گرینڈ ڈائیلاگ


پاکستان کا سیاسی ماحول تو ہمیشہ کی طرح گرم ہی ہے اور یہ ایسا ہی رہے گا جس کی دو نہایت بنیادی وجوہات ہیں۔ اول انتخابات میں نامعقول مداخلت اور انتخابی نتائج پر سیاسی جماعتوں کا عدم اعتماد آج ایک جماعت پسندیدہ ہے تو کل دوسری، چلیں ایسا ہی سہی مگر یہ جو باری باری ان جماعتوں کی قیادت کو زیر عتاب لانا بھی تو ایک ریت بن چکا ہے۔ مگر صاحب اس کی ذمہ دار بھی سیاسی قیادت ہی ہے۔

شہید بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت کیا کہ یہ طے کر لیا جائے کہ کوئی ایک دوسرے کے خلاف کسی کی لاٹھی پر خود بھینس بنے گا اور نہ ہی کسی ہانک پر بغلیں بجائے گا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس میثاق پر مکمل عمل درآمد ہوا مگر ان دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی ٹانگ کم کھنچی یہی وجہ تھی کہ ہمیں 2008 سے تا دم تحریر انتخابات کا مسلسل انعقاد ہوتا ہوا دکھائی دیا اور تب سے ہر اسمبلی نے اپنی مدت بھی مکمل کی ہاں یہ بات درست ہے کہ کوئی بھی قائد حسب اقتدار اپنی وزارت عظمیٰ کی مدت مکمل نہ کر سکا۔

2014 ء میں ایک نئی جماعت تحریک انصاف افق اقتدار پر تیزی سے ابھری اور اس جماعت نے انتخابات میں دھاندلی کو لے کر ایک دھرنا دیا اس بات میں بالکل صد فیصد صداقت ہے کہ اس دھرنے کو لاٹھی والوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اس دھرنے کے جو بھی مقاصد تھے وہ تو تھے ہی مگر اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اگر کچھ سیاسی جماعتیں سیاسی تسلسل میں رکاوٹوں کے خلاف اتحاد کر لیں تو نئے سیاستدان ان کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے۔ اسی بات کو باور کرانے کے لئے صاحب قوت حلقوں نے اس جماعت کو 2018 ء میں مسند اقتدار پر لا بٹھایا اور میثاق جمہوریت والی دونوں جماعتوں کی کم و بیش تمام قیادت کو مختلف مقدمات میں قید کرا دیا اور کرپشن کا ایک بھرپور بیانیہ بنایا گیا جسے پاکستان کی بھولی بھالی عوام نے خوب خریدا۔ اب بھولی عوام کیا جانے کہ کرپشن تو ہر کوئی کرتا ہے کسی بھی ملک کے کسی بھی صاحب اقتدار یا جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن صاحب وقت بڑا ظالم بھی ہے اور سب سے بڑا مرہم بھی یہی ہے۔ وقت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جس قیادت کو صادق و امین کے القابات دیے گے اور اقتدار میں لایا گیا کہ اس کے علاوہ ساری سیاسی قیادت چور اور کرپٹ ہے اسی کو آج کرپشن پر مجرم بنا دیا گیا ہے اور جو چور تھے وہ صاحب اقتدار ہیں۔

2023 ء کے انتخابات بھی گزشتہ کی طرح منیجڈ انتخابات تھے ناپ تول کے اعشاری نظام میں بندھے ہوئے تھے۔ ناپسندیدہ کو بھی نوازا گیا کہ اگر درست ہو گیا تو آگے چل کر کام آئے گا اور آج کے پسندیدہ کو بھی اتنا ہی بخشا گیا کہ نظریں نیچی رکھ کر تابعداری کرتا رہے۔ کچھ لوگ اسے ہائبرڈ نظام کہتے ہیں اور کچھ تو اسے ہائپر گائبرڈ نظام بھی کہہ رہے ہیں۔

اسے کوئی بھی نام دیں ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ نا اہلی نظام کی نہیں بلکہ اس میں موجود ان اذہان کی ہے جو اپنی گاڑیوں پر جھنڈے لہرانے کی خاطر ملک و قوم کے حق سے کھیلتے ہیں اور طاقت کے سرچشموں کو اس کا بھرپور موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا آلہ کار بننے کو تیار ہیں۔ ان سب کی دوڑ میں عوام بیچاری پستی رہتی ہے۔

عوام الیکشن کے دن باہر نکل کر اپنا ووٹ ڈال کر ایک پلڑے کو بھاری اور دوسرے کو ہلکا کر کے اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے مگر مسند اقتدار کبھی ادھر اور کبھی ادھر جھکتی رہتی ہے۔ عوام کا کام ووٹ ڈالنا ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری اس سیاسی قیادت کی ہے جسے وہ ووٹ ڈالتی ہے۔ ووٹ کے بعد اگر کسی کا مینڈیٹ چوری ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالی جائے کہ اب وہ تحریک بھی چلائیں۔ بلا وجہ و ضرورت اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں۔ عوام سے ووٹ طلب کریں اس کی حفاظت آپ نے کرنی ہے عوام کے جذبات سے نہ کھیلیں انہیں بلیک میل کر کے سڑکوں پر لاکر ان کی زندگیوں کو اجیرن نہ بنائیں۔
سیاسی فیصلے ناپسندیدگی کے باوجود سیاسی طور پر ہی حل کریں۔ اسی سے جمہوریت کو تقویت ملے گی اور عوام کا اعتماد سیاستدانوں پر مضبوط ہو گا۔ انتخابی نتائج میں جو بھی ہیر پھیر ہوتا ہے تو اگر تمام سیاسی قیادت ایسے نتائج کو بڑا دل کر کے مسترد کر دے تو آئندہ اس مداخلت کو روکا جاسکتا ہے۔

ہماری دانست میں پاکستان کو ایک گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں ہر سیاسی جماعت سے دو دو سرکردہ یعنی ٹاپ لیڈر، افواج پاکستان کے چیف اور ان کے نائب، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی چیف جج صاحبان، بیوروکریسی کے دو سینئر ترین افسران، میڈیا ہاؤسز کے دو نمائندے سب لائیو ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیں ماضی کی تمام غلطیوں کا برملا اعتراف کریں عوام سے اپنی کوتاہیوں کی معافی طلب کریں اور آئندہ ایسی غلطیوں سے توبہ کریں۔ 1973 ء کا آئین ایک متفقہ دستاویز ہے اس کے تحفظ اور دفاع کا اعادہ کریں اتفاق رائے سے اگر کوئی آئینی تبدیلی کی ضرورت ہے تو اسے کر لیں۔

گو وقت بہت گزر گیا ہے دیر بھی ہو چکی ہے مگر مزید دیر سے بچا جاسکتا ہے۔ یاد رکھیں اگر آج آپ نے ایسا نہ کیا تو پھر یہ گول گول گھومنے کا سفر جاری رہے گا نفرتیں مزید بڑھیں گی اتحاد و ایمان میں اور زیادہ دراڑیں پڑیں گی اور ایک وقت جلد آنے والا ہے جب کسی کو پچھتاوے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ایک حد تک متنبہ کرتا ہے۔ وقت کی قدر کریں کیونکہ ناقدر کے پاس وقت یک دم برا وقت بن کر آ جاتا ہے اور سب چھین کر روٹھ کر چلا جاتا ہے۔ گرینڈ ڈائیلاگ وقت کو اچھا بنا سکتا ہے لہذا مل بیٹھیں۔

اخلاص کی نیت بھی اور ایثار کے جذبے
مل جائیں تو تعمیر وطن ہوتی رہے گی

Facebook Comments HS