لکسمبرگ سے واپسی
آج 23 نومبر تھا اور میری واپسی کی تاریخ تھی۔ تین چار دن پہلے تک میں یہی سمجھتا رہا کہ میری واپسی کا ٹکٹ 22 نومبر کا ہے اور ہر ایک کو یہی بتاتا رہا بلکہ کراچی میں میں نے شاہد نعیم کو بھی یہی تاریخ بتائی جس نے مجھے وہاں پر ریسیو کرنا تھا۔
تین چار دن پہلے میں بلال کو واٹس ایپ کال کر رہا تھا کہ وہاں پر مجھے اپنی ٹکٹ دکھائی دیا۔ اُسے کھول کہ دیکھا تو وہ 23 نومبر کا تھی۔ مجھے بھی اُسی وقت معلوم ہوا کہ میں 22 نومبر کی بجائے 23 نومبر کو واپس پاکستان جا رہا ہوں۔ اب میں نے 23 نومبر کی گردان شروع کر دی۔ کچھ پبلک نے پوچھا بھی کہ پہلے تو آپ 22 نومبر بتا رہے تھے اب 23 کیسے ہو گیا لیکن میں نے اُن کی سنی ان سنی کر دی۔
فلائٹ کا وقت دوپہر 50 : 11 تھا۔ میں نے عمیر کو ایک دن پہلے ہی یاد دلانا شروع کر دیا کہ کل صبح ہم لوگ سات بجے ائر پورٹ کے لیے نکل رہے ہیں۔ تاکہ 8 بجے تک یعنی فلائٹ کے وقت سے 4 گھنٹے پہلے ائر پورٹ پر پہنچ کر تمام معاملات کو احسن طریقے سے نمٹا لیں۔ لیکن وہ بھی میری اسی طرح سنی ان سنی کر رہا تھا۔ جیسے میں دوسرے لوگوں کی کر رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ آہستگی سے منہ ہی منہ میں کچھ بُڑ بُڑ سی کر دیتا۔ ایک بار میں نے غور سے سننے کی کوشش کی وہ کہہ رہا تھا۔ چار گھنٹے کا لمبا عرصہ آپ لاؤنج میں فلائٹ کا انتظار کرتے ہوئے کیسے گزاریں گے۔ بس وقت پر ہی نکلیں گے کچھ نہیں ہو گا۔ ویسے بھی اگر ضرورت پڑی تو اوسلو والی فلائٹ کی طرح اسے بھی لیٹ کروا دینا۔ یہ کام تو آپ کر ہی لیتے ہیں۔ بہرحال اس بار بھی اس کے تیور کچھ ایسے اچھے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
اگلے دن 8 بجے صبح جو ہمارے ائر پورٹ پہنچنے کا وقت تھا ہم ابھی گھر پر ہی تھے۔ تقریباً نو بجے ہم سب لوگ ائر پورٹ پہنچ گئے۔ وہاں کھڑکی کے آگے ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ دو بیگ میرے سامان کے تھے اور ایک ہینڈ کیری کے طور پر میرے ساتھ جہاز کے اندر جانا تھا۔ عمیر میرے سامان کے بیگ اور پاسپورٹ لے کر لائن میں لگ گیا۔ تقریباً آدھ پون گھنٹے بعد میرا سامان بک ہو چکا تھا اور مجھے دو عدد بورڈنگ کارڈ بھی مل چکے تھے۔ ایک لکسمبرگ ائر پورٹ کے لیے اور دوسرا استنبول سے کراچی کی فلائٹ کے لیے۔ میں نے بورڈنگ کارڈ اور پاسپورٹ ہاتھ میں پکڑے، کراس باڈی بیگ گلے میں لٹکایا ہینڈ کیری کو ساتھ لیا اور دوسرے گیٹ کی طرف چل دیا۔ جہاں سے میں نے اندر انٹر ہونا تھا۔ اندر جانے سے پہلے عمیر، آمنہ، اور ضوحا سے الوداعی معانقے کیے اور انہیں خدا حافظ کہہ کر گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
آج مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میرے پاس ساز و سامان میری بساط سے کہیں زیادہ ہے۔ دو بورڈنگ کارڈ، ایک پاسپورٹ، ایک کراس باڈی بیگ، ایک موبائل اور ایک ہینڈ کیری۔ ان ساری چیزوں کا صحیح طور پر میزان ہی نہیں ہو پا رہا تھا۔ کبھی جواب پانچ آتا کبھی چھ اور کبھی سات تک بھی پہنچ جاتا۔ بہرحال میں نے بھی زیادہ مغز ماری کرنا مناسب نہ سمجھا اور معاملات کو ایسے ہی چلنے دیا جیسے کہ وہ چل رہے تھے۔
ہمارے دیہات میں سفر پر جانے کا طریقِ کار یہ ہوا کرتا تھا کہ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے سفر میں ساتھ جانے والے نگوں کی گنتی کر لی جاتی۔ مثلاً ایک پوٹلی، ایک ہاکی، ایک بکسا، تین بچے اور ایک بیوی۔ اس طرح یہ کل سات نگ بن جاتے اور خاندان کے سربراہ گاہے بگاہے اپنے نگوں کی گنتی کر کے انہیں پورا کرتے رہتے اور جہاں کہیں ایک آدھ نگ کم ہو جاتا تو فوراً ہی اس کی ڈھنڈیا مچ جایا کرتی۔ مسئلہ اس وقت بن جاتا جب سربراہ کو یاد نہ رہتا کہ اس نے اپنے آپ کو نگوں کی گنتی میں شامل کیا تھا یا نہیں کیا تھا۔
اس طرح منزل مقصود پر پہنچنے تک نگوں کی کمی بیشی کے مسائل بنتے ہی رہتے۔ کبھی لگتا کہ سب نگ پورے ہیں۔ جب سربراہ صاحب اپنے آپ کو بھی نگوں میں شمار کر لیتے تو ایک نگ زیادہ ہو جاتا۔ کبھی ایک آدھ نگ کم بھی پڑ جاتا۔ بہرحال اسی طرح اپنے نگوں کی گنتی کرتے کراتے اور ان میں کمی بیشی لاتے لاتے منزل ِ مقصود پر پہنچ جاتے۔ تو اسی نسبت سے میں بھی اپنے ساتھ جانے والے نگوں کی گنتی کر لینا چاہتا تھا لیکن وہ ہو نہیں پا رہی تھی۔ کبھی میں پرس اور ہینڈ فری کو بھی ان نگوں میں شامل کر لیتا تو ان کی تعداد بڑھ جاتی اور جب دوبارہ گنتی کرتا تو ایک آدھ نگ گنتی سے رہ جاتا اور تعداد کم ہو جاتی اور کبھی یہ یاد نہ رہتا کہ نگ چھ گنے تھے یا سات۔
بہرحال میں نے پاسپورٹ، بورڈنگ کارڈ، موبائل، ہینڈ فری اور پرس سبھی چیزوں کو کراس باڈی بیگ میں ڈال کر ایک نگ بنا لیا اور دوسرا ہینڈ کیری تھا۔ میں نے اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے ساتھ جانے والے نگوں کی تعداد کو صرف دو تک ہی محدود کر لیا تھا۔ اس الجھن سے فارغ ہو کر میں اب خراماں، خراماں آگے بڑھ رہا تھا۔ لاؤنج میں داخل ہونے سے پہلے ایک اور گیٹ پر چیکنگ ہو رہی تھی۔ وہاں پرایک لائن لگی ہوئی تھی۔ میں بھی اس لائن میں لگ کر بے فکری سے کھڑا ہو گیا۔ نگوں کی تعداد دو تک ہی محدود ہونے پر میں اپنے آپ کو کافی ری لیکس محسوس کر رہا تھا۔ میری باری آئی تو کھڑکی میں تشریف فرما دفتری نے مجھ سے غالباً پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ طلب کیے جو میں نے اپنی سہولت کے لیے کراس باڈی بیگ میں کہیں رکھ دیے تھے۔
اس مشہور زمانہ بیگ کی غالباً کوئی پندرہ بیس کے قریب قریب چھوٹی چھوٹی جیبیں ہیں۔ اب مجھے انہی جیبوں میں سے جملہ دستاویزات ڈھونڈ کر سامنے بیٹھے ہوئے دفتری کو چیک کروانا تھیں۔ میں نے ایک جیب کو ٹٹولا وہاں پر میرے لکسمبرگ آنے کا ٹکٹ پرانے بورڈنگ کارڈ اور دوسرا بہت سا الم غلم موجود تھا لیکن پاسپورٹ نہیں تھا۔ دوسری، تیسری، پانچویں، دسویں، تیرہویں غرض کہ سبھی جیبوں کو میں نے باری باری ٹٹولا لیکن مطلوبہ کاغذات کہیں سے بھی برآمد نہ ہوئے۔ سامنے بیٹھا ہوا دفتری مجھے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا میں نے جب تلاشی کا کام دوبارہ نئے سرے سے شروع کیا تو اس نے مجھ سے پیچھے کھڑے ہوئے لوگوں کو بلا کر اُن کے کاغذات کی چیکنگ شروع کر دی۔ وہ غالباً مجھے سے مایوس ہو چکا تھا لیکن میں نے بھی جلد ہی اپنا پاسپورٹ تلاش کر لیا اور بورڈنگ کارڈ بھی جو میں نے بس شاید اتفاقاً ہی پاسپورٹ میں رکھ دیے تھے اگر اُن کو علیحدہ سے ڈھونڈنا پڑتا تو ظاہر ہے کہ اس کام کے لیے بھی مزید وقت درکار ہوتا۔
بہرحال میں نے جلدی سے اپنا پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ اس کے حضور پیش کر دیے لیکن میرے ساتھ اس کا رویہ بڑی سرد مہری پر مبنی تھا۔ اس نے میرے کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کی بجائے مجھے گیٹ کے سامنے پڑے ہوئے ایک صوفے پر تشریف رکھنے کا اشارہ کیا۔ جب کہ باقی لوگ اپنے اپنے کاغذات دکھا کر آگے جا رہے تھے۔ میں ابھی صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ ایک کالے سیاہ رنگ کا کُتا اپنی دونوں ٹانگیں میری گود میں رکھ کر میرا منہ سونگھنے لگا۔
بھلے زمانے میں رات گیارہ بجے، بارہ بجے کے بعد بازاروں میں پائے جانے والے لوگوں کا پولیس والے منہ سونگھا کرتے تھے اور جسے دل کرتا شراب نوشی کے جرم میں پکڑ لیتے۔ کسی کو آوارہ گردی میں پکڑ لیتے۔ عام طور پر سینما میں آخری شو دیکھ کر آنے والے لوگ سینما کا ٹکٹ اپنی جیب میں رکھتے تاکہ ایسے مشکل وقت میں پولیس کو ثبوت پیش کر سکیں کہ وہ آوارہ گردی نہیں کر رہے بلکہ فلم دیکھ کر آرہے ہیں۔ پولیس والے کبھی تو ان کا یہ بہانہ مان لیتے اور کبھی اُسے بھی ہوا میں اُڑا دیتے۔ آج کل تو خیر سے کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کو کسی بہانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ وہ جب چاہیں اور جیسے چاہیں اس کے گھر میں اس کے بیڈروم میں بھی داخل ہو کر قانونی اور آئینی طور پر اٹھا سکتے ہیں۔
کتے کے اس ناگہانی التفات سے میں گھبرا کر کھڑا ہونے لگا تو وہاں پر کھڑی ہوئی کتے کی مالکہ نے مجھے آگے بڑھ کر تسلی دی جو کہ لکسمبرگ زبان میں تھی۔ مجھے اس پورے فقرے میں صرف ایک لفظ friendly کی سمجھ آئی۔ کتا دو تین منٹ مجھے مختلف جگہوں سے سونگھتا رہا اس کے بعد اس نے میرے ہینڈکیری بیگ کے گرد چکر لگانے شروع کر دیے۔ وہ اسے بھی سونگھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کی اس سونگھا سانگھی کے بعد وہ واپس اپنی مالکن کے پاس گیا اور اس کے کان میں کوئی سرگوشی کر کے اس کی ٹانگوں کے درمیان جاکر بیٹھ گیا۔ غالباً وہ اپنا کام ختم کر چکا تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد کتا اور گوری دونوں ہی خاموشی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گئے۔ میں سمجھا کہ میری تلاشی کا کام ختم ہو گیا ہے میں ابھی اسی گومگو کی کیفیت میں تھا کہ ایک کالے بھجنگ حبشی نے مجھے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس نے میرے بیگ کی طرف اشارہ کر کے مجھے پوچھا۔ کوئی کرنسی، آپ دس ہزار یورو سے زیادہ کرنسی نہیں لے جا سکتے۔ وہ ٹوٹی پھوٹی میرے ہی جیسی انگریزی بول رہا تھا۔ اس لیے مجھے خوب سمجھ آ رہی تھی۔ میں نے اُسے بتایا کہ میرے پاس پرس میں دو تین سو یورو پڑے ہیں۔ بیگ میں کپڑوں اور دوسرے ساز و سامان کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ لیکن وہ بھی میری بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے مجھے بیگ کھولنے کا اشارہ کیا۔ اس بیگ کو احتیاطاً آمنہ نے لاک کر دیا تھا۔ مبادا کوئی دوسرا آدمی اس میں کوئی غلط ملط چیز نہ رکھ دے۔ میں نے کراس باڈی بیگ سے چابی نکالی اور بیگ کھول کر اس کے سامنے کر دیا۔ اس نے ایک ایک کر کے سب چیزوں کو باہر نکالا۔ انہیں اچھی طرح چھان پھٹک کر دیکھا۔ بیگ میں خفیہ خانے تلاش کرنے کے لیے اُسے خوب اچھی طرح ٹٹولتا رہا۔ لیکن اس میں سے اُسے کیا ملنا تھا۔ آخرکار مایوس ہو کر اس نے مجھے بیگ بند کرنے کا اشارہ کیا۔
میں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ اس سارے عرصے کے دوران مجھے کسی بھی قسم کی پریشانی یا گھبراہٹ ہر گز ہرگز نہیں تھی کیوں کہ میں یہاں پر اپنے قیام کے دوران یہ بات اچھی طرح جان چکا تھا کہ اگر آپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری اہل کار آپ کو بلاوجہ تنگ نہیں کر سکتا۔ بہرحال اس نے میرے بیگ کی اچھی طرح تلاشی لینے کے بعد اسے بند کر لینے کا اشارہ کیا بلکہ بیگ کے اندر سامان سیٹ کرنے میں میری مدد کی اور اس کے بعد میں آرام سے اپنا بیگ اٹھا کر اپنے مطلوبہ گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں اِدھر اُدھر گھومتا پھرتا رہا اور پھر وقت پر باقی مسافروں کے ساتھ میں بھی اپنے جہاز میں سوار ہو گیا۔
کل سے لکسمبرگ کا درجہ حرارت منفی دو ڈگری سنٹی گریڈ چل رہا تھا۔ اس لیے آج صبح گھر سے نکلتے وقت میں نے خالص دیہاتی انداز میں موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے پہنے جانے والے کپڑوں کی تعداد میں موسم کی شدت کی نسبت کے لحاظ سے اضافہ کر دیا تھا۔ میں نے نیچے بنیان پر ایک موٹی ہائی نیک اوپر ایک پورے بازو کی شرٹ پھر ایک ہڈی والا اپر اور اس کے اوپر ایک ونڈ پروف موٹی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اسی طرح نیچے انڈوریر کے اوپر ایک فل ٹائٹ موٹا پاجامہ اور اس کے اوپر گرم ٹراؤزر پہنا ہوا تھا۔ پاؤں میں دو عدد جرابیں پہن رکھی تھیں۔ چہرے کے بیشتر حصے کو بھی ہُڈی سے ڈھانپ رکھا تھا۔ پس صرف دیکھنے کے لیے آنکھیں اور اس کے اردگرد چہرے کا تھوڑا سا حصہ ہی ننگا تھا۔ ہوائی جہاز کے اُڑان بھرنے کے آٹھ دس منٹ کے بعد مجھے گرمی محسوس ہونے لگی۔ اب میں اپنے آپ کو ایک تجربہ کار انٹرینشنل ٹریولر سمجھ رہا تھا۔ میں نے اپنے اوپر لدے ہوئے کپڑوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا آغاز کر دیا۔ اپنے کراس باڈی بیگ کو گلے سے اتار کر سامنے والی سیٹ کی پچھلی جیب میں رکھا۔ موبائل فون کو جیکٹ کی جیب سے نکال کر اپنے ساتھ ہی سیٹ پر رکھ لیا۔ اس کے بعد میں نے اوپر پہنی ہوئی جیکٹ کو اُتار کر اپنے ساتھ ہی جہاز کی باڈی کے درمیان رکھ لیا لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد احساس ہوا کہ ابھی کام نہیں چلا۔ ابھی اور بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے تو میں نے ہُڈی کو بھی اتار کر جیکٹ کے ساتھ ہی رکھ دیا۔ اب ٹراؤزر کے نیچے پہنے ہوئے ٹائٹ گرم پاجامے کو یوں بھرے پرے جہاز میں سب کے سامنے اُتارنا ذرا نامناسب خیال کرتے ہوئے اُسے اس کے حال پر چھوڑ کر آرام سے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اس کے بعد میں نے کراس باڈی بیگ کو اُٹھا کر اپنے گلے میں پہن لیا اور موبائل پر فیس بک کھول کر چیک کرنے لگا۔ مجھے عینک کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں نے ڈوری کی مدد سے گلے میں لٹکائی ہوئی عینک ڈھونڈنے کی کوشش کی جو اپنی جگہ پر موجود نہیں تھی۔ اب مجھے فکر لاحق ہوئی کہ عینک کہاں غائب ہو گئی ہے۔ غور و فکر کرنے پر سمجھ آئی کہ جب میں نے جیکٹ اور جرسی اُتاری تھی۔ تو عینک بھی اُن کے ساتھ ہی اتر گئی ہوگی میں نے ان دونوں کو ایک ایک کر کے اوپر اٹھا کر ڈھونڈا لیکن وہ کہیں بھی نہیں ملی۔ اس کے بعد میں نے اپنے پاؤں میں دیکھا تو وہاں بھی موجود نہیں تھی۔ اپنی سیٹ اور اگلی سیٹ کے نیچے جھانکنے کی کوشش کی وہاں بھی موجود نہیں تھی۔
میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے مجھے اس طرح بے چین دیکھا تو انگلش میں دریافت کیا کہ کیا مسئلہ ہے۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں اپنی عینک کہیں کھو چکا ہوں۔ اس نے ہم دونوں کے درمیان سیٹ کے اوپر پڑی ہوئی میری عینک اٹھا کر مسکراتے ہوئے میری طرف بڑھا دی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہو تو میں نے اُسے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں اور براستہ استنبول کراچی جا رہا ہوں۔ میرے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ ازبک ہے اور براستہ استنبول ازبکستان جا رہا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ امیر تیمور کی نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام امیر تیمور کے اس پوتے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ جو گیارہ سال کی عمر میں باشاہ بنا تھا اور وہ ایک ریاضی دان اور ماہر فلکیات بھی تھا اس کا نام مشکل سا تھا جو میرے ذہن سے نکل گیا ہے۔
میں شیشے کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا میں نے شیشے سے باہر جھانکا تو معلوم ہوا کہ جہاز کسی پہاڑ کے اوپر اڑ رہا تھا۔ یہ خشک پہاڑ تھا اس کے سفید پتھر اور اُن کے درمیان موجود سیاہ رنگ کی رگیں بالکل واضح دکھائی دے رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ کسی ماہر سنگ تراش نے کمال مہارت سے سفید پتھر کے اوپر سیاہ رنگ کی پچی کاری بڑی ترتیب کے ساتھ کی ہوئی ہے۔ پہاڑ سے تھوڑے فاصلے پر روئی کے سفید گالوں کی طرح بادل دکھائی دے رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد اچانک ہی پتھروں کی رنگت اور ساخت تبدیل ہو گئی۔ یوں لگتا تھا کہ سرخی مائل بھورے رنگ کے بڑے بڑے پتھریلے بلاک ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھے ہوئے ہیں اور اُن کے درمیان کسی ماہر کاریگر نے سلیٹی رنگت کا مصالحہ بھر دیا ہے۔ ہر پتھر بالکل واضح اور علیحدہ علیٰحدہ دکھائی دے رہا تھا۔ قدرت کی اس خوب صورت صناعی پر رشک آ رہا تھا۔ کچھ دیر تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ اس کے بعد پہاڑ نے ایک بار پھر اپنی رنگت تبدیل کرلی۔ اب سیاہ رنگت کے بڑے بڑے لہرئیے دار کناروں والے پتھروں کو سفید منحنی سے باریک خطوط نے ایک دوسرے سے علیحدہ کر رکھا تھا۔
لکسمبرگ سے استنبول تک جہاز کا سفر پہاڑی چوٹیوں کے اوپر اوپر ہی تھا اور یہ چوٹیاں اس قدر بلند تھیں کہ جہاز کے شیشے سے صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ اس سارے سفر کے دوران میں بڑے انہماک سے نیچے کے مناظر دیکھنے میں محو رہا اور قدرت کی صناعی کو دل ہی دل میں داد دیتا رہا جونہی پہاڑی سلسلہ ختم ہوا تو ہمارا جہاز روئی کے گالوں جیسے سفید بادلوں میں داخل ہو گیا۔ ہم لوگ استنبول پہنچے والے ہی تھے کیوں کہ ائر ہوسٹس سیٹ بیلٹ باندھنے کا کہہ رہی تھی۔ ہوائی جہاز نے ٹھیک پانچ بجے شام استنبول ائر پورٹ پر لینڈ کیا۔ یہاں پر پانچ گھنٹے کے قیام کے بعد رات دس بجے ہمیں کراچی کے لیے روانہ ہونا تھا۔ یہ سارا عرصہ وہیل چیئر والے مجھے ائر پورٹ کے اندر مختلف جگہوں پر گھماتے پھراتے رہے۔ ان لوگوں کا وہیل چیئر والا نظام بہت ناقص اور فرسودہ ہے۔ مسافر کو آخر وقت تک فلائٹ مس ہونے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ ہمیں بھی ان لوگوں نے تقریباً دس بجے ہمارے مطلوبہ گیٹ پر پہنچایا تو معلوم ہوا کہ فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ ہے۔
لکسمبرگ جاتے ہوئے بھی یہاں پر ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ گیارہ بجے کے قریب جہاز نے کراچی کے لیے اُڑان بھری۔ تھوڑی دیر کے بعد کھانا آ گیا۔ جو حسبِ معمول بے ذائقہ سا اور ہماری سمجھ میں نہ آنے والی اشیائے خوردنی پر مشتمل تھا۔ یہ کھانا بھی میں نے نہایت رغبت کے ساتھ کھا کر اپنے رازق کا شکر ادا کیا۔ برتن سمیٹنے کے بعد جہاز کے اندر کی لائٹیں بجھا دی گئیں۔ باہر بھی چاروں طرف دور دور تک گھپ اندھیرا تھا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پربھی ایک عینک زدہ سا نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ جو خاصا آدم بیزار دکھائی دے رہا تھا۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر میں نے بھی اپنی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں اور یہ پانچ گھنٹوں کا سفر میں نے سونے اور جاگنے کی درمیانی سی کیفیت میں گزارا اور صبح صادق کے وقت جب سپیدۂ سحر نمودار ہو رہا تھا۔ میں کراچی ائر پورٹ پر اپنے ہینڈ کیری کو سنبھالے ہوئے جہاز سے باہر آ رہا تھا۔



کراچی سے بورے والا کا سفر پڑھنے کا بعد لکسمبرگ سے کراچی اب یوں لگ رہا ہے جیسے مانو ولیمے کے بعد نکاح ہو رہا ہو !
میں نے تو ترتیب میں ہی بھیجا تھا لیکن ہم سب نے اس مس کردیا تھا
گویا ہم دونوں ہی درست ہیں
جی درست فرمایا آپ نے