بسنت پنچمی اور سرسوتی
آپ نے بسنت کا تہوار تو بہت منایا ہو گا۔ بچپن میں، لڑکپن میں پتنگیں بھی بہت اڑائی ہوں گی۔ لیکن اس تہوار کے منسوبات سے واقف نہیں ہوں گے۔ آج ہم بات کریں گے ہندوستان میں منائے جانے والے خوبصورت تہوار بسنت پنچمی کے بارے میں، جو ہر مذہب کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔ قدیم ہندی اساطیر کے مطابق یہ تہوار علوم و فنون کی دیوی ماں سرسوتی سے منسوب ہے۔ یہ تہوار موسم بہار کے شروع میں غالباً ماگھ کی پانچ تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ سنسکرت میں بسنت بہار کو کہتے ہیں اور پنچمی پانچ تاریخ سے منسوب ہے۔
جونہی سردی کی بُکل ڈھیلی ہوتی ہے اور دھرتی کے بدن کا درجہ حرارت متوازن ہونے لگتا ہے تو بہار کا آغاز ہوتا ہے۔ خاکی چادر پہ سبز، سُرخ، نیلے پیلے رنگ بکھرنے لگتے ہیں، پرندوں کے گھونسلے نئے مہمانوں کے لیے آمادہ ہونے لگتے ہیں، فضائیں نئے کھلنے والے شگوفوں کی باس سے مہکنے لگتی ہیں، جس کا اثر ہر ذی روح قبول کرتا ہے۔ انسان بھی سخت موسم کی گرفت سے نکل کے درمیانے موسم کا لطف لینے کے لیے کوئی نہ کوئی منصوبہ بناتا ہے۔ تاکہ سرد موسم کی کلفت تھوڑی کم کی جا سکے اور نئی مشقت کے لیے خود کو تیار کیا جا سکے۔
یہ موسم سرسوں کے پھولنے کا موسم ہوتا ہے اور زرعی علاقوں میں کھیت ہرے لباس پہ پیلا گھونگھٹ اوڑھے نظر آتے ہیں سو اس تہوار میں عموماً فطرت کے رنگوں کے عین مطابق ہندو کمیونٹی کے ہاں پیلے رنگ کے لباس پہننے اور پیلے رنگ کی اشیاء بھینٹ چڑھانے کا رواج ہے، لوگ پیلے پھولوں کے ہار اور گجرے پہنتے ہیں، پیلے رنگ کا لباس زیب تن کرتے ہیں، ہلدی کا تلک لگاتے ہیں اور بیسن سے بنا حلوہ یا مٹھائی تقسیم کرتے ہیں۔ قدیم ہندی اساطیر کے مطابق چونکہ یہ تہوار سرسوتی دیوی سے منسوب ہے اس لیے بسنت پنچمی کے روز علوم و فنون سے منسوب لوگ اپنے اپنے علوم اور فنون سے متعلقہ چیزوں کا اکرام کرتے ہیں، اگر کوئی تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہے تو وہ کتاب اور قلم کی پوجا کریں گے، اسی طرح جو لوگ رقص اور موسیقی سے منسلک ہیں وہ بانسری، طبلہ وغیرہ کا اکرام کریں گے۔ اس روز عموماً ہندو خاندان اپنے بچوں کو پہلا لفظ لکھنا سکھاتے ہیں، جو دھرتی ماں کے سینے پہ انگلی سے لکھا جاتا ہے، اور ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی نئے علم یا فن کو سیکھنے کی ابتداء آج کے روز کرنی چاہیے۔ اس طرح ماں سرسوتی کا آشیر واد شاملِ حال ہوتا ہے۔
سرسوتی دیوی کے متعلق ایک بہت خوبصورت داستان ملتی ہے جو علم و دانش سے محبت رکھنے والوں کے لیے بہت پرکشش ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وشنو جی کی پتنی لکشمی دیوی نے ان سے کہا، مہاراج میں نے آپ کی اتنی سیوا کی ہے، ہمیشہ آپ کے چرنوں میں بیٹھی رہتی ہوں لیکن آپ نے مجھے کبھی کوئی تحفہ نہیں دیا۔ وشنو جی نے کہا، آج اجازت ہے مانگو کیا مانگتی ہو؟ لکشمی نے کہا مجھے وردان چاہیے کہ میں دھرتی پہ جس کو جتنا بھی دینا چاہوں، دے سکوں گی۔ وشنو جی نے کہا تمہیں اجازت ہے کہ تم جس کو جتنا دینا چاہو دے سکو گی لیکن اس شرط پر کہ میں جب چاہے واپس لے لوں گا۔
لکشمی دھن دولت روپیہ پیسہ کی دیوی ہے، اب سمجھ آتی ہے کہ یہ کیوں کہا جاتا ہے دولت آنی جانی چیز ہے۔ اس پہ کبھی اترانا نہیں چاہیے یہ کبھی بھی چھن سکتی ہے۔
بہرکیف لکشمی دیوی کو وردان ملا تو شہرت پھیل گئی، چلتے چلاتے یہ بات وشنو جی کی بہن سرسوتی دیوی تک پہنچی کہ لکشمی دیوی کو کس غضب کا وردان ملا ہے۔ لہذا سرسوتی دیوی اپنے بھائی وشنو جی کے پاس پہنچیں اور بولیں یہ مناسب نہیں کہ آپ پتنی کو تو تحفہ دیں لیکن بہن کو کچھ نہ دیں۔ وشنو جی بولے، مانگو تم کیا مانگتی ہو؟ سرسوتی دیوی بولیں مجھے ایسا وردان چاہیے کہ میں جس کو جو کچھ دینا چاہوں دے سکوں لیکن اسے کوئی واپس نہ لے سکے۔ وشنو جی بولے ایسا ہی ہو گا، جسے تم کچھ دو گی اسے کوئی واپس نہیں لے سکے گا۔ سرسوتی علوم کی ماں ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں علم ایسی چیز ہے جسے کوئی چوری نہیں کر سکتا، فن ایسی چیز ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا۔
علم سے محبت رکھنے والوں کو بسنت پنچمی اس عنوان سے بھی پسند ہے کہ یہ ماں سرسوتی سے منسوب ہے۔ علم کی عظمت اور فن کی قدر کا دن ہے۔ گنگا جمنا سندھو کی گود میں پلنے والی قدیم ترین انسانی تہذیب میں عورت کی اہمیت اور قدر کو تسلیم کرنے کا دن ہے۔ عظیم ترین تہذیب کے اوج میں شامل علوم و فنون کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ پدر سری معاشرے میں عقل و دانش کی دیوی کی پوجا یہ پیغام دیتی ہے کہ تہذیب عورت ہی جنم دیتی ہے اور تمدن عورت ہی کے دم سے باقی ہے۔
ہندو کمیونٹی کے علاوہ مسلمان بھی اسے خاصے اہم تہوار کے طور پہ مناتے ہیں لیکن وہ اسے صوفی بزرگان حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت امیر خسرو سے منسوب کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ حضرت نظام الدین اولیاء کا بھانجا دنیا سے چل بسا، جس کے غم میں حضرت اتنا غمگین ہوئے کہ ہنسنا ہی بھول گئے۔ ہر وقت اداس، پریشان بیٹھے رہتے تھے۔ اسی زمانے میں بسنت پنچمی کا تہوار آ گیا، حضرت امیر خسرو جو نظام الدین اولیاء کے مرید خاص تھے انہوں نے ہندو خواتین کو پیلے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس سرسوں کے پھول بالوں میں سجائے، ہنستے کھلکھلاتے، ناچتے گاتے مندر جاتے دیکھا تو ان کے ذہن میں ترکیب آئی، انہوں نے پیلے رنگ کا عمامہ باندھا اور سرسوں کے پھول ہاتھ میں لیے حضرت نظام الدین اولیاء کی خدمت میں پہنچے، ان پہ نظر پڑنی تھی کہ حضرت نظام الدین اولیاء مسکرائے اور پھر کھلکھلا کے ہنسے۔
اسی واقعے کی یاد میں اس کے بعد پھر صوفیاء کے سلسلوں نے بسنت پنچمی منانا شروع کیا جو آج بھی بہت سے صوفی بزرگان کے مزاروں پہ صوفیانہ انداز میں منایا جاتا ہے۔ اور ہندو ہوں یا مسلمان ہر کسی کی زبان پہ امیر خسرو کا کلام ہوتا ہے
سکل بن پھول رہی سرسوں
بن بن پھول رہی سرسوں
امبوا پھوٹے ٹیسو پھولے
کوئل بولے ڈار ڈار
اور گوری کرت سنگھار
ملنیاں گڈھوا لے آئیں کرسوں
سکل بن پھول رہی سرسوں
طرح طرح کے پھول کھلائے
لے گڈھوا ہاتھن میں آئے
نجام الدین کے دروجے پر
آون کہہ گئے عاشق رنگ
اور بیت گئے برسوں
سکل بن پھول رہی سرسوں



