیں گے۔ یہاں اب کسی کے کام آنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔
میں نے نجی سیکٹر کی بات کی، گورنمنٹ کی بات کروں تو سیدھا سیدھا پیسوں کا کھیل ہے کہ اتنے میز پر رکھ دو نوکری تمہاری ورنہ معذرت اور کہانی وہیں ختم۔ یا کنٹریکٹ والے کو پکا کرنے کے لئے اخبار میں اسامیاں چھاپ کے انٹرویو لے کے فارمیلٹی پوری کر لی جاتی ہے اور بس۔ اوور کوالیفکیشن کا مسئلہ بھی یہیں زیادہ ہے۔ گورنمنٹ اداروں کا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور اب سے نہیں، جب سے پاکستان کی پیدائش ہوئی ہے۔
بس پھر ہر کوئی اسی کاوش میں ہے کہ کسی طرح پیسے پکڑ کے باہر بھاگیں ورنہ یہاں رہ گئے تو بس زندگی گزار سکتے ہیں، جی نہیں سکتے۔ ویزے کُھلے ہوئے ہیں میرا اپنا چکر لگا دوست کے ساتھ ایک جگہ۔ کیا بتاؤں کتنے پڑھے لکھے افراد اپنا ویزہ پراسیس کروانے کے چکر میں دکھائی دیے۔ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے یہ، ہاں اگر آپ کا کوئی رشتہ دار پہلے سے باہر ہے یا آپ کے باپ دادا حرام کماتے آ رہے ہیں تو پاکستان ہی آپ کا باہر ہے، آپ کو کیا لگے کوئی جیئے کوئی مرے۔ میری ہمیشہ سے دُعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ہمت دے اور صبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے اور حلال کمانے کی طرف راغب نا کرے ورنہ اِس معاشرے میں حرام کمانا کوئی مشکل کام نہیں۔


مجھے علم نہیں کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے۔
نجی شعبے میں ہزار مسائل اور مصائب ہیں لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ کو پہلے دن ہی سی ای او نہیں لگ جانا یا ضروری نہیں آپ کو آپ کے پسند کی نوکری مل جائے۔ فارغ بیٹھنے یا بے روزگار رہنے سے بہتر ہے کچھ نہ کچھ نوکری کریں۔ پیسے کم ہیں یا مزا نہیں آرہا۔ خالی مت رہیں۔
سفر کرنا پڑے گا۔ پسند نہیں۔
لوگ اچھے نہیں لگ رہے۔ پڑھانا پڑے گا۔
کوئی نخرا نہیں کرنا چاہئے۔
–
اسی طرح یاد رکھیں نجی شعبہ آپ کو کبھی بھی نکال سکتا ہے۔ کہینے کا نوٹس دے کر اسی طرح آپ بھی نوٹس دے کر دوسری نوکری پر جاسکتے ہیں۔ لیکن جاتے وقت کبھی بھی اپنے دروازے بند کرکے مت جائیں نہ لڑجھگڑ کر جائیں اور مونچھوں کو تاؤ دیں۔
کل کو آج کا باس کل دوسرے ادارے میں جہاں آپ سیٹ ہوچکے ہونگے کبھی بھی آسکتا ہے یا اس کا کوئی پیٹی بھائی موجود ہوسکتا ہے۔ عقلمندی دوسروں کو ذلیل کرنے میں نہیں عقلمندی کے ساتھ اچھے رہتے ہوئے جانے میں ہے۔
–
اگر کوئی آپ پر غلط کام کرنے کےلئے دباؤ ڈالتا ہے تو اس کو خاموشی سے بڑے صاحب تک لکھ کر یا فون کرکے آگاہ کردیں لیکن خود سائیڈ پر رہیں۔ whistle blower کچھ مشکل میں ضرور آتے ہیں مگر فائدہ بھی ہوجاتا ہے۔
اسی طرح اگر آپ کو کوئی ایسا کام کہا جائے جو آپ کی ڈیوٹی میں بظاہر شامل نہیں لیکن نہ غیرقانونی ہے اور نہ جرم اور نہ گناہ تو جذباتہ مت ہوں ایک دفعہ خوش دلی سے کردیں۔ مثلا آپ افسر ہیں مگر صاحب کے بچوں یا بیگم کو ایمرجسنی میں لانا لے جانا ہے۔ تو ایک دفعہ ڈرائیور ضرور بن جائیں۔ بعض اوقات یہ چھوٹے سے آؤٹ آف ٹرن کام زندگی کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں۔
–
سرکاری اداروں میں سفارش اور رشوت ضرور ہے لیکن اب ان نوکریوں کا مستقبل میں اتنا فائدہ نہیں۔
–
پڑھے لکھے اہالیان کراچی اور حیدرآباد سے پوچھیں سرکاری نوکری کیسے ملتی ہے۔ صفر۔