چیمپئنز ٹرافی۔ توقعات اور خدشات


پاکستان کے لیے چیمپئنز ٹرافی کی اہمیت سے ہم سب واقف ہیں۔ ایک تو یہ ہم دفاعی چیمپیئن ہیں اور دوسرا ہم اس ٹورنامنٹ کے میزبان بھی ہیں۔ انڈیا نے حسبِ معمول پاکستان میں نہ آ کر ہمارا مزہ کرکرا کرنے کی کوشش تو کی ہے، لیکن پھر بھی چیمپئنز ٹرافی کے دوران کرکٹ کے شائقین کی نظریں پاکستان پر رہیں گی۔

چیمپئنز ٹرافی میں چونکہ چوٹی کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں، اس لیے زوردار مقابلوں کی توقع ہے۔ پاکستان کو اپنے گروپ میں انڈیا، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش سے مقابلہ کرنا ہے۔ انڈیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں ون ڈے کی بہترین ٹیمیں ہیں اور بنگلہ دیش ہمیں آخری ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر چکا ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش کو ہلکے میں لینے کا نہیں۔

ان مقابلوں کے لیے پاکستان نے جو ٹیم اتاری ہے، اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ سب سے زیادہ گولہ باری کا نشانہ فہیم اشرف اور خوش دل شاہ بنے ہیں۔ خاص طور پر رانا فہیم اشرف کی میاں نواز شریف کے ساتھ ایک پرانی تصویر لگا کر اس انتخاب میں سیاسی دھول بھی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر ان دونوں کھلاڑیوں کی ماضی میں کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ ”کج سانوں مرن دا شوق وی سی“ والی بات درست لگتی ہے۔ لیکن ان کی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں حالیہ کارکردگی کی وجہ سے ان کا انتخاب ہوا ہے اور اس کی روشنی میں یہ بظاہر درست ہی لگتا ہے۔

اگرچہ یہ کارکردگی انہوں نے ٹی 20 فارمیٹ میں دکھائی ہے، لیکن اس کارکردگی کو ایک ہارڈ ہٹر کے تناظر میں دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دونوں ہارڈ ہٹنگ کر سکتے ہیں، باؤلنگ بھی کر سکتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے ان کو جب بھی قومی ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ امید ہے ٹیم مینجمنٹ ان کو نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ کے خلاف 8 فروری کو شروع ہونے والی سہ ملکی ون ڈے سیریز میں پرکھنے کی کوشش کرے گی اور ورلڈ کپ کی پلیئنگ الیون میں ان کی شمولیت کا دار و مدار اس سیریز پر رہے گا

پاکستان کے فاسٹ باؤلرز سے بہت زیادہ توقعات رکھنا، گھاٹے کا سودا ہی ہو گا۔ نسیم شاہ اپنی اٹھان کے بعد مسلسل تنزل کا شکار ہیں۔ باؤلنگ کے دوران ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک اذیت کا شکار ہے اور اس کی باؤلنگ میں کوئی کاٹ نہیں ہے۔ حارث رؤف نے آسٹریلیا اور ساؤتھ افریقہ میں تیز ترین باؤلنگ کا مظاہرہ کر کے پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا، لیکن پاکستان اور دبئی کی وکٹوں پر اس کی باؤلنگ زیادہ موثر نہیں ہو گی۔

لگتا یہی ہے کہ 2023 میں انڈیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کی طرح یہاں بھی وہ بیٹرز کے لیے آسان ہدف رہے گا۔ محمد حسنین کو اول تو موقع ہی نہیں ملے گا۔ اگر ٹیم میں شامل بھی ہوا تھا، تو انتہائی غیر موثر رہے گا۔ شاہین شاہ آفریدی میں اگرچہ وہ پہلے والی بات نہیں رہی، پھر بھی اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ کرے گا۔

سب سے حیران کن فیصلہ ٹیم میں صرف ایک سپنر ابرار کی شمولیت ہے۔ سفیان مقیم کو بھی ٹیم میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ امام الحق کو نظر انداز کرنا اور عثمان خان کو سکواڈ میں شامل کرنا، نہ سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں۔

فخر زمان اور سعود شکیل کی ٹیم میں شمولیت ایک اچھا فیصلہ ہے، لیکن پاکستان کے بیٹرز کی حالیہ دنوں میں مجموعی کارکردگی کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے یہ ٹورنامنٹ یوں سمجھیں کہ اک آگ کا دریا ہے، جس کو تیر کر پار کرنا ہے۔

 

Facebook Comments HS