جمعہ مبارک
جمعہ سے پہلا تعارف سن انیس سو ترانوے میں اس وقت ہوا جب ہم گورنمنٹ پرائمری سکول میں خاکبازی کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ایک دن اپنے ٹاٹ پر بیٹھے سلیٹ لکھ رہے تھے کہ ایک ہم جماعت نے اچانک حکم صادر فرمایا کہ جلدی میری سلیٹی واپس کرو۔ ہم نے پوچھا کیوں؟ اس نے کہا کیونکہ آج جمعرات ہے۔ اس کے بعد اس نے لحن داؤدی میں پڑھا
ادھی چھٹی ساری
میاں مکھی ماری
اس کے بعد دو اور مصرعے بھی پڑھے جنہیں سخن گسترانہ ہونے کے باعث قلم زد کرنا پڑ رہا ہے وسیب کے باسیوں کو بخوبی یاد ہوں گے۔ چھٹی ہوئی تو راستے میں اس نے بتایا کہ کل جمعہ ہے اور کل پوری چھٹی ہے۔ اس دور میں ہمارے ہاں جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی۔ جمعہ کے دن ہم نے دیکھا کہ صبح ناشتے کے بعد ہی مساجد کے سپیکر کھڑکنے شروع ہوئے اور ان میں طرح طرح کے جِیو اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے۔ بچپن میں حواس خمسہ ناقص ہوتے ہیں لہذا کچھ کا کچھ سنائی دیتا ہے۔ ہمیں بھی کہیں سے ہنہنانے اور کہیں سے غرانے کی آوازیں سنائی دیتیں۔ باہر نکلے تو دیکھا بازار سب بند ہیں۔ کچھ بدقسمت مرکزی راستے بھی بند ہیں۔ جسے دیکھو ہر شخص نہانے پر تلا ہوا تھا۔ دیکھا دیکھی ہم بھی نہا لیے اور خوشبو لگا مسجد جا پہنچے۔ ابھی دو چار لوگ ہی آئے تھے۔ ہم اگلی صف میں جا کر بیٹھ گئے۔ تسبیح نکالی اور آنکھیں بند کر کے مراقبے میں گئے ہی تھے کہ کسی نے گُدی کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا اور گھسیٹتا ہوا آخری صف میں جوتوں کے ساتھ دھکا دے کر گرا دیا۔ ہم نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو چُگی داڑھی والا پیش امام لال لال آنکھیں نکالے ہمیں گھور رہا تھا۔ اس کے بعد وہ منبر کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس کی اونچی نشست پر براجمان ہوا اور اسلامی تاریخ کے وہ واقعات سنانے لگا جن میں چھوٹوں سے شفقت کا ذکر ہے۔
جو آتا تھا وہ گردنیں پھلانگ کر اگلی صفوں میں جاکر گھس بیٹھنے کی ٹرائی مارتا۔ دیکھتے دیکھتے مسجد کھچا کھچ بھر گئی۔ مولوی نے خطبہ دیا اور جماعت کھڑی ہو گئی۔ سلام پھیرتے ہی مولوی نے باآواز بلند کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا تو چار و ناچار مقتدیوں کو بھی ساتھ دینا پڑا۔ مجھے پہلے تو اس عمل کی لاجک سمجھ نہ آئی لیکن پھر فوراً میری نظر دو آدمیوں پر پڑی جنہوں نے کپڑے کی جھولی پھیلائی ہوئی تھی اور وہ اسے ہر نمازی کے سامنے لے جا رہے تھے۔ نمازی دبا دب اس میں ایک، دو، پانچ اور دس روپے کے نوٹ ڈالتے جا رہے تھے۔ جو نہ ڈالتا اس پر یہ دونوں امریش پوری اور شکتی کپور چلتے چلتے دو ایک سیکنڈ کا توقف کرتے، زہریلی نظروں سے دیکھتے اور زیر لب کچھ بڑبڑاتے جو صاف سمجھ آ جاتا تھا۔ میرے سامنے آتے تو میں گھبرا کر نانا ابو سے لیا ہوا پانچ روپے کا نوٹ ڈال دیتا تھا یہ مطمئن ہو کر آگے بڑھتے اور اگلے نمازی پر متوجہ ہوتے تو آنکھ بچا کر بقایا کی مد میں دس روپے والا نوٹ اٹھا لیا کرتا تھا۔
باہر نکلتے تو ہر چوتھا نمازی جوتا چوری ہونے پر کھلی کچہری لگائے کھڑا ہوتا۔ کوئی ننگے پیر گھر جاتا یا پھر کسی کا جوتا پہن کر جاتا اور گھر سے نئے جوتے لاتا۔ الحمدللہ آج تک وہی صورت حال ہے۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہر فرقے کی مسجد میں جمعہ پڑھا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب ہم کہیں بھی جمعہ نہیں پڑھتے۔ ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ گئی۔ آخری جمعہ کب پڑھا تھا؟ بقول غنی بھائی کچھ یاد نہیں بہت چھوٹا تھا۔
جمعہ کے فضائل کے باب میں اور کیا عرض کروں؟ الفاظ محدود ہیں۔ کوشش کرتے ہیں۔ شروع سے شروع کرتے ہیں۔ جس دن یہ کائنات بنی اس دن جمعہ کا دن تھا۔ جس دن ختم ہوگی اس دن بھی جمعے کا دن ہو گا۔ اب آ جاؤ ذرا تھوڑا نیچے۔ جمعے کے دن ہمارے ہاں سڑکوں پر بالکل رش دیکھنے کو نہیں ملتا۔ جہاں چاہو شوٹوں شوٹ جاؤ۔ خصوصاً جمعہ نماز کے ٹائم تو سڑکیں رن وے کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ سڑک کنارے جہاں مرضی گاڑی لگا دو پارکنگ یوں آسانی سے مل جاتی ہے جیسے سویڈن ہو۔
اگر آپ کو کوئی بھی ضروری چیز خریدنی ہے تو اس دن دکان بند ملے گی۔
اس دن ہر زچہ بچہ، امیر فقیر، زاہد و رند سب لوگ نہا لیتے ہیں۔ کتنی بڑی بات ہے۔ سردیاں ہوں تو جمعہ کی برکت سے گیس آتی رہتی ہے۔ گرمیاں ہوں تو چاہے جتنی مرضی لوڈ شیڈنگ ہو جمعہ کے دن بجلی آتی رہتی ہے۔ گوروں کے ہاں ایک خاص جمعے پر بلیک فرائیڈے کے میلے اور سیلیں لگتی ہیں جبکہ کالوں کے ہاں پہلے تو اس کا مکمل بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن جب عوام ضد سے باز نہیں آتے تو مجبوراً انہیں بھی بلیسڈ فرائیڈے یا وائٹ فرائیڈے لگانا پڑتا ہے۔ ممکن ہے آگے آگے پنک فرائیڈے بھی شروع ہو جائے۔
ایک اور فضیلت جمعہ کی یہ ہے کہ صبح اٹھتے ہی موبائل کی سٹوریج جمعہ مبارک کے میسجز سے فل ہوجاتی ہے۔ ان میسجز کے نیچے گلاب کے پھول بنا کر انہیں رومانٹک بنانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے مگر جمعہ کی برکت سے شیاطین ناکام رہتے ہیں۔ جن لوگوں نے پچھلے چھ دن سے کپڑے نہیں بدلے ہوتے جمعہ کے طفیل اگلے چھ دن کے لئے تبدیلی جامہ کرتے ہیں اور ان کے گرد و پیش رہنے والوں کو ایک دن کے لئے تشکر کا موقع ملتا ہے۔
اس دن ہر صاحب ایمان کے دل پر ایک کیفیت روحانی طاری ہوجاتی ہے بلکہ بے ایمان بھی اس سے نہیں بچ سکتا۔ ایک دفعہ کیا ہوا ہم کسی پنج ستارہ ہوٹل میں قیام پذیر تھے اور جمعہ آ گیا۔ ہوٹل میں جمعہ کی سرگرمیاں شروع ہو گئیں تو ہم جھنجھلا کر ہوٹل کے بار کے دروازے پر چلے گئے۔ وہاں ایک منحنی سا آدمی کھڑا تھا۔ ہم نے اشارہ کیا تو وہ آگے سے کلوز کا اشارہ کر کے مسکین سی صورت بنا کر بولا سوری سر آج جمعہ ہے۔ ساتھ ہی اس نے بار کی دیوار پر لکھی ہوئی ہدایت پر اشارہ کر دیا۔
’ہر جمعہ کو جمعۃ المبارک کے احترام میں بار بند رہے گا۔‘
ہمارے منہ سے بے اختیار نکلا سبحان اللہ۔


