پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کا سفر۔ (آخری قسط)


میرے بچوں کی تربیت میں بیگم کا کردار

” جیسے یہاں بچوں کے دماغ میں بٹھایا جاتا ہے کہ تم نے مقابلے کا امتحان دے کر سرکاری افسر، ڈاکٹر، انجینئیر، پائلٹ بننا ہے باقی سب کام بکواس ہیں تو آپ نے بھی اپنے بچوں کو کچھ کہا؟“ ۔

” تھوڑی بہت راہنمائی تو کی ہی جاتی ہے۔ میں تدریس کا کام کرتا ہوں۔ میری بیگم شادی سے پہلے پاکستان میں ڈاکٹر تھیں۔ عرض ہے کہ امریکی معاشرے میں گھر سے راہنمائی مِلنا ایک نعمت ہے۔ کیوں کہ وہاں سماجی ڈھانچہ کافی کمزور ہے۔ ماں باپ آناً فاناً علیحدگی کے فیصلے کر لیتے ہیں۔ بہت سے طلباء کا ایک ہی سرپرست ہوتا ہے اور بعض کا کوئی بھی نہیں! ہمارے بچوں کی بنیادی راہنمائی میں زیادہ کردار میری بیگم صاحبہ کا ہے۔ اس نے خود کام کرنے اور اپنا پیشہ چھوڑ کے بچوں کی تربیت اور پرورش کو فوقیت دی۔ میں نے اپنے بچوں کو کافی حد تک آزاد ہی چھوڑ دیا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا کہ وہ کرو جس میں تمہاری خوشی اور دلچسپی ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے راستے خود منتخب کیے ہیں۔ میرا بڑا بیٹا یونیورسٹی میں اور دوسرا ابھی ہائی اسکول میں ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اس کا اسکوپ زیادہ ہے یا اس کا کم! بدقسمتی سے اب پاکستان میں ایسے بہت کم شعبے رہ گئے ہیں جس میں جانے والے اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔ امریکہ میں آپ کسی بھی شعبے میں محنت کریں تو اپنا مقام بنا لیں گے خواہ آپ کچھ بھی ہیں“ ۔

” کیا وہاں اسکول کے بچوں کو آئندہ زندگی میں ان کی صلاحیت کے مطابق راہنمائی دی جاتی ہے؟“ ۔

” اسکول میں ہر ایک بچے کے لئے ایک کونسلر یا مشیر مقرر ہوتا ہے۔ یہ ان کے تعلیمی مستقبل کے بارے میں متبادل بتاتے رہتے ہیں۔ کونسلر ہی بچے کی صلاحیت اور دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مضامین لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بعض بچوں کو جسمانی یا ذہنی کمزوری ہوتی ہے۔ مشیر ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ایسے بچوں کی مدد کے لئے خصوصی ٹیچر کی سفارش کرتے ہیں۔ بچوں کے سرپرستوں کے ساتھ مشاورت بھی کی جاتی ہے۔ یہ خدمات یونیورسٹیوں میں بھی ہوتی ہیں۔ البتہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کی تحریری اجازت کے بغیر ہم اس کا کسی بھی قسم کا تعلیمی ریکارڈ اس کی سگی ماں کو بھی نہیں دے سکتے“ ۔

” تعلیمی قرضوں کے بارے میں بتائیے“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” زیادہ تر طلباء مرکزی حکومت سے مالی مدد یا گرانٹ لیتے ہیں۔ پھر بھی بات نہ بنے تو اسٹیٹ گارنٹی لون یعنی ریاست کی ضمانت پر تعلیمی قرضہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ قرضہ گریجویشن کے بعد آسان قسطوں میں واپس کرنا ہوتا ہے۔ بہت سے طلباء پڑھائی کے ساتھ کام بھی کرتے ہیں“ ۔

” آپ نے ریاضی میں تحقیق و ترقی کی بات کی تھی کچھ اس کی تفصیل بتائیے“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” ڈاکٹریٹ کر کے جب جاب شروع کی تو میں شعبہ تحقیق میں تھا۔ امریکہ میں ہر ایک یونیورسٹی کا ایک بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ ہر ایک امریکی ریاست میں کم از کم ایک یا دو تحقیقی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں۔ انہیں آر ون R 1 کہا جاتا ہے۔ یعنی جن کا محور تحقیق ہے لیکن ساتھ تدریس بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح کچھ یونیورسٹیاں تدریسی ہوتی ہیں جن کا مقصد صرف پڑھانا ہے۔ میں نے جس یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا وہ بنیادی طور پر تدریسی یونیورسٹی ہے۔ ویسے میں نے شروع میں ایک دو تحقیقی مقالے شائع بھی کروائے پھر میری تحقیق کی نوعیت بدل گئی۔ اس میں ہم انڈر گریجویٹ ریسرچ۔ یعنی بی ایس کے طلباء کو تحقیق کرواتے ہیں۔ جو تحقیقی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں وہاں پڑھانے کا کام نہیں لیا جاتا۔ وہ کہتے ہیں صرف 2 کلاسیں پڑھاؤ باقی وقت تحقیق۔ اس کے برعکس تدریسی یونیورسٹیوں میں 4 کلاسیں پڑھانا ہوتی ہیں۔ گویا ہفتہ میں 12 گھنٹے کلاسیں، پھر کلاسوں کی تیاری، گریڈنگ اور امتحان بھی لینا ہوتے ہیں۔ یوں تحقیق کے لئے کم وقت ملتا ہے۔ اس طرح میں گریجویٹ تحقیق سے دور سے دور ہوتا گیا۔ پھر میری ذمہ داریاں بھی بدلتی رہیں۔ فیکلٹی کی کمیٹیوں میں رہا پھر شعبہ کا سربراہ بن گیا“ ۔

” پاکستانی درسگاہوں کی طرح کیا وہاں بھی گروپ بندیاں ہوتی ہیں؟“ ۔ میں نے ایک تلخ سوال داغا۔

ہنستے ہوئے ”ایسی کوئی گروپ بندیاں نہیں ہوتیں۔ ظاہر ہے جہاں انسان ہوں گے وہاں پسند نا پسند تو ہو گی، تاہم مجھے کوئی ایسی رُکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔ میں نہ گورا لگتا ہوں اور نہ کالا میری انگریزی کا لہجہ امریکیوں کی طرح بھی نہیں تو اگر مجھے موقع مل گیا کہ میں شعبہ کا چیئرمین بن جاؤں، کالج ڈِین بن جاؤں اور بہت سی کمیٹیوں کی سربراہی بھی کی جب کہ میرے ساتھ مقامی امریکی بھی تھے تو اس کا مطلب ہے وہاں تعصب اور گروہ بندی نہیں۔ ریاضی اور سائنس قدرتی اور بڑی آسان ہیں ان میں اصول ہیں جن کی تابعداری قدرت خود کرواتی ہے۔ ستارے ہیں، زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، جب بھی سوڈیم اور کلورین کو ایک خاص تناسب سے ملائیں تو ہمیشہ نمک ہی بنے گا۔ لہٰذا ریاضی اور سائنس بہت آسان ہے۔ جہاں بھی انسان خود ملوث ہوتا ہے وہیں تمام چیزیں پیچیدہ ہو جاتی ہیں انسانی رویوں کو کسی اصول کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً میں کسی سے بلند آواز میں بات کروں تو اس کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ کوئی غصّہ سے کلام کرے گا کوئی پیار سے سمجھائے گا اور کوئی مرنے مارنے پر آ جائے گا۔ انسانی رویوں میں خاصی رنگا رنگی ہے۔ بعینہٖ ایک فیکلٹی انسانوں کا گروپ ہے۔ نکتہ نظر میں فرق ہوتا ہے۔ فیکلٹی کے سامنے کوئی مسئلہ آئے تو رائے کا تقسیم ہونا قدرتی بات ہو گی اور یہ گروپ بندی نہیں ہے“ ۔

ایک باریک بیں نکتہ

” انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کی لیت و لعل ہے! پاکستان میں تقریباً ہر جگہ کہا جاتا ہے کوئی بات نہیں کل کر لیں گے یا کوئی اور کر دے گا۔ میرا تجربہ ہے کہ ناکامی کا باعث آس پاس دوسروں میں کیڑے ڈھونڈتے رہنا، یہ کہنا کہ دیکھو فلاں تو ہے ہی ایسا! دیکھو یہ ملک تو ہے ہی ایسا! میں تو کچھ کر ہی نہیں سکتا! ہر وقت دوسروں کی شکایات اور رونے سے نجات حاصل کرنا پڑے گی۔ جو آپ آج، اس لمحے کر سکتے ہیں وہ آپ کو اِسی وقت کرنا چاہیے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں ہر وقت ایسے ہی کرتا ہوں لیکن میرے ذہن میں یہ بات رہتی ہے کہ جو کرنا ہے اسے کل، پرسوں یا اگلے سال پر نہیں چھوڑنا۔ دو چیزیں جو افراد کو ناکارہ کرتی ہیں ایک لیت و لعل procrastination دوسرے یہ کہ اپنے علاوہ ہر ایک میں، معاشرہ اور ماحول میں کیڑے ڈھونڈنا۔ اپنی ناکامی کا دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا، لہٰذا جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے آپ کو بہتر کرنا چاہیے۔ پاکستان میں بھی بہت محنتی افراد ہیں۔ میں ان کو جانتا ہوں، ان کو اُن کی محنت کا پھل نہیں ملتا۔ لیکن دیر سہی کچھ نہ کچھ ملتا ضرور ہے۔ اپنی موجودہ ناکامی کے بہانے نہیں ڈھونڈیں بلکہ اپنی کامیابی کا خود وسیلہ بنیں۔ پوری دنیا میں انسانوں سے ہی وسائل اور مسائل دونوں بنتے ہیں۔ اگر پاکستان میں رہنے والا ہر ایک شخص یہی سوچے کہ پاکستان میں تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا تو واقعی پاکستان میں کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔ انسان کو اللہ نے بے مقصد تو زندگی نہیں بخشی؟“ ۔

” آج کے پاکستانی نوجوانوں کو کوئی پیغام؟“ ۔

” جی سب سے پہلے تو محنت، پھر یہ کہ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں، تکے سے اِکّا دُکّے لوگ ہی کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن ننانوے فی صد افراد اس طرح ہر گز کامیاب نہیں ہوں گے۔ لہٰذا زندگی میں مختصر راستہ اختیار نہیں کریں۔ اپنا کام نیک نیّتی سے کریں۔ پھر منصوبہ بندی ضروری ہے کہ میں جو کر رہا ہوں وہ کیوں کر رہا ہوں اور پانچ دس سال بعد میں اپنے آپ کو کہاں پر دیکھنا چاہتا ہوں؟ (اعلیٰ حوصلگی) ۔ زیادہ تر طلباء نمبر لینے کے لئے پڑھتے ہیں تعلیم حاصل کرنے کے لئے کم پھر آپ جو کچھ پڑھ رہے ہیں وہ دوسروں کو بھی پڑھائیں۔ میں نے ریاضی اس وقت تک نہیں سیکھی جب تک خود دوسروں کو نہیں پڑھایا۔ کتابیں پڑھنا بہت ضروری ہے۔ اس سے آپ کی فصاحت اور بلاغت میں اضافہ ہوتا ہے“ ۔

” کیا آپ امریکہ میں اپنے آپ اور اپنے حالات سے مطمئن ہیں؟“ ۔ میں نے ایک ٹیڑھا سوال کیا۔

” جی بہت مطمئن ہوں۔ میں سیانے لوگوں کی صحبت میں رہا پھر کچھ لوگوں سے سنا کہ مسئلے انسان کی زندگی میں آتے ہیں جن میں کچھ تو ہمارا عمل دخل ہوتا ہے کچھ اللہ کی جانب سے آتے ہیں۔ تو جو اللہ کے فیصلے ہیں وہ خود اللہ نے کرنے ہیں۔ جب میں کسی مسئلے میں پھنس جاتا ہوں تو دعا کے علاوہ کسی پر بھروسا نہیں کرتا کیوں کہ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ کی قدرت تمام انسانوں سے کہیں زیادہ ہے تو دل کو کافی تسلّی ہو جاتی ہے۔ اگر ہم یہ نہ سوچیں کہ میرے پاس کیا نہیں ہے اور کیا ہے تو یہ بھی پُرسکون رہنے کا گُر ہے۔ زیادہ لوگ وہ ہوں گے جو آپ سے کہیں زیادہ مشکل زندگی گزار رہے ہوں گے جو ایک منٹ میں اپنی زندگی کو آپ کی زندگی سے تبدیل کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ یعنی تم میرے مسئلوں کے بدلے میں اپنے مسئلوں والی زندگی دے دو۔ اگر آپ اپنے سے زیادہ بلند معیار کے لوگوں کو دیکھیں کہ اس کے مقابلے میں تو میرے پاس ویسا کچھ نہیں تو سمجھیں آپ کی زندگی سے چیَن رخصت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ دیا ہے اس پر شکر ادا کریں ٹھیک ہے حالات کو مزید بہتر ضرور کریں، مقابلہ کریں لیکن اُن باتوں کا اپنے آپ پر دباؤ نہ لائیں جو آپ کے اختیار میں نہیں۔ سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا پر راضی ہو جائیں۔ جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے تو اللہ نے مجھے میری اوقات اور صلاحییتوں سے کہیں زیادہ نوازا ہے“ ۔

اس سوال جواب کی نشست میں ڈاکٹر صاحب کی بھانجی بھی شامل ہو گئی۔

” آپ نے کہا کہ اللہ کے فیصلے اللہ کو کرنے دیں۔ یہ بات صرف دو صورتوں میں کہی جا سکتی ہے۔ ایک یہ کہ انسان میں قدرتی طور پر توکل علی اللہ موجود ہے اور دوسری یہ کہ اس کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ پھر وہ کہتا ہے کہ اب سب کچھ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ماموں! آپ کے ساتھ کیا ہوا؟“ ۔ پروفیسر صاحب کی بھانجی نے سوال کیا۔

” میں فلسفی تو نہیں مگر میرا خیال ہے انسان پریشانی میں اپنے تجربوں سے ہی سیکھتا ہے۔ پھر انسان کا دنیا اور دنیا پیدا کرنے والے سے تعلق جُڑتا ہے۔ جب ہمارے پیارے دنیا سے جاتے ہیں تو ان کی کمی پوری تو نہیں ہو سکتی۔ میں چونکہ ملک سے باہر ہوتا ہوں تو خبر ملتی ہے کہ فلاں قریبی شخص بہت بیمار ہے یا اس کا انتقال ہو گیا۔ مجھے پریشانی ہوتی ہے کہ میں تیمارداری نہیں کر سکتا۔ اس مشکل میں مجھ سمیت سب ہی دل سے نماز پڑھ لیں اور دعا کریں تو اللہ تعالیٰ سکون بخشتا ہے۔ میں مذہبی تو نہیں لیکن مشکل گھڑی میں جب نماز پڑھتا ہوں تو یقین ہوتا ہے کہ اللہ میری سُن رہا ہے! پھر میں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہوں“ ۔

ابھی کئی ایک چکر والے سوالات کرنا باقی تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کو کہیں جانا تھا لہٰذا یہ نشست اپنے انجام کو پہنچی۔ میری دل سے دعا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر نوید زمان کی تمام آرزوئیں اور تمنائیں پوری ہوں۔

Facebook Comments HS