طاقتور سے نمٹنے کے تین طریقے اور پاکستانی رام لیلا
کسی طاقت ور کو شکست دینے کے تین طریقے ہوتے ہیں۔ پہلا طریقہ ہے ہتھیار اٹھا کر مقابلہ کرنے کا۔ بھگت سنگھ نے برطانوی راج سے انتقام لینے کے لیے پہلا طریقہ اختیار کیا، جو ظاہر ہے بیکار تھا۔ ہاتھی کو مچھر کاٹ لے تو اسے بھلا کیا فرق پڑتا ہے۔ برطانیہ کے بھِی ایک دو افسر قتل ہو گئے تو اسے رتی برابر فرق نہ پڑا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس نے ذرا بڑی گیم کھیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کانگریس کی صدارت گاندھی جی کو سونپی اور خود جاپان جرمنی سے پینگیں بڑھا کر آزاد ہند فوج قائم کی۔ طاقتور اتحادی جیت گئے اور جاپان جرمنی ہار گئے۔ ناکام نیتا جی کا کوئی پتہ نہ چلا کہ انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ اس طریقے کو استعمال کرنے والوں کے گیت اور داستانیں تو خوب اچھی بن جاتی ہیں لیکن طاقتور کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
دوسرا طریقہ گاندھی گیری کا ہے۔ پر امن مزاحمت۔ یعنی بس احتجاج وغیرہ کرتے جاؤ اور اس گمان میں رہو کہ طاقتور خود ہی تنگ آ کر جان چھوڑ دے گا۔ لیکن یہ طریقہ ہماری رائے میں تو کوئی اتنا خاص کارگر نہیں۔ اگر دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ بہت کمزور نہ ہو جاتا اور امریکہ اپنا نیا ورلڈ آرڈر نہ لے آتا تو ہندوستان پر برطانیہ اپنا قبضہ برقرار رکھتا۔ نیلسن منڈیلا والے جنوبی افریقہ میں بھی بیرونی طاقتوں کے دباؤ نے کام دکھایا تھا۔ اور پاکستان میں بھی ہم عمران خان کا 2014 کا دھرنا دیکھ چکے ہیں۔ چار مہینے سردی گرمی دھوپ بارش میں پڑے رہنے اور افسران قضا و قدر اور ترازو بردار بقالوں کی غیبی مدد پانے کے باوجود حکومت مزے سے تماشا دیکھتی اور اقتدار کے مزے لوٹتی رہی۔ اس کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
تیسرا طریقہ گھر کے بھِیدی کے لنکا ڈھانے کا ہے۔ رامائن میں مذکور ہے کہ راون کے بھائی وبھیشن کو راون کے چال چلن پر کچھ اعتراض تھا۔ جب اس نے سیتا جی کے اغوا پر احتجاج کیا تو راون نے وبھیشن کو خوب بے عزت کر کے دربار سے نکال دیا۔ شیو جی کے حکم پر وبھیشن رام چندر جی سے مل گیا اور لنکا کے سارے دفاعی راز ان کے حوالے کر دیے۔ یوں گھر کا بھیدی راون کی مضبوط سلطنت کو شکست دینے کا سبب بنا۔
یہی ہے وہ طریقہ جو دیسی امیگرنٹس نے برطانیہ میں اختیار کیا۔ وہ نہایت پرامن اور قانونی طریقے سے ویزے اور امیگریشن لے کر سلطنت برطانیہ میں سیٹل ہوئے، امن سکون سے پون صدی گزار دی۔ اس دوران وہ سر نیچا کر کے نہایت تندہی سے افزائش نسل میں مصروف رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی نسل بھی بڑھی، دولت بھی اور اثر و رسوخ بھی۔ اور پھر وہاں انہوں نے تخت برطانیہ کا وہی حال کیا جو ایک تناور درخت کا دیمک کرتی ہے۔ اس کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔
اب حال یہ ہے کہ سلطنت برطانیہ کے پایہ تخت لندن کا حکمران ایک دیسی ہے۔ برطانیہ کا وزیراعظم ایک دیسی بھی بن چکا ہے۔ اور برطانیہ کی سڑکوں پر پاکستانی اپنی جو سیاست کر رہے ہیں، اسے بھی برطانیہ کے وہی گورے بھگت رہے ہیں جو خود کو آسمانی مخلوق اور ہندوستانیوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے تھے۔ طاقت کے نشے میں چور متکبر برطانوی یہ بھول گئے تھے کہ چوبی تخت کو بظاہر بہت کمزور اور حقیر دکھائی دینے والا گھن لگ جائے تو وہ کتنا کمزور ہو جاتا ہے اور دانت وغیرہ کو کیڑا لگ جائے تو کتنی زیادہ تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔
اب پاکستانی وہاں برطانیہ کے پوش علاقوں میں چور چور کے نعرے بلند کر کے گوروں کو اردو سکھا رہے ہیں۔ ویسے اس بات کی داد تو دیں کہ ان کی ٹائمنگ کتنی اچھی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بندہ سوتے وقت کسی چیز کی آڈیو چلا دے تو اسے لاشعوری طور پر سیکھ سکتا ہے۔ آدھی رات کو سوتے گوروں کو اردو سکھانے کے لیے غالباً یہی علمی تکنیک استعمال کی جا رہی ہے۔
برطانوی راج کو اپنے لا اینڈ آرڈر اور قانون پر عمل درآمد پر بہت فخر تھا۔ اب یہی قانون استعمال کر کے اس سے دو سو سال کی غلامی کا بدلہ لیا جا رہا ہے۔ برطانوی اپنی قانون اور جمہوریت پسندی کا بھی بہت ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اب جمہوری طریقے سے برطانیہ میں شرعی قوانین نافذ کرنے کے مطالبات کو وہ کیسے رد کر سکتے ہیں؟
بعید نہیں کہ دس سال بعد برطانیہ کا وزیراعظم ایک انصاف پسند شخص ہو گا جس کا نام شایان شان ہو گا۔ اور ہمیں تعجب نہیں ہو گا اگر بادشاہت ہاؤس آف ونڈسر سے ہاؤس آف میاں والی کو منتقل ہو جائے۔
برسبیل تذکرہ، یہی معاملہ پاکستان میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہاں بھی گھر کے بھیدی ہی لنکا ڈھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی رام لیلا میں فرق یہ ہے کہ یہاں دیوی کی بجائے دیوتا کو اٹھا کر قید کیا گیا ہے۔ پلاٹ میں اس بڑی تبدیلی کے بعد ہم فی الحال یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہاں گھر کے بھیدی لنکا کو آگ لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر طاقت ور، اگنی کے گرد سات پھیرے پورے کر کے مطلوبہ سہولت لینے میں کامیاب ہو جائے گا۔


