پاک فوج زندہ باد کے بجائے پراپیگنڈہ کی زد میں کیوں؟


یہ نظام قدرت ہے کہ ہر نظام کو چلانے کے لئے درپردہ ایسی قوتیں ہوتیں ہیں جو نظام چلا رہی ہوتی ہیں۔ دنیا کے ہر کامیاب ملک میں اصل رول ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی رہا ہے ایسے ہی پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ مضبوط ترین ریاستی ستون سمجھی جاتی ہے مگر افسوس پچھلے کچھ عرصہ سے اس اہم ترین ستون کو ملک دشمن قوتوں کی آشیرباد سے ملک میں موجود چند عناصر منفی پراپیگنڈہ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اپنی ہی فوج پر تنقید کوئی انوکھی یا نئی بات نہیں۔ اس کی ابتدا قیام پاکستان کے ٹھیک 4 ماہ بعد اس وقت شروع ہو گئی تھی جب امریکہ سے شائع ہونے والے معروف ہفت روزہ ’لائف‘ نے اپنی 5 جنوری 1948 ء کی اشاعت میں
PAKISTAN STRUGGLES FOR SURVIVAL کے عنوان سے پاکستان پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی۔ سرورق پر قائداعظم کی فوٹو کے ساتھ جریدے کے 13 صفحات پر مشتمل پاکستان کو ’ناکام ریاست ہونے کا خوف دلاتے ہوئے پاکستان کی حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ‘ اگر پاکستان اپنا مستقبل محفوظ اور سلامتی کو یقینی بنانا چاہتا ہے تو اسے بھارت کے ساتھ جنگ میں الجھنے کی بجائے بھارت کو بڑے بھائی کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ دوستانہ ہاتھ بڑھانا ہو گا کیونکہ بھارت مضبوط معیشت کا حامل ملک ہے جس کے پاس معاشی ترقی کے لیے مستحکم کاروباری ادارے اور بے شمار ایسے وسائل موجود ہیں پاکستان جن سے مستفید ہو سکتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں قائداعظم محمد علی جناح کو مذہبی انتہا پسند قرار دیا گیا۔ جریدے کے مطابق جس نے ’دو قومی نظریۂ یعنی ہندوستان میں ہندوؤں سے الگ مذہبی شناخت رکھنے اور مسلمانوں کے ہندو سے جدا تہذیب و تمدن کی بنیاد پر برطانوی ہند کی تقسیم کو ممکن بنایا۔ امریکی ہفت روزہ کی پاکستان کے حوالے سے رپورٹ چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ اسے اکتوبر 1947 ء میں بھارتی فوج کی ریاست جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کے خلاف پاک فوج کی طرف سے ملنے والی مزاحمت اور بھارتی فوج کی اس کے مقصد میں ناکامی کا شدید رنج تھا کہ نہ تو بھارت کو امید تھی کہ پاک فوج اس کی فوج کے مد مقابل آنے کی جرات کرے گی نہ ہی برطانیہ اور امریکہ کو اندازہ تھا کہ شدید مالی بحران اور لاکھوں کی تعداد میں بھارتی علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین کی بحالی میں مصروف پاکستان کا گورنر جنرل اپنی فوج کو جموں و کشمیر میں بھارتی فوج سے جنگ کا حکم دے گا۔

اس کے بعد ہی بھارت کی خواہش پر برطانیہ اور امریکا کی حمایت سے جواہر لعل نہرو امن کی بھیگ مانگنے اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک کے لئے مجبور ہوا۔ جہاں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حق خودارادیت کی قرار داد منظور کرانے کے بعد بھارت سرکار نے اسے پاکستان کے خلاف اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیا اور کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت کی قرار داد کو پش پشت ڈال دیا۔ 21 اپریل 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد نمبر 47 میں ایک پانچ ملکی کمیشن قائم کیا گیا جس کا کام برصغیر پاک و ہند میں دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کر کے وہاں حق رائے دہی کی راہ ہموار کرنا تھی تاکہ وہاں کے عوام انڈیا یا پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے خود فیصلہ کر سکیں۔ تاہم یہ کمیشن اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہ کر سکا اور نتائج آج تک ہم سب کے سامنے ہیں۔

بدقسمتی سے UN سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 کو اقوام متحدہ کے چیپٹر نمبر 6 کے تحت منظور کیا گیا۔ چیپٹر نمبر 6 کے تحت پاس ہونے والی قراردادوں پر اقوام متحدہ عملدرآمد کروانے کا پابند نہیں ہوتا۔ یہ قراردادیں تجاویز کی حیثیت رکھتی ہیں، ہدایات کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل صرف چیپٹر 7 کے تحت پاس ہونے والی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کی پابند ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوا اور چیپٹر 7 کے بجائے چیپٹر 6 سے قرارداد کا منظور ہونا کس کی کوتاہی یا نالائقی تھی؟ اب یہ تذکرہ چھیڑنا قطعی غیر ضروری اور لاحاصل امر ہے۔

اس کے بعد ہی پاک فوج کو پنجابی فوج قرار دے کراس کے خلاف لسانیت کی بنیاد پر زہریلے پروپیگنڈے کا بیانیہ تیار ہوا جسے مشرقی پاکستان میں بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ اس پروپیگنڈے میں بعد ازاں پنجابی بیوروکریسی، پنجابی سیاستدان اور پنجابی حکمران جیسی اصطلاحات بھی شامل کرلی گئیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پنجابی فوج کے بیانیے کو بطور پروپیگنڈا سندھ، بلوچستان، خیبر پختوانخوا اور اس کے قبائلی اضلاع میں بھی بروئے کار لانے کی کوششیں ہوئیں جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق را کی پالیسی کے مطابق ان کا ہدف پاکستان میں پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا کر عوام اور پاک فوج میں دوریاں پیدا کرنا ہے۔ یاد رہے بنگلہ دیش میں تبدیلی کے بعد ہندوستان اپنے زخم چاٹ رہا ہے اس لیے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اک طرف سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا ہے تو دوسری طرف بلوچستان اور کے پی میں پاک فوج کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور اپنے پروردہ ایجنٹوں کے ذریعے اب آزاد کشمیر میں بلوچستان طرز کی بے چینی پھیلائی جا رہی ہے۔

عوام کو سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کی جعلی سرگرمیاں پاک فوج کو مورد الزام ٹھہرانے اور اپنے ذاتی فائدے کے لیے ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ پاکستان دشمن عناصر اس طرح کی کارروائیاں کر کے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم اپنے سیکورٹی فورسز کے جوانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے سیکورٹی فورسز نے ملک کی سلامتی و بقا کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا قوم ان قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے دہشت گردی کی جنگ میں پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ کیونکہ الحمدللہ پاکستانی قوم پاک فوج کے ساتھ ہے کیونکہ پاکستان کی ہر گلی، محلہ، دیہات، گاؤں، قصبہ میں پاک فوج کا کوئی نہ کوئی شہید، غازی آباد ہے اور یہی حقیقت ہے کہ پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ پاک فوج پر حملے کرنے والے جلد یا بدیر ضرور اپنے کیفر کردار تک پہنچیں ہیں، دہشتگردوں کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں عوام یا پاک فوج میں نہ ہی دوریاں پیدا کر سکتی ہیں اور نہ ہی عوام اور پاک فوج کو کمزور کر سکتیں ہیں۔

آج جیسے پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ایسے ہی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کی طرف سے پاک فوج پر تنقید کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے بالخصوص اک مخصوص نظریات والی سیاسی جماعت نے تبدیلی اور آزادی کی آڑ میں آج باقاعدہ پاک فوج کے خلاف مہم کی صورت اختیار کر رکھی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے سے یوں لگتا ہے کہ جیسے اقتدار سے باہر ایک سیاسی جماعت اپنی ہی فوج کو فتح کرنے کی کوششوں میں ہے۔ وہ اپنا ماضی بھول جاتے ہیں جب فوج ہی کی حمایت سے انھوں نے اقتدار حاصل کیا۔

افسوس اور یہ سب پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ہماری آج کی اپوزیشن سیاسی جماعت کے لیڈران ہوں یا تاریخ میں وہ تمام سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان سب نے اقتدار سے باہر ہوتے ہی پاک فوج کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن اقتدار ملتے ہی ان کے لیے پاک فوج اچھی ہو گئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بر سر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پاک فوج کو اچھا اور بُرا کہنے کے اس عمل کو ختم کیا جائے۔ ملک کی جغرافیائی سرحدیں ہوں یا نظریاتی اساس ان کی حفاظت پاک فوج کا فرض ہے جو وہ احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ بطور سیاسی لیڈر، سیاسی ورکر ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگائیں اور دشمن کی ہر سازش کو ناکام و نامراد کریں۔

Facebook Comments HS