خوفزدہ اقلیتیں اور حکومتی بیانیہ


اقلیتوں کے حقوق کے لیے پاکستان کی وابستگی اس کے آئین میں درج ہے، جو ریاست کو ”اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ“ کا حکم دیتا ہے اور تمام شہریوں کے لیے قانون کے سامنے برابری کو یقینی بناتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران حکومت نے اقلیتی برادریوں کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین اور پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ مثال کے طور پر، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ایکٹ، 2020 واضح طور پر جبری تبدیلی مذہب پر پابندی لگاتا ہے اور متاثرین کو مدد فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں، حکومت نے اقلیتوں کی نمائندگی کو بڑھانے کے لیے پبلک سیکٹر میں ملازمتوں کا 5 فیصد کوٹہ نافذ کیا ہے۔ اس اقدام سے سرکاری ملازمتوں میں اقلیتی گروہوں کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور مدد کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ ایک قابل ذکر اقدام ’منارٹی کارڈ‘ کا آغاز ہے، جو پنجاب میں رہنے والے سکھوں، مسیحیوں، ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو ہر سہ ماہی میں 10,500 روپے فی خاندان کی مالی امداد فراہم کرتا ہے۔

ان کوششوں کے باوجود اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ مثال کے طور پر، اگست 2023 میں، ایک ہجوم نے جڑانوالہ میں ایک مسیحی بستی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 26 گرجا گھروں اور متعدد گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ متاثرہ خاندانوں میں سے تقریباً 40 فیصد اب بھی حکومتی معاوضے کے منتظر ہیں، اور حملوں کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے افراد کے ٹرائل کا آغاز ہونا باقی ہے۔

مزید برآں، احمدیہ کمیونٹی کو بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں قبروں کی بے حرمتی اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔ جون 2024 میں پنجاب کے ضلع بہاولپور میں احمدیہ برادری کی 17 قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ ڈسکہ میں احمدیوں کے تاریخی عبادت خانہ کو گرا دیا گیا۔ اسلام آباد میں نیوز ون ٹیلی ویژن کی اینکر اور مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی منیزہ جہانگیر کو ایک مذہبی پارٹی کی جانب سے دھمکیاں، یہ واقعات پالیسی اقدامات اور ان کے نفاذ کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کے اقدامات، جیسے ’منارٹی کارڈ‘ قابلِ ستائش ہیں، لیکن تشدد اور تاخیر سے انصاف کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اقدامات اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اقلیتوں کے موثر تحفظ کے لیے نہ صرف معاون پالیسیوں کی تشکیل بلکہ ان کے سخت نفاذ اور متاثرین کو انصاف کی بروقت فراہمی کی بھی ضرورت ہے۔

ان قانون سازی کے اقدامات کے باوجود، ان قوانین کے عملی نفاذ میں چیلنجز برقرار ہیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کو بدستور امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر، جبری تبدیلی مذہب اور توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اقلیتی برادریوں کو سماجی اور معاشی طور پر پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عالمی اداروں نے بھی پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین نے پاکستان کی سازگار تجارتی حیثیت کو اقلیتوں کے حقوق اور میڈیا کی آزادی کے تحفظ سمیت انسانی حقوق میں پیش رفت سے منسلک کیا ہے۔

آخر میں، جب کہ پاکستان نے ایک آئینی اور قانونی ڈھانچہ قائم کیا ہے جس کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، ان اقدامات کی تاثیر زیادہ تر ان کے مستقل نفاذ اور اقلیتی برادریوں کو درپیش جاری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ریاست کے عزم پر منحصر ہے۔

Facebook Comments HS