سالک۔ پیراڈوکسیکل سے میٹافوریکل سفر


آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ بھی ایک کونے میں کھڑے تھے، یہ سنتے ہی میری ادھوری نیند بھی اڑ گئی، ان کی آواز پھر سے کان میں گونجی، سوچا آپ کو بتا دوں، میں نے آہستگی سے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا،
کیا وہ کچھ کہہ بھی رہے تھے؟ کہنے لگے ؛ چلیں آج شام نروانہ ریسٹورنٹ میں ملتے ہیں پھر اس پر بات کرتے ہیں یوں بھی آپ سے کافی دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ جی میں ہسپتال سے واپسی میں پہنچتا ہوں، تقریباً سات بج جائیں گے، کہنے لگے، کوئی مسئلہ نہیں ہے حضور ؛ آپ کے لیے ”سالک“ کا تحفہ بھی لاؤں گا، امجد منہاس نے بہت ہی دل سے پبلش کی ہے، انہوں نے ہمیشہ کی طرح محبت سے کہا اور پھر فون بند ہو گیا۔ مجھے لگا بیڈ روم میں اندھیرا پھر سے پھیلتا چلا گیا مگر میں چاہ کر بھی دوبارہ سو نہ سکا۔

شام میں ہسپتال سے واپس ہوتے ہوئے جب میں نروانہ پہنچا تو ڈاکٹر صاحب کو ان کے مخصوص انداز میں کیپ لگائے ہوئے ایک کونے کی ٹیبل پر کسی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے پایا۔ ریسٹورنٹ میں ایک ہلکی سریلی سی ہندی دھن بج رہی تھی اور کم و بیش چاروں طرف لوگ اپنی اپنی فیملیز اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ڈنر انجوائے کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے دیکھ کر دور سے ہاتھ ہلایا۔ کرسی پر بیٹھتے ہی میز پر رکھی ہوئی سالک اٹھا لی اور اس کے ٹائٹل کو دیکھنے لگا، جھیل کی سطح پر بیٹھے ہوئے خضر کی پینٹنگ، ان کے ساتھ تیرتی ہوئی مچھلی اور پھر تہہ در تہہ گہرے پانی میں کئی عکس، ابھی میں اس سارے منظر کے اردگرد ہی ڈول رہا تھا کہ ان کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، کیا کھائیں گے آپ؟ میں نے کہا، نہیں سر ابھی تو میں صرف پیوں گا خاصا لمبا دن تھا، تھکا ہوا ہوں۔ وائٹ وائین کے دو گلاسز پینے کے بعد مجھے یوں لگا جیسے ان کی آواز سالک کے ٹائٹل پر جھیل کے عکس کی کسی گہری تہہ سے ابھری اور مجھے تھام کر کسی انجان جزیرے پر چھوڑ آئی۔

شاید یہ وہی جزیرہ تھا جس کے ساحل پر ڈاکٹر صاحب مہینے بھر تک اس ٹرانس میں رہے تھے جس کے نتائج میں سالک کی تخلیق ہوئی تھی۔ میں نے ایک بار پھر سالک کے ٹائٹل کو غور سے دیکھا تو یکا یک پچیس برس کے پرانے تعلق کے فریم میں لگی ہوئی ڈاکٹر صاحب کی جانی پہچانی تصویر اور سالک کا عکس، ایک پیراڈوکسیکل شکل میں میرے سامنے گلے ملنے لگا اور جب میں نے پلکیں جھپکائیں تو سالک کے صفحے پلٹتے چلے گئے اور ہر ایک صفحے میں ڈاکٹر صاحب طبعی اور استعاری حصوں میں بٹتے ہوئے دکھائی دیے۔

” سالک۔ خضری سچ کی تلاش میں نکلا ہوا ایک مسافر ؛“

ٹائٹل پر لکھا ہوا دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ سالک تو ایک صوفیائی اصطلاح ہے جو مجذوب کے مقابل ہے، مجذوب جو عشق الہٰی میں پورا پاگل ہوتا ہے اور سالک تو پورا عقل مند ہوتا ہے مگر کس میں؟ میرا دل دھڑکا، کیا کفر الہٰی میں؟ اور یک لخت خضری سچ پر پہنچ کر میرا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا؟ اور ایک خیال ذہن میں کوندا، فرائڈین سچ کی تلاش میں کیوں نہیں؟ شاید اس لیے کہ رب الکریم نے موسیٰ کو وحی میں یہ کہہ کر خضر سے متعارف کرایا تھا کہ اس زمین پر ایک شخص تم سے بھی زیادہ دانشمند ہے اور اس کا نام خضر ہے یعنی خضر ایک مذہبی استعارہ ضرور ہے مگر مذہبی دانشمندیوں سے بالاتر ہے اور یہی نہیں صبر اور استقامت میں بھی موسیٰ خضر کے مقابلے میں کمتر ہی رہے تھے، تو کیا اسی لیے؟ میرا دل تھم سا ہو گیا ؛ مجھے یاد آیا جب دو دریاؤں کے سرگم کے پاس خضر نمودار ہوئے تھے، وہی دو دریا جہاں فارس اور روم کے سمندر مل رہے تھے اور جہاں اچانک موسیٰ کی مچھلی پانی میں گم ہو گئی تھی۔ اب، دیکھتے ہی دیکھتے ٹائٹل پر سب کچھ بدلتا چلا گیا کیونکہ میرے سامنے ہی سالک کے مذہبی صوفیانہ عکس نے ڈاکٹر خالد سہیل کے سیکولر فریم میں اپنی جگہ بنا دی تھی اور یوں سالک کے ٹائٹل کا پیراڈوکس میرے لیے حل ہو گیا تھا، مجھے پتہ تھا ڈاکٹر صاحب کا علمی سفر بھی فارس سے شروع ہوا تھا اور رومن فلسفے اور سائنس کے فکری تصادم سے آگے بڑھا تھا اور پھر انہوں نے مخالف بہاؤ کے تلاطم میں کس قدر صبر و استقامت سے اور کتنی جوکھم اور جتن سے کسی بے قرار تڑپتی مچھلی کی طرح
اپنے سفر کو جاری رکھا ہوا تھا۔

اور پھر سفر بھی ایک ایسے خضر کا، جس کے سر کے بال اور داڑھی صوفیانہ، بدن کا لباس اور ٹوپی انگریزانہ اور گلے میں شال و مفلر کبھی شاعرانہ کبھی سندھیانہ مگر فکر نفسیانہ، دل درویشانہ اور نظر فلسفیانہ جس کا رخ بائیوگرافی کے ہر ایک صفحے پر سفر کرتے ہوئے دکھائی دے رہا تھا جو ان کے لیے ایک خاص دھڑکتے ہوئے دل، عظمی بنت عزیز کی تخلیقی محبتوں کا تحفہ تھا مگر حقیقت میں یہ کسی کی بھی زندگی کی نمائندگی کا ترجمان بھی تھا کہ سچ تو یہی ہے کہ ہم زندگی کے ہر ایک دور میں ایک چوتھائی طبعیانہ اور تین چوتھائی جوہرانہ ظاہر ہوتے ہیں۔

سالک کے ہر ایک صفحے پر خضر اپنے سفر کے دوران کھویا کھویا سا دکھائی دیتا ہے، کبھی شعوری دریا کے کنارے تو کبھی فکری کتابوں کے سہارے، کبھی سنجیدہ مدبر اور خاموش سر جھکائے چپ چاپ تو کبھی اچانک پلٹ کر دیکھتے ہوئے اور بے ساختگی سے مسکرا کر، مگر ایک شے جو ہر ایک تصویر میں مستقل نمایاں ہے اور جس نے سالک کے توازن کو زندگی کی اس راہگزر پر قائم و دائم رکھا ہوا ہے وہ وہی تھیلا ہے جو ان کی پیٹھ پر دھرا ہے، وہی جو زندگی بھر کی کمائی سے بھرا ہے اور اب چھلک چھلک کر صفحات کی تین چوتھائی میں قوس قزائی رنگ بھر رہا ہے۔

اس تھیلے سے خضر کا زندگی کی شام سے زندگی کی صبح کا سفر شروع ہوتا ہے، اُس خضر کا جو رہبری اور رہنمائی کا استعارہ ہے جو مستقل سفر کا اشارہ ہے کیونکہ وہ ایک سالک ہے اور سالک کی تو منزل ہی سفر ہے۔

”اس کی زندگی میں
ایسی صبحیں بھی آئیں
جب اُس کے دل میں تلاش کا جذبہ عود کر آتا
اور وہ نئے سفر پر روانہ ہوجاتا
اور
ایسی شامیں بھی آئیں
جب وہ تھک ہار کر بیٹھ جاتا۔
خضر ساری عمر اپنے دل میں
ایک خواہش،
ایک آرزو،
ایک امید،
ایک خواب
اور
ایک آدرش
کو پالتا رہا تھا کہ وہ پورے سچ کو گلے لگا لے ”
(زندگی کی شام)

اس حق آگہی کے لیے جب یہ سالک وجودیت کا عرفان پاتا ہے تو پھر لفظی اصطلاحوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے اور اپنی موجودگی کے احساس کو صرف معنویت سے دیتا ہے اس سفر میں سالک نے کبھی تو ژاں پال سارتر کی طرح ان کرداروں کو ان کے ایسنز سے مخاطب کرتا ہے۔ وہ اپنی پیدائشی سرزمین کو روایت، ماں کو مذہب، باپ کو تصوف، چچا کو شاعر، نانی کو دانائی، بہن کو دوستی، محبوبہ کو محبت، استاد کو سائنس، مذہبی رہنما کو منافقت اور دوستوں، ساتھیوں کو کبھی بغاوت کبھی سخاوت، کبھی اخلاص تو کبھی ہمزاد کا نام دیتا ہے تو کبھی زندگی کی پگ ڈنڈیوں پر اپنے سفر کو البرٹ کامو کی متھ آف سسفس کے دیومالائی کردار کی سزا کی طرح ڈھلوان سے اونچائی کی طرف مسکراتے ہوئے دھکیلتا ہے۔ اس دوران ان کی کمر پر لدے ہوئے تھیلے میں ان کی تخلیقی کتابوں کا بوجھ، ان کی فکر و نظر، تجربات، مشاہدات اور سسفس کے کندھوں پر پڑا ہوا زندگی کے چٹان کا بوجھ مختلف عنوانوں سے سالک کے صفحات میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ بوجھ کبھی تو کسی میوس کی سرگوشی بن کر یا ایک نرم و گرم بوسہ بن کر اس پہاڑی راستے کو گل گلزار بنا دیتا ہے تو کبھی تاریک رخ، عدم تشدد اور سائیکولوجی بن کر اسے اور سخت نوکدار، پتھریلا سا بنا دیتا ہے۔

”خضر کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ زندگی کے روشن رخ کے ساتھ ایک تاریک رخ بھی ہے
جہاں روشنی ہے وہاں تاریکی بھی ہے
جہاں اچھائی ہے وہاں برائی بھی ہے
جہاں حیات ہے وہاں موت بھی ہے
جہاں امن ہے وہاں تشدد بھی ہے
جہاں علم ہے وہاں جہالت بھی ہے
(تاریک رخ)

سالک میں خضر کا فکر و شعور کا سفر یوں تو کبھی مشرق سے مغرب یا شمال سے جنوب کا محسوس ہوتا ہے جو کہنے کو شام سے شروع ہوتا ہے اور ایک نئی صبح کا احساس دیتا ہے مگر حقیقت میں یہ سفر اندرون ذات کا ہے جو وقت، جگہ اور سمت سے قطعی بے نیاز ہے جو ایک الہامی سفر ہے، جو نہ تو طبعیانہ ہے اور نہ ہی غیر طبعیانہ، جو نہ تو مذہبانہ ہے اور نہ ہی ملحدانہ بلکہ یہ ایک خضری سچ کا سفر ہے جس کی منزل معنویت، راہرو سالک اور راہ گزر امید ہے۔

’اُس شام خضر نے اپنی ڈائری کے صفحے تلاش میں لکھا
ہر نئی نسل
انسانی ارتقا کا
ایک نیا باب تحریر کرتی ہے
ایک نئی کہانی تخلیق کرتی ہے ”

Facebook Comments HS