میرے انکل، آنٹی، بوتل کا جن اور کانا دجال
میں پانچویں جماعت میں تھی جب پہلی بار گھر میں پینٹیئم تھری آیا تھا، اس وقت انٹرنیٹ اتنا عام نہ تھا۔ تب سے ہی میں نے کمپیوٹر پر ایسی طبع آزمائی کی کہ آج حیوانیات میں ماسٹرز کرنے کے باوجود بھی دوست اور کولیگ کمپیوٹر کی ڈاکٹر کہہ کر بلاتے ہیں۔ پھر انٹرنیٹ کا دور آیا یوں سمجھیں بوتل کا جن میرے ہاتھ لگ گیا۔ میرے لئے یہ معلومات کا وسیع سمندر تھا لیکن میرے آس پاس لوگوں کی رائے قدرے مختلف تھی، شاید وطن عزیز میں ہر نئی اور انقلابی چیز کو موقع کے بجائے خطرے کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔ چند دن پہلے ایک مشہور کرکٹر کا بیان سنا کہ ہماری عوام کے پاس بنیادی تعلیم نہیں ہے کہ انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کیسے کرنا ہے لیکن انٹرنیٹ موجود ہے، تو تعلیم کے بغیر وہی استعمال ہو گا جو ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے میں آٹھویں یا نویں جماعت میں تھی جب ہمارے گھر ایک رشتہ دار اچانک آ گئے اور کمپیوٹر کھلا تھا، انہوں نے دیکھتے ہی والد صاحب کا نام لیا کہ کیا وہ گھر پر ہیں؟ امی نے کہا نہیں، یہ تو وَردہ استعمال کرتی ہے۔ ان کی آنکھیں ابل گئیں کہنے لگے ارے یہ تو بڑی بری چیز ہے اس میں تو فلاں فلاں فتنے ہیں اور ایک چیز ہوتی ہے چیٹنگ اس سے تو لڑکیاں خراب ہوجاتی ہیں۔ اتنی دیر میں میں َ پانی لے آئی اور انکل نے پوچھا بیٹا اس پر کیا کرتی ہو، میں چونکہ ان کی بات سن چکی تھی اور عادت سے مجبور تھی فوراً بولی انکل چیٹنگ کرتی ہوں، انکل کو اچھو لگ گیا، امی نے انکل کے سامنے ہی میری تواضع کی اور انکل کو یقین دہانی کروائی کہ میں صرف سعودیہ میں مقیم اپنی پھپھو سے بات کرتی ہوں۔
پھر کچھ دنوں بعد ابوّ گھر میں داخل ہوئے اور ساتھ ہی میری مرحوم دادی کی ایک پرانی دوست کو ساتھ لے آئے ان خاتون نے مجھ پر یہ انکشاف کیا کہ دراصل انٹرنیٹ ہی کانا دجّال ہے۔
ان سب باتوں کو کافی سال ہو گئے، سوچتی ہوں اگر وہ خاتون اور انکل آج مجھے ملیں گے تو مصنوعی ذہانت کے بارے میں کیا رائے پیش کریں گے، اس کو جن کہیں گے؟ یاجوج ماجوج یا یہ بھی کانے دجال کا کوئی رشتہ دار ہو گا؟
میں ان انکل اور آنٹی کو کہنا چاہتی ہوں کہ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت صرف ایک آلہ ایک ٹول ہے، ان چیزوں کا استعمال اس پر منحصر ہے کہ یہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ پہلے پہل جب انٹرنیٹ متعارف ہوا، بہت ہی کم لوگ تھے جو اس کے استعمال سے واقف تھے اور اس سے بھی کم اس کی صحیح حیثیت اور افادیت سے روشناس تھے۔ پھر لوگوں کو اندازہ ہوا کہ اس سے کمایا بھی جاسکتا ہے، کچھ لوگوں نے اسے جرائم کے لئے استعمال کیا، اور کچھ نے شہرت کے لئے۔ لیکن اس کرکٹر کی بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ تعلیم اور شعور کے بغیر یہ تکنیک واقعی فتنہ ہے۔
چند ماہ پہلے میری ایک دوست نے جو پاکستان کے بہت اچھے اسکول میں استانی ہیں مجھ سے رابطہ کیا اور افسوس سے کہا کہ انہوں نے ایک بین الاقوامی ادارے سے مصنوعی ذہانت کو تعلیم کے لئے استعمال کرنے کا کورس کیا لیکن جب اس سب کو استعمال کر کے کلاس کی تیاری کی تو پرنسپل نے کھری کھری سنائی۔ کہا کہ مصنوعی ذہانت سے مدد لینا چوری ہے، ان کا دل بہت دکھا کیونکہ انہوں نے بچوں کے لئے پہلے سے بہت بہتر وسائل تیار کیے تھے، لیکن وہ استعمال نہ کرسکیں، شاید پرنسپل صاحب بھی میرے انکل جیسے تھے۔
پاکستان کا شرح خواندگی آج بھی صرف اٹھاون فیصد ہے اور اگر آپ اس خواندگی کا معیار جانچیں گے تو اندازہ ہو گا کہ شاید ہم میں تیس فیصد بھی صحیح معنوں میں خواندہ نہیں، ہم آج بھی ایسے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں جہاں زیادہ تر بچے اسکولوں کے باہر ہیں اور کسی طرح کی کوئی تعلیم یا ہنر نہیں جانتے۔ اور تو اور شعبہ تعلیم بھی طبقاتی نظام میں بٹا ہوا ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت کو ایک بہترین وسیلے کے طور پر استعمال کر کے انسانی اور مالی وسائل کے فقدان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک میں اے آئی کا تصور وسیع پیمانے پر مختلف ہے۔ پھر بھی بہت سے لوگ اے آئی کو ایک ایسے آلے کے طور پر دیکھتے ہیں جو معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتا ہے اور معیار زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اے آئی طلباء کے لیے اپنی مرضی کے مطابق سیکھنے کے تجربات پیدا کر سکتا ہے، جو ان کی انفرادی طاقتوں اور کمزوریوں کو پورا کرتا ہے۔ یہ کلاس روم کے متنوع ماحول میں خاص طور پر فائدہ مند ہے جہاں طلباء کی سمجھ کی مختلف سطحیں ہو سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت اعلی معیار کے تعلیمی مواد اور وسائل تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں جہاں اچھے تعلیمی مواد تک رسائی محدود ہے۔
پاکستان کے ہر ایک علاقے میں کئی مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ کثیر لسانی آبادی کے ساتھ، اے آئی سے چلنے والے ترجمہ کے اوزار زبان کی رکاوٹ کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، جس سے مختلف زبانیں بولنے والے طلباء کے لیے تعلیمی مواد قابل رسائی ہو سکتا ہے۔
اے آئی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، پاکستان میں تعلیمی شعبہ وسائل کی کمی، اساتذہ کی تربیت، اور طلباء کی شمولیت جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک زیادہ جامع اور موثر تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے کام کر سکتا ہے۔ تعلیمی ٹیکنالوجی کے لیے وقف آن لائن فورمز اور سوشل میڈیا گروپوں کا استعمال اساتذہ کو وسیع تر کمیونٹی سے قیمتی وسائل، تجاویز اور مدد تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
پاکستان کے اساتذہ اور اسکول انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں اپنی سمجھ کو بڑھا سکتے ہیں اور اسے اپنے تدریسی طریقوں میں موثر طریقے سے ضم کر سکتے ہیں۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس کی افادیت اور مثبت استعمال کو تب سمجھیں گے جب ساری دنیا اس کا استعمال کر کے ہم سے سو سال آگے کی ترقی کر چکی ہوگی، تب تک ہم ایسے ہی انکل اور آنٹی کی رائے سے ڈر کر اپنے بچوں، اپنے دفاتر اور اپنے اسکولوں کو اس تکنیک سے محروم رکھیں گے۔
عین ممکن ہے کہ وی پی این کے حرام ہونے کے فتوے کی طرح اسکولوں پر اے آئی کے استعمال کو بھی غیر شرعی قرار دے دیا جائے۔ آخر تیسری دنیا کی اس دوڑ میں ہمیں ہی تو سب سے پیچھے رہنا ہے۔
زرا سا دھیان دیں تو یہ مصنوعی ذہانت اسکول مافیا کے لئے کوئی گھاٹے کا سودا نہیں یوں دکان تو چمکے گی، ساتھ بچے بھی تھوڑا بہت چمک لیں گے۔
اے آئی طلباء کی انفرادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعلیمی مواد کو تیار کر سکتا ہے، جو سیکھنے کی مختلف رفتار اور انداز کو ایڈجسٹ کرتی ہے۔
اے آئی سے چلنے والے پلیٹ فارم اعلی معیار کے تعلیمی مواد اور وسائل تک رسائی فراہم کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ دور دراز کے علاقوں میں بھی جہاں روایتی تعلیمی وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔
یہ مختلف زبانیں بولنے والے طلباء کے لیے تعلیمی مواد کو قابل رسائی بنا کر زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اسکول طلباء کی کارکردگی اور نتائج کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کر سکتے ہیں، جس سے اساتذہ کو نصاب اور تدریسی طریقوں کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جس سے ہر سال ہونے والے کرپشن اور رزلٹ میں کی جانے والی دھاندلی روکی جا سکتی ہے۔ اے آئی آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کو بڑھا سکتا ہے، انہیں زیادہ انٹر ایکٹو اور مزیدار بنا سکتا ہے۔ اے آئی طلباء، اساتذہ اور والدین کے درمیان مواصلات اور تعاون کو آسان بنا سکتا ہے، ایک معاون تعلیمی برادری کو فروغ دے سکتا ہے۔
ان شعبوں پر توجہ مرکوز کر کے، تیسری دنیا کے ممالک تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے اور جامع تعلیمی ماحول کو فروغ دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کی طاقت کو بروئے کار لا سکتے ہیں، لیکن کیا ہم یہ سب کریں گے؟ کیونکہ اسکولوں، مدارس اور اعوانوں میں میرے انکل اور آنٹی جیسے لوگ براجمان ہیں جو کمپیوٹر کو فتنہ اور مصنوعی ذہانت کو کانا دجال کہتے ہیں۔ کاش ہم شعور اجاگر کرنے اور صحیح معنوں میں تربیت کرنے والے ادارے تشکیل دے سکیں، اور کاش وطنِ عزیز تیسری دنیا کی صف سے آگے بڑھ کر ترقی کرتے دیکھ سکیں۔


