ٹیرف کی جنگ میں فاتح کوئی نہیں لیکن شکست کس کی ہوگی؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے نہیں تھے کہ انہوں نے مختلف بیانات کے ذریعے دنیا میں مزید افراتفری پیدا کردی۔ کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنا، مختلف پر امریکہ کی جانب سے ٹیرف کی دھمکیاں اور مسئلہ فلسطین اور یوکرین روس تنازع میں طاقت کے ذریعے حل کے بیانات بظاہر بہت عجیب لگ رہے تھے لیکن دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ صدارت کا منصب سنبھالنے سے پہلے اور صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد کے ڈونلڈ ٹرمپ میں فرق ہو گا پر ایک بڑی معیشت اور اثر و رسوخ رکھنے والے ملک کے سب سے بڑے عہدیدار کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ جس انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا جہاں پہلے خطرے میں تھی اب مزید خطرات میں آ گئی ہے۔
نئی امریکی انتظامیہ کا طرز عمل جس انداز میں معیشت، قومی سلامتی، اختیارات اور حکمرانی کی وسعت کی خواہش رکھے ہوئے ہے اس میں کئی مسائل ایک ساتھ اٹھ گئے ہیں۔ پانامہ کینال ہو، یوکرین کی معدنیات پر حکمرانی کی خواہش ہو یا غزہ کی زمین پر اپنا اقتدار، یہ سب ”گریٹ امریکہ“ کے نعرے تلے جمع ہوئی وہ خواہشیں ہیں جنہیں خود امریکی بھی پسند نہیں کریں گے کیوں کہ امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جو اکثریت دی وہ موجودہ امریکہ کے مسائل کے حل اور اسے ترقی دے کر قائم رکھنے کے لئے ہے نا کہ توسیع پسندانہ سوچ کے لئے۔
دنیا میں کئی بڑے رہنماؤں نے کئی اہم نعرے بلند کیے اور ان نعروں میں چھپی عوامی قوت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف خود ترقی حاصل کی بلکہ دنیا کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی روش قائم کی۔ لیکن اگر مقصد تحفظ پسندی اور یک طرفہ پسندی ہو تو افرادی اور عوامی قوت میں اتحاد کی کمی رہے گی۔ یوں کہیں کہ مقصد چھوٹا ہو جائے اور انفرادی ہو جائے تو تحریک کامیاب نہیں ہوا کرتی۔
بطور ایک ایک عام انسان میں اس وقت تک خوش تھا جب تک یہ جانا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے صدر منتخب ہوئے ہیں جنہیں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ نئے امریکہ اور نئی امریکی پالیسی کا چہرہ ہوں گے لیکن جس انداز میں انہوں نے حالیہ دنوں میں مختلف محاذ ایک ساتھ کھولے ہیں اس سے گمان ہوتا ہے کہ دنیا میں بسنے والے ایک عام شہری کی خوشی فرضی تھی۔
یکم فروری کو ٹرمپ نے خصوصی صدارتی آرڈرز کے ذریعے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر اضافی ٹیرف عائد کیا تو کینیڈا اور میکسیکو نے فوری رابطوں کے بعد ان حکم ناموں کو ایک ماہ کے لئے معطل کر وا دیا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ چین کے معاملے میں بھی اسی انداز میں منشیات کے خلاف دونوں ممالک کے تعاون اور مذاکرات کا سہارا لیا جاتا اور اگر فینٹینیل واقعی اتنا سنجیدہ مسئلہ تھا تو اسے مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جاتا۔ غیر قانونی فینٹینیل اور غیر قانی افراد کے امریکہ میں داخلے کو بنیاد بنا کر جن ٹیرفس کو لاگو کیا گیا اس سے کیا ان مسائل کا حل ممکن ہے؟ مجھے لگتا ہے یقیناً نہیں۔
چین کی جانب سے بھی جوابی ٹیرف اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ساتھ ہی چین نے عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او میں امریکی اقدام کو چیلنج بھی کیا ہے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر ایوب مہر کہتے ہیں کہ امریکی اقدام کو ڈبلیو ٹی او میں قبول نہیں کیا جائے گا لیکن اگر اسی طرح تحفظ پسند دنیا کا رجحان بڑھتا رہا تو اس کا حتمی نقصان صارفین کو ہی ہو گا۔ اس بات میں کوئی شک بھی نہیں ہے کیوں کہ امریکی اسٹاک سمیت دیگر عالمی اسٹاک مارکیٹس میں اس اقدام کے فوری بعد آنے والی مندی نے اس بات کا واضح اعلان کیا ہے کہ سرمایہ داروں کو یہ اقدام پسند نہیں آئے۔ ظاہر ہے ابھی ان اقدامات کا اثر عوام یا جنہیں ہم صارفین کہتے ہیں ان پر نہیں آیا لیکن جیسے ہی یہ اثر عوام پر آئے گا تو عوامی رائے کا بوجھ بھی نئی امریکی انتظامیہ پر ہو گا۔
جنگ کوئی بھی ہو اس میں فاتح اور مفتوح کو دیکھا جاتا ہے۔ کسے کیا حاصل ہو گا یہی وہ نکتہ ہو تا ہے جس پر کسی کی جیت اور کسی کی ہار کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ ٹیرف کی اس جنگ میں فاتح کوئی نہیں ہے اور مفتوح پوری دنیا ہو گی۔ کچھ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات سے ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق، 2018 کی تجارتی جنگ میں امریکی صارفین کو 40 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا اور 2 لاکھ 45 ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔ سو ہم کس چیز کے انتظام میں ہیں اور کس چیز کے انتظار میں؟ بھلا کرنے کی خواہش بری نہیں لیکن برا سوچنے کی خواہش بھلے کی خواہش کو شکست دے دے تو پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔


