میں ایک کتاب کا مصنف ہوں


پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہیں کہ اگر ان کے دماغ کی بجلی کو استعمال کیا جائے تو ملک بھر کی سب سے بڑی پریشانی لوڈ شیڈنگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو کر رہ جائے، مگر پڑھنے والوں کی تعداد اتنی کم ہو کر رہ گئی ہے جیسے یہ کوئی معدوم ہوتی ہوئی نسل، جو بہت جلد نایاب پرندوں کی فہرست میں شامل ہونے والی ہے۔ یہاں لوگ کتابوں کو ایسے نظر انداز کرتے ہیں، جیسے شادی کے کھانے میں سبزی والے سالن کو کیا جاتا ہے۔

اسی لیے ہم نے مصنفین کی بقا کے لیے ایک انقلابی حل نکالا ہے۔ لکھو، پھر خود سے ہی پڑھو، کیوں کہ اس طریقے سے نہ صرف ہم اپنی عزت بلکہ اس سے ”محبت بھری گالیوں“ سے بھی بچے رہے گئے، جو عموماً قاری تحریر پڑھنے کے بعد مختلف ذائقوں اور رنگ برنگے لہجوں کے ساتھ دیتے ہیں۔

مانا کہ گالی کھانے سے صحت اچھی رہتی ہے، لیکن یہ جڑی بوٹی اگر زیادہ مقدار میں لے لیں تو بندہ پہلے مصنف پھر فلسفی، اور اگر تواتر کے ساتھ اوور ڈوز جاری رہے تو ماہرین کی نظر میں وہ آخری درجے پر پہنچ کر باقاعدہ پاگل پن کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔

یعنی کامیابی کی یہ تین منزلیں صرف زبان کی مار سہنے سے طے ہو سکتی ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ بندہ دل چھوٹا نہ کرے اور دماغ زیادہ بڑا نہ کرے۔

اور جہاں تک بات رہی ہماری اپنی تحریروں کی، اگر کوئی ہمارا لکھا غلطی سے بھی پڑھ لے اور پھر اس پر رائے دے، تو تاریخ گواہ ہے اس کی رائے اتنی ہی بے ربط ہوتی ہے جتنی پاکستانی سیاستدانوں کی پالیسیاں۔ ایک بار اگر قاری ہماری تحریر کو پڑھنے کی کوشش کرے، تو وہ جگہ جگہ پر ٹھہر کر ایسے سوال اٹھاتا ہے جیسے عدالتوں میں وکیل مقدمہ کے درمیان اُٹھاتے ہیں، اور ہماری بعض اوقات وضاحتیں اتنی لمبی ہو جاتی ہیں کہ بات اگلی نسل تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر مجال کہ کوئی اس کا اصل مطلب سمجھ پائے۔

یہی وجہ ہے کہ سعادت حسن منٹو نے بڑے آرام سے اپنا فلسفہ دیا: ”جو میں نے لکھا، اس کا ذمہ دار میں ہوں، لیکن جو آپ نے سمجھا، اس کا ذمہ دار آپ خود ہیں۔“ اور اس فلسفے کے بعد انہوں نے جو دل چاہا وہی لکھا۔ آج بھی اگر کوئی قاری منٹو کے الفاظ کو لے کر شکایت کرے، تو جواب یہی ملتا ہے، بھائی، یہ آپ کی عقل کا قصور ہے، منٹو کی تحریر کا نہیں۔

لہٰذا، اگر آپ کو میری تحریر نہیں سمجھ آ رہی، تو یہ میرا مسئلہ نہیں۔ اور اگر سمجھ آ رہی، تو مبارک ہو! آپ اس نایاب نسل کے آخری نمونوں کی فہرست میں شامل ہیں، جنہیں ہم ”قاری“ کہتے ہیں۔

جس طرح لکھاری پیشے کی یہاں پر حالت چل رہی ہے، لگتا ہے کہ پاکستان میں بہت جلد ”مصنف پیشہ“ بھی ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی طرح آثارِ قدیمہ کی کسی کھنڈر کا حصہ بن جائیں گا۔ مستقبل میں بچے اردو کی ڈکشنری کھول کر جب لفظ ”مصنف“ پڑھیں گے، تو حیرانی سے والدین سے پوچھیں گے، ”یہ مصنف کیا ہوتا ہے؟“

والدین انہیں یوں سمجھائیں گے جیسے کسی پرانی لوک کہانی سنائی جا رہی ہو: ”بیٹا، یہ بہت پرانی بات ہے۔ ایک زمانے میں مصنف ہوا کرتے تھے، جیسے آج کوتوال کا نام آنے پر بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا ہوتا ہے؟

آگے جواب ملتا ہے تالے بنانے والوں کو پرانے زمانوں میں کوتوالی کہتے تھے۔
ٹھیک ایسے ہی والدین کہے گئے ”بیٹا، مصنفین وہ تھے جو انصاف کرتے ہوتے تھے۔

یہ سن کر بچے الجھن میں پڑ جائیں گے : ”تو اماں، بابا،“ ڈکشنری میں تو لکھا ہے کہ مصنف لکھنے والا ہوتا ہے۔ پھر یہ انصاف کہاں سے آ گیا؟ ”والدین لمبی سانس لے کر جواب دیں گے،“ بیٹا، وہ لکھنے والا ہوتا تھا، لیکن انصاف کے لیے لکھتا تھا۔ اور جب انصاف کے لیے لکھنے والوں کو کوئی پڑھنے والا نہ ملا، تو پھر یہ بھی ایسے ہی ختم ہو گئے، جیسے کوتوال۔

بچے مزید حیرت سے سوال کریں گے، ”تو بابا، وہ لوگ لکھتے کیوں تھے؟“ والدین جس پر کہیں گے، ”بیٹا، یہ وہ سوال ہے جو کبھی خود مصنفین بھی نہیں سمجھ سکے تھے۔

جہاں تک ہمارا خیال ہے وہ یہ کہ پاکستان میں نہ پڑھنے کی سب سے بڑی وجہ وقت کا نہ ہونا ہے، کیوں کہ ہماری قوم اس قدر مصروف ترین قوم ہے کہ تقریباً ہر گھر میں ساس بہو کی وجہ سے اور بہو ساس کی وجہ سے اور باقی گھر والے ان دونوں کے کھیل کی وجہ سے مصروف ہیں۔

جن گھروں میں یہ قیمتی ”ساس بہو محبت“ کا کھیل نہیں ہوتا، وہاں اس سے بھی بڑھ کر مصروفیت موجود ہوتی ہے، جیسے کرکٹ کے میچ میں کمنٹری کو فلسفہ سمجھ کر سیکھنا یا ڈراموں کی اقساط کو ملکی معیشت جتنی سنجیدگی سے لینا۔

دوسری بڑی وجہ ہماری انگریز دشمنی ہے، جو ہماری نسلوں سے چلی آ رہی ہے۔ کیوں کہ زیادہ تر کتابیں انگریزی میں ہوتی ہیں، اور ہماری قوم انگریزی کو ایسے دیکھتی ہیں جیسے محلہ کا دکاندار ادھار مانگنے والے ٹولے کو دیکھتا ہوتا ہے۔

ہمیں لکھنے جیسی غلطی کی غلط عادت آج سے کوئی تین سال پہلے لگی، لیکن یہ عادت یوں پھیلے گی جیسے پاکستان کی آبادی۔ اس کا ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔ لکھنا شروع کیا تو لگا کہ ایک دو صفحات کے بعد دوسری عادتوں کی طرح یہ بھوت بھی بہت جلد سر سے اتر جائے گا، لیکن یہ عادت ایسی بڑھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہٹی کٹی، تنو مند، اور صحت مند کتاب کی شکل اختیار کر گئی۔ اب بندہ سگریٹ پینے کی عادت ڈال لے تو خیر ہے، گیم کھیلنے کی لت لگ جائے تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر غلطی سے لکھنے کی لت لگ جائے تو پھر سکون کی صحت خراب ہو کر ہی رہتی ہے۔

ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا کہ یہ ننھی مُنی غلطیاں کب بڑھتے بڑھتے ”گناہِ کبیرہ“ میں تبدیل ہو گئیں۔ پہلے تو بس ایک آدھ جملہ بگاڑنے پر دل ہلکا ہو جاتا تھا، پھر پیراگرافوں کی درگت بنانے لگے، اور آخرکار پوری کتاب کا بیڑہ غرق کر بیٹھے۔ مگر یہ بات ہمیں کسی فلاسفر یا ضمیر کی خلش نے نہیں، بلکہ پبلشرز حضرات نے سمجھائی۔

اس سارے تجربے کو تفصیل سے بتانے کے لیے ایک پوری داستان امیر حمزہ درکار ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم نے لکھ بھی دی، تو پھر ایک اور کتاب تیار ہو جائے گی، اور یہ گناہ مزید کرنے کے ہم ہرگز مرتکب نہیں ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا، ابھی کے لیے ایک چھوٹا سا چند ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون ہی کافی ہے۔

اردو زبان کی عمر تقریباً ڈیڑھ سو سال سے زیادہ ہو چکی ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان پبلشرز حضرات کی عظیم خدمات پر آج تک ایک دھنگ کا مضمون بھی نہیں لکھا گیا۔ یعنی، عام قاری ان شخصیات سے اتنا ہی ناواقف ہے ”جتنا شادی سے پہلے شوہر، بیوی کی اصل نیت سے۔

اتنا تو آج لوگ اپنے رشتہ داروں کی قرض کی درخواستوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتے ہیں جتنا کہ پبلشرز حضرات کی خدمات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

بس یہی نا انصافی ہمیں ہضم نہیں ہوئی، لہٰذا ہم نے نہ صرف لکھا بلکہ پڑھا بھی اور جو کچھ پڑھا، وہ ہماری نظر میں تو ایسا ہی لاجواب لگا جیسے سردی کے موسم میں اچانک بارش۔ اگر کسی کو ہماری یہ کاوش پسند نہ آئے تو برائے کرم ایک بار اپنے ذائقے کا طبی معائنہ ضرور کروائیں کیوں کہ مسئلہ ہماری تحریر میں نہیں، بلکہ آپ کے ادبی ذائقے کی بوسیدگی میں ہو سکتا ہے۔

اور جو تھوڑی بہت کمی ہم نے چھوڑی ہے، وہ جان بوجھ کر چھوڑی ہے، بالکل ایسے جیسے استاد امتحان میں کچھ آسان سوالات چھوڑ دیتا ہے تاکہ بچوں کو لگے کہ وہ خود بھی کچھ نہ کچھ جانتے ہیں ناکہ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر رہ جائے۔

ہم تو چاہتے تھے کہ مضمون کو پرفیکشن کی آخری حد تک لے جائیں، مگر پھر خیال آیا کہ باقی مصنفین بیچارے کہاں جائیں گے؟ اگر ہم ہی ہر خوبی سمیٹ لیں، تو دوسرے لوگ کیا لکھیں گے؟ یہ تو سراسر ظلم ہوتا۔

ہم اتنے بے رحم نہیں کہ ساری عقل، ساری فصاحت، ساری بلاغت خود ہی سمیٹ لیں اور باقی مصنفین ہاتھ ملتے رہ جائیں، جیسے کھانا دیر سے آنے پر مہمان ملتے ہیں۔

ہم نے سوچا کہ چلو، کچھ خلا چھوڑ دیں، تاکہ دوسرے مصنفین بھی اس پر ہاتھ سینک سکیں۔ اور دوسرا اگر سب کچھ پرفیکشن کے ساتھ لکھ دیں، تو نقاد کیا کریں گے؟ ان کا بھی تو روزگار چلنا چاہیے۔ اس لیے ہم نے موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی اپنی تنقید کے تندور پر روٹیاں سینک سکیں۔ آخر ہمیں سب کا بھلا عزیز ہے، ہم کوئی ناشتے میں جلنے والا توس تھوڑی ہیں جو خود ہی راکھ ہو جائے اور کسی کے کام بھی نہ آئے۔

غالب، پطرس اور نسیم حجازی کی طرح پہلے تو کچھ لکھنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی، اور اگر کبھی قسمت سے کچھ اچھا لکھ بھی لیا جائے تو اگلی مصیبت یہ آ کھڑی ہوتی ہے کہ اب اسے شائع کہاں کروائیں؟

لکھنے میں تو بندہ قسمت پر بھروسا کر لیتا ہے، مگر شائع کرانے میں قسمت کی بجائے پبلشر کا موڈ چلتا ہے۔

پاکستانی پبلشر ہاؤسز کی حالت کچھ ایسی ہے کہ ہمارے گاؤں میں ایک ٹیوب ویل ہے، اس میں پانی نکالنے سے پہلے ایک دو گھنٹے پانی ڈالنا پڑتا ہے، اور جب وہ اچھی طرح سیر ہو جاتا ہے، تو تب جا کر تھوڑا بہت پانی واپس نکالتا ہے، ورنہ ایسے منہ بنائے سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھتا رہتا ہے، جیسے اس سے کسی نے قرض مانگ لیا ہو۔

بس یہی حال ہمارے پبلشر حضرات کا ہے۔ سالوں سے ایسے خشک پڑے ہیں جیسے دسمبر کی دھوپ میں رکھی ہوئی چائے کی پیالی۔ اب بندہ دل بڑا کرتے ہوئے کتاب پر کچھ پیسے لگا کر یہ سوچے کہ چند مہینوں بعد دو چار پیسہ واپس آ جائے گے، تو وہ بڑی امیدوں کے ساتھ فون اٹھاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف پبلشر صاحب ایسے تیار بیٹھے ہوتے ہیں جیسے عدالتوں میں وکیل مقدمے کا فیصلہ بدلنے کے لیے تیار ہو۔

فون اٹھاتے ہی کہتے ہیں، بھائی صاحب، آپ کی کتاب تو چل ہی نہیں رہی۔ ہمیں تو الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ اور ساتھ میں اتنے ثبوت دیتے ہیں کہ بندہ سوچنے لگتا ہے، ”یہ میری کتاب تھی یا کوئی سیاسی جماعت کا منشور؟“

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ پیسے لینے کی امید میں فون کرتا ہے، لیکن گفتگو کے آخر میں یہ وعدہ کر کے فون رکھ دیتا ہے کہ اگلی بار انہیں کچھ اضافی رقم بھی دے گا تاکہ نقصان پورا ہو سکے۔

پبلشرز، یعنی ادب کے وہ چوکیدار جو مصنفین کے خوابوں کے مین گیٹ پر ایسا پہرہ دیتے ہیں جیسے کسی رئیس کے دروازے پر چوکیدار کھڑا ہو۔ نہ خود اندر جاتے ہیں، نہ کسی کو جانے دیتے ہیں۔

مصنف اور قاری کے بیچ جو نازک سا رشتہ ہوتا ہے، اس کی آبیاری کا فریضہ پبلشرز انجام دیتے ہیں۔
ہمارا ان سے پچھلے چھے مہینے سے عشق چل رہا ہے، لیکن یہ عشق یک طرفہ نکلا۔

ہم ہر روز امید لے کر ان کے پاس جاتے، اور یہ ہمیں ہر روز نئی مایوسی تھما دیتے ہے۔ کتاب تو خیر کیا چھپواتے، لیکن اس سب میں اتنا سمجھ میں آ گیا کہ پبلشرز مصنفین کو عزت دینے کے اتنے قائل ہیں جتنا جج ملزمان کو ضمانت دینے کے۔

دل تو چاہتا تھا کہ اس تجربے پر کتاب لکھیں، مگر مسئلہ بھی یہی ہے کہ کتاب چھپوانی بھی ابھی انہی سے ہے۔ اس لیے مجبوری میں مضمون پر ہی اکتفا کر لیا۔ چلے اب اس مضمون کو اتنا مختصر کرتے ہیں جتنا پبلشرز حضرات مصنفین کی امیدوں کو کیا کرتے ہیں۔

پاکستان میں پبلشرز کی تین اقسام ہیں، جن میں پہلی قسم وہ ”نامور پبلشرز“ ہیں جو اتنے ہی آسانی سے وقت دیتے ہیں جتنا کہ الیکشن کے بعد سیاستدان۔ ان سے بات کرنا ایسے ہے جیسے بغیر جہاز چاند پر جانے کی کوشش کرنا۔ ان کے آپ کا فون اٹھانے کے امکانات وہی ہوتے ہیں جو لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی آنے کے۔ یہ صرف تین چیزوں پر دھیان دیتے ہیں : پیسہ، نام، اور (اگر بچ جائے تو) تھوڑا بہت کام۔ یہ لوگ لکھاری کو صرف اس وقت سنتے ہیں جب وہ مریض کی طرح بل کی ادائیگی کی رسید دکھاتا ہے، ورنہ یہ ایسے نظر انداز کرتے ہیں جیسے سیاستدان ووٹ دینے کے بعد عوام کو کرتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو جتنا کم بولتے ہیں، اتنا ہی کم سنتے ہیں، بلکہ کئی تو صرف آنکھوں سے بات کرتے ہیں۔ ان کے دروازے پر پہنچنے کا مطلب ہے کہ آپ نے زندگی میں وہی غلطی کر دی ہے جو چوہا بلی کے سامنے آ کر کرتا ہے۔

دوسری قسم وہ ”درمیان کے پبلشرز“ ہیں جن کا مزاج موسم کی طرح بدلتا ہے۔ آج آپ اہم ہیں، کل آپ کے فون پر مصروف ٹون سنائی دے گی، اور پرسوں ہو سکتا ہے وہ خود آپ کو ”بھائی آپ کون؟“ کا میسج بھیج دیں۔ ان کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ ان کا کوئی اصول نہیں۔ یہ ہر دوسرے دن نئے قواعد بنا کر اپنے ہی کل کے کیے گئے وعدے کو یاداشت کے کمزور ہونے کی وجہ سے بھول بیٹھتے ہیں، اگر ان کا کام اس وقت اچھا ہو اور اگر نہیں تو پھر ان کی یاداشت میں پاکستان کی پیدائش سے پہلے کی بات چیت بھی کھڑی ہوتی ہیں۔

ان کے اصول وہی ہوتے ہیں جو ریستوران کے مینو پر درج ٹرمز اینڈ کنڈیشنز۔ جو دن میں تین بار بدل سکتی ہیں۔ یہ کبھی کہتے ہیں کہ ہم نئے لکھاریوں کو موقع دیتے ہیں اگر کام نہ ہو اور دوسرے ہی لمحے اگر کچھ مشہور مصنفین کا کام آ گیا تو پھر ان کے ہاں ایسے گنجائش ختم ہو کر رہ جاتی ہے جیسے پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کے لئے نوکریاں۔

یہ عام لکھاریوں کو اس وقت تک حوصلہ دیتے ہیں جب تک ان کے پاس کام نہ ہو، اور جب کام ہوتا ہے تو ان کا رویہ بھی ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسے شادی کے بعد شوہر کا۔

اور آخری قسم وہ ”گمنام پبلشرز“ ہیں جو مصنفوں کو خواب بیچنے کے اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ اگر یہ سیاست میں ہوتے تو آج ہر ووٹر کو اپنا اپنا الگ سے ”ایک نیا پاکستان“ مل چکا ہوتا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر نئے لکھاری کو دیکھ کر اس کا مستقبل بتا دیتے ہیں :

جناب، آپ میں تو نسیم حجازی، منٹو، اور جون ایلیا تینوں کی روحوں کا امتزاج نظر آتا ہے۔ بس ذرا آپ کی جیب ہلکی پڑ جائے تو پھر ان کی باتوں کا حسن بھی ویسا ہی مرجھا جاتا ہے جیسے سیزنل پھولوں کی زندگی خزاں میں۔

جونہی جیب ہلکی ہوئی، پھر وہ آپ کی تحریر کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے دکاندار نقلی نوٹ کو۔
ہمیں ان پچھلے چھے مہینوں سے پبلشرز حضرات ایسے گھسیٹ رہے جیسے بچپن میں ہم اسکول کی تختی پر سلیٹیاں۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چھ جوڑے جوتے شہید ہو گئے، لیکن قسمت ایسی ڈھیٹ بنی بیٹھی ہے کہ مجال ہے جو ایک انچ بھی اپنی جگہ سے ہلی ہو۔ لگتا ہے کہ قسمت کو کسی ”پکی سیٹ“ کا ٹکٹ مل گیا ہے اور وہ اپنی نشست چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔

پاکستان کا ایسا کوئی پبلشر نہیں بچا جس کے دروازے پر ہم نے اپنی قسمت نہیں رگڑی۔ بڑے، چھوٹے، لمبے، بونے، نوجوان، بزرگ، نئے، پرانے، اور تو اور وہ بھی جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہے۔

جو ہم سے بات کرنا چاہتے تھے، انہیں بھی پکڑا، اور جو نہیں کرنا چاہتے تھے، انہیں تو خاص طور پر پکڑا۔ فون پر، آئی میل پر، آمنے سامنے، یہاں تک کہ اشاروں کی زبان میں بھی سمجھانے کی کوشش کی، لیکن جواب وہی ”ہم دیکھیں گے“ یا پھر ”رابطے میں رہیں“ جو کہ اردو میں ”امید مت رکھو“ کے مترادف ہوتا ہے۔

اس سارے عرصے میں ہماری صحت کا وہ حال ہو گیا ہے کہ اگر مزید دو تین مہینے ایسے ہی گزرے تو لوگ ہمیں دیکھ کر کہیں گے، ”یہ مصنف کم کسی قحط زدہ علاقے کا باشندہ زیادہ لگتا ہے۔

ہمیں لگتا تھا کہ کتاب چھپوانے کے بعد ہم ”بیسٹ سیلر“ کی خوشی منائیں گے، لیکن ابھی تو ہمارا حال ایسا ہے کہ بس ”سیل“ میں سستے جوتے ڈھونڈ رہے ہیں، کیوں کہ مزید پبلشرز کے دروازے کھٹکھٹانے کے لیے ہمیں کم از کم ایک اور جوڑا جوتے درکار ہیں۔

Facebook Comments HS