اظہارِ واقعات ہے کوئی گلہ نہیں ​


الحَمْدُ ِللہ! 3 فروری 2025 کو زندگی کی 46 بہاریں مکمل ہونے کے بعد گزشتہ زندگی کے حالات و واقعات سوچ کر ہی دل، ذات باری تعالی کے آگے سر بسجود ہونے کو کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے جو کچھ دیا وہ اس کا انعام اور جو کچھ لے لیا اس میں اللہ تعالی کی حکمت و رضا ہے اور انسان کے بس میں تو یہ بھی نہیں کہ جب تک اللہ نہ چاہے وہ اپنی مرضی سے پلک بھی جھپک سکے۔

زندگی کے یہ چھیالیس سال کیسے گزرے، چونکہ پلک جھپکتے ہی گزر گئے، لہٰذا کچھ کہہ نہیں سکتا کہ کیسے گزرے؟

میں نے جنم بھکر میں لیا، بچپن، جوانی بھی بھکر میں ہی بسر ہوئی اور یہ سلسلہ ”جاری“ ہے لیکن افسوس مجھ جیسے لاکھوں افراد کی ذات سے جڑا لفظ ”شودھے مہاجر“ پتہ نہیں کب ختم ہو گا۔ میرے والد محترم منظور احمد خان یوسف زئی کی والدہ محترمہ اور میری دادی اماں کا تعلق لودھی قبیلہ سے تھا اور وہ دادا ابو کی وفات کے بعد اپنے ننھیال میں رہنے لگیں اسی نسبت سے والد محترم کو اور ہمیں بھی اکثر جان پہچان والے افراد لودھی سمجھتے اور پکارتے ہیں لیکن میں نور محمد خان یوسف زئی کا پوتا ہونے کی نسبت سے یوسف زئی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جن کا تعلق انڈیا کے ضلع کرنال کے گاؤں سمانہ جاؤ سے تھا اور ان کی وفات قیام پاکستان سے آٹھ سال قبل اس وقت ہوئی جب میرے والد کی عمر 13 سال تھی۔

میرے والد سے بڑی ان کی اک بہن بھی تھی جس کی شادی انڈیا میں ہی کسی گاؤں میں کر دی گئی تھی جب حالات خراب ہوئے تو والد محترم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بڑی بہن سے رابطہ ہو جائے مگر رابطہ نہ ہو سکا اور مجبوراً قیام پاکستان کے وقت 21 سال کی عمر میں والد محترم اپنے ماموں کی سربراہی میں بیوہ والدہ اک چھوٹی بہن اور دو بھائیوں کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ پاکستان آنے کے بعد بھی مختلف کیمپ میں والد محترم نے اپنی بڑی بہن کی تلاش جاری رکھی لیکن جب کہیں سے خبر نہ ملی تو فاتحہ کروا کر صبر کر لیا پھر اچانک 1958 میں ہمارے محلے میں کسی کے گھر جہلم سے مہمان آئے تو ان کی زبانی معلوم ہوا کہ پھوپھو اپنے خاندان کے ہمراہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے جہلم میں آباد ہو گئیں۔

الحمدللہ میرے دو بیٹے محمد عبداللہ عالیان، عبدالرحمان عوین اور اک بیٹی رمیصا نور فاطمہ ہے دعا ہے ان تینوں کے کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ سے لے کر باعزت روزگار تک مجھے کسی سفارش کا سہارا نہ لینا پڑے، انہیں داخلہ اپنے میرٹ پر ملے اور ان کے باعزت روزگار کے لئے بھی کسی کا بارِ احسان نہ اٹھانا پڑے، میری اہلیہ اور میں مل کر ان کی تعلیم اور اچھی و مثالی تربیت کے لئے شب و روز کوشاں ہیں اللہ اس میں برکت عطا فرمائے آمین۔

میری اہلیہ کا تعلق بھی بھکر سے ہی ہے اور وہ میرے پھوپھی زاد کزن کی بیٹی ہیں اور ان کا تعلق ککڑ زئی خاندان سے ہے، ہماری شادی 7 جنوری 2004 کو ہوئی جو ہمارے والدین نے طے کی تھی اور ہم گزشتہ ماہ شادی کی الحَمْدُ ِللہ بیسویں سالگرہ منا چکے ہیں، میں آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں، برادر بزرگ ظہیر احمد خان یوسف زئی، بھابھی محترمہ مسز ظہیر، دو بہنوئی چند برس قبل جبکہ اک بہنوئی اور دو ہمشیرہ اسی سال ہم سے جدا ہو چکے ہیں! مجھے علم نہیں، میں کیا بننا چاہتا تھا کیا بن گیا ہوں اور کیا نہیں بن سکا تعلیم، صحافت، ادب، سیاست، سپورٹس، شو بزنس ان سب کوچوں کی خاک چھانی۔

میری زندگی کا بڑا حصہ اپنے آپ کو ثابت کرنے اور شناخت بنانے ہی میں گزرا، میری پریکٹیکل لائف کی عمر تیس سال ہے۔

اصولوں کے ساتھ وفاداری میری زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ افراد سے میری دوستی بھی اسی حوالے سے ہے۔ بس کبھی کبھی درمیان میں انا ”پھڈا“ ڈال دیتی ہے۔ میں کسی بھی صورت خودداری پر کسی بھی حال میں کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور وقت کے حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا میرے خون میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں بہت سے نشیب و فراز بھی دیکھے اور مخالفین اور حاسدین کی رکاوٹیں بھی دیکھیں۔ جنہوں نے ہمیشہ گرانے کی کوشش کی مگر الحمدللہ میرے اللہ نے ہمیشہ میرا دامن عزت و وقار سے سنبھال لیا۔

میں آٹھویں میں پڑھتا تھا جب ایم سی ہائی سکول سے اک جلوس اپنی قیادت میں لے کر ڈپٹی کمشنر آفس پر دھاوا بولا اور پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، لیکن اپنے سکول سے ملحقہ سرکاری بلڈنگ لے کر ہی واپس آیا جو اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے ناجائز طور پر کسی اور کو دینے کی کوشش کی تھی۔

ایسے ہی جنرل حمید گل مرحوم، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، عبدالکریم ثاقب اور سابق وفاقی وزیر اور اے پی این ایس کے چیئرمین میاں مصطفی صادق مرحوم کے ساتھ تحریک استحکام پاکستان کے پلیٹ فارم سے بطور چیف آرگنائزر یوتھ پاکستان ضلع بھکر میں ایسے ایسے پروگرامات ترتیب دیے جو آج تک بھکر کی دھرتی پر کوئی اتنے منظم انداز اور بڑے پیمانے پر منعقد نہ کر سکا، ایسا ہی اک پروگرام روزنامہ جنگ اور تحریک استحکام پاکستان یوکے کے تعاون سے 31 اگست 2003 کو ماڈل ہائی سکول کے لان میں منعقد کیا اس بارے یکم اگست سے لے کر 31 اگست تک آدھے صفحہ کا اشتہار روزنامہ جنگ لاہور کے فرنٹ پیج پر چھپتا رہا اور بعد از پروگرام روزنامہ جنگ نے دو عدد رنگین ایڈیشن بھی شائع کیے ۔

اس یوتھ ٹیلنٹ پروگرام میں پنجاب سے گزشتہ تین سال کے میٹرک کلاس کے ہر ضلع و تحصیل کے پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈل دینے کے ساتھ طلبا و طالبات میں علمی، ذہنی، جسمانی و ادبی نشوونما کے لئے مختلف مقابلہ جات کا اہتمام کیا گیا اور یہ پروگرام صبح 9 بجے شروع ہو کر رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ختم ہوا جس کی کوریج کے لئے روزنامہ جنگ اور جیو کی خصوصی ٹیم لاہور سے تشریف لائی جبکہ مہمان خاص میں جنرل حمید گل، وفاقی وزیر میاں مصطفی صادق، برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر عبدالقیوم، ممبر برطانیہ پارلیمنٹ آصفہ صاحبہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے وفد نے الہجرہ ٹرسٹ کے بانی عبدالکریم ثاقب کی سرباہی میں خصوصی شرکت کی۔ جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے کلیرنس نہ مل سکی اور وہ پروگرام میں شرکت نہ کر سکے۔ بھکر کی تاریخ کا یہ منفرد پروگرام اس وقت کے حاکم کو پسند نہ آیا اور رات نو بجے مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ اس بارے تفصیلی کہانی پھر سہی۔

ایسے ہی سیف الرحمان سیف اور غلام عباس بلوچ کے ساتھ مل کر بھکر میں نیشنل اور پنجاب لیول کی تیکوانڈو چمپیئن شب متعدد بار منعقد کروائیں اس کے علاوہ ان شخصیات کے ساتھ مل کر بھکر سے اک ہفت روزہ اخبار نکالا تو بھکر میں بڑھتے ہوئے کرائم اور ان کریمینلز کے بھکر کے اس وقت کے با اثر سیاسی خاندان سے تعلق پر بلاخوف اپنے تبصرہ، تجزیہ اور خبریں شائع کیں تو ایس پی بھکر سے لے کر ہر اک با اثر افسر نے مجھے ڈرانے، دھمکانے اور سمجھانے اور پھر خریدنے کی کوشش کی جب ہر حربہ ناکام ہوا تو ایک مقامی بدمعاش کو میرے پاس بھیجا گیا جو مجھے ننگی اور گندی گالیاں دینے لگا جب میں اپنا مسئلہ لے کر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ہاشم ترین کے پاس پہنچا تو انہوں نے تاریخی الفاظ کہے جو مجھے ابھی تک نہیں بھولتے کہ ”تم ابھی نوجوان ہو اور زندگی خوبصورت ہے، اپنی قسمت صحافت کے بجائے کسی اور فیلڈ میں آزماؤ“ ۔

بطور سماجی ورکرز 2011 کے سیلاب کے دوران سیلاب زدہ علاقوں میں درجن سے زائد فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جس میں الحمدللہ اپنی جیب سے لاکھوں روپے کی میڈیسن مفت تقسیم کیں ایسے ہی آزاد کشمیر زلزلہ کے موقع پر الخدمت فاونڈیشن کے ساتھ مل کر بروقت امداد پہنچائی اور اس وقت بھی میں مختلف سماجی پروجیکٹ پر کام کر رہا ہو۔ جس میں جھولا سکیم کو عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہے، میں اس وقت کیمسٹ ایسوسی ایشن ضلع بھکر و جنوبی پنجاب کا نائب صدر ہوں۔

اس کے علاوہ بطور سیاسی ورکر پاکستان مسلم لیگ نون میں مختلف ونگز میں پنجاب لیول پر عہدے دار رہا ہوں لیکن کیونکہ میرا تعلق ضلع بھکر کے سب سے بڑے مقامی سیاسی گروپ عوامی خدمت محاذ سے ہے جس کی سربراہی اک سینیٹر، دو ایم این اے اور چھ ایم پی اے کرتے ہیں اس لیے مقامی سطح پر ہمیشہ اپنے گروپ کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلہ کیا یہی وجہ ہے کہ 2024 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون کے امیدوار کے خلاف گروپ قیادت کے کہنے پر الیکشن بھی لڑا۔ اور ہمیشہ سینہ تان کر اپنے گروپ کا دفاع کیا۔

خیر مختصر یہ کہ میں نے الحَمْدُ ِللہ اب تک بہت خوبصورت زندگی گزاری ہے، زندگی کے تمام سرد و گرم کا مزا چکھا ہے اور سفید پوشی کی زندگی کا بھرم قائم و دائم ہے اور زندگی کو انجوائے کرتے گزر رہا ہے، دولت مجھے کبھی اپنی طرف ”اٹریکٹ، نہیں کر سکی، میں نے 2007 ء میں 96 ہزار روپے ماہانہ کی بیسک سیلری والی نوکری، عالیشان کار اور دیگر“ لوازمات ”چھوڑ کر اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا۔ کاروبار سے پہلے بھکر، لاہور اور اسلام آباد میں درجن بھر کالونیوں میں الحمدللہ اپنی حق حلال کی کمائی سے پلاٹ و گاڑی خرید چکا تھا مگر کاروبار کرنے کا ڈھنگ آج تک نہ آ سکا گویا جتنے کمائے اس سے زیادہ لوگوں پر اعتبار اور بار بار اعتبار کر کے نقصان اٹھایا اور پھر پلاٹ، گھر، گاڑی اور بقایا سب کچھ لٹا کر فارمیسی کے بزنس سے منسلک ہو گیا۔

زندگی میں ایسے متعدد مقامات آئے جب ہر چیز لٹا کر زندگی دوبارہ سے شروع کرنی پڑی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی نعمت عطا کی ہے اور وہ قناعت ہے اور قناعت کرنے والی زوجہ محترمہ ہیں اسی لئے ہرحال میں خوش رہتا ہوں، میں مزدوروں کے ساتھ تندور پر بیٹھ کر کھانا کھاؤں، یا کسی جنرل، وزیر، مشیر یا ایم این اے، ایم پی اے کے ساتھ کھانے کی میز پر ہوں، مجھے کھانے کا مزا صرف کھانے کے لذیذ ہونے کے حوالے سے آتا ہے۔ اک بار جنرل حمید گل، عبدالکریم ثاقب اور میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر گئے ڈاکٹر صاحب نے بڑی محبت سے اپنے ہاتھ سے بنا ہوا گجریلا کھانے کے لئے پیش کیا سب گجریلا کی تعریف کرنے لگے اور میں نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا کہ جو ٹیسٹ میری والدہ کے ہاتھ سے بنے گجریلے میں ہے وہ اس میں نہیں، پھر اگلی بار ڈاکٹر صاحب کی فرمائش پر میں والدہ کے ہاتھ سے بنا گجریلا لے کر ڈاکٹر عبدالقدیر کے گھر گیا جسے ڈاکٹر صاحب نے خوب شوق سے تناول فرمایا اور کافی تعریف کی۔

مجھے خوبصورت لوگ اچھے لگتے ہیں لیکن اگر ان کی اندرونی بدصورتی سامنے آ جائے تو اس کا عکس مجھے ان کے خد و خال میں بھی نظر آنے لگتا ہے۔

میری زندگی میں محرومیاں بھی ہیں، مگر یہ بھی اسی خدا کی طرف سے ہیں جس نے میرے دامن میں بہت سی خوشیاں بھر دی ہیں۔ میں یہ دیکھتا ہوں مجھے کیا کچھ ملا ہے، یہ نہیں کہ کیا نہیں ملا۔ جو لوگ خوش رہنا چاہتے ہیں وہ اس فارمولے پر عمل کر سکتے ہیں۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ لوگوں کا پیٹ کیوں نہیں بھرتا وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی مال حرام کی گندگی پر مکھیوں کی طرح کیوں بھنبھناتے نظر آتے ہیں۔

کیا اچھی بیوی، اچھی اولاد، اچھی صحت اور زندگی گزارنے کے مناسب سے ذرائع ایک انسان کو خوش رکھنے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ اپنے اردگرد کی غربت اور جانوروں کی سطح پر زندگی گزارنے والے عوام کی طرف نہیں دیکھ سکتے، یہ اگر ان کی حالت سنوارنے کے لئے اپنے شب و روز کا ایک حصہ وقف کر دیں تو انہیں مال و زر سے کروڑ گنا خوشی اور سکون حاصل ہو سکتا ہے کبھی یہ کام کر کے تو دیکھیں۔

میرے اندر بہت سی خرابیاں بھی ہیں لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں ان کا ذکر کروں گا تو آپ بھول جائیں۔ میرا ایک دوست کہا کرتا ہے کہ وہ بے وقوف ہے، پاگل نہیں ہے اپنی خرابیوں کے حوالے سے میرا جواب بھی تقریباً یہی ہے۔

اے دوست کیوں سلوکِ جہان سے ہے شکوہ سنج
تیرا خدا نہیں ہے کہ میرا خدا نہیں
کیوں میری گفتگو سے بگڑتے ہو بے سبب
اظہارِ واقعات ہے کوئی گلہ نہیں

Facebook Comments HS