ایک بہتر انسان بننے کے راز – ہما دلاور کا تکریمی سوالنامہ
محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب،
آداب!
آپ سے ملاقات ہونا بھی ایک عجیب سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی تھکن سے چور مسافر کسی شفاف چشمے پر جا رکے، جیسے کوئی بھٹکا ہوا راہرو منزل کے نرم سائے میں آ بیٹھے یا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب دوبارہ جڑ جائے۔
ڈاکٹر صاحب! آپ نے اپنے اخلاق کی ایسی آبیاری کیسے کی کہ مجھ جیسا مسافر، جس کے پاسپورٹ پر Red Zone کی مستقل شہریت کی مہر لگی ہوئی ہے، پلک جھپکتے ہی نویں آسمان پر اڑتا Green Zone کی سرسبز وادی میں اتر آتا ہے؟ وہ وادی جہاں دوستی کے میٹھے جھرنے بہتے ہیں، جہاں محبت کے ہلکے بادل انسان کے دل کی تپتی زمین پر سایہ کر دیتے ہیں، جہاں گداز مشفق ہوائیں یوں سر سہلاتی ہیں کہ سارے دکھ، ساری تلخیاں، سارے زخم کسی کہانی کا بھولا بسرا حصہ لگنے لگتے ہیں۔ جہاں آپ کو احترام کے بیش قیمتی تخت پر بٹھایا جاتا ہے، عزت کے انمول تاج سے تاج پوشی کی جاتی ہے، جہاں تعریف اور توصیف کی پریاں اپنے نازک ہاتھوں سے آپ کے اعتماد کو پروں میں بدل دیتی ہیں اور پھر آپ کو اڑنا سکھاتی ہیں۔ جہاں انسان خود کو ایک بہتر، ایک خوبصورت، ایک مکمل تر روپ میں دیکھتا ہے۔
اور یہ محض میرا تجربہ نہیں، بلکہ ہر اس انسان کا تجربہ ہے جو کبھی بھی آپ سے ملا ہو۔ (لیکن اس تجربے کے لیے انسان ہونا بنیادی شرط ہے )
ڈاکٹر صاحب! میں ہمیشہ حیران رہتی ہوں کہ آخر آپ کی شخصیت میں یہ جادو کہاں سے آیا؟ وہ کون سی ندی ہے جس میں آپ نے اپنی روح کو دھویا؟ وہ کون سی مٹی ہے جس نے آپ کے اخلاق کی خوشبو کو ایسا لطیف بنا دیا؟ وہ کون سا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر آپ دوسروں کے چہرے پر روشنی لاتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے میں آپ سے دس سوالات پوچھنا چاہتی ہوں :
آپ نے اپنی ذات کو اتنا وسعت پذیر، اتنا شفاف کیسے بنایا کہ ہر کوئی آپ کی مجلس میں آ کر خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے؟
کیا کبھی ایسا لمحہ آیا جب آپ کا دل بھی کسی تلخی سے زخمی ہوا ہو؟ اگر ہاں، تو آپ نے اس زخم کو محبت میں کیسے بدلا؟
کیا ہمیشہ سے آپ کے اندر یہ روشنی تھی، یا وقت اور تجربے نے آپ کو تراشا؟
آپ دوسروں کو عزت دینے کا یہ نایاب ہنر کہاں سے سیکھتے ہیں؟
کیا کبھی ایسا موقع آیا جب کسی نے آپ کی عزت نہ کی ہو؟ اگر ہاں، تو آپ نے کیا رویہ اختیار کیا؟
آپ کی محفل میں بیٹھ کر انسان خود کو اتنا خاص کیوں محسوس کرتا ہے؟
آپ کے الفاظ میں جو شفا ہے، جو مٹھاس ہے، وہ کیسے پیدا ہوئی؟
دنیا میں نفرت اور تلخی کے بڑھتے ہوئے سایوں کے باوجود آپ کی روشنی کمزور کیوں نہیں پڑتی؟
اگر کبھی آپ کو خود اپنی ذات میں الجھن محسوس ہو، تو آپ اس کا حل کیسے نکالتے ہیں؟
اگر کوئی آپ جیسا بننا چاہے۔ اتنا نرم، اتنا مشفق، اتنا عزت دینے والا تو آپ اسے کیا نصیحت دیں گے؟
ڈاکٹر صاحب، یہ سوالات محض الفاظ نہیں، یہ دل کی بے قراری ہے، ایک تشنگی ہے جسے بجھانے کے لیے آپ کی بصیرت کا ایک گھونٹ درکار ہے۔ یہ سوالات میرے دل کی وہ جستجو ہے جو اخلاق کی بلندی کا راز جاننے کے لیے بے تاب ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ کی رہنمائی سے میں بھی اپنی ذات میں وہ نرمی، وہ وسعت، وہ روشنی پیدا کر سکوں جو دوسروں کے لیے راحت اور خوشی کا باعث بنے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ فیض مجھ تک محدود نہ رہے بلکہ میں اس legacy کو اگلی نسلوں تک پہنچا سکوں، تاکہ انسان، انسانیت کے اصل مفہوم کو سمجھ سکے، اسے محسوس کر سکے، اور اسے اپنے رویوں میں اتار سکے۔ تاکہ محبت، عزت اور خلوص کی یہ شمع نسل در نسل جلتی رہے اور اندھیروں کو روشنی میں بدلتی رہے۔
آپ کی رہنمائی کی متلاشی،
ہما دلاور
یکم فروری دو ہزار پچیس
خالد سہیل کا منکسرانہ جواب نامہ
محترمہ و معظمہ ہما دلاور صاحبہ! آپ کے خط میں میری شخصیت سے زیادہ آپ کی محبت اور اپنائیت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ آپ چونکہ ایک شاعرہ ہیں اس لیے آپ نے میرے حوالے سے تھوڑی ہی نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔ میں اپنے آپ کو زندگی کا ایک ادنیٰ طالب علم سمجھتا ہوں۔ میں سچ کی تلاش میں نکلا ہوا ایک مسافر ایک درویش منش انسان ہوں جو اس اصول پر عمل کرتا ہے
مل جائے تو شکر نہ ملے تو صبر
یہ علیحدہ بات کہ زندگی میں شکر کے مواقع زیادہ اور صبر کے مواقع کم میسر آئے اور میں زندگی کے ہر امتحان اور ہر آزمائش سے ایسا گزرا کہ بقول شاعر
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
ویسے تو آپ نے دس سوال بھیجے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کا علیحدہ علیحدہ جواب لکھنے کی بجائے میں فری ایسوسئیشن اور آزاد تلازمہ خیال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا اکٹھے جواب دینے کی کوشش کروں گا اور قلم کو آزاد چھوڑ دوں گا دیکھیں وہ کیا تخلیقی تحفہ لے کر آتا ہے۔
آپ نے میری شخصیت کے بارے میں استفسار کیا ہے تو عرض ہے کہ ایک وہ دور تھا جب میرے دل میں بھی غصہ اور تلخی چھپے بیٹھے رہتے تھے۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ میں نے وہ غصہ نفرت اور تلخی اپنے ماحول سے جذب کیے ہیں کیونکہ میں ایک ایسے روایتی اور مذہبی ماحول میں پلا بڑھا تھا جہاں غصہ تلخی نفرت اور تعصب ہوا کی طرح چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے۔
میں نے بچپن میں شوہروں کر بر سر عام اپنی بیویوں کو مارتے پیٹتے دیکھا تھا اور جب میں نے اعتراض اور احتجاج کیا تو دوسرے مردوں نے کہا کہ یہ ان کا ازدواجی مسئلہ ہے اور ہمیں ان کے ذاتی مسئلے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔
میں نے کالج کے زمانے میں دیکھا کہ مذہبی اکثریت کے لوگ ایک مذہبی اقلیت کے لوگوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے دروازے کے آگے کوڑے کے ڈھیر لگاتے ہیں۔
میں نے انیس سو پینسٹھ کی سترہ دن کی جنگ دیکھی جب میری عمر صرف تیرہ برس تھی۔ ہم نے خندقیں کھودیں اور ہندوستان کے بمبار جہازوں سے بم گرتے دیکھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ ایک مقدس جنگ ہے یہ جہاد ہے کیونکہ ہندوستان کے ہندو ہمارے دشمن ہیں۔ میں بھی اس جنگ سے اتنا متاثر ہوا کہ سوچا کہ کیوں نہ میں بھی فوج میں جاؤں اور ایم ایم عالم کی طرح پائلٹ بنوں اور دشمنوں کے جہاز گراؤں۔
ایسے ماحول میں پرورش پانے کے بعد میرا ادب سے تعارف ہوا اور میں نے بہت سے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے بہت کچھ سیکھا۔ صرف ایک مثال سے بات واضح ہو جائے گی۔
سعادت حسن منٹو وہ پہلے فیمنسٹ لکھاری تھے جنہوں نے مجھے عورت کی عزت کرنا سکھایا انہوں نے لکھا
ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے
سعادت حسن منٹو وہ پہلے ہیومنسٹ رائٹر تھے جنہوں نے مجھے انسانوں کی عزت کرنا سکھایا۔ انہوں نے فرمایا
یہ مت کہو کہ ایک لاکھ ہندو واصل جہنم ہوئے اور ایک لاکھ مسلمان جنت میں چلے گئے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے دو لاکھ قیمتی انسانی جانیں ضائع کر دیں۔
منٹو نے میرا اپنے ماحول کی منافقت سے بھی تعارف کروایا۔ وہ لکھتے ہیں۔
جب میں شراب پیتا ہوں تو منہ میں الائچی نہیں ڈالتا کہ دوسروں کو شراب کی بو نہ جائے۔
جب میں ویشیا کی گلی میں جاتا ہوں تو چہرے پر مفلر لپیٹ کر نہیں جاتا کہ لوگ مجھے پہچان نہ سکیں۔
میں نے جب ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کی سوانح عمریاں پڑھیں اور ان کے فلسفوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ انسانی ارتقا میں انسانی شخصیت کو سنوارنے میں تین خصوصیات اہم تھیں
3 Cs
CRITICAL THINKING
جو فلسفیوں اور سائنسدانوں کا تحفہ ہے۔
CREATIVE IMAGINATION
جو ادیبوں اور فنکاروں کا تحفہ ہے
COMPASSIONATE HEART
جو صوفیوں اور انسان دوست دانشوروں کا تحفہ ہے۔
جوں جوں میرے سماجی شعور میں اضافہ ہوا میں نے روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہا اور انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگایا۔ انسان دوستی کے فلسفے کی بنیاد چینی فلاسفر کنفیوشس کا سنہری اصول ہے۔
دوسروں سے ویسا ہی سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔
انسان دوستی کے فلسفے کی دوسری بنیاد یہ ہے ہم سب انسان کیسے رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر پرامن معاشرے قائم کر سکتے ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں اور ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں۔
انسانی نفسیات کے مطالعے کے بعد میں نے یہ جانا کہ ہر انسان کو فطرت نے ایک تحفہ دیا ہے جو بیج کی طرح ہے۔
جس طرح کسی پودے کے بیج کو جب زرخیز زمین تازہ ہوا پانی اور سورج کی روشنی ملتے ہیں تو پہلے وہ پودا بنتا ہے پھر درخت اور پھر اپنے ارد گرد کے لوگوں کو میٹھے پھلوں کے تحفے دیتا ہے۔
اسی طرح جب بچوں کو محبت پھرے خاندان سکول اور معاشرے ملتے ہیں وہ محبت کرنے والے انسان بنتے ہیں اور معاشرے میں خیر اور فلاح کے کام کرتے ہیں۔
میری خوش قسمتی کہ
میرے روایتی ننھیال محنتی اور محبتی تھے
میرے ددھیال غیر روایتی اور تخلیقی تھے
اس لیے میں نے ننھیال سے محبت اور ددھیال سے دانائی کے تحفے ورثے میں پائے اور میں نے دونوں تحفوں کو اپنی شخصیت میں جذب کرنے کی کوشش کی۔
مجھے نوجوانی میں اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر میں شدت پسند اور تشدد پسند معاشرے میں رہتا تو اس کا انجام اچھا نہ ہوتا۔ اپنی غیر روایتی سوچ اور طرز زندگی کی وجہ سے
یا تو میں قتل کر دیا جاتا
یا جیل بھیج دیا جاتا اور یا
ذہنی توازن کھو بیٹھتا اور مجھے کسی پاگل خانے بھیج دیا جاتا۔
میری غیر روایتی سوچ ایک آزمائش تھی بقول عارف
میری عظمت کا نشاں میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو
چنانچہ میں اپنے شاعر چچا کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے روایتوں کے دیس سے ہجرت کر کے آزادی کے دیس کینیڈا چلا آیا۔ کینیڈا میں مجھے اپنی غیر روایتی سوچ کو سنوارنے اور تخلیقی شخصیت کو نکھارنے کا موقع ملا۔ اس کوشش میں میں نے غیر روایتی دوستوں کا حلقہ یاراں بنایا اور اسے فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیا۔ جس میں آپ بھی شامل ہیں۔
اس سفر میں جن لوگوں کے لیے میری غیر روایتی طرز زندگی کو قبول کرنا مشکل تھا میں خاموشی سے ان سے علیحدہ ہو گیا۔ میں نے ہر بحران سے کچھ سیکھنے کی کوشش کی۔ نیٹشے فرماتے ہیں
WHAT DOES NOT KILL YOU MAKE YOU STRONGER
بقول شاعر
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
میں نے اس پرواز کے دوران یہ بھی جانا کہ کرگس اور شاہیں ایک ہی فضا میں پرواز کرتے ہوئے بھی دو مختلف دنیاؤں میں رہتے ہیں
بقول اقبال
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
کینیڈا میں میری تخلیقی شخصیت کو اتنا پنپنے کا موقع ملا کہ میں نے ستر کتابیں
اورسات سو کالم تخلیق کیے اور یہ جانا کہ
THERE ARE TWO SECRETS OF HAPPINESS
PASSION AND COMPASSION
میں نے پیشن کا اظہار ادبی زندگی میں اور کمپیشن کا اظہار اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کیا۔
میں دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر انہوں نے ایک بامقصد زندگی گزارنی ہے تو
اپنے تخلیقی تحفے کو جانیں
اس کا بھرپور اظہار کریں
پھر دوستوں کا حلقہ اپنی فیمیلی آف دی ہارٹ بنائیں اور
والنٹیئر ورک کر کے سماج کو خدمت خلق کا تحفہ دیں۔
میں نے انہی راستوں پر سفر کرتے ہوئے اس پرسکون زندگی کو پایا ہے جس کے بارے میں لکھا ہے
عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں
ہما دلاور صاحبہ!
آپ ایک شاعر بھی ہیں ایک دانشور بھی اور آپ کا خط اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے محبت نامے اور سوال نامے سے مجھے یہ منکسرانہ جواب نامہ لکھنے کی تحریک دی۔ اس کا سارا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے۔
آپ کا مداح
خالد سہیل
february 4th, 2025




بہت عمدہ مکالمہ ہے۔
فیصل عظیم