پاکستان میں تبدیلی مذہب کی وجوہات
پاکستان بھر میں ہندوؤں، مسیحیوں اور کیلاشیوں کے تبدیلی مذہب کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بعض حلقے اسے جبری تبدیلی مذہب قرار دیتے ہیں، تو بعض اسے برضا و رغبت مذہب اسلام میں شمولیت کہتے ہیں۔ پاکستان میں تبدیلی مذہب کے متعلق مختلف واقعات میں مذہب تبدیل کرنے والے افراد کے حوالے سے متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ بعض مواقع پر نابالغ کم عمر افراد سے زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ دوسری جانب ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں مذہب تبدیل کرنے والوں نے معاشی بدحالی، پسماندگی، غربت، جہالت، پست سماجی حیثیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک بہتر زندگی کی امید میں یا عشق محبت کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کیا۔ اس بات کے واضح شواہد یا ثبوت نہیں ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والے تمام افراد اسلامی تعلیمات سے حقیقی طور پر متاثر تھے۔ تاہم اس ضمن میں چند ایک استثنائی مثالیں ضرور ہو سکتی ہیں۔
تبدیلی مذہب کے حوالے سے اس وقت پوری بحث انہی دو عوامل کے گرد گھوم رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے مخصوص سماجی ڈھانچے میں تبدیلی مذہب کے حوالے سے دیگر عوامل یعنی سیاسی، سماجی، معاشی، ثقافتی اور تعلیمی معاملات کو بھی زیرِ بحث لایا جائے اور یہ جائزہ لیا جائے کہ یہ عوامل اقلیتوں پر تبدیلی مذہب کے حوالے سے کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
پاکستان میں تبدیلی مذہب کے حوالے سے مختلف عوامل مثلاً واحد مسلم شناخت پر مبنی ریاستی پالیسیاں اور قانون سازی، مسلم سینٹرک نظامِ تعلیم، نصابِ تعلیم، اقلیتوں کی تحقیر و تذلیل پر مبنی عوامی رویے، اقلیتوں کے لیے معاندانہ جذبات، ایک مسلم اکثریتی ملک میں اقلیتوں کو درپیش سماجی مسائل، آئینی امتیاز، قانونی تفریق، تعصب، ثقافتی طور پر کمتر سمجھا جانا وغیرہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جذباتی طور پر اقلیتوں کو سب سے زیادہ تکلیف دہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر انہیں گمراہ، کافر، مشرک، مشکوک، بے ایمان اور بعض اوقات غیر ملکی ایجنٹ، غدار یا سازشی سمجھا جاتا ہے۔ نصابی کتابوں میں بھی اقلیتوں کے حوالے سے کچھ اسی طرح کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی طور پر باشعور، محب وطن، ایماندار، ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد آئینی طور پر نہ تو صدر مملکت بن سکتے ہیں، نہ وزیر اعظم، اور نہ ہی اٹھارہویں ترمیم کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان یا چیف الیکشن کمشنر جیسے اہم عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں۔ آئین پاکستان اپنے ہی غیر مسلم شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دیتا ہے۔
اس طرح کے مسلسل اور مستقل رویوں سے اقلیتیں اپنے مذہب اور مذہبی شناخت کے حوالے سے نفسیاتی طور پر احساس جرم کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال ہر روز دیکھنے کو ملتی ہے کہ کام کی جگہوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کولیگز اور کلاس فیلوز کی جانب سے اقلیتوں کو کلمہ پڑھنے اور مذہب اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی رہتی ہے، اس بات کو سمجھے بغیر کہ کسی بھی ملک میں ایک سے زیادہ مذاہب کے پیروکار ہو سکتے ہیں اور انہیں اپنے مذہبی عقائد و نظریات پر قائم رہنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
ہم یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ چاہے وہ سندھی ہندو ہوں، پنجابی مسیحی یا سکھ ہوں یا کیلاشی، یہ سب اس دھرتی کے فرزند ہیں اور صدیوں سے ان کی جڑیں اس زمین سے جڑی ہوئی ہیں جسے آج 77 سالوں سے پاکستان کہا جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی سماج جس کی بنیاد ہی ایک واحد مسلم شناخت کے گرد رکھی گئی ہے، وہاں مذہبی طور پر مختلف ہونے کو ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ اقلیتوں کی مذہبی رسومات اور تہواروں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ مذہبی شدت پسندی کے زیرِ اثر ان تہواروں میں شمولیت سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ چند روشن خیال اور ترقی پسند افراد کی استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر اکثریت ہولی، دیوالی، دسہرہ، کرسمس، ایسٹر اور بیساکھی جیسے تہواروں سے خود کو دور رکھتی ہے یا ان تہواروں پر اپنی نجی محفلوں میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے اور ان تہواروں سے جڑی مذہبی ثقافتی علامات کو اپنے مخصوص مذہبی عقائد کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔
اقلیتوں کے حوالے سے دن بدن سماجی طور پر سکڑتا ہوا دائرہ، عدم رواداری، مذہبی انتہا پسندی، شدت پسندی، اور مسلم اکثریت کے افراد کا اپنے آپ کو نیک، اعلیٰ اور برتر سمجھنے کی نرگسیت میں مبتلا ہونے کا زعم وہ تمام عوامل ہیں جو اقلیتوں کے لیے تبدیلی مذہب کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ اس قدر شدید سماجی دباؤ، جذباتی ٹوٹ پھوٹ اور نفسیاتی طور پر بکھری ہوئی شخصیت کے لیے اپنے مذہب پر قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر اس صورتحال میں جب مسلم اکثریت کے لیے ان کا مذہب ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہو۔
مجھے یہ کہنے دیجیے کہ پاکستان ہندو کونسل اور ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کے میاں مٹھو اور سرہندی پیروں سے تبدیلی مذہب کے حوالے سے تحریری معاہدے یا اسمبلی میں قانون سازی کا شور تبدیلی مذہب کو نہیں روک سکتے۔ اس حوالے سے سناتن دھرم کے مختلف گدی نشین یا مرشد بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ گدی نشینوں کے اپنی معاشی، تجارتی، کاروباری، سیاسی اور سماجی مفادات ہوتے ہیں جو کہ بہرحال مسلم اکثریت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
اگر پاکستان میں تبدیلی مذہب کو روکنا ہے تو ایسے میں ضروری ہے کہ ریاست اور مذہب کو علیحدہ کیا جائے۔ نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی سیکولر بنیادوں پر تشکیل کی جائے۔ مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے لیے مذہبی تعلیم کا علیحدہ سے بندوبست کیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں اگر مذہبی شخصیات کا تذکرہ ناگزیر ہے تو پھر تمام مذہبی اقلیتوں کی مقدس شخصیات کو شامل نصاب کیا جائے تاکہ حقیقی معنوں میں رواداری کا تصور ابھر سکے اور مسلم اکثریت سے تعلق رکھنے والے بچّوں میں اوائل عمر میں ہی اقلیتوں کی مقدس شخصیات اور مذہبی شعائر کے احترام کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اسکول ایجوکیشن کی اس انداز میں تشکیل کی جائے کہ وہ بچوں میں اپنے سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے برداشت، رواداری، محبت اور قبولیت کے جذبات پیدا کر سکیں۔
تمام مذہبی اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی کے ساتھ ان کی مختلف مذہبی شناخت کو قبول کرتے ہوئے انہیں برابری کا درجہ دیا جائے۔ پاکستان میں مستقبل کی ایسی نسل پروان چڑھانے کی ضرورت ہے جو نفرت اور تعصب کے بجائے اقلیتوں کے مذہبی تشخص اور ان کے وجود کو سماجی اور ثقافتی سطح پر قبول کریں۔ جب تک یہ سماجی رویے تبدیل نہیں ہو گے محض قانون سازی سے تبدیلی مذہب کو روکا نہی جا سکتا۔

