محبت ، ڈیٹنگ یا شادی


شادیوں کا سیزن عروج پر ہے، شہنائیاں بج رہی ہیں، بچے رو رہے ہیں۔ مٹیاں جالے کھا کر پل بھی رہے ہیں۔ اذیت اگلی نسل میں ٹراسنڈ ہو رہی ہے۔ میں اپنے پاپا سے پوچھتا ہوں، ہم شادی کیوں کرتے ہیں، وہ بولے بیٹا، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔

جواب مجھے سمجھ نہیں آیا۔ والدین پر پریشر ہے، مکان بنا کر دو، بیگم نوکری چھوڑ، بچوں کو پالنے میں اپنی پروفیشنل لائف کے سمجھوتے کا معاوضہ مانگ رہی ہیں۔ نفسیاتی مسائل کی کوئی رہنمائی نہیں، شادی کا مقصد بھی معلوم نہیں۔ پھر بھی قوم دھڑا دھڑ بچے اور شادیاں کر رہی ہے۔ فضا اتنی آلودہ ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا، گھر میں دو مرتبہ کھانا بھی نہیں بنتا، بچوں پر جذباتی تشدد، گالم گلوچ اور بحث برائے بحث کا کلچر ہے لیکن واٹس ایپ سٹیٹس پر پیار کی قسمیں اور وعدے ہیں۔

میں اپنے کلینک میں بیٹھا ڈیٹا سٹرکچر اور الگرتھمز پہ مغز ماری کر رہا ہوں۔ ایک ماں بیٹی آتی ہیں۔ کاؤنٹر پہ پوچھتی ہیں، ڈاکٹر صاحب آئے ہیں۔ ماں بیٹی کی منع کرتی ہے، اندر اکیلا بیٹھا ہو گا، ٹھہر جاؤ دونوں اکٹھی جائیں گی۔ کیا مطلب ہے، میں کیا مین روڈ پہ بیٹھا گندے کام کر رہا ہوں۔ خیر اب جو خاتون آتی ہیں تو دونوں ہاتھوں پر دستانے، کارڈ بورڈ جیسا نقاب میں ہسٹری پوچھتا ہُوں وہ کچھ بولتی نہیں۔ نبض کیسے لوں، منہ پھیر کر بیٹھی ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر کیا کرے، ہکلا رہی ہیں۔ ایسا بھی کیا خوف ہے جو سر تا پا برقعے کے باوجود ختم نہیں ہوتا۔

اور یہ گندے کام ہوتے کیا ہیں۔ دو بالغ افراد کا باہم رضا مندی سے رابطے میں رہنے پر معاشرہ کتنی ہی پہرے داری کر سکتا ہے۔ کیا شادی شدہ افراد کے افیئر نہیں ہوتے، اور جو افراد ہمارے پروٹو ٹائپ اخلاقیات کے سانچے میں نہیں آتے، کیا وہ برے اور قابل نفرت ہیں۔ یہ سٹگما بیماری سے زیادہ مہلک ہے وہ فرد یا گروہ کے سماجی روابط قطع کر دیتا ہے۔ ہم زمانے کے سامنے ٹوپیاں، برقعے پہنتے ہیں کہ شاید اس سے ہماری نفسیاتی، جذباتی اور اخلاقی کمزوریوں کا بھرم قائم رہے۔ مگر ہم اندر کھاتے گیم بھی ڈال کے رکھتے ہیں۔ لڑکا لڑکی ساتھ کھڑے دو باتیں کر لیں تو سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں پھر فریقین کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ہر گامے ماجھے کے سامنے صفائیاں دینی پڑتی ہیں۔ چاہے وہ دونوں پچاس کے پیٹے میں سینئر شہری ہی ہوں۔

لیکن اب پہلے جیسا دور نہیں رہا۔ کیمرے کے سامنے دو ٹھمکے مارنے کے معقول پیسے ملتے ہیں، اور اگر نقاب بھی لگایا ہو تو اور زیادہ ملتے ہیں۔ پاکستان میں اس میڈیا کی کھپت بہت زیادہ ہے۔ بیگمات کا بزنس ماڈل لعن طعن، گھریلو ناچاقی، اور عدالتی کارروائی کے گرد گھومتا تھا۔ آج کل پانچ سو، ہزار میں کسی بھی حسینہ کی سبسکریپشن مل جائے گی۔ جو ٹاکسک گھریلو ماحول کے لئے بہترین راہ فرار ہے۔ اپنے براڈ کاسٹ چینل پر شائقین کی فرداً فرداً خیریت بھی دریافت کرتی ہے۔

جب بیگم صاحبہ کے لیے کھانا بھی ہوٹل سے لانا ہے۔ تین سال کے بچوں کو ماہر نفسیات سے علاج کرانے ہیں تو بہتر ہے شادی ہی نہ کرو۔ اب اخروٹ میاں کی قلم حرکت میں آ جائے گی کہ یہ کیا بول دیا۔ ابھی کانٹ چھانٹ کرتا ہوں۔ ارے صاحب ایک مفلوج گھرانا پیدا کرنے سے بہتر ہے، اپنی بیمار جینیات کو آگے بڑھنے سے روک دیا جائے۔ ہمارے ہاں تو جاپان جیسی انڈسٹری بھی نہیں۔ کوئی ابارشن قوانین نہیں۔ غنڈے ملک و قوم اور حاوی ہیں۔ یہ کام نسل نو خود اپنی بھلائی کے لیے کرے گی۔

نئی نسل کے جملہ اخلاقیات مختلف ہوں گے ۔ کام، گھر، نجی زندگی یا کسی کا ذاتی حصار میں بے جا دخل اندازی نہایت اوچھی حرکت ہے جسے ہم پاکستانی گلوری فائی کرتے ہیں۔ حاجی صاحب کی ساری توجہ منافع کمانے پر ہے اور اُنکے لڑکے کھاتا بیلنس کر رہے ہیں۔ میں کتنے ہی ٹین ایج لڑکے لڑکیوں سے آنلائن گیم میں ملا جو نشا آور ادویہ، سیکس اور اسلحہ برت رہے ہیں بعضے تو آنلائن کما بھی رہے ہیں۔ حاجی صاحب تو کیبورڈ پر اپنا نام لکھنے سے بھی قاصر ہیں، لیکن صبح شام پوتوں کو سیف الملوک سنانا نہیں بھولتے۔

بہت عام سا سوال ہی اٹھا لیں۔ کیا ڈیجیٹل میڈیا پر جسمانی تعلقات بنانا اور اُسکی وساطت سے ملنا، لو ان ریلیشن شپ میں رہنا غلط ہے، جب فریقین ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، کوئی غیر ضروری ڈیمانڈ نہیں کرتے۔ ایک دوسرے کی روٹی کے ذمہ دار بھی نہیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ اب یہی ماڈل ڈاکٹر، مستری، درزی پر اپلائی کریں، آنلائن معاوضہ دیں، کام کے بعد ریٹنگ دیں، کوئی بحث نہیں، فضول شور شرابا نہیں۔ اب تو بینک کی قطار بھی موبائل ایپلیکیشن سے نمٹ جاتی ہے۔ تو کیا یہ تبدیلی، فرسودہ اذیت پسند سسٹم سے بہتر نہیں۔ ابھی تو مصنوعی ذہانت کی گھریلو صارفین تک رسائی نہیں پہنچی۔ مشین انسان کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔ اس سے نقاب کرنے، شرمانے کی ضرورت بھی نہیں۔ کام بھی پورا کرتی ہے۔ ایسے میں انسان کی ڈرامے بازیاں کب تک چلیں گی۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔

Facebook Comments HS