اک راستہ ہے زندگی


زندگی کے سفر میں منزل سے کہیں زیادہ اہم اس سفر کا خوشگوار ہونا اور بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہونا ہے۔ میرے ادبی اور تخلیقی سفر میں ”ہم سب“ کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ اس نے نہ صرف میرے ابتدائی مضامین کی اشاعت کے ذریعے مجھے ادبی حوالوں میں معتبر پذیرائی دی اور سنجیدہ و ادبی ذوق رکھنے والے قارئین سے متعارف کروایا، بلکہ سب سے بڑھ کر ہم عصر اور نمایاں ادیبوں سے تعارف و ملاقات کا سبب بھی بنا۔ آج کے اس مضمون کا موضوع بننے والی شخصیت سے بھی مجھے ”ہم سب“ پر مضامین لکھنے اور پڑھنے کے ذریعے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ یوں تو ڈاکٹر رفیع مصطفی کسی تعارف یا حوالے کے محتاج نہیں، لیکن ”ہم سب“ پر ان کا مقبول سلسلہ ”صلیبیں اپنی اپنی“ میری خصوصی توجہ کا مرکز بنا۔ اس سلسلے کی ابتدائی چند اقساط پڑھنے کے بعد ہی میں اس کے سحر میں گرفتار ہو گیا اور پھر ہر نئی قسط کا بے تابی سے انتظار کرنے لگا۔

ایک دن سوچا کہ اس منفرد انداز کے لکھاری کے بارے میں مزید جانا جائے، تو فیس بک کے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران ان کی اپنائیت اور خوشگوار انداز نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے علم و ادب کی دُنیا کے معروف لوگوں سے شناسائی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ ایک نامور اور عالمگیر سطح کے استاد ہیں، وہ دُنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ کئی عالمی تنظیموں میں اعلی عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

وہ ایک معروف مصنف ہیں، جن کی تحریروں نے کئی لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ وہ کینیڈا میں 60 سالوں سے مقیم ہیں گزشتہ دنوں پاکستان آئے، تو 16 اکتوبر 2024 کو ایکسپو سینٹر مجھے اُن سے ملاقات کا شرف ملا۔ اُنہوں نے اپنی کتاب ”اِک راستہ ہے زندگی“ (ناول) پیش کی۔ ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر دلچسپ اور معلوماتی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر رفیع مصطفی جس قدر شاندار لکھاری ہیں اس سے بڑھ کر نفیس انسان ہیں، جس کا اندازہ آپ کو پہلی ہی ملاقات میں ہی ہو جاتا ہے۔ 5 جنوری 2025 کو ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اس صبح کا آغاز خوبصورت انداز میں ہوا۔ یہ تقریب ایک نہایت خوشگوار اور یادگار لمحہ تھی جہاں ڈاکٹر رفیع مصطفی کے قریبی احباب اور علم و ادب سے وابستہ مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔

ڈاکٹر رفیع مصطفی، جوان دنوں کینیڈا سے کراچی میں آئے تھے، نے اس ملاقات کا اہتمام کر کے اپنے ادبی دوستوں اور ہم خیال افراد کو ایک جگہ اکٹھا کیا تھا۔ باربی کی ٹو نائٹ کا ذائقہ دار ناشتہ اپنی جگہ شاندار تھا، لیکن اس تقریب کا اصل حسن وہ فکری مکالمے اور خیالات کا تبادلہ تھا، جس نے اس نشست کو محض ایک سماجی ملاقات سے بڑھ کر ذہنی و فکری بالیدگی کا ذریعہ بنا دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے ادب، ادیبوں، اور علم دوست لوگوں کی رفاقت کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

یہ تقریب نہ صرف تعلقات کو مضبوط کرنے کا موقع تھی بلکہ نئے خیالات، علمی گفتگو، اور ادبی دلچسپیوں کو فروغ دینے کا بھی ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ ایسی محفلیں زندگی میں تازگی اور فکری روشنی پیدا کرتی ہیں، اور یہ نشست بھی اسی جذبے کی عکاس تھی جہاں علم و ادب کے چراغ روشن کیے گئے۔ واقعی ہی ڈاکٹر رفیع مصطفی، آپ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ اب، ڈاکٹر رفیع مصطفی پاکستان سے واپس کینیڈا جا چکے ہیں، اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے ان سے تفصیلی ویڈیو انٹرویو نہ کر سکا جس کا ملال تو ہے، لیکن ان کی زندگی کے سفر کو ان کے ناول ”اِک راستہ ہے زندگی“ کے مطالعے کے ذریعے جاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ ناول ان دنوں میرے زیر مطالعہ ہے۔ جس کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھوں گا۔ 394 صفحات پر مشتمل یہ ناول 2022 میں مکتبۂ دانیال نے شائع کیا ہے۔ جس کا انتساب اُنہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے۔

”ان کے نام جو بنگلہ دیش کی آزادی کی بھینٹ چڑھا دیے گئے
اِن چراغوں کو رکھنا تم روشن
جنِ کی لَو میں لہو ہمارا ہے
درخشاں صدیقی ”

نامور صحافی اور افسانہ نگار اخلاق احمد نے اس ناول کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے۔

”رفیع مصطفی کا یہ ناول بظاہر ایک خاندان کی چار پشتوں کی سادہ سی کہانی ہے جو برطانوی دور کے متحدہ ہندوستان سے شروع ہوتی ہے اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ختم ہوتی ہے۔ لیکن یہ محض ایک سادہ قصہ نہیں ہے یہ پورے دور کی کہانی ہے جس سے ہمارے ماضی، ہماری اقتدار، ہماری تہذیب، ہماری سیاست، ہمارے حصے میں آنے والی کامیابیوں اور مایوسیوں، ہمارے سماج میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تعلق کی دوڑ کی آج تک بندھی چلی آتی ہے۔

انہوں نے ایک ملک کے قیام، اس سے جڑے ہجرت کے مصائب، اور بے سرو سا مانی کے عالم میں نئی زندگی کی بنیاد رکھنے والوں کا وہ حقیقی احوال بیان کیا ہے جو پوری ایک نسل کی یادوں کا سرمایہ ہے۔ ناول کے آخری حصے میں انہوں نے سقوط مشرقی پاکستان کی، جو ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے، مبنی بر حقیقت منظر کشی کی ہے اور ایسے طاقتور کرداروں کے ذریعے کی ہے کہ پڑھنے والے کا دل لرز جاتا ہے ۔ اسی کے دوران رفیع مصطفی نے بہت کچھ بیان کر ڈالا ہے، انسانی انا کی داستانیں بھی، عام لوگوں کی نفسیاتی پیچیدگیاں بھی، محبت اور نفرت کی کشمکش بھی اور زندگی کے سامنے انسان کی بے بسی بھی۔ ”

 

Facebook Comments HS