پاکستانی اور ان کی شناخت کا بحران


شناخت کے حوالے سے ایک سوال میں نے خود سے بھی کیا اور اپنے جاننے والے اکثر لوگوں سے پوچھا: آپ کے خیال میں انسان کی شناخت کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟
آسانی کے لیے کچھ آپشنز بھی دیے :

یقین کی بنیاد پر، یعنی وہ دلی اور ذہنی طور پر جن نظریات اور عقیدوں کو مانتا ہے وہی اس کی پہچان ہیں۔

انسسٹری، بائیولوجی، بلڈ لائن، نسل کی بنیاد پر۔
زبان کی بنیاد پر۔
جغرافیہ کی بنیاد پر۔
ان میں سے کوئی بھی نہیں۔

(نوٹ: یہاں شناخت کا ذاتی پہلو جو انسان اپنے پیشے، ذاتی اقدار، پسند، ناپسند، لیے گئے فیصلوں کی بنا پر تشکیل دیتا ہے، زیر بحث نہیں ہے۔ یہ قومی اور تہذیبی شناخت کی بات ہو رہی ہے )

چنیدہ لوگ تھے جنہوں نے مذہب کو شناخت کی بنیاد نہیں بنایا ننانوے فیصد کا جواب عقائد تھے۔ بھلے مجھے امید یہی تھی کہ اکثریت کی رائے میں انسان کے عقیدے اور نظریات اس کی شناخت ہوتے ہیں لیکن اس اکثریت کا نمبر اور تناسب اتنا ہو سکتا ہے اس کی توقع نہیں تھی۔ چند نکات اور سوالات ہیں جو اس ضمن میں ذہن میں آتے ہیں۔ آپ بھی اپنے آپ سے پوچھ لیں شاید جواب مل جائیں، شاید ہم کسی جگہ متفق ہو سکیں :

دنیا کے کسی کونے میں کسی اجنبی نے آپ کی شناخت پوچھی تو آپ کیا کہیں گے؟ اپنا عقیدہ بتائیں گے؟ یہ کہیں گے کہ میں مسلمان، کرسچین، ہندو، سکھ یا بدھسٹ ہوں؟ اتنا کافی ہے؟ یا پھر مزید بتائیں گے کہ وہابی ہوں یا شیعہ یا سنی ہوں، یا برہمن ہوں، کیتھولک یا پروٹسٹنٹ ہوں؟

اس شناخت کے تو بے شمار لوگ ہوں گے۔ اس کے بعد کیا بتائیں گے؟ اپنے ملک کا بتائیں گے، وطنیت ظاہر کریں گے۔ ٹھیک؟ پاکستانی ہیں، انڈین ہیں، برٹش ہیں، اصلاً ایشیائی اور وطن سے جرمن، فرنچ یا امریکن ہیں؟ یہ بتائیں گے۔ (دو زمینوں سے تعلق، شناخت میں مزید تقسیم)

میرا موقف ہے کہ عقیدے اور یقین انسانوں کی مکمل پہچان نہیں ہوتے، نہ ہو سکتے ہیں۔ شناخت ایک پیچیدہ معاملہ ہے، یہ اتنی سادہ نہیں ہے کہ صرف عقیدہ اور یقین بتا دینے سے بات مکمل ہو گئی۔ اگر آپ نے ایک ہی چیز کو شناخت بنا لیا تو باقی ہر شناخت بھلا دیں گے؟ اگر آپ پاکستانی ہیں تو آپ کے لیے صرف پاکستانی ہونا کافی ہے؟ یا پھر آپ کچھ اور بھی ہیں اور اس پر سمجھوتا نہیں کر سکتے؟

ہم لوگ جس دنیا میں رہ رہے ہیں یہ ملکوں میں تقسیم ہے۔ جس میں ہر ملک کی مخصوص سرحدی حد بندی ہے، اس سرحد کے اندر لوگ اس ملک کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے میں ہوتے ہیں، اس معاہدے کا نام دستور یا آئین ہے۔ اس معاہدے کے مطابق حکومت اس ملک کے باشندوں سے ٹیکس وصول کرے گی اور بدلے میں انہیں اپنا شہری مان کر طے شُدہ حقوق اور سہولیات دینے کی پابند ہوگی۔ آئین کی نظر میں اس معاہدہ میں آنے والا ہر شخص برابر ہے۔ ریاست کا حق نہیں ہے کہ وہ یہاں رہنے والوں کو بتائے کہ آپ کون ہیں، آپ کا تعارف کیا ہونا چاہیے اور کیا کہلانا آپ کے لیے قابلِ فخر ہے۔

شناختیں تاریخی تہذیبی تعلق کی بنیاد پر بنتی ہیں نظریات اور عقائد پر نہیں، نظریات اور عقائد شناخت کا ایک حصہ ہے، کل شناخت نہیں ہے۔

ترک خود کو ترک کہتا ہے بھلے وہ عقیدے کے اعتبار سے مسلمان ہو، یہودی ہو یا عیسائی۔ اس کی پہچان ترک ہونا ہے۔ ایران والوں کی شناخت ایرانی ہے اور صدیوں سے ہے، وہ زرتشت کے زمانے میں بھی ایرانی تھے، عربوں کے زیر تسلط آنے کے باوجود ایرانی کہلائے، شیعہ ازم کی طرف مائل ہوئے تب بھی ایرانی رہے، پہلویوں کی حکومت میں بھی ایرانی تھے اور آج خمینی ازم میں بھی ان کا پہلا تعارف اور پہچان ایرانی ہونا ہے۔

پاکستانیوں کے لیے یہ سوال تکلیف دہ ہے، وہ کنفیوژن میں رہتے ہیں، دائیں بائیں جھانکتے ہیں یا پھر احمقانہ وضاحتیں دیتے ہیں۔ زیادہ کنفیوژن ہو جائے تو طیش میں آ جاتے ہیں۔ پاکستانی ہونے کے لیے لازمی عنصر مسلمانیت ہے تو پھر پاکستان کی اقلیتوں کا کیا؟ اور اگر اقلیتیں بھی پاکستانیت کے دائرے میں آ سکتی ہیں تو پھر شناخت کے لیے مذہب اور عقائد ہی سر فہرست کیوں؟ پھر ایک اور اہم نکتہ کہ اگر اس خطے کے لوگوں کی شناخت صرف عقیدے کی بنیاد پر ہونا کافی تھی تو بنگلہ دیش کا بننا سمجھ سے بالا ہے۔ کیوں کہ آپ کی چوائس کے مطابق تو عقیدے ہی شناخت ہوتے ہیں اور ایک شناخت کے لوگوں میں پھوٹ نہیں پڑنی چاہیے۔ دو قومی نظریہ شناخت کے لیے بہت تھا۔

ہم لوگ محض پاکستانی ہی ہیں تو ہمارے اجداد کون تھے؟ ہندوستانی؟ اور وہ کون تھے؟ ان کی جڑ اور بنیاد کہاں ہے؟

مجھے بتانے دیں کہ ہمارے اجداد وادیٔ سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا معلوم آخری جد امجد دراوڑی باشندہ ہے۔ (آج کے پاکستانی کا ڈی این اے اس سے ملتا ہے، یہ ثابت شدہ ہے ) تقسیم سے قبل یہاں بہت سے قبائل اور لشکر آتے رہے، جنہوں نے مقامی آبادیوں سے تعلق استوار کیے۔ ان میں یونانی تھے، عرب تھے، تاجک مغل تھے، ایرانی تھے۔ یہ سب آپس میں گھلے ملے اور ان کی اولادیں آج کے پاکستانی ہیں۔ اگر ہم یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیں کہ ہمارے اجداد کا تعلق انڈس ویلی سے تھا، اور یہ کہیں کہ ہماری تاریخ محض عرب مسلمانوں کی اس خطے میں آمد سے شروع ہوتی ہے تو اس بات کا کیا جواب ہے کہ 712 ء سے پہلے یہاں کون لوگ رہتے تھے، وہ کہاں گئے؟ 712 ء سے پہلے والی تاریخ کیا ہے اور کدھر گئی؟ اگر وہ کوئی اور تھے تو میں اور آپ جو عرب نہیں ہیں وہ کہاں سے آئے؟ آسمان سے ٹپک پڑے تھے؟ یا کسی اسرائیلی بستی کی طرح راتوں رات انسٹال ہو گئے؟ ہم لوگوں کے اندر ایک احساس کمتری ہے جو ہمیں یہ ماننے نہیں دیتا کہ سات سو بارہ عیسوی سے قبل جو لوگ یہاں رہتے تھے ہم انہی کی اولاد ہیں، ہمارا تعلق ”سپت سندھو“ سے ہے، اور ہم ہی اس زمین، اس 55 سو سالہ قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کے وارث ہیں۔ بھلے ہمارا عقیدہ کوئی بھی ہو۔

جب ہم کسی بھی چیز کی ہائرارکی (درجہ بندی) بناتے ہیں تو بنیاد میں کیا ہوتا ہے؟ وہ چیز ہوتی ہے جس سے وہ چیز پھوٹتی، پیدا ہوتی ہے۔ جڑ اور بنیاد نیچے ہوتی ہے۔ شناخت کی ہائرارکی میں پہلی منزل جَڑ کو کیوں نہیں بناتے؟

اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ عقیدے اور مذہب کو شناخت کی بنیاد نہ بنانا ہمیں تقسیم کر دے گی تو ایسا نہیں ہے۔

انڈونیشیا ساڑھے سترہ ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک ہے، ان ساڑھے سترہ ہزار جزیروں پر دو سو سے زیادہ لسانی اور نسلی گروہ آباد ہیں، ان کی ثقافتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ لیکن وہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ان کا نعرہ ہے :

* ”Unity with diversity.“ *

انہوں نے ایک مذہب کے پیرو اور ایک ملک کے شہری ہونے کے باوجود اپنی جدا گانہ حیثیت اور شناخت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ قائم بھی رکھا ہے۔

ایک مغربی ملک ہالینڈ کی مثال بھی ہے، بہت سے لوگ، بہت سی زبانیں، بہت سی نسلیں، اپنی جَڑ، اپنی جدا گانہ شناخت کے ساتھ جُڑ کر ایک ہی جگہ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ دیکھنے میں نہیں آتا۔

فرسٹ ورلڈ ممالک میں قومی شناخت کو محض مذہب اور نسل تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ انسانی حقوق، آئین/دستور اور مشترکہ سماجی قدروں کو گرد تشکیل دی گئی ہے۔ اسی لیے ان ممالک میں ایک تنوع نظر آتا ہے۔ یہ معاشرے سلاد کے پیالے جیسے ہیں، جس میں ہر سبزی الگ شناخت کے ساتھ موجود ہے، مگر وہ ایک دوسرے سے قریب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ڈش کو مکمل کر رہی ہے۔

پھر اگر کوئی ایسا سوچتا ہے کہ ہمارا اپنے کلچر، زبان، روایات سے جڑنا ہمیں قدیم ہی رکھے گا، ہمیں ترقی نہیں کرنے دے گا تو ایسا بھی نہیں ہے۔ عالمی سطحوں پر بہت سی مثالیں موجود ہیں، جیسے جاپان اور ساؤتھ کوریا کا اپنی شناخت اور روایات کو ساتھ رکھتے ہوئے جدیدیت اپنا کر ترقی کا سفر طے کرنا۔ انہوں نے اپنی ثقافتوں کو جدیدیت کی پگھلا دینے والی ہانڈی (میلٹنگ پاٹ) میں نہیں ڈالا۔

شناخت کا بحران، ایک بہت بڑا کرائسس ہے۔ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس پوری بات کا مقصد یہ ہے کہ اپنی جڑیں تلاش کریں۔ جہاں کے ہیں اسی زمین سے تعلق استوار کریں، وہی آپ کی شناخت ہے، ادھر ادھر تعلق جوڑنا، خود کو وہ بنانے اور ظاہر کرنے کی کوشش کرنا جو آپ نہیں ہیں، آپ کو صحیح منزل تک نہیں لے جا سکتا۔ غلط ساکٹ میں غلط سوئچ لگا دینے سے سپارک ہو سکتا ہے کنکشن نہیں جڑ سکتا۔

اپنی شناخت کو محض ایک یا دو نکات پر استوار کرنا درست نہیں ہے، ہمیں اپنی شناخت کو جامع، کثیر الجہتی، اور انسانی و عصری ضروریات پر تعمیر کرنا ہے۔ ایک نظریاتی اور خیالی نکتے پر کھڑی کی گئی شناخت غلط اور ادھوری شناخت ہے اور غلط شناخت ہی ہمیں الجھن اور گمراہی میں ڈالتی ہے، معاشرے میں تناؤ پیدا کرتی ہے۔ ہمیں اپنی شناخت کے تمام پہلوؤں کو اپنانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اپنی جڑوں کو۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے :

”آدمی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی نال کہاں گڑی ہے اور پرکھوں کی ہڈیاں کہاں دفن ہیں تو وہ منی پلانٹ کی طرح ہو جاتا ہے جو مٹی کے بغیر صرف بوتلوں میں ہی پھلتا پھولتا ہے“ ۔

Facebook Comments HS