پولیس کی مثالی خدمت


یہ 90ء کی دہائی کی بات ہے، میرے ایک کاروباری دوست اسلام آباد سے اکثر لاہور آیا کرتے تھے، بعض اوقات ان کا ایک دوست بھی ساتھ ہوتا تھا، یہ دوست پاک فوج میں کیپٹن تھا، ایک دن فوجی کیپٹن میرے کاروباری دوست سے کہنے لگا، ”آپ جب بھی لاہور آتے ہیں تو ذرا محتاط رہا کریں کیونکہ پنجاب پولیس بہت خطرناک ہے، ان کے چہروں پر بہت کچھ لکھا ہوا ہے، اس پولیس کے بعض جوان تو ایسے لگتے ہیں، جیسے دہشت گرد ہوں، نہ انہیں بولنے کی تمیز ہے، نہ بات کرنے کا ہنر آتا ہے، یہ لوگوں کے ساتھ ناکوں پر بد تمیزی سے پیش آتے ہیں“ ۔ ایک فوجی کپتان نے صرف ناکے دیکھے تھے، اس لئے اس نے ناکوں کا نقشہ کھینچا، اسے تھانوں کی صورتحال کا تو علم ہی نہیں تھا، اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ پنجاب کے تھانوں میں کس طرح انسانوں کو الٹا لٹکایا جاتا ہے، کس طرح ان پہ تشدد کیا جاتا ہے، کس طرح لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جاتا ہے، اسے یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جعلی پولیس مقابلے کیسے کروائے جاتے ہیں اور کس طرح شریف شہریوں کو گولیوں سے بھون کر دہشت گرد بنایا جاتا ہے، اسے پولیس کے عقوبت خانوں کا بھی پتہ نہیں تھا، یہ سب کچھ 90ء کی دہائی میں ہو رہا تھا۔ ایک مرحوم پولیس افسر نے اتنے پولیس مقابلے کیے اور کسی کے راستے کے کانٹوں کو اس طرح صاف کیا کہ پولیس افسر کو بہت سی ترقیاں ملیں، وہ آئی جی بن گیا پھر اسے ایک سیاسی پارٹی نے سینیٹر بھی بنایا۔ اسی طرح کئی اور پولیس افسران کو ترقیاں دی گئیں، افسوس! یہ عمل ہنوز جاری ہے۔

آپ کے روبرو 90ء کی دہائی کی بات کی گئی ہے، اس کے بعد بھی پنجاب پولیس کے تیور نہیں بدلے، پتہ نہیں پنجاب پولیس نے ظلم، زیادتی اور تشدد کا موٹو کہاں سے اپنایا؟ لوگوں کی پگڑیاں اچھال کر تسکین محسوس کرنا ”انسانی خدمت“ کا کون سا درجہ ہے؟ ظلم، زیادتی اور تشدد کا یہ سفر سالہا سال سے جاری ہے مگر پچھلے دو اڑھائی سال سے پولیس کا رویہ مزید سخت ہو گیا ہے، جب سے با اختیار لوگوں نے پولیس کو کھلی چھٹی دی ہے تو پولیس والوں نے با وردی ظالموں کا روپ دھار لیا ہے۔ پچھلے دو اڑھائی سال میں کئی شریف گھرانوں پر چھاپے مارے گئے، پڑھنے لکھنے والے نوجوانوں پر تشدد کیا گیا، عورتوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، تشدد کی اس انوکھی لہر میں بچوں اور بوڑھوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ اب جب پولیس والے کسی پر ظلم کرتے ہیں تو نہ انہیں کسی محکمے کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی خوف خدا۔ زمینی عدالتوں کو چکر دینا بھی ان پہ ختم ہے، پچھلے کچھ عرصے سے انہوں نے بہت سے لوگوں کے گھر توڑے، گھروں کا سامان توڑا اور جو ہاتھ لگا، وہ لے اڑے، کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ گھر کے سامان کا کیا قصور ہے؟ انہیں ایک لائسنس ملا ہوا ہے کہ جب چاہیں، جسے چاہیں، کسی بھی مقدمے میں ملوث کر دیں، گویا جھوٹے مقدمات کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔
یہ بھی پنجاب پولیس کا کرشمہ ہے کہ اس نے پڑھے لکھے نوجوانوں اور خواتین پر ایسے مقدمات بنائے، جن کا وہ زندگی بھر تصور نہیں کر سکتے تھے، بعض افراد کو چھلاوا بنانا بھی پنجاب پولیس کا کام ہے کہ ایک شخص ایک ہی ٹائم پر لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں جرم کرتا ہے۔ دنیا کی ساری سائنس سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک شخص لاہور میں واردات کرنے کے بعد کتنے سیکنڈز میں فیصل آباد پہنچا اور وہاں ہنگامہ آرائی کرنے کے بعد کس طرح چھ سیکنڈز میں ملتان پہنچ گیا۔ حالیہ دنوں میں چار پانچ ایسی ویڈیوز آئی ہیں کہ پولیس کے عمل اور لب و لہجے سے درندگی بے نقاب ہو رہی ہے، یہ حسن اتفاق ہے کہ اس میں اسلام آباد پولیس بھی شامل ہو گئی ہے۔ ایک ویڈیو میں اسلام آباد پولیس کا ایک ایس ایچ او مسجد سے اعلان کرتے ہوئے لوگوں کو دھمکیاں دیتا ہے، ”جس نے پتنگ اڑائی اس کے والد پہ پرچہ دوں گا، اس کے والد کو سڑک پہ جوتے ماروں گا اور اس کا گھر مسمار کر دوں گا“ ۔ دوسری ویڈیو میں پنجاب پولیس کے ”جوانوں“ نے ایک نوجوان کو لٹکایا ہوا ہے اور اس پر تشدد کیا جا رہا ہے، نوجوان روتا ہے، بلکتا ہے، پولیس مزید تشدد کر کے ”انسانی ہمدردی“ کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ایک خبر کے مطابق قصور میں پولیس اہلکار ڈکیتی میں ملوث پایا جاتا ہے اور اب خبر آئی ہے کہ رائیونڈ میں پولیس اہلکاروں نے ایک خاتون کے ساتھ ریپ کیا، اسے برہنہ کر کے تصویریں بنائیں، یہ تمام ویڈیوز دیکھ کر مجھے بہاولنگر کی ”مثالی ویڈیو“ یاد آ جاتی ہے، جہاں پولیس کی ”شاندار کارکردگی“ بے نقاب ہوئی تھی اور پولیس معافی مانگ کر فضا میں نعرے بلند کر رہی تھی۔

پولیس کی اس ”مثالی کارکردگی“ کا ایوارڈ پتہ نہیں کسے ملنا چاہیے؟ میں تو اسے پولیس گردی سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ بقول رحمان فارس

قدم قدم پہ توازن کی بات مت کیجیئے
یہ مے کدہ ہے یہاں لڑکھڑانا بنتا ہے

Facebook Comments HS