پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کا سفر (2)


مقامی امریکیوں کو پڑھانا

” پہلی مرتبہ امریکیوں کو پڑھانا کیسا لگا؟“ ۔

” پہلے دن جب میں نے پڑھایا تو بظاہر اتنا مشکل نہیں لگا لیکن پہلا دن تو کیا پہلا پورا مہینہ پڑھاتے ہوئے گھبراہٹ رہی۔ ڈاکٹریٹ میں پہلے دو سال کورس ورک کے بعد دو تین امتحان دیے جاتے ہیں تا کہ آپ کی استعداد دیکھی جا سکے۔ اِن امتحانات کو پاس کرنے کے بعد آپ پی ایچ ڈی کے طالبِ علم بنتے ہیں، اس سے پہلے آپ پی ایچ ڈی کے امیدوار کہلاتے ہیں، پھر آپ بطور پی ایچ ڈی طالبِ علم تحقیق کرتے ہیں۔ کئی ایک طلباء یہ استعدادی امتحان پاس نہیں کرتے۔ ان کو ایم ایس سی کی ڈگری ملتی ہے۔ جب کہ پی ایچ ڈی کے طالبِ علم پہلے ایک دو سمیسٹر، گریڈر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ٹیچر ہوم ورک وغیرہ گریڈر کو دیتا ہے جو طلباء کو گریڈ دیتے ہیں کیوں کہ ٹیچر تحقیق کا کام کرتے تھے اور گریڈ دینے میں خاصا وقت لگتا تھا۔ میں نے بھی ایک سمیسٹر گریڈنگ کی۔ پھر جب پہلی مرتبہ پڑھانے لگتے ہیں تو آپ کو کلاس نہیں ملتی بلکہ ٹیچر اسسٹنٹ ہوتے ہیں۔ ریاضی میں کیلکولس کی لیکچر کلاس ہوتی تھی جس میں 30 طلباء پر مشتمل 6 سیکشن تھے۔ اِن تمام سیکشن کا مشترکہ لیکچر ایک پروفیسر صاحب بڑے ہال میں دیتے تھے۔ اس لیکچر کے بعد ہم ٹی اے اپنے اپنے سیکشن کے طلباء کو ہوم ورک کرانے میں مدد دیتے تھے پھر یونیورسٹی مشق کرنے کے لئے کچھ کام ہمارے ذریعے طلباء کو دیتی تھی۔ وہ ہماری موجودگی میں سوالات حل کرتے تھے۔ جیسے امتحانی مرکز میں ہوتا ہے۔ اِن چیزوں سے مجھے پڑھانے کا اندازہ ہوا“ ۔

” ایک گھنٹے کی کلاس ہے۔ میرا منہ کلاس بورڈ کی طرف۔ اور تمام طلباء میری ہی طرف دیکھ رہے ہیں لہٰذا گفتگو میں روانی اور پڑھانے میں اعتماد بھی ہونا چاہیے اس لئے شروع میں گھبراہٹ ہوتی تھی۔ کنٹاکی یونیورسٹی میں جانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ یہاں کوئی زیادہ پاکستانی طلباء نہیں تھے اس لئے وہاں میرے زیادہ دوست اُردو بولنے والے نہیں تھے۔ یوں مجھے مجبوراً انگریزی ہی بولنا پڑتی تھی۔ شروع کے ایک دو سمیسٹروں میں مجھے ہر روز رات کو یوں لگتا گویا میرے جبڑے تھک گئے ہوں کیوں کہ ہر ایک زبان بولنے کا اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میری اسپوکن انگلش کافی بہتر ہو گئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مجھے شروع میں پڑھانے میں دشواری پیش نہیں آئی“ ۔

” آپ نے ابتدا میں کِن درجوں کے طلباء کو پڑھایا؟“ ۔

” وہاں کالج اور یونیورسٹی کم و بیش ایک ہی چیز کا نام ہے، میں نے شروع میں بی ایس کے طلباء کو پڑھایا۔ یہ بی ایس کالج اور یونیورسٹی دونوں میں ہوتی ہے۔ ان طلباء میں کچھ کا میجر مضمون ریاضی تھا جبکہ معاشیات، انجینئرنگ، طبیعات اور کیمسٹری کے طلباء اسے بطور اختیاری مضمون پڑھتے تھے۔ ایک کلاس میں مختلف قسم کے طلباء ہوتے تھے“ ۔

” اچھے اور لاپروا دونوں قسم کے طلباء سب جگہ ہوتے ہیں لہٰذا وہاں بھی تھے۔ میرے زیادہ طلباء سنجیدہ تھے۔ کنٹاکی یونیورسٹی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اچھی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ریسرچ یونیورسٹی ہے یہاں طلباء کے داخلے کا بھی کڑا معیار ہے۔ لاپروائی کا صلاحیت سے کوئی تعلق نہیں یہاں بھی کئی طلباء ہوم ورک نہیں کرتے تھے“ ۔

” کیا یونیورسٹی میں بھی ٹیچر کی کارکردگی جانچی جاتی ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” امریکہ میں ہر ایک درجے کے ٹیچر کی کارکردگی باقاعدگی سے جانچی جاتی ہے۔ اس کا ایک مخصوص طریقہ کار ہوتا ہے۔ جب کلاس ختم ہوتی ہے تو ٹیچر کو کلاس سے باہر بھیج کر طلباء سے ٹیچر کی استعداد جانچنے کے لئے پانچ چھ سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ پھر سمیسٹر کے دوران ہر ایک کلاس میں طلباء ایک مرتبہ تحریری طور پر اپنے ٹیچر کی کارکردگی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اس میں 14 معیاری سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ جیسے مارکنگ کے بعد یہ وقت پر پیپر واپس کرتے ہیں؟ گریڈنگ منصفانہ ہوتی ہے؟ آپ کے خیال میں ٹیچر کو اپنے مضمون پر عبور حاصل ہے؟ ٹیچر کی علمی قابلیت کیسی ہے؟ وقت کی پابندی کیسی ہے؟ اپنے اوقات کار میں دفتر میں ہوتا ہے یا نہیں؟ اس سوالنامے کی گریڈنگ 1 سے 5 تک دی جاتی ہے“ ۔

” ایک زمانے میں آپ کی کارکردگی جانچی جاتی تھی، اب آپ دوسروں کی کارکردگی جانچتے ہیں یہ کیسا لگتا ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

”کارکردگی جانچنا کسی کو نیچا دکھانے کے لئے نہیں ہوتا یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے چیزیں اور معیار بہتر ہوتا ہے۔ زیادہ تر پروفیسر اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پڑھاتے اور ٹھیک پڑھاتے ہیں لیکن کسی اور کی نظر سے اس میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اس جانچ پڑتال کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کی ترقی ہو گی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو مزید بہتر کیسے کر سکتے ہیں تا کہ جب نئے طلباء آئیں تو ان کا تجربہ زیادہ بہتر ہو“ ۔

” قائدِ اعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر جاوید حسن جنہوں نے کنٹاکی یونیورسٹی تک آپ کی راہنمائی کی تھی کیا وہ کبھی یہاں آئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” نہیں وہ یہاں تو نہیں آئے لیکن میرا ان سے رابطہ ہے۔ وہ قائدِ اعظم یونیورسٹی سے سُبکدوش ہو چکے ہیں۔ البتہ مجھے بہت خوشی ہوئی جب قائدِ اعظم یونیورسٹی میں ایک ساتھی پروفیسر نے بتایا کہ ڈاکٹر جاوید حسن نے یونیورسٹی میں اپنی خدمات دینے کے بارے میں کی جانے والی گفتگو میں تمہارا (نوید زمان) بھی نام لیا“ ۔

” ماشاء اللہ! ڈاکٹر صاحب تدریس کو فی الحال چھوڑیں، یہ بتائیں کہ آپ کس وجہ سے امریکہ ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں؟“ ۔ ایک چُبھتا ہوا سوال کیا۔

” یہ بڑا مشکل سوال ہے اس کا جواب دو جمع دو چار جیسا آسان نہیں! کیوں کہ انسان کی ذہنی ترقی بتدریج ہوتی ہے۔ اس طرح نہیں کہ آپ ایک دن اٹھیں کہ اب میں اس طرح کروں گا۔ جب آپ ایک مختلف ثقافت اور معاشرے میں رہیں تو آپ کسی دوسرے معاشرے اور ثقافت میں اپنے آپ کو فِٹ محسوس نہیں کریں گے۔ کیوں کہ یہاں پاکستان میں زیادہ تر جائز ناجائز کام کروانے کے لئے کوئی اثر و رسوخ والا شخص تلاش کرنا پڑتا ہے۔ میں پہلے بھی گجرات میں سیدھا سادا ہی تھا مجھے تب بھی نہیں پتا ہوتا تھا کہ یہ کام کس طرح ہوتے ہیں۔ حالاں کہ مجھے میرے جاننے والے کہتے بھی تھے کہ فلاں دفتر میں فلاں سے بات کر لو۔ جب میں امریکہ گیا تو درمیان میں لمبا وقفہ آ گیا اس طرح پاکستانی طریقے سے کام نکلوانے کی جو تھوڑی بہت صلاحیت تھی وہ بھی جاتی رہی۔ حکومت جیسی بھی ہو امریکی سروِس سیکٹر یا عوامی خدمات میں آپ کی زندگی کے روز مرہ امور نبٹانے میں کسی قسم کا خلل نہیں آتا“ ۔

امریکی عوامی خدمات کی ایک روشن مثال

” ایک مثال دیتا ہوں۔ آپ نے ’ڈنبار‘ (ایک شہر) میں میرا گھر دیکھا ہی ہے جو پہاڑی کے اوپر ہے۔ برف زیادہ پڑ جائے تو اوپر جانے آنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ جنوری میں بہت زیادہ برف پڑی جس کی وجہ سے میرا ہیٹر اور آدھے گھر کی بجلی بند ہو گئی۔ میں نے رات دس بجے شہر کے بجلی کے محکمہ کو شکایت درج کروا دی۔ اندازہً رات کے ساڑھے بارہ بجے گھر کے باہر لال گھومتی ہوئی بتیاں نظر آنے لگیں۔ میں سمجھا کہ شاید میرے پڑوسی کو ہنگامی صورتِ حال پیش آ گئی اور ایمبولنس آئی ہے۔ اب جو کھڑکی کھول کے دیکھا تو بجلی کمپنی کا ٹرک آیا ہوا تھا۔ یعنی شکایت درج کرانے کے دو ڈھائی گھنٹے بعد ، برف اب بھی پڑ رہی تھی۔ میرے گھر کی اطلاعی گھنٹی بجی اور پوچھا گیا کہ گھر میں کہاں کہاں لائٹ نہیں ہے۔ کہیں باہر ہی باہر اس نے 45 منٹ میں بجلی کا مسئلہ حل کر دیا اور بغیر چائے پانی مانگے مجھ سے کاغذات پر دستخط کروا کر چلے گئے یہ وہاں کے سروس سیکٹر کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ پھر سرکاری دفاتر اگر پانچ بجے تک ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ وقت سے پہلے بند ہو جائیں۔ آپ دفتر بند ہونے کے وقت 4 : 59 پر بھی جائیں تو وہ کھلا ہو گا۔ کل آ جاؤ، صاحب مصروف ہیں، یہ سب وہاں مفقود ہے۔ عام آدمی کی زندگی سہولت والی ہے۔ شاید مجھ پر ایسی زندگی کا تھوڑا بہت نشہ چڑھ گیا ہے۔ میرا کوئی ایسا منصوبہ نہیں تھا کہ میں ہمیشہ امریکہ ہی رہوں گا بس اسی طرح سال گزرتے گئے اور کارواں چلتا رہا“ ۔

امریکی منتخب نمائندوں کا رویہ

” پاکستان میں منتخب نمائندے عام لوگوں کی دسترس سے بہت دور ہوتے ہیں۔ کوئی ’بڑا‘ نکلے تو تمام ٹریفک روک دیا جاتا ہے۔ ہر ایک امریکی ریاست میں ایک گورنر اور 2 سینیٹر ہوتے ہیں جو بہت طاقتور اور اختیارات والے ہوتے۔ یہ اگر سینیٹ میں کوئی قرارداد پاس کر دیں تو ٹھیک ٹھاک نتائج نکلتے ہیں۔ ممالک پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ پاکستان پر بھی سینیٹر پریسلر کی پیش کردہ قرارداد سے پابندیاں لگ چکی ہیں۔ یہ 1985 میں لگنے والی پریسلر ترمیم ہے جو سینیٹر لَیری پریسلر نے امریکی کانگریس میں پیش کی تھی۔ بہرحال سینٹ کی اجازت کے بغیر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ ہماری ریاست کی دو میں سے ایک سینیٹر شیلی مور کیپیٹو ( یہ شعبہ تعلیم سے سبکدوش ہو کر 2015 سے سینیٹر چلی آ رہی ہیں ) بھی چارلسٹن شہر میں ہی رہتی ہیں۔ اکثر یہ انہی جگہوں سے روزمرہ کی چیزیں خریدتی ہوئی نظر آتی ہیں جہاں سے دوسروں کی طرح ہم بھی خریدتے ہیں۔ ہماری طرح انہوں نے بھی سامان کی کارٹ پکڑی ہوتی ہے۔ لوگ انہیں پہچانتے ہیں لیکن کوئی خصوصی ہٹو بچو نہیں۔ ہاں عوام سلام دعا ضرور کرتے ہیں لیکن اسٹور والے نہ ہی عوام کبھی کہتے نظر آئے کہ پہلے آپ! میں نے جب یہ پہلی دفعہ دیکھا تو میرے لئے انوکھی بات ضرور تھی۔ وہاں کوئی شخص خاکروب ہے، اسٹور میں سیلز مین ہے، کوئی بھی کسی کو اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ آپ ایک اعلیٰ اور علیحدہ درجے کے انسان ہیں اور میں آپ سے کم تر ہوں! سینیٹر شیلی مور کیپیٹو بھی جن کو جانتی ہے خود پہل کر کے ہیلو ہائے کرتی اور پُر تپاک طریقے سے ملتی ہے۔ ایک سابقہ سینیٹر جو منچن ( 15 نومبر 2010 سے 3 جنوری 2025 تک سینیٹر رہے ) ایک دو مرتبہ میرے بچوں کے اسکول آئے تو بچوں نے سلفیاں بنائیں۔ سینیٹر اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے اکیلے آتے ہیں۔ سینیٹروں کے ساتھ نہ کوئی پولیس والے نہ ہی ان کے اپنے گارڈ ہوتے ہیں“ ۔

کسی کو کسی پر فوقیت نہیں

” میں ریاستی گورنر کی مثال دیتا ہوں۔ گورنر کے ساتھ پروٹوکول ضرور ہوتا ہے لیکن یہاں کا پروٹوکول عوام کو گورنر سے دور رکھنے کے لئے نہیں بلکہ صرف گورنر کی حفاظت کے لئے کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہماری یونیورسٹی میں سابقہ ریاستی گورنر جِم جسٹس ( 16 جنوری 2017 سے 13 جنوری 2025 تک ) آئے۔ انہوں نے ہماری زرعی لیبارٹری کے لئے فنڈ دینا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا اور ہم پانچ چھ افراد ایک سایہ دار درخت کے نیچے کھڑے تھے۔ وہ اپنی گاڑی خود چلا کر ہمارے پاس آ کر رکے۔ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر کتا بٹھایا ہوا تھا۔ اپنی جانب کا شیشہ اتارا اور ہیلو ہائے کرنے کے بعد پوچھا کہ کدھر جانا ہے۔ یہاں کے حکمران لوگوں سے واقعی گھلتے ملتے ہیں۔ وہ سیدھا بھی جا سکتا تھا۔ لیکن ہمیں دیکھ کر محض ہیلو ہائے کرنے کے لئے رُک گیا! یہاں ہر ایک چھوٹے بڑے کا سماج میں ایک کردار ہے۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں۔ شروع میں جب وہاں گیا تو سب ہی کام خود کیے اور اب بھی کرتا ہوں۔ ذاتی طور پر تو مجھے مزہ آتا ہے۔ مثلاً لان میں گھاس کاٹنا۔ میں تو یہ ورزش سمجھ کر کرتا ہوں۔ دوسرے کام کرنے سے سیکھنے کو ملتا ہے۔ البتہ بجلی کے کام سے پرہیز کرتا ہوں۔ لیکن مکینیکل کام خود کرتا ہوں۔ میں نے اپنے فریج کا دروازہ بھی خود تبدیل کیا۔ کوئی ایک بھی شخص آپ سے یہ کبھی نہیں کہے گا کہ ارے تم! تم یہ کام کیوں کر رہے ہو؟ وہاں کسی کو ضرورت سے زیادہ نہ ضرورت سے کم اہمیت دی جاتی ہے“ ۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS