مہذب دنیا، ٹرمپ کے نشانے پر
دو ہزار سترہ میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اختیارات سنبھالے تو میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا اگر دنیا میں قحط الرجال نہ ہوتا تو امریکہ میں صدر ٹرمپ، انڈیا میں انتہا پسند مودی اور پاکستان میں مطلق العنان طبیعت کے مالک عمران خان اختیارات کے مالک نہ ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسندی کے حوالے سے ان تینوں رہنماؤں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ البتہ ان میں فرق یہ ہے کہ مودی اپنے جذبات کا اظہار کھل کر نہیں کرتے ہیں وہ خاموشی سے عملی کام کرتے ہیں جبکہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں یعنی اعلان پہلے کرتے ہیں عمل بعد میں شروع کر دیتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ اپنے پہلے دور اقتدار میں اتنا جارحانہ اور جابرانہ نہیں تھا اگرچہ اس دور میں بھی وہ عمران خان کی طرح سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے تھے۔ اور اکثر پالیسی معاملات بھی وزارت خارجہ اور ترجمانوں کی بجائے اپنے بے وقوفانہ ٹویٹس کے ذریعے بیان کرتے، مگر اس مرتبہ انھوں نے جو اودھم مچا رکھا ہے اس کی مثال مہذب دنیا کی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔
یعنی کرسی صدارت سنبھالتے ہی ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ان تمام مجرموں کو معافی دلانا جو کیپٹل ہل حملے میں ملوث تھے یہ امریکی قوانین اور عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ اور ملک کے باقی مہذب اور قانون پسند شہریوں کے لئے صدمے سے کم نہ تھا۔
کینیڈا جیسے دوست پڑوسی ملک کے خلاف بیان دینا کہ وہ امریکہ میں ضم ہو جائے یا پچیس فیصد اضافی ٹیکسز کے لئے تیار ہو جائے۔ شاید اس قسم کے جارحانہ بیان کی توقع ایک فیصد کینیڈین کو بھی نہیں تھی۔ چند دن بعد ہی انھوں نے کینیڈین مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا اس کے جواب میں کینیڈا کو بھی یہی کرنا پڑا۔ اور کینیڈین وزیر اعظم نے اپنے عوام سے امریکہ کی بجائے اپنی مصنوعات کے استعمال کی اپیل کی۔
میکسیکو کی مصنوعات پر نہ صرف 25 فیصد ٹیکس عائد کیا بلکہ اپنی بالا دستی بڑھانے کے لئے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کر کے خلیج امریکہ رکھنے کی تجویز دے ڈالی۔ اور میکسیکو سے روزمرہ کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کردی۔
سعودی عرب پر زور ڈالا کہ وہ سرمایہ کاری کے نام پر امریکہ اسلحہ انڈسٹری سے کم از کم ایک ہزار ارب ڈالر کی خریداری کرے تاکہ، آپ کی حفاظت، برقرار رہے۔ یہی رویہ چائنا سمیت کئی ممالک کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ، سب سے پہلے امریکہ، والی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دنیا کو مجبور کر رہا ہے کہ باہمی تجارت میں مفادات کا جھکاؤ امریکہ کی طرف ہو۔ مگر بات یہاں پر رکی نہیں اور مہذب دنیا اس وقت انگشت بدنداں رہ گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے 46 ہزار فلسطینیوں کے قاتل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ہم غزہ کی پٹی پر مستقل قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں اور فلسطینیوں کو یہاں سے دوسرے ممالک منتقل کر کے غزہ کی تعمیر نو کریں گے، ابھی اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ امریکی وائٹ ہاؤس، وزرات خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے اس کی توضیحات اور تشریحات اور دنیا کے مہذب ممالک کی جانب سے اس کی مذمت کا سلسلہ جاری تھا کہ انھوں نے ایک اور بم پھوڑ دیا۔ انھوں نے اسرائیل کے بے گناہ بچوں اور خواتین کے قاتل وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ دینے والے عالمی عدالت انصاف کی نہ صرف مذمت کی بلکہ فیصلہ دینے والے ججز کے خلاف مختلف پابندیاں عائد کردی۔
میری ناقص رائے میں یہ بیان اور اقدام عالمی قوانین کا مذاق اڑانا اور مہذب دنیا کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس جارحانہ اور انتہا پسندانہ اقدامات سے ثابت کر رہا ہے کہ امریکہ میں مہذب اور جمہوری سوچ رکھنے والے لوگ اب اقلیت میں ہے اس لیے کیونکہ وہ حال ہی میں منتخب ہو کر اقتدار میں آئے ہیں اور وہ انتہا پسندوں کا نمائندہ ہے۔
میں یہ تو نہیں سمجھتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ان تمام اعلانات اور اقدامات پر عملدرآمد کرا سکے گا۔ مگر مجھے یقین ہے کہ ان کے ہاتھ روکنے والے اور ان کے اعلانات کی کھل کر مخالفت کرنے والے یقیناً مسلم رہنماٗ نہیں ہوں گے۔ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلانات کو رنگ نسل اور مذہب کے ترازو میں تولنے کی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ وہ امریکن سپرمیسی کے دلدادہ ایک انتہا پسند عیسائی ہیں۔ وہ اس پر سوچنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں کہ وہ امریکی مفادات کے نام پر جس کو لتاڑ رہے ہیں وہ مسلمان ہے عیسائی ہے یہودی ہے یا کوئی اور، وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ جن ممالک کو ٹارگٹ کر رہے ہیں وہ صدیوں سے امریکہ کے دوست ہیں اور ان کے درمیان باہمی احترام اور مساوات کا رشتہ ہے۔
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ نے ہمیشہ دنیا سے اپنی بات منوائی ہے لیکن اس کے لئے علانیہ طاقت کو کم اور نرم لہجے اور ڈپلومیسی کو زیادہ استعمال کیا ہے۔ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کا سہارا لے کر امریکہ نے ہمیشہ دنیا بھر کے عوام کا استحصال کیا ہے۔ غریب ممالک کی معدنیات کو طاقت، دھونس اور دھاندلی سے ہڑپ کر لیا ہے مگر جو لہجہ اور طریقہ ڈونلڈ ٹرمپ نے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ایسے لگتا ہے کہ وہ مہذب دنیا سے زیادہ خود امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹا گان اور دنیا بھر میں ان کے سفارتکاروں کے لئے مشکلات کا باعث بنے گا۔
دنیا کے سب سے طاقتور عہدے پر براجمان شخص کے خیالات بیانات اور اقدامات یقیناً دنیا کو متاثر کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی مہذب عوام اور ان کے دور اندیش اور منظم ادارے اس سرپھرے انتہا پسند شخص کو کنٹرول کرسکیں گے یا پھر انہی کی وجہ سے دنیا بھر کے مہذب ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات شدید متاثر ہوں گے۔ اور دنیا بھر میں تجارت بھاری بھرکم ٹیکسز کی وجہ سے مندی کا شکار ہوگی جس کا خمیازہ عالمی سطح پر عوام کو بھگتنا ہو گا۔ اور شاید یہ کرونا وبا کے بعد دنیا کو متاثر کرنے والا سب سے بڑا فیکٹر ہو گا۔


