ایک سچی معاشرتی کہانی
شانتی میرے اسکول میں آیا تھی مذہب کے لحاظ سے کٹر ہندو لیکن ایک صاف ستھری اور وضع دار خاتون جس کے تیکھے نقوش اور رنگ و نکھار حالات کی دھوپ میں کملا ضرور گیا تھا مگر ابھی ختم نہ ہوا تھا۔ شانتی کا میاں رام رکشہ چلاتا تھا جس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا زیادہ تر حصہ وہ دیسی شراب میں بہا دیتا مگر پھر بھی اپنے گھر کے اخراجات کے لئے شانتی کو معمولی سی رقم ضرور دیتا، شانتی کی بڑی بیٹی لکشمی میٹرک کے بعد ایک قریبی مندر میں کوئی ایسی ملازمت کرتی تھی جو ان کے مذہب کی بلا معاوضہ خدمت تھی جبکہ اس کی چھوٹی بیٹی پارو جو شکل و صورت کے حساب سے ایک خوبصورت لڑکی تھی بالکل کسی کھلتے ہوئے پھول کی مانند وہ میٹرک کی طالبہ تھی۔ شانتی کا اکلوتا بیٹا ایک ہوٹل میں ویٹر تھا۔ اس کا گھر کرایہ کا تھا جس کا کرایہ اس کا بیٹا اور رام مل کر ادا کرتے اور گھر کے دیگر اخراجات شانتی بہت مشکل سے پورے کرتی جن میں بجلی کا بل اور پانی کا خرچہ اس کی کمر توڑ دیتا، ایسے میں کبھی کبھار میں اس کی مدد کر دیتی جسے وہ مشکل سے قبول کرتی۔
جن دنوں شانتی کی بیٹی پارو کو میٹرک کے بعد ایک قریبی اسکول میں معمولی سی تنخواہ والی ملازمت ملی شانتی بہت خوش تھی مگر اس کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی کیونکہ ان ہی دنوں رام کی داڑھ میں درد شروع ہوا جو بڑھتے، بڑھتے پورے منہ میں پھیل گیا یہاں تک کہ رام کا گال سوج کر کپا ہو گیا اور کچھ بھی کھانا اس کے لئے ناممکن ہوتا گیا تب شانتی کے ہاتھ، پاؤں پھول گئے اور وہ میرے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
”رام نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا وہ بہت تکلیف میں ہے“
”ارے اسے کسی اچھے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ“
بے ساختہ میرے منہ سے نکلا جس پر میں خود ہی شرمندہ ہو گئی تب شانتی نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے میری جانب شاکی نگاہوں سے دیکھا۔
”میڈم جی اس مہنگائی میں گھر کی دال روٹی پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے تو مہنگے ڈاکٹر کو کیسے دکھائیں؟ گھر کے قریبی ڈاکٹر سے دوائی لی تو اس ماہ بجلی کا بل جمع نہیں کروا سکے جبکہ کرایہ بڑی مشکل سے دیا کیونکہ رام پندرہ دن سے کام پر نہیں گیا“
اچھا ”
میں نے ایک پل کو سوچا اور اپنے پرس سے کچھ رقم نکال کر شانتی کی جانب بڑھائی
” یہ رکھ لو اور کل چھٹی کر کے رام کو سرکاری اسپتال لے جاؤ“
” رام گیا تھا جی مگر وہاں بہت رش ہوتا ہے وہ زیادہ دیر تک بیٹھ نہیں سکتا اس لئے گھر واپس آ گیا۔“
” یہ تو عجیب بات ہے۔“
مجھے غصہ آ گیا۔
”اپنی زندگی سے زیادہ کچھ اہم نہیں اور رش میں کھڑے دوسرے لوگ بھی انسان ہیں تو اگر وہ اپنی باری پر علاج کروا رہے ہیں تو تم کیوں نہیں کروا سکتیں۔“
جی۔
شانتی نے دھیمے سے جواب دے کر میری جانب دیکھا۔
” آپ کے تو بہت تعلقات ہیں میڈم آپ کسی سے کہیں وہ سرکاری اسپتال میں ہمارا نمبر۔
”نہیں میرے کوئی تعلقات نہیں ہیں“ ۔
میں نے سختی سے شانتی کی بات کاٹی کیونکہ میں سمجھ چکی تھی وہ آگے کیا کہنا چاہ رہی ہے۔
” صبح سویرے گھر سے جا کر لائن میں لگ جاؤ جلدی نمبر آ جائے گا“ ۔
شانتی کو مزید ہدایات کے ساتھ میں نے آدھے دن کی چھٹی بھی دے دی کیونکہ وہ بہت زیادہ پریشان تھی۔
اگلے کچھ دنوں میں رام کی حالت مزید خراب ہو گئی اس نے اپنا رکشہ کھڑا کر دیا کیونکہ اب وہ کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔ رام کا منہ سوج گیا اور کھانا پینا مشکل ہوتا گیا اب وہ صرف جوس پیتا جو روزانہ تازہ آتا، روز اسپتال جانا، ٹیسٹ، دوائیاں غرض اخراجات بڑھتے گئے اور آمدنی زیرو کیونکہ رام کی تیمارداری کے سبب شانتی میرا کام چھوڑ چکی تھی، پارو کی معمولی سی تنخواہ تھی جبکہ باپ کی بیماری کے دوران کی جانے والی چھٹیوں کے سبب شانتی کے بیٹے کی ملازمت ختم ہو گئی تھی اور فی الوقت وہ بھی جاب لیس تھا۔
جس دن میں شانتی کے شوہر کو دیکھنے گئی شانتی کی غربت نے میرا دل دکھی کر دیا، ان حالات میں وہ دو ماہ سے گھر کا کرایہ نہ دے سکے تھے جبکہ مالک مکان بھی ایک بیوہ عورت تھی جس کے گھر کا خرچہ اس کرایہ سے چلتا تھا۔ میں نے شانتی کو کچھ رقم دی تاکہ وہ گھر میں راشن ڈال سکے مگر یہ مستقل حل نہ تھا۔ شانتی کی بیٹیاں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت سے کام کر کے اپنے اخراجات اٹھانا چاہتی تھیں لیکن انہیں کوئی ایسی ملازمت نہیں مل رہی تھی جہاں اچھی تنخواہ دی جاتی اور پانچ یا دس ہزار سے ان کا گھر نہیں چل رہا تھا جس کے باعث پہلے انہوں نے اپنے سستے موبائل بیچے ( یاد رہے شانتی کا کوئی بچہ اس دور میں بھی سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا کیونکہ ان کے پاس نہ اچھے فون تھے اور نہ ہی لیب ٹاپ ) خیر پھر رکشہ بیچ کر گھر کا کرایہ ادا کیا اور رام کا علاج سرکاری اسپتال سے شروع ہوا۔ چونکہ رام کا کینسر آخری اسٹیج پر تھا تو علاج شروع ہونے کے بعد بھی اس کی حالت میں کوئی فرق نظر نہ آ رہا تھا تب شانتی کی چھوٹی بیٹی پارو کو ایک پارلر میں مینی کیور اور پیڈی کیور کے لئے رکھ لیا گیا جہاں تنخواہ تو بیس ہزار تھی مگر وقت بہت زیادہ تھا وہ صبح گیارہ بجے گھر سے جاتی اور نو بجے واپس آتی اور اتنا وقت وہ پارلر میں بھوکی رہتی۔ پارو روکھا سوکھا ناشتہ گھر سے کر کے جاتی اور رات کو گھر ا کر کھاتی وہ بھی اکثر اتنا کم ہوتا کہ پیٹ بھرے بنا ہی سو جاتی۔ پارو کی اس ملازمت کی وجہ سے شانتی بہت پریشان تھی کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں کو لے کر ہمیشہ خوف زدہ رہتی تھی اور انہیں کبھی کہیں اکیلا نہیں جانے دیا مگر اب مجبوری تھی اور پارو کی تنخواہ اس کے لئے تنکے کا سہارا ثابت ہو رہی تھی۔ رام کی کیمو شروع ہوئی تو شانتی کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا وہ اور اس کا بیٹا سارا دن اسپتال میں خوار ہو گئے جبکہ پیسہ کی تکلیف الگ تب پارو کو ایک مساج سینٹر میں ملازمت مل گئی جو اس نے اپنی ماں کو بتائے بنا شروع کر دی وجہ تنخواہ تھی۔ پارو کو یہاں 35 ہزار ماہانہ کے ساتھ پک اینڈ ڈراپ اور دوپہر کا لنچ بھی دیا جاتا۔ پارو جو بچپن سے روکھا سوکھا کھانے کی عادی تھی اس نے زندگی میں پہلی بار پیٹ بھر کر اچھا کھانا شروع کیا تو اس کے لئے مرد و زن کی تفریق ختم ہو گئی وہ مساج سینٹر میں آنے والوں کو صرف گاہک سمجھ کر خاموشی سے اپنا کام کرتی اور وقت مقررہ پر گھر واپس آ جاتی۔
شانتی اور اس کے بچوں کی ہر کوشش کے باوجود رام مر گیا تب میں نے شانتی کے گھر ایک بدلی ہوئی پارو دیکھی جو پہلے سے زیادہ خوبصورت اور پر اعتماد نظر آ رہی تھی۔ شانتی نے مجھے بتایا پارو کو ایک پوش علاقے کے بڑے پارلر میں نوکری مل گئی ہے جسے سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ بنا کسی کورس کے کوئی بھی ہائی کلاس پارلر ملازمین نہیں رکھتا۔ خیر وقت گزرتا گیا شانتی کے بیٹے کو بھی ملازمت مل گئی، بڑی بیٹی بھی مندر جاتی تھی۔ رام کی بیماری کے باعث ان کے اوپر بے تحاشا قرض چڑھ چکا تھا جو شانتی کے بچے مل کر اتار رہے ہیں جبکہ گھر کا کرایہ پارو دیتی تھی جو اب بھی دے رہی ہے جسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کسی مرد یا عورت کے پاؤں صاف کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے پیٹ کی دوزخ بھرنے کے لئے مجبوری میں کیا جانے والا کوئی بھی کام جسم فروشی سے بہتر ہے۔


