سویلینز کا فوجی ٹرائل


ایک ہفتہ پہلے یوگنڈا کی سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے اپنے حتمی فیصلے میں شہریوں کے فوجی ٹرائل کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ 31 جنوری 2025 کو سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فوجی عدالتوں کے پاس عام شہریوں پر مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں ہے اور فوجی حکام کو حکم دیا کہ وہ شہریوں کے تمام جاری فوجی ٹرائلز کو روک کر ملک کے سول عدالتی نظام میں منتقل کریں۔ برسوں سے، فوجی عدالتیں سیاسی مخالفین اور حکومتی ناقدین سمیت عام شہریوں پر مقدمہ چلا رہی ہیں۔ ٹرائلز اکثر ملکی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہوتے، منصفانہ ٹرائل کے حق اور یوگنڈا کے آئین کی طرف سے ضمانت دی گئی آزادیوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اس سے پہلے، 2021 میں، مائیکل کبازی گروکا نے آئینی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے شہریوں پر مقدمہ چلانے کے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا۔ اعتراض سننے والی پانچ رکنی آئینی عدالت نے قرار دیا تھا کہ فوجی قانون آئینی طور پر مسلح افواج کے ارکان کے لیے نظم و ضبط اور سرکاری فرائض کی مناسب ادائیگی کے لیے بنایا گیا ہے لیکن اسے دیگر قوانین کے تحت جرائم کے لیے شہریوں پر مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ قانون کے وہ حصے جو فوجی دائرہ اختیار کو عام شہریوں تک پھیلاتے ہیں اور غیر فوجی جرائم کی درجہ بندی کرتے ہیں انہیں منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرنے اور آئینی گنجائش سے تجاوز کرنے پر غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

آئینی عدالت نے کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے پاس عام شہریوں سے متعلق مقدمات میں ایک آزاد اور غیر جانبدار ٹریبونل کے لیے درکار تحفظات کا فقدان ہے، اور یہ کہ شہری عدالتیں ایسے معاملات پر واحد دائرہ اختیار رکھتی ہیں۔ پانچ رکنی آئینی عدالت نے چار ایک کے تناسب سے فوجی ٹرائل کی عوام کے ٹرائل سے متعلقہ شقوں کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ اکثریتی فیصلہ جسٹس کینتھ کاکورو نے تحریر کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ فوجی ایکٹ کی عوام پر مقدمہ چلانے والی شقیں اس لیے غیر آئینی ہیں کیونکہ یہ یوگنڈا کے آئین میں دیے گئے آئینی حقوق کو معطل کرنے کے طریقے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اسی اکثریتی فیصلے کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے جسٹس ہیلن اوبورا نے لکھا کہ یہ شقیں فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کی بھی خلاف ورزی پر مبنی ہیں کیونکہ یہ منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورا نہیں کرتیں۔ جبکہ اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے جسٹس اسٹیفن موسوٹا نے قرار دیا کہ حالانکہ عوامی مقدمات کے متعلق شقیں آئینی ہیں تاہم یہ عام جرائم میں عوام کا ٹرائل کرنے کے لیے مناسب قانونی جواز فراہم نہیں کرتیں۔ درحقیقت اس اختلافی فیصلے نے اکثریتی فیصلے کے نتیجے کی تائید کی لیکن اس کے لیے بالکل مختلف قانونی راہ اختیار کی۔

اس پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف یوگنڈا کی حکومت نے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے اپیل کی جس کی سماعت کے لیے سات رکنی بینچ بنایا گیا۔ اس لارجر بینچ کے سامنے حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل پیش ہوئے جن کے دلائل کے دوران ایک دلچسپ مگر پیچیدہ صورت حال پیدا ہو گئی۔ اپیل کنندہ نے اکثریتی فیصلے کے پہلے حصے کے خلاف دلائل سے آغاز کیا جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا چونکہ یوگنڈا کا فوجی ایکٹ (People ’s Defense Forces Act، 2005 ) آئینی تحفظات کی تعمیل میں متوازی لیگل نظام کے تحت کام کرتا ہے لہذا اس پر بنیادی حقوق نافذ ہی نہیں ہوتے چنانچہ اکثریتی فیصلے کا پہلا حصہ ناقابل رفتار ہے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر جسٹس ہیلن اوبورا کے لکھے دوسرے حصے کے خلاف دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کو فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کے بالکل عین مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی جو کہ ایک صریح قانونی تضاد ہے کیونکہ اگر ان کے دلائل کے پہلے حصے کے مطابق آرمی ایکٹ پر بنیادی حقوق کا نفاذ ہی نہیں ہوتا تو پھر اس کا فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کے مطابق ہونا بالکل بے معنی ہو جاتا ہے اور اگر آرمی ایکٹ فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کے مطابق ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی حقوق آرمی ایکٹ پر لاگو ہوتے ہیں جس سے پہلے حصے کے خلاف دلائل کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی۔

مزید برآں، اٹارنی جنرل جسٹس موسوٹا کے اقلیتی فیصلے پر کوئی دلائل نہیں دیتے، حالانکہ ان کا اختلافی موقف بھی عام شہریوں کو فوجی مقدمات سے خارج کرنے کا باعث بنا۔ اس وسیع تر سوال کے تناظر میں جسٹس موسوٹا کی تشریح کو نظر انداز کرنا حکومت کی مجموعی پوزیشن کو کمزور کر دیتا ہے کیونکہ اگر اٹارنی جنرل اکثریت کے آئینی استدلال کو باطل بھی کر دیتے ہیں، تب بھی حتمی نتیجے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اقلیتی رائے کے مطابق، بلاشبہ مختلف قانونی وجوہات کی بناء پر، اب بھی عام شہریوں پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

مزید پیچیدگیوں میں اضافہ کرتے ہوئے، اپیلٹ کورٹ نے مشروط طور پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے عام شہریوں کو سزائیں سنانے کی اجازت بھی دے دی، جس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً سبھی کو سزا سنائی گئی جب کہ اس قانون کے خلاف اپیل ابھی زیر التواء تھی۔ اس سے ایک غیر یقینی قانونی صورت حال پیدا ہوتی ہے جہاں افراد کو ایک ایسے قانونی فریم ورک کے تحت سزا سنائی گئی ہے جس کی درستی ابھی تک عدالتی جائزے کے تحت جواب طلب ہے۔ اگر اپیل کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتا ہے، تو ان سزاؤں کی بنیاد غیر آئینی ہو جائے گی، جس سے غلط قید پر قانونی اور سیاسی ہنگامہ آرائی ہوگی جب کہ ان کے دوسری دفعہ ٹرائل پر دوہری سزا کا تاثر بھی ابھرے گا۔

اس طرح یہ مقدمہ تضادات اور تزویراتی خلا سے بھرا ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل کا استدلال یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کر کے خود کو کمزور کرتا ہے کہ فوجی قانون پر بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ فوجی ٹرائلز کا دفاع بھی بنیادی حقوق کے مطابق ہے۔ مزید برآں، جسٹس موسوٹا کی تشریح کو چیلنج کرنے میں ناکام ہو کر، حکومت نے ایک اہم قانونی سقم چھوڑا ہے جو اب بھی ٹرائل کو بطل کر سکتا ہے۔ آخر میں، عام شہریوں کی مشروط سزائیں قانونی عدم یقینیت کی ایک اور تہہ کو جوڑ دیتی ہیں، کیونکہ ان کی قسمت اب عدالتی اپیل پر منحصر ہے جو بالآخر ان کے پورے ٹرائل کو غیر آئینی ثابت کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS