خان پور سے چاچڑاں جانے والی دربار لائن کی بربادی کا قصہ


1991 کی بات ہے جب پاکستان ریلویز نے ٹرانسپورٹ مافیا اور مختلف سیاسی و سازشی عناصر کی بدولت بہاولپور ریجن کا ایک خوبصورت اور بہترین جنکشن ختم کر کے اسے بے آسرا کر دیا۔ یہ بات ہے خان پور جنکشن کی جو رونق، سہولیات اور مسافر بردار ریلوں کے حوالے سے پوری ریاست بہاولپور کا سب سے بڑا جنکشن ہوا کرتا تھا۔ لاہور اور کراچی کے تقریباً وسط اور ریاست بہاولپور کے جنوب مغرب میں واقع خان پور شہر، کبھی ایک ضلع ہوا کرتا تھا جس کی آبادی، ضروریات اور نواحی علاقوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے جنکشن بنایا گیا تھا۔ 1932 میں خان پور کی ضلعی حیثیت تو ختم کر دی گئی لیکن خان پور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن کی بدولت اس کے جنکشن کا سٹیٹس باقی رہا جو بعد میں ختم ہوا۔

ماضی کا ایک خوبصورت جنکشن؛

جیٹھہ بھٹہ اور سہجہ نامی قصبوں کے بیچ واقع خان پور، ایک وقت میں ریاست بہاولپور کا ضلع اور اُس ضلع کا واحد ریلوے جنکشن ہوا کرتا تھا۔ پھر رحیم یار خان کے ضلع بننے پر بھی یہ اس ضلع کا اکلوتا اور روہڑی و خانیوال کے بیچ سب سے بڑا و پُر رونق جنکشن رہا۔

اس اسٹیشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ اسٹیشن ریلوے کے ملتان اور سکھر ڈویژن کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کا عملہ سکھر ڈویژن سندھ کا ہے جبکہ ریلوے پولیس چوکی اور وہاں کا عملہ ملتان ڈویژن کا ہے۔ اسٹیشن پہ چیکنگ کے لیے بھی دونوں جانب سے ٹیمیں آتی ہیں۔ یوں یہ پنجاب کا واحد ریلوے اسٹیشن ہے جو سندھ۔ پنجاب دونوں کی ریلوے حدود میں واقع ہے۔ سِٹی پارک خان پور کے سامنے ہی ملتان ڈویژن کے آغاز کا بورڈ آویزاں ہے۔

1871 میں انڈس ویلی سٹیٹ ریلوے تعمیر کی گئی جو کوٹری کو ملتان سے جوڑتی تھی۔ اس سے پہلے، کراچی سے کوٹری تک 1861 میں ریلوے لائن بچھائی جا چکی تھی۔ یعنی خان پور کا اسٹیشن 1870 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا ہو گا (غالباً بہتر سے پچھتر کے درمیان کیونکہ سمہ سٹہ کا اسٹیشن 1878 میں تعمیر کیا گیا تھا) ۔ اس کی قدامت کی گواہی گورا قبرستان میں انگریز انجینیئروں کی قبریں بھی دے رہی ہیں جو یہاں ریلوے ٹریک بچھانے پر کام کرتے کرتے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ضلعی صدر مقام ہونے کی حیثیت سے ریلوے اسٹیشن بننے کے بعد یہاں بہت سی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ایک ریلوے کالونی، زبردست ڈاک بنگلے و رہائشی کوارٹرز، ریلوے کلب، ہاکی گراؤنڈ، ریلوے اسپتال، سکول، ، ڈرائیورز رننگ روم، گودام وغیرہ جو اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ملکہ وکٹوریا کی صد سالہ تقریبات پر اسٹیشن کے باہر قیمتی فوارے بھی نصب کیے گئے۔

1911 میں جنکشن بننے کے بعد اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی۔ ٹرینوں میں پانی بھرنے کا نیا سسٹم لگایا گیا اور انتظار گاہوں میں نیا فرنیچر رکھا گیا۔ پلیٹ فارم پہ خوبصورت گھڑیال بھی لگائے گئے۔

اسی اور نوے کی دہائی میں یہاں کا ریلوے کلب بہت فعال تھا۔ والی بال سمیت ہاکی، ٹینس اور کرکٹ کے میچ باقاعدہ ہوا کرتے تھے۔ کیفے اور اکھاڑے کی سہولت بھی تھی۔ نامی گرامی ہستیاں یہاں کی ممبر تھیں۔ یہاں پہلوانوں کی کشتی دیکھنے دور دور سے لوگ آتے تھے۔ لیکن افسوس، اب ماضی کی صرف یادیں ہی باقی ہیں۔

موجودہ حالت و مسائل ؛

اسٹیشن کی مرکزی عمارت سادہ ہے جس میں ایک لمبا برآمدہ اور کئی کمرے بشمول انتظار گاہیں و دفاتر شامل ہیں جہاں برطانوی طرز کا پرانا فرنیچر اور آرام کرسیاں اب بھی موجود ہیں۔ مرکزی عمارت نیچے اور پلیٹ فارم اونچائی پر واقع ہے۔ مرکزی عمارت کے مشرق میں برطانوی دور کا مال گودام اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی چھت چوکور ہے جبکہ گول روشن دان اور محراب نما دیواریں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

جاڑے کی ایک خنک صبح میں چلتا چلتا ”ڈرائیور رننگ روم“ دیکھنے جا پہنچا وہاں موجود چوکیدار اسلم جاوید صاحب (جو 1985 میں یہاں آئے تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں ) نے مجھے بتایا کہ؛

”ڈہرکی و صادق آباد سے کھاد اور بنولہ وغیرہ مال گاڑی پہ آتا تھا تو اس مال گودام پہ اتارا جاتا تھا جہاں سے تاجر حضرات گاڑیاں اور چھکڑے بھر کے لے جاتے تھے۔ تب یہ گودام بہت خوبصورت تھا۔ اندر بیٹھنے کی جگہیں تھیں۔ اب بھی اس پہ کام کریں تو اسے خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔“

پلیٹ فارم نمبر تین کے سامنے لوکوموٹو ورکشاپ ہے جو اب بھی کام کر رہی ہے۔ یہاں انجنوں کی مرمت کی جاتی ہے۔ اس کے مغرب می 1938 کا بنایا گیا پاور ہاؤس ہے جو ریلوے اسٹیشن سمیت کالونی کے لیے ڈی سی بجلی پیدا کرتا تھا اور اب کافی عرصے سے بند پڑا ہے۔

اس کے مشرق میں ایک بڑی ٹینکی ہے جس کے پیچھے ایک زمین میں دھنسا ہوا، بغیر چھت کے تالاب نما کمرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کبھی آئل ڈپو ہوا کرتا تھا جس میں کالے انجنوں کے لیے تیل محفوظ کیا جاتا تھا۔ اس تیل کو پھر آئل ڈپو سے ٹینکی میں ڈالا جاتا تھا جہاں سے یہ انجنوں میں بھرا جاتا تھا۔ اور یہ سارا سسٹم ریلوے کی نا اہلی کے باعث اب کھنڈر بن چکا ہے۔

خان پور ریلوے اسٹیشن کے پانچ پلیٹ فارم ہیں جن میں سے تین زیرِ استعمال ہیں جبکہ پلیٹ فارم نمبر چار اور پانچ (جو چاچڑاں والی لائن کے ساتھ ہیں جنہیں چاچڑاں سائیڈنگ کہتے ہیں ) اب خالی پڑے ہیں۔ یہاں چاچڑاں پسنجر میں پانی بھرنے والے پائپ اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ پانچ نمبر پلیٹ فارم سے کچھ آگے بائیں طرف ”ٹرن ٹیبل“ ہے جہاں سے انجن کا رُخ بدلا جاتا ہے۔

16 دسمبر 1991 کو خان پور کا جنکشن اسٹیٹس تو ختم کر دیا گیا لیکن روہی ایکسپریس اور روہڑی پسنجر کی بدولت کچھ سہولیات باقی رہیں۔ روہی ایکسپریس روہی اور چولستان کی وہ خاص ریل گاڑی تھی جو خان پور سے بھر کے راولپنڈٰی تک جاتی تھی اور وسیب کے ہر ایک اسٹیشن پہ اس کا سٹاپ تھا۔ مگر افسوس کہ اسے ریلوے کے ایک کرپٹ منسٹر نے 2008 میں بند کر دیا۔ اس کے بعد خان پور سے روہڑی تک جانے والی روہڑی پسنجر بھی بند ہوئی اور اس جنکشن کی رونقیں ماند پڑنا شروع ہو گئیں۔

گاڑیاں بند ہوئیں تو مسافر کم ہوئے اور ساتھ ہی پلیٹ فارم پہ لگے اسٹال بھی ختم ہوتے چلے گئے۔ میرے بچپن میں جس اسٹیشن پہ کئی چائے و اخبارات کے اسٹال ہوا کرتے تھے آج وہاں دو چار ہی باقی ہیں۔ ان کے ساتھ ہی لال وردی والے قلی بھی گھروں کو چل دیے۔ اب تو بچپن کا وہ منظر کوئی فلمی سین لگتا ہے جب اس اسٹیشن پہ قلیوں کا شور اور چائے و شامی کباب کی خوشبو ہوا کرتی تھی۔

خان بیلہ سے تعلق رکھنے والے اسٹیشن ماسٹر جناب ”ملک غلام عربی“ ایک قابل شخص ہیں۔ وہ اس سے پہلے ترنڈہ، رحیم یار خان، نوابشاہ، گھوٹکی اور پڈ عیدن میں فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کا دور یادگار تھا۔ اسی کی دہائی میں ایک کراچی ایکسپریس چلا کرتی تھی جو کراچی سے لاہور کے درمیان صرف خان پور جنکشن پہ سٹاپ کرتی تھی۔ اس کا رننگ ٹائم کافی کم تھا۔ کاش کہ وہ آج بھی چلتی۔ آج کے دور میں پسنجر سے زیادہ منافع بخش مال و تیل بردار گاڑیاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام الناس کی سہولت کے لیے روہی اور روہڑی پسنجر جیسی گاڑیوں کو دوبارہ چلنا چاہیے نیز حکومت کو یہاں رحمان بابا اور نائٹ کوچ جیسی ریل گاڑیوں کا سٹاپ بھی منظور کرنا چاہیے۔

ریلوے لائن کا کتبہ یا انگریز کی قبر؛

خان پور کٹورہ شہر کے مغرب میں ”سردار گڑھ“ نام کا ایک قصبہ ہے، اگر خان پور سردار گڑھ روڈ پر سفر کریں تو چند کلومیٹر بعد ، بائیں ہاتھ پر ایک چبوترے پہ ایستادہ خوبصورت، سفید پتھر نظر آئے گا۔ یہ پاکستان ریلوے کے زوال کا وہ ثبوت ہے کہ جس پہ آج بھی اس کے زوال کی داستان پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ خان پور سے چاچڑاں شریف جانے والی ریلوے لائن کا سنگِ بُنیاد ہے جسے سادہ لوح مقامی لوگ کسی انگریز کی قبر سمجھتے رہے ہیں (کچھ تو اب بھی سمجھتے ہیں ) ۔ یہ سنگِ بُنیاد 1911 میں اس وقت کے انگریز گورنر ”لیفٹیننٹ سر ولیم لوئیس“ نے رکھا تھا۔ اس ریلوے لائن کی بنیاد 1910 میں نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی (پنجم) کی تجویز پر رکھی گئی تھی تبھی اسے دربار لائن بھی کہا جاتا ہے۔

نواب صاحب عوام کی سہولت کے لیے اپنے مرشد حضرت خواجہ غلام فرید کے شہر چاچڑاں شریف کو ریل سے ملانا چاہتے تھے۔ 14 جولائی 1911 کو اس لائن کو ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔ ’

Facebook Comments HS