مرتی ہوئی ماں اور بے بسی سے ہاتھ مَلتا بیٹا


ایک دوست ہے، قریبی دوست۔ اس کی والدہ کچھ عرصے سے بیمار تھیں۔ بھائیوں میں چھوٹا ہونے کے باوجود اس نے ماں کی ذمہ داری اپنے سر لی ہوئی تھی۔ وہ روزانہ مجھے فون کرتا، اپنی امی کے لیے مشورہ کرتا۔ کبھی ایک ڈاکٹر کو دکھاتا، کبھی دوسرے کو دکھاتا۔ اپنے ہاتھوں سے انھیں کھانا کھلاتا، جی جان سے ان کی خدمت کرتا۔ ہر نئی دوائی دینے سے پہلے فون کر کے مشورہ کرتا کہ یہ دوائی دے دوں نا؟ اس کی امی کو شوگر، بلڈ پریشر سے لے کر معدے اور گردے کے کئی مسائل تھے۔ میں دوائی کے متعلق اسے بتاتا اور پھر کہتا کہ ان کے کئی مسائل ہیں، اس لیے جس ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے دوائی دی ہے، اس کا مشورہ میری نسبت زیادہ اہم ہے، اس لیے انھوں نے دینے کا کہا ہے تو دے دو۔

وہ پھر بھی ہر دوائی کے لیے مجھ سے پوچھتا، روز کہتا کوئی اور دوائی بتاؤ، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہو رہی۔ میں کبھی کبھار کوئی محفوظ دوائی بتا بھی دیتا لیکن اکثر یہی کہتا کہ انھیں دیکھے بغیر اس طرح کوئی دوائی نہیں بتا سکتا۔ وہ پھر بھی پوچھتا رہتا، روز امی کے لیے مشورے کرتا رہتا۔ اس نے کسی قسم کے خرچے کی پرواہ نہیں کی، مہنگی سے مہنگی دوائی لیتے ہوئے لمحہ بھر کو سوچا بھی نہیں۔ وہ کہتا تھا بس امی ٹھیک ہو جائیں چاہے مجھے اپنا سب کچھ ہی کیوں نہ بیچنا پڑے۔

پچھلے ماہ گاؤں جانا ہوا تو ہماری کئی مہینوں بعد ملاقات ہوئی۔ ہم ایک ڈھابے پہ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اس کو گھر سے فون آیا کہ امی کہ طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ کھانا بیچ میں چھوڑ کر چلا گیا اور کہنے لگا میں جا کر بتاتا ہوں کیا صورتحال ہے۔ دل میں بدترین خدشات جاگے، کھانے کا بل وغیرہ دے کر اس کے گھر گیا تو اس کی امی کی طبیعت کافی خراب تھی۔ انھوں نے کچھ دوائی لی، دوست نے اپنے ہاتھوں سے انھیں کھانا کھلایا تو ان کی طبیعت ذرا سنبھل گئی۔

دو دن پہلے اس کا فون آیا، کہنے لگا :

”یار امی کی طبیعت خراب ہی ہوتی جا رہی ہے، اب تو بات بھی نہیں کر رہیں، بس آنکھیں کھولے ہر آنے جانے والے کو دیکھے جا رہی ہیں۔ ان کو ڈرپ لگوا لوں؟“
میں نے منع کیا کہ باقاعدہ چیک اپ کے بغیر نہیں لگانی۔ پھر کہنے لگا میتھوکوبال کے ٹیکے لگوا دوں یا کوئی اور دوائی بتا دو وہ دے دیتا ہوں۔ کچھ ایسا بتاؤ جس سے امی کی طبیعت ٹھیک ہو جائے۔ دو لمحے چپ رہا اور پھر ٹوٹی ہوئی آواز میں کہنے لگا

” یاررر کجھ تے دس نا، میں کی کراں“
(کچھ تو بتا دو، میں کیا کروں )

وہ باتوں میں اچھا ہے، تیز ہے، کسی کو ٹکنے نہیں دیتا، اس کی آواز کبھی دبتی نہیں دیکھی۔ یہ جملے کہتے ہوئے اس کی ٹوٹی ہوئی آواز میرے لیے بہت اجنبی تھی۔ مجھ سے کچھ بولا ہی نہیں گیا، اس کی آواز میں چھپا درد دل چیرنے لگا۔ میں اسے کیسے کہتا کہ ان کی طبیعت اتنی بگڑ چکی ہے کہ علاج معالجہ بے اثر سا ہو گیا ہے۔ اسے کچھ ٹیسٹ بتا دیے کہ یہ کروا لینا۔ کل پتا چلا کہ لیبارٹری بند رہی تو ٹیسٹ نہیں کروا سکا۔ مجھے آج کا بتایا کہ آج ٹیسٹ ہو جائیں گے تو رپورٹس بھیجوں گا۔

آج اس کا فون آیا تو مجھے لگا ٹیسٹ کی رپورٹس مل گئی ہوں گی۔ فون اٹھایا تو وہ رو رہا تھا۔ پوچھے بنا بھی مجھے پتا چل گیا تھا کہ اس کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ روتی ہوئی آواز میں بولا

”یاررر ویکھ لے، امی مینوں چھڈ گئے نیں، میں کی نہیں کیتا، فیر وی مینوں کلا چھڈ گئے نیں“
(امی مجھے اکیلا چھوڑ گئی ہیں، میں نے کیا نہیں کیا پھر بھی وہ مجھے اکیلا چھوڑ گئی ہیں )

وہ رو رہا تھا، مسلسل رو رہا تھا اور میں ساکت بیٹھا اس کے رونے کی آواز سن رہا تھا۔ میرے پاس نہ کہنے کو کوئی لفظ تھے، نہ دینے کو کوئی دلاسا تھا۔ میں جانتا تھا، اس کا کتنا بڑا نقصان ہو چکا ہے۔ میں بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ نقصان خود بھی تو بھگتا ہے۔ اسی آگ میں جل کر تو خود بھی راکھ ہوئے ہیں۔ اس لیے اسے کچھ نہیں کہہ سکا، پاس ہوتا تو گلے سے لگا لیتا، اسے سر رکھ کے رونے کو کوئی کاندھا مل جاتا لیکن وہ دور تھا، اتنا دور کہ میں اس کے آنسو نہیں پونچھ سکتا تھا۔ اس لیے وہ بس فون کے دوسری طرف روتا رہا اور میں چپ بیٹھا اس کے رونے کی آواز سنتا رہا۔

(ممکن ہو تو میرے دوست کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کر دیجیے )

Facebook Comments HS