کوئی پابندی رہ تو نہیں گئی لگانے والی؟ مکمل کالم
ایک سٹیج ڈرامے میں امان اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اگر 9 / 11 کا واقعہ پاکستان میں پیش آیا ہوتا تو حکومت نے کیا کرنا تھا۔ اپنے وقت کے بے مثال کامیڈین نے جواب دیا ”حکومت نے اور تو کچھ نہیں کرنا تھا، بس ڈبل سواری پر پابندی لگا دینی تھی!“ امان اللہ نے اِس ایک جملے میں ہماری گورننس کا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جو لوگ میک گِل اور سٹینفرڈ جیسی یونیورسٹیوں سے مینجمنٹ سیکھ کر آتے ہیں اُن کے پاس ہر مسئلے کا حل صرف پابندی ہی کیوں ہوتا ہے؟ دھُند بڑھ جائے تو موٹر وے بند کر دو اور کوئی دھاتی ڈور استعمال کرے تو بسنت پر پابندی لگا دو۔ کلر کہار پر حادثات بڑھے تو صاحبانِ عقل و دانش نے یہ نسخہ نکالا کہ ہر بس کو کلر کہار کی پہاڑیوں سے پہلے اور بعد میں روکا جائے، مسافروں کی خواری میں بھی اضافہ ہوا اور ساتھ ہی موٹروے کا سفر بھی پون گھنٹہ طویل ہو گیا، گویا جس مقصد کے لیے موٹروے بنی تھی وہی فوت ہو گیا۔
دھُند میں جو گاڑیاں موٹروے پر رواں دواں ہوتی ہیں انہیں زبردستی مضافات کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے جو کہ مزید خطرناک بات ہے کیونکہ موٹروے کے آس پاس گاؤں ہیں جہاں سے کسی راستے کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ بندہ پوچھے کہ دھُند کیا صرف موٹروے پر ہی ہوتی ہے اور اردگرد مطلع صاف ہوتا ہے؟ اسی طرح ہم نے بسنت کا بھی ستیاناس کر دیا ہے۔ صدیوں پرانے اِس تہوار پر اب باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، پتنگ اُڑانا اب پنجاب میں جُرم ہے، بسنت منانے پر سات سال قید اور پچاس لاکھ جُرمانہ ہو گا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
مزید سوچ بچار یہ بھی جاری ہے کہ پنجاب میں اُن رقاصاؤں اور اداکاراؤں پر تاحیات پابندی لگا دی جائے جو سٹیج پر فحش ڈانس کرتی ہیں۔ اِس اِقدام کی تو حمایت کی جانی چاہیے، ہاں، مگر نہیں۔ ریاست اُن کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکی جن کی وجہ سے یہ عورتیں پانچ سو مردوں کے ہجوم میں خود کو برہنہ کرنے پر مجبور ہوتی ہیں البتہ اِن عورتوں پر قیامت تک پابندی لگانا چونکہ آسان کام ہے اِس لیے یہ کام ریاست کر گزرے گی، یعنی برق گرے گی تو بیچاری ڈانسرز پر!
موٹروے ہو، بسنت ہو یا سٹیج ڈانسرز کا معاملہ، سوال یہ ہے کہ اِن مسائل پر ریاست کے ردِّعمل کی نوعیت کیا ہے؟ اِس بات سے کسی کو اِنکار نہیں کہ موٹروے پر دھُند خطرناک ہوتی ہے، بسنت میں دھاتی ڈور کے استعمال سے جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور پنجاب کے سٹیج ڈرامے اب بے حد فحش ہو چکے ہیں، مگر اِن مسائل سے نمٹنے کا جو طریقہ ہمارے بزرجمہروں نے تلاش کیا ہے، اُس پر امان اللہ کی جُگت ہی مُنطبق ہوتی ہے۔
ریاست کا رَدّعمل دو طرح سے غلط ہے۔ ریاستی اہلکاروں کو اِن مسائل کا جو حل پیش کرنا چاہیے وہ اصل میں طویل مدتی ہے اور وقت چونکہ کسی کے پاس نہیں اِس لیے کوئی بھی یہ حل سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مثلاٴ ہم نے اپنی ٹریفک کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے، ٹریفک لائسنس کی کوئی وقعت ہی نہیں، اگر کسی کے پاس ہو تو ٹھیک نہ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا، اسی طرح گاڑی کی حالت جیسی بھی ہو آپ اسے بے فکری سے سڑک پر لا سکتے ہیں، کوئی آپ کی گاڑی بند نہیں کرے گا، موٹروے پولیس بھی نہیں۔
کلرکہار پر حادثے اِس لیے نہیں ہوتے کہ وہاں بس چلانا مشکل کام ہے، وہاں حادثات تیزرفتاری اور لاپروائی کی وجہ سے ہوتے ہیں، اور یہ لاپروائی اِس لیے ہے کہ لوگوں کو علم ہے کہ اگر ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر کوئی جرمانہ عائد ہو بھی گیا تو بھی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہے گی، جبکہ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں لائسنس کی منسوخی سے زندگی عملاً معطل ہو جاتی ہے۔ ہم ٹریفک قانون پر تو عمل نہ کروا سکے، آسان حل یہ نکالا کہ کلرکہار کے آس پاس مسافر بسیں روک کر لوگوں کو ذلیل کریں، یہ کام ہمیں خوب آتا ہے۔
اب آ جائیں بسنت پر۔ ہم سے دھاتی ڈور بنانے والے نہیں پکڑے گئے، ہوائی فائرنگ کرنے والے قابو نہیں آئے، اِس لیے ہم نے اُس تہوار پر پابندی لگا دی جو صدیوں سے لاہور میں منایا جا رہا تھا اور جسے دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے سیاح لاہور آتے تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سپین میں بُل فائٹنگ یا ہندوستان میں کمبھ کے میلے پر پابندی لگا دی جائے۔
ریاست کے ردعمل کا یہ ایک پہلو ہے جو کہ احمقانہ ہے، جبکہ دوسرا پہلو خطرناک ہے۔ پنجاب کے تھیٹروں میں فحش ناچ ہوتا ہے اِس بات میں کوئی شک نہیں، لیکن ہر مرض کا علاج پابندی نہیں ہوتا۔ دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور آزاد معاشروں میں اُن کے ذوق کی تسکین کا سامان بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ لوگ سٹرِپ ٹیز کلب بھی جاتے ہیں اور تھیٹر میں شیکسپئیر کا ڈرامہ دیکھنے بھی، دنیا میں ٹرانس جینڈرز کے رقص کا اہتمام بھی ہوتا ہے اور سٹینڈ اَپ کامیڈی کے شو بھی کیے جاتے ہیں، جس کا جو مَن ہوتا ہے وہ وہاں چلا جاتا ہے۔ ”مسجِد مَندِر یہ میخانے، کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے۔“ لیکن یہ حل پیش کرنے کی ہمت کسی میں نہیں لہذا آسان حل وہی کہ پابندی لگا دو۔
اِس پابندی کا جواز ضرور بنتا ہے مگر اُس صورت میں اگر اِسی نوعیت کی پابندی اُس طبقے پر بھی لگائی جائے جو روزانہ مِنبر سے کفر و اِلحاد کے فتوے جاری کرتا ہے۔ سٹیج پر ناچنے والی عورتیں معاشرے کے سب سے پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، شوگر مِل اور ٹیکسٹائل مِل مالکان کی طرح اِن بیچاریوں کے پاس نہ لابنگ کرنے کے پیسے ہیں اور نہ وسائل، جس دن اِن پر پابندی عائد ہوگی اُس دن یہ گھر بیٹھ جائیں گی اور اُن چار پیسوں کی آمدن سے بھی محروم ہو جائیں گی جو انہیں تھیٹر سے آتے ہیں۔ ماں جیسی ریاست نے اِن عورتوں کو نہ پڑھایا لکھایا اور نہ انہیں با اِختیار بنایا مگر اِن پر پابندی لگانے میں شیر ہے۔ البتہ وہاں ریاست کی گھِگھی بند جاتی ہے جہاں کوئی شخص، گروہ یا جماعت مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ریاست کو بلیک میل کرے اور پورے معاشرے کو ننگا کر دے، وہاں کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ اُن پر پابندی تو دور کی بات مذمتی بیان ہی جاری کر دے۔
ہمارا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو دنیا نے اِس سے پہلے حل نہ کیا ہو۔ دنیا نے موٹرویز ہم سے پہلے بنائیں، دنیا میں صدیوں پرانے تہوار بھی منائے جاتے ہیں اور دنیا کے تھیٹروں میں اِس بھی زیادہ فحش ناچ ہوتا ہے جو ہمارے ہاں ہوتا ہے، مگر دنیا پابندی نہیں لگاتی بلکہ
Life, liberty and pursuit of happiness
کے اصول پر چلتی ہے۔ ہمیں جہاں کچھ سمجھ نہیں آتی وہاں پابندی کا کلہاڑا چلا دیتے ہیں، اگر تمام مسائل کا حل پابندی کی صورت میں ہی نکالنا ہے تو پھر انواع و اقسام کی منیجمنٹ کی ڈگریاں حاصل کرنے کا کیا فائدہ، کسی بھی انگوٹھا چھاپ کو افسر لگا دیں، پابندیاں تو وہ بھی تجویز کر دے گا۔
بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ایک ہی مرتبہ قانون پاس کر دیں کہ ہر اُس بات پر پابندی ہے جس کی بابت پابندی کا کوئی قانون نافذالعمل نہیں تاکہ بار بار زحمت نہ ہو اور عوام کا پیسہ بھی بچ جائے۔ سچ پوچھیں تو اِس ملک میں اگر کسی بات پر پابندی ہونی چاہیے تو وہ دو سے زائد بچے پیدا کرنے پر ہونی چاہیے، مگر کسی مائی کے لعل میں جرات نہیں کہ یہ پابندی لگائے۔ لہذا جب تک ہم وہ جرات نہ حاصل کر لیں تب تک سٹیج ڈانسرز پر پابندی ہی ٹھیک ہے!


