سفر در سفر


قبلہ انتظام الدین صاحب مخدوش ہمارے محلے کی وہ شخصیت ہیں جو ہماری پہچان ہونے کے علاوہ اس محلے کے ماضی، اہلِ محلہ کے اصلی حسب و نسب اور شہر کی تاریخ کے معتبر گواہ ہیں اور جن کی روایات اتنی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہوتی ہیں کہ شک و شبہ کرنے والے کا اپنا ایمان شبے میں پڑ جاتا ہے۔ آپ کا رئیس خانہ جو پورے پانچ مرلہ عمارت پر مشتمل ہے، محلے کی بالکل ابتداء میں واقع ہے اور قبلہ علی الصبح ماحضر تناول فرما لینے کے بعد پورے اہتمام سے صدر دروازے کے باہر کرسی بچھا کر چھڑی کے سہارے یوں بیٹھ جاتے ہیں کہ اب گویا اجل ہی اٹھائے تو اٹھائے ورنہ کسی بندہ بشر کی کیا مجال کہ آپ کو اتنا بھی بول سکے کہ ”قبلہ! اپنی کرسی کو تھوڑا سا پیچھے کر لیں ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے“ ۔ آپ کرسی پر صدر نشین ہونے کے بعد ماتھے پر تیوری ڈال کر گلی کے دائیں بائیں یوں نظریں گھما گھما کر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کسی راہ گزر کا اُن کی آنکھ سے بچ نکلنا محال ہوتا ہے۔ قبلہ کے اخلاق حسنہ و اوصافِ حمیدہ کی اس سے بڑی گواہی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کوئی بگڑے سے بگڑا انسان بھی اُن کو منہ نہیں لگاتا کہ مبادا بگڑ کر تعریف شروع کر دی تو چھپنے کے لئے کس کا در کھٹکٹاؤں گا اور کس کے ہاں پناہ طلب کروں گا۔

لیکن میری بدقسمتی کہ ایک دن اماں کے اصرار پر صبح سویرے دہی لینے جو گھر سے نکلا تو پہلی مڈبھیڑ جناب سے اُس وقت ہو گئی جب اُنہیں کرسی پر مسند نشیں ہوئے پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوئے ہوں گے۔ ”کس کے بیٹے ہو اور کہاں جا رہے ہو؟“ ایک رعب دار آواز اور سپاٹ لہجے نے میرے اٹھتے قدم روک لیے اور دل کی دھڑکن معمول سے قدرے تیز ہو گئی۔ ”جی میں حاجی صاحب کا پوتا ہوں۔ وہ سامنے والے مکان میں رہتا ہوں۔ دہی لینے جا رہا ہوں۔ آٹھویں کلاس میں پڑھتا ہوں“ پسینے میں شرابور جسم کے ساتھ جملے اس روانی سے نکل رہے تھے جیسے گلے میں تھوک نہیں سرسوں کا تیل ہے۔ ”ہممم۔ وہ پتھر دیکھ رہے ہو“ ، میں نے انگلی کی سمت نظر گھما کر دیکھا تو ایک بیس کلو کا پتھر میری طرف یوں دیکھ رہا تھا جیسے بڑی بے تابی سے اُسے میرے ہی آنے کا انتظار تھا۔ ”وہ اٹھا کر لے آؤ اور یہاں بیٹھو میرے پاس“ ۔ اُن کا حکم ٹالنے کی مجال مجھ جیسے ناتواں بدن والے انسان میں کہاں، لہذا مرتا کیا نہ کرتا اُس بھاری پتھر کو تختِ سکینہ کی طرح اٹھا کر لایا اور ان کے پہلو میں رکھ کر اُس پہ بیٹھ گیا۔

”یہ بتاؤ بیاس کہاں سے آتا ہے“ اُن کا سوال سن کر میرا ماتھا ٹھنکا ”جی میں نے تو نہیں دیکھا، لیکن چاچا امیر کہہ رہا تھا وہ قاضی صاحب ہیں نا کریانہ شاپ والے، ان کی دکان کے ساتھ جو گلی ہے وہاں سے آتا ہے۔“ لاحول ولا قوۃ۔ یہ کس بیاس کی بات کر رہے ہو؟ ”اُنہوں نے غصے میں پوچھا۔“ جی وہ ماسٹر بیاس صاحب کی۔ جو اماں حاجن کے گھر والے ہیں ”میں نے پورے تیقن کے ساتھ اُن کا شجرہ بیان کیا،“ ارے نامعقول! میں دریائے بیاس کی بات کر رہا ہوں ”اُنہوں نے چھڑی ہلاتے ہوئے پورے جسمانی زور کے ساتھ میری تصحیح کی،“ او اچھا دریائے بیاس۔ جی وہ درہ خیبر سے ڈسکہ کے راستے ہوتا ہوا حیدر آباد اور وہاں سے میانوالی جاکر اس صحرا میں خشک ہوتا ہے جسے ستلج دو آب کہتے ہیں ”۔ وہ میری گردان سنانے کے دوران برابر سر کو اس طرح اوپر نیچے حرکت دیتے رہے جس سے میں نے گمان کر لیا کہ سوال کا جواب سننے کے بعد انعام و اکرام سے ضرور نوازیں گے۔ مگر میرا جواب سننے کے بعد کچھ یوں گویا ہوئے،“ میاں صاحبزادے! یہ دریا کا سفر ختم بھی ہوتا ہے یا سفر در سفر کرتے ہوئے ہی خشک ہوجاتا ہے۔ نامعقول اگر مطالعہ پاکستان میں تمہارا یہ حال ہے تو سائنس میں کیا ہو گا؟ ”۔“ مگر میں نے صحیح تو بتایا ہے ”، میرے اس ذرہ سے اصرار پر بھڑک گئے اور کرسی سے اٹھ پڑے۔“ کاش! کاش! اگر علامہ اقبال کو علم ہوتا کہ وہ کس نسل کی خاطر پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں تو کبھی قائداعظم کو نہ بتاتے ”اُن کی آواز میں غصہ اس قدر زیادہ تھا کہ میں کانپنے لگا۔“ مم۔ مگر ہو سکتا ہے علامہ اقبال نے جب یہ خواب دیکھا تھا اُس وقت دریائے بیاس کا یہی روٹ ہو۔ بعد میں شاید دریا نے روٹ تبدیل کر لیا ہو کیونکہ اس پر سواریاں کم ہوتی ہوں گی اور کمپنی کو نقصان ہو رہا ہو گا۔ اب دیکھیں نا جی وہ دریا ہے۔ اُسے کون روک سکتا ہے کہ یہاں سے نہیں وہاں سے ”۔ میں دیکھ رہا تھا کہ قبلہ میری اس شاندار منطقی دلیل پر چھڑی اپنے ہاتھوں پر مارتے ہوئے اُنہیں یوں اذیت دے رہے تھے جیسے سارا قصور اُن ہاتھوں کا ہے، حالانکہ اصل قصور تو اُن کی زبان کا تھا جو یہ سوال پوچھتی نہ میں ایسا علمی جواب دیتا۔“ یہ بتاؤ قائداعظم نے چودہ نکات کب پیش کیے تھے اور کیوں؟ ”، یہ سوال ہرگز مشکل نہ ہوتا اگر میں نے کل مطالعہ پاکستان کی کتاب میں یہ پڑھا ہوتا جہاں اس کے متعلق تفصیل سے لکھا تھا مگر میں نے سوال یاد کرنے کی بجائے ڈنڈے کھانے والا سودا زیادہ نفع بخش تصور کرتے ہوئے چار ڈنڈے کھا لیے تھے اور اب وہ سارا نفع بمع سود ادا کرنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔“ جی قائداعظم نے وہ چودہ نکات پیش تو کرنے تھے مگر اس دن بارش زیادہ ہو گئی تھی اس لئے وہ آ نہیں سکے اور یوں وہ نکات اپنے ملازم خاص علی بخش کو دے کر کہا کہ انہیں لے جاؤ۔ وہ سمجھا شاید کوئی تعویذ دے رہے ہیں۔ سو علی بخش نے اُنہیں چمڑے میں منڈوا کر گلے میں جنات کے شر سے حفاظت کے واسطے لٹکا لیا اور یوں تمام عمر وہ تعویذ اُن کے گلے کا ایسا ہار بنا جو آئی ایم ایف کے قرض کی طرح کبھی نہ اترا ”، میرا جواب سن کر اُن کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا جس سے لگتا تھا کہ موصوف کو اپنی لاعلمی پر ندامت اور میری معلومات عامہ پر خجالت ہو رہی ہے۔“ کیا بنے گا اس پاکستان کا؟ ”وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر خدا سے شکوہ کناں تھے۔“ جی بننا کیا ہے۔ یہ کوئی پلاسٹک تھوڑی ہے جو جیسے چاہا موڑ کر نیا بنا لیا۔ یہ سالڈ ہے سالڈ۔ آپ دیکھیے گا یہ کیسے دریائے بیاس کی طرح کبھی مشرق، تو کبھی مغرب، کبھی شمال تو کبھی جنوب میں سفر در سفر کرتا ہوا۔ ”،

”خدا کے لئے! خدا کے لئے بس کردو۔ میری کیا میری سات پشتوں کی بھی توبہ جو آئندہ تم سے سوال پوچھا۔ جاؤ اور دہی لے کر گھر کی راہ ناپو۔ جاؤ“ ۔ اُن کی آواز میں رقت اور خشوع و خضوع کا اتنا غلبہ تھا کہ جی نہ چاہتے ہوئے بھی جانا پڑا۔ میں اُن کے حکم کی تعمیل میں وہاں سے چل دیا مگر تھوڑی دور جا کر ایک سوال پوچھنے کی خاطر جب مڑا تو مجھے دیکھتے ہی فوراً کرسی اٹھائی اور گھر میں داخل ہو کر کنڈی کو اس زور سے بند کیا کہ اندر بندھا ہوا کتا بھی یہ سمجھ کر بھونکنا شروع ہو گیا کہ شاید گھر میں انتظام الدین مخدوش نہیں بلکہ چور آ گیا ہے۔

Facebook Comments HS