ادب اور مکاتب فکر
افلاطون اور شاعر
افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔
بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔
افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔
افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی کے قریب سمجھتے تھے۔ وہ شاعروں کو اس لیے ناپسند کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ الفاظ سے کھیلنے کی وجہ سے قاری کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور انہیں سچ سے دور کر دیتے ہیں۔ شاعر قاری کو الفاظ کی جادوگری سے اتنا محظوظ و مسحور کرتے ہیں کہ وہ دانائی سے دور ہو جاتے ہیں۔
شاعر قاری کو Pleasure تو دیتے ہیں Truth نہیں دیتے۔
افلاطون فرماتے تھے کہ شاعروں سے کہو کہ جو بات تم نے شاعری میں کی ہے وہی بات نثر میں کر کے دکھاؤ۔ ان کا موقف تھا کہ اگر شاعر کی بات میں وزن ہے اور وہ سچ ہے تو وہ بات نثر میں بھی اثر کرنی چاہیے۔ اگر وہ بات نثر میں اثر نہیں کر رہی تو اس کا یہ مطلب ہے کہ شاعر نے الفاظ سے کھیلنے سے اسے پر اثر بنا دیا ہے۔ ایسے کلام میں سچ کم ہیں اور جذبات زیادہ۔ ہمیں ایسے کلام کو رد کر دینا چاہیے کیونکہ اس میں جذباتیت اور مبالغہ آمیزی کی فراوانی پائی جاتی ہے۔
افلاطون کی مثالی ریاست میں دانشور کا مقام اعلیٰ اور شاعر کا مقام ادنیٰ ہے۔ افلاطون نے تو عظیم اور مقبول شاعر ہومر کی شاعری پر بھی تنقید کی تھی۔ ان کا مشورہ تھا کہ ہمیں ہومر کے کلام کے کچھ حصوں کو رد کر دینا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ وہ کم تر درجے کی شاعری ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اتنی اعلیٰ درجے کی شاعری ہے کہ وہ زندگی کے دریا میں ہمیں جذبات کے سیلاب میں بہا کر سچ کے کنارے سے بہت دور لے جاتی ہے۔
افلاطون کے خیالات نے ادب کی بیس صدیوں کی تاریخ کو متاثر کیا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی بہت سے شاعر اور ادیب، نقاد اور دانشور افلاطون کے نظریات کو ابہت اہمیت دیتے ہیں کیونکہ وہ ادب میں جذباتیت اور مبالغہ آمیزی کو پسند نہیں کرتے۔
حقیقت پسندی اور ریلزم
پچھلی چند صدیوں میں جو ادبی تحریکیں مقبول ہوئیں ان میں سے ایک تحریک
حقیقت پسندی اور ریلزم کی تحریک ہے
اس میں سماجی حقیقت پسندی بھی شامل ہے اور نفسیاتی حقیقت پسندی بھی۔
اس تحریک میں شامل ادیبوں کی تخلیقات میں
ابسن اور برناڈشا کے ڈرامے
موپاساں اور چیخوف کے افسانے
اور
چارلز ڈکنز، دوستووسکی اور لیو ٹالسٹائی کے ناول شامل ہیں
ان ادیبوں نے مبالغہ آمیزی اور جذباتیت پسندی سے احتراز کرتے ہوئے حقیقت پسندی کو گلے لگایا اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کو اپنی تحریروں میں پیش کیا۔
اس سماجی حقیقت پسندی کا عکس ہمیں اردو ادب کی ترقی پسند تحریک کی تخلیقات میں دکھائی دیتا ہے
پریم چند نے اپنے ترقی پسند خطبے میں کہا تھا
ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہے
جس کا مطلب تھا کہ اردو شاعری کے تصوراتی محبوب کے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا کو چھوڑ کے مزدور عورت کی جدوجہد کو پیش کرنا ہے۔
اردو ادب میں کرشن چندر عصمت چغتائی سعادت حسن منٹو اور احمد ندیم قاسمی کے افسانے اس کی عمدہ مثال ہیں جنہوں نے اپنے دور کے شہری اور دیہاتی زندگی کے حقائق کی اپنے افسانوں میں ترجمانی کی۔
ہندوستان کی ترقی پسند تحریک میں سماجی حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ ملکی آزادی کی تحریک کے اثرات بھی نمایاں تھے۔
ایسے ادیب سامراج کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کر کے ایک آزاد و خود مختار ملک کا خواب دیکھتے تھے۔
ترقی پسند تحریک کے جہاں اردو ادب کو بہت سے فائدے ہوئے وہیں ایک نقصان یہ ہوا کہ بعض دفعہ ادب میں فن کی نسبت مقصدیت کا رنگ اتنا نمایاں ہوا کہ ادب میں پروپیگنڈے کا عنصر غالب آ گیا۔ ادب نعرہ بازی میں ڈھل گیا اور ادب عالیہ کے مقام سے نیچے آ گیا کیونکہ
ادب عالیہ فن کے تقاضے بھی پورے کرتا ہے اور زندگی کے تقاضے بھی۔
جدیدیت
بیسویں صدی میں جہاں اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں وہیں جدیدیت کی تحریک کے اثرات بھی واضح ہیں۔
مغرب کی جدیدیت کی تحریک میں
فرائڈ اور یونگ کے مضامین میں تحلیل نفسی
ایذرا پاؤنڈ کی شاعری میں امیجزم
فرانز کافکا اور بورخیز کا استعاراتی پیرایہ
گارسیا مارکیز کا میجیکل ریلزم
ٹی ایس ایلیٹ کی تنقیدی تجزیہ نگاری
جیمز جوئیس اور ورجینیا وولف کی شعور کی رو میں لکھی گئی تخلیقات
اور
سارتر اور کیمو کے وجودی فلسفے
نے اہم کردار ادا کیا اور ادب میں شعور اور لاشعور کو ہم آغوش کر دیا۔
اردو ادب میں جدیدیت کے جہاں بہت فائدے ہوئے وہیں ایک نقصان یہ ہوا کہ جب جدید افسانوں میں تشبیہوں اور استعاروں نے تجریدیت کا لبادہ اوڑھا تو ابلاغ کے ایسے مسائل پیدا ہوئے کہ لکھاری اور قاری کا رشتہ کمزور ہو گیا۔ اسی لیے اردو افسانے میں پریم چند اور منٹو کو جتنے قاری ملے اتنے قاری انور سجاد اور رشید امجد کو نہیں ملے کیونکہ ان کے افسانوں میں کہانی پن کی کمی تھی۔
اردو ادب میں دھیرے دھیرے کہانی پن دوبارہ آ رہا ہے۔ میرا ایک شعر ہے۔
بڑھاپے میں دبے پاؤں جوانی لوٹ آئی ہے
کہ جیسے اب فسانے میں کہانی لوٹ آئی ہے
نفسیاتی اور سماجی تحریکیں
عالمی ادب میں جہاں ادب کی مخلتف تحریکیں مقبول ہوئیں وہیں ادب مختلف نفسیاتی اور سماجی تحریکوں اور فلسفوں سے بھی متاثر ہوا ان تحریکوں اور فلسفوں میں
فرائڈ اور ینگ کی تحلیل نفسی کی تحریک
مارکس کے کمیونزم کی جدلیاتی تحریک
فیمنزم کی تحریک
اور
پوسٹ کلنیلزیم کی تحریک سر فہرست ہیں
سگمنڈ فرائڈ کا مکتب فکر
اس مکتب فکر کی اساس ماہر نفسیات اور بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائڈ کے نظریات ہیں۔
سگمنڈ فرائڈ نے انسانوں کے خوابوں اور اپنے مریضوں کے نفسیاتی مسئلوں کے تجزیے اور علاج سے اس مکتب فکر کو پروان چڑھایا۔
فرائڈ کا موقف تھا کہ کوئی شاعر، ادیب اور دانشور جب کوئی شاعری یا نثر کا فن پارہ تخلیق کرتا ہے تو وہ فن پارہ اس کے لاشعوری تضادات کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح وہ تخلیق ہمیں اس کے خالق کی شخصیت کے ڈھکے چھپے پہلوؤں سے متعارف کرواتی ہے جس سے خالق خود بھی بے خبر ہوتا ہے۔
فرائڈ یونانی ادب سے بہت متاثر تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یونانی ڈرامے ہمیں انسانی نفسیات کے لاشعوری پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوڈیپس کمپلیکس کا نظریہ ہے جو فرائڈ نے ایک یونانی ڈرامے سے اخذ کیا۔
اس نظریے کے مطابق ہر لڑکا بچپن میں اپنی ماں سے محبت کرتا ہے اور اپنے باپ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے باپ کو لاشعوری طور پر اپنا رقیب سمجھتا ہے۔
جب بچہ جوان ہوتا ہے اور بلوغت کی منازل طے کرتا ہے تو وہ باپ کے حق میں دست بردار ہو جاتا ہے اور ماں کی محبت سے دست کش ہو کر اپنی محبوبہ سے محبت کرنے لگتا ہے۔
جو لڑکے جوان ہو کر بھی اپنی ماں کی محبت کے اسیر رہتے ہیں وہ اپنی رومانوی اور ازدواجی زندگی میں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فرائڈ اس نفسیاتی مسئلے کو
ان ریزولوڈ ایڈیپس کمپلیکس کا نام دیتا تھا۔
unresolved oedipus complex
فرائڈ کے نظریے میں جنسی جذبات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔
فرائڈ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جو انسان اپنے روایتی خاندان اور مذہبی معاشرے کی پابندیوں کی وجہ سے اپنے جنسی جذبات کو قبول نہیں کر سکتے وہ اپنے ناآسودہ جنسی جذبات کو اپنے لاشعور میں دھکیل دیتے ہیں۔ وہ جنسی جذبات پھر یا تو تضادات بن کر نفسیاتی مسائل کا روپ اختیار کرتے ہیں اور یا فنون لطیفہ میں اپنا اظہار کرتے ہیں۔
چونکہ ادب بھئی فنون لطیفہ کی ایک شاخ ہے اس لیے ادب کا مطالعہ اور تجزیہ ہمیں شاعر، ادیب اور دانشور کے لاشعوری تضادات کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ ادب ہمیں انسانی شخصیت کے تاریک گوشوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ادب کی تحلیل نفسی کی کسوٹی پر پرکھی ہوئی تنقید نفسیاتی تحقیق کہلاتی ہے۔
میں ایک انسان دوست ماہر نفسیات ہونے کے ناتے فرائڈ کے نظریات کو دو حوالوں سے دیکھتا ہوں۔
ایک حوالہ نفسیاتی علاج کا حوالہ ہے۔ اس حوالے سے فرائڈ کے نظریات بہت کارآمد ہیں۔ وہ ہماری اپنے نفسیاتی مریضوں کے علاج میں بہت رہنمائی کرتے ہیں۔
دوسرا حوالہ ادب کا حوالہ ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ فرائڈ کے نظریات چونکہ ذہنی مریضوں کے علاج پر مبنی تھے اس لیے وہ صحتمند انسانوں کی نفسیات کی کماحقہ ترجمانی نہیں کرتے۔
فرائڈ کے مقابلے میں ابراہم ماسلو نے صحتمند اور کامیاب انسانوں کے انٹرویو لیے اور ان کی سوانح عمریوں کے تجزیے سے انسانی نفسیات اور شخصیت
کے درخشاں پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ وہ فنون لطیفہ کو نفسیاتی مسائل اور تضادات سے جوڑنے کی بجائے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں سے جوڑتے ہیں۔ وہ ایسے انسانوں کو
سیلف ایکچوالائڈ انسان
self actualized people
کہتے ہیں۔ جو دوسرے انسانوں کو ایک بہتر زندگی کی امید دلاتے ہیں اور ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے سفر میں دیے روشن کرتے ہیں۔
میں ادب میں فرائڈ کے مقابلے میں ابراہم ماسلو کے نظریات کے زیادہ قریب ہوں
کارل ینگ کا مکتب فکر
اس مکتب فکر کی بنیاد ماہر نفسیات کارل ینگ کے نظریات ہیں۔
کارل ینگ کی جب سگمنڈ فرائڈ سے ملاقات ہوئی تو کارل ینگ کی عمر پچیس برس اور سگمنڈ فرائڈ کی عمر پچاس برس تھی۔ دونوں ذہنی مریضوں اور انسانی لاشعور میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
ان کے موقف میں فرق یہ تھا کہ فرائڈ صرف انفرادی لاشعور کو مانتے تھے جبکہ ینگ انفرادی لاشعور کے ساتھ ساتھ اجتماعی لاشعور پر بھی یقین رکھتے تھے۔
ینگ کا کہنا تھا کہ انسانی خوابوں میں جو تصاویر آتی ہیں ان کا تعلق صرف انسان کی اپنی ذاتی زندگی سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے کلچر میں موجود جو ادب اور فنون لطیفہ کے تصورات ہوتے ہیں ان سے بھی ہوتا ہے۔
ینگ کا کہنا تھا کہ کسی بھی فرد کا تخلیق کردہ ادب اور فن اس قوم اور انسانیت کا اجتماعی ورثہ ہوتا ہے۔
ینگ اور فرائڈ کی دوستی چند سالوں کے بعد ختم ہو گئی۔
ینگ کا فرائڈ پر یہ اعتراض تھا کہ وہ نفسیاتی مسائل کا رشتہ جنسیات سے جوڑ دیتے ہیں اور فرائڈ کا ینگ پر یہ اعتراض تھا کہ وہ نفسیاتی مسائل کا تعلق روحانیات سے جوڑ دیتے ہیں۔
فرائڈ اور ینگ کے نظریات میں ایک فرق یہ تھا کہ فرائڈ خوابوں کا رشتہ ماضی سے جوڑتے تھے جبکہ ینگ کا کہنا تھا کہ خواب انسانوں کے لیے مستقبل کی پیشین گوئی بھی کرتے ہیں۔
فرائڈ انسانی خوابوں کو نفسیاتی مسائل سے جبکہ ینگ خوابوں کو دانائی سے جوڑتے تھے۔
ینگ کا کہنا تھا کہ کسی قوم کے ادب اور فنون لطیفہ میں جو تصاویر اور تصورات کے سلسلے بار بار دکھائی دیتے ہیں وہ آرکی ٹائپ کہلاتے ہیں اور ہمارا اس قوم اور انسانیت کے اجتماعی لاشعور سے تعارف کرواتے ہیں۔
بیسویں صدی میں فرائڈ زیادہ مشہور اور مقبول تھے لیکن دھیرے دھیرے ادب اور نفسیات کی دنیاؤں میں فرائڈ کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے اور ینگ کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔
ینگ کے نفسیاتی نظریات ہماری لوک ورثہ، دیومالائی کہانیوں اور اساطیر کی تفہیم میں مدد کرتے ہیں۔
مارکسی مکتب فکر
کارل مارکس نے زندگی کے مسائل کا ہیگل کے جدلیاتی نظام کے تحت تجزیہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ انسانی مسائل کی بنیاد طبقاتی نظام ہے۔ ایسا نظام غریبوں کو اور غریب اور امیروں کو اور امیر بناتا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کا حل کمیونزم میں پیش کیا جس میں سب طبقات ختم ہو جائیں گے اور معاشرے میں سب انسانوں کو ایک جیسے حقوق و مراعات مل سکیں گی۔
مارکسی نقاد ادب کو بھی طبقاتی نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ وہ ادبی تخلیقات کو بھی سماجی اور معاشی اور سیاسی پیمانوں پر پرکھتے ہیں۔ وہ ایسی تخلیقات کو سراہتے ہیں جو معاشرے میں طبقات ختم کرنے کی ترغیب دیتی ہیں اور ان تخلیقات پر تنقید کرتے ہیں جو معاشرے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتیں۔
مارکسی نقاد شعر و ادب میں ادبی محاسن کی بجائے ان میں چھپے پیغام پر اپنی توجہ زیادہ مرکوز کرتے ہیں۔
مارکسی تنقید بیسویں صدی کی ابتدا میں زیادہ مقبول تھی لیکن دھیرے دھیرے اس کی مقبولیت کم ہوتی گئی اور دوسرے مکاتب کی تنقید زیادہ مقبول ہوتی گئی لیکن بائیں بازو کے کچھ شاعر اور دانشور اب بھی مارکسی تنقید کو اپنے دل کے بہت قریب رکھتے ہیں اور اس روایت کو باقی روایتوں سے زیادہ معتبر و مستند سمجھتے ہیں۔
فیمینزم کی تنقید
انیسویں اور بیسویں صدیوں میں جو سماجی تحریکیں بہت مقبول ہوئیں ان میں سے ایک فیمینزم کی تحریک تھی۔ اس تحریک نے معاشرے میں عورتوں کی آزادی و خود مختاری کی راہ ہموار کی۔
فیمینزم کی تحریک کا موقف یہ تھا کہ چونکہ مختلف ملکوں اور معاشروں میں ایک طویل عرصے سے پدر سری نظام قائم ہیں اسی لیے ان ملکوں اور معاشروں میں عورتیں دوسرے درجے کی شہری سمجھی جاتی ہیں۔ ان معاشروں میں عورتوں کو وہ حقوق و مراعات بہت مشکل سے ملتے ہیں جو مردوں کو بہت آسانی سے مل جاتے ہیں۔
فیمینزم کی تحریک نے ادب کو بھی فیمینزم کے اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا اور یہ واضح کیا کہ ادب کس طرح پدرسری نظام کو قائم رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
فیمینزم کی تحریک نے بھی ادبی محاسن کی بجائے فیمینزم کے اصولوں کو ادب کو پرکھنے کی کسوٹی بنایا۔
فیمینزم کی تحریک بہت مقبول ہوئی لیکن بعض حلقوں میں اس پر یہ تنقید کی گئی کہ یہ تحریک مرد دشمنی کی بنیاد پر قائم ہے۔ فیمینسٹ ادیبوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ ہماری دشمنی مردوں سے نہیں پدرسری نظام سے ہے۔ ہم ان عورتوں کے بھی خلاف ہیں جو پدرسری نظام کو بڑھاوا دیتی ہیں اور ان مردوں کو سراہتے ہیں جو عورتوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔
بعض ادیبوں کا خیال ہے کہ فیمینزم کی تنقید سماجی و سیاسی تنقید زیادہ اور ادبی و تخلیقی تنقید کم ہے۔
نورتھراپ فرائی کے نظریات
کینیڈا کے دانشور نورتھراپ فرائی اپنی کتاب
Anatomy of Criticism
کی وجہ سے بہت مقبول ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادب کو کسی اور روایت کے اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنا اس ادب پارے اور ادیب کے ساتھ نا انصافی ہے۔
نورتھراپ فرائی کا کہنا تھا کہ وہ تمام مکاتب فکر چاہے وہ نفسیاتی ہوں یا سماجی، مذہبی ہو یا سیاسی وہ زندگی کی تفہیم کے لیے کار آمد ہیں لیکن ادبی تنقید کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ادب کو صرف ادبی پیمانوں پر پرکھنا ہو گا۔
نورتھاپ فرائی نے ارسطو کے نظریات کو، جو انہوں نے اپنی کتاب
Poetics
میں دو ہزار سال پیشتر پیش کیے تھے، بڑھاوا دیا۔
فرائی نے
نظم اور نثر
افسانے اور مقالے
ناول اور ڈرامے
ٹریجیڈی اور کومیڈی
کو ادبی پیمانوں پر پرکھنے کے اصول مرتب کیے۔
انہوں نے ناول اور ڈرامے کے کرداروں کا تجزیہ کیا اور ادب کے طلبا و طالبات کو بتایا کہ ناول اور ڈرامے کے
بعض ہیرو عام انسانوں سے طاقت اور کردار میں بہت بلند ہوتے ہیں
بعض ہیرو عام انسانوں کی طرح ہوتے ہیں
اور
بعض ہیرو عام انسانوں سے جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور ہوتے ہیں
بعض ہیرو آسمانی طاقتوں اور بعض کردار زمینی حقائق سے جڑے ہوتے ہیں۔
ادیب ان کرداروں سے قارئین سامعین اور ناظرین کی نفسیات کو متاثر کرتا ہے۔
فرائی کا کہنا تھا کہ ادب اپنی جداگانہ شناخت اور کردار رکھتا ہے۔ وہ آزاد منش ہے۔ وہ اپنے جداگانہ اصول رکھتا ہے اور وہ دوسری روایتوں کا مرہون منت نہیں ہے۔
فرائی نے ادب کی خصوصیات اور اس کے محاسن کو واضح کیا اور قارئین کو سمجھایا کہ وہ کس طرح کسی ادب پارے کو پرکھیں اور اس کے محاسن سے لطف اندوز ہوں۔
فرائی کا کہنا تھا کہ ادب کا سنجیدہ قاری اعلیٰ ادبی ذوق اور تنقیدی شعور رکھتا ہے جو اسے ایک ادبی پارکھ بنا دیتا ہے۔ پھر وہ تفریحی ادب اور ادب عالیہ میں تمیز کر سکتا ہے۔
ادب کے بارے میں میری عاجزانہ، طالب علمانہ اور درویشانہ رائے
مختلف ملکوں، معاشروں اور زبانوں کے ادب کا مطالعہ اور تجزیہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب کسی ادیب، شاعر اور دانشور کی تخلیقات
اس فنکار کے تجربے، مشاہدے اور سچ کا بھرپور اظہار کرتی ہیں
زندگی کے راز ہم پر منکشف کرتی ہیں
اس عہد کے زبان و ادب میں گرانقدر اضافے کرتی ہیں
اور
قاری کو بہتر انسان بننے اور پرامن معاشرہ تخلیق کرنے کی تحریک دیتی ہیں
تو ایسی تخلیقات ادب عالیہ اور اجتماعی دانائی کا حصہ بن جاتی ہیں اور زندگی کے ارتقا کے سفر میں انسانیت کی رہنمائی کرتی ہیں۔
میری نگاہ میں ادب اپنے دور کے ادیبوں، ادب کی روایت اور سماج کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ ہر دور کا سنجیدہ ادیب اپنے دور کے انسانوں کے سماجی اور ادبی شعور کو بڑھاوا دیتا ہے۔ وہ اپنے معاشرے کا ایک فعال فرد ہوتا ہے اور اپنی سماجی ذمہ داری سے واقف ہوتا ہے۔
عالم، فنکار اور درویش
پچھلے پچاس سالہ مشاہدے، تجربے، مطالعے اور تجزیے کے بعد میں اس نتیجے پر بھی پہنچا ہوں کہ
علم کی سرشت میں تکبر ہے
اور
فنون لطیفہ کے خمیر میں نرگسیت۔
اسی لیے ہمیں اپنے ارد گرد بہت سے متکبر عالم اور خود پرست فنکار دکھائی دیتے ہیں۔
متکبر عالم اور خود پرست فنکار کا دف صرف ایک چیز مارتی ہے اور وہ ہے درویشی۔ جب کوئی عالم اور فنکار درویش بن جاتا ہے تو اس کی شخصیت میں عاجزی و انکساری دبے پاؤں چلی آتی ہے اور پھر وہ ہر انسان سے پھلدار ڈالی کی طرح جھک کر ملتا ہے اور اسے اس کی تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت گلے لگا لیتا ہے۔ یہی رویہ اس کی انسان دوستی اور دانائی کی ترجمانی کرتا ہے۔


