کسان کی طرح سوچیں


یہ 2019 کی بات ہے۔ میں نے کراچی سے اپنے گاؤں گھر فون کیا۔ دادا سے بات چیت ہوئی۔ حال و احوال پوچھنے کے بعد میں نے دریافت کیا، ”دادا! موسم کیسا ہے؟“ دادا نے جواب دیا، ”بہت گرمی ہے۔ “ میں نے کہا، ”دادا! ابو کو فون دے دیں تاکہ اُن سے بھی بات کر لوں۔ “ دادا نے جواب دیا، ”تیرا ابو اور بھائی ڈیرے، کھیتوں میں پانی لگانے گئے ہیں۔ “ میں نے حیرت سے کہا، ”اتنی گرمی میں؟ رہنے دیتے، جب موسم بہتر ہو جاتا تب پانی لگا لیتے!“ دادا مسکرائے اور بولے، ”پُتر! فصلوں اور نسلوں کی آبیاری کے لیے اگر وقت پر پانی نہ دیا جائے تو وہ تباہ ہو جاتی ہیں۔“ پھر وہ کہنے لگے، ”بیٹا! کسان عام انسان کی طرح نہیں سوچتا۔ ہاں، وہ انسان ہی ہوتا ہے، مگر اس کا نقطۂ نظر اور سوچنے کا انداز عام لوگوں سے کچھ بلند ہوتا ہے۔“

دادا ہمیشہ پنجابی میں بات کیا کرتے تھے، اور ان کی گفتگو کا اصل لطف اردو میں بیان کرنا شاید میرے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کاشتکاری میں گزاری اور ایک کسان کی نفسیات، توکل اور طرزِ فکر کا عملی مظاہرہ کیا۔ دادا کی باتیں، جو انسانی سوچ، رویوں اور ذہنی ارتقاء سے متعلق ہوتیں تھیں، میرے ابتدائی شعوری سفر میں اکثر مشکل محسوس ہوتیں۔ کم عمری اور ناپختہ شعور کے باعث بہت سی باتیں میری سمجھ سے باہر ہوتیں، اور کچھ ایسی بھی تھیں جن پر یقین کرنا مشکل لگتا تھا۔

اب دادا اس دُنیا میں نہیں رہے۔ وہ 2021 میں رحلت فرما گئے، اور میں بھی شعور کے سفر کا مستقل مسافر بن چکا ہوں۔ ٹریننگ اور ڈیولپمنٹ کے شعبے میں آنے کے بعد جب مجھے انسانی نفسیات، رویوں اور ذہن سازی جیسے موضوعات پر جدید تحقیقات پڑھنے کا موقع ملا، تو احساس ہوا کہ دادا وہی باتیں مجھے بہت پہلے سکھانے کی کوشش کر چکے تھے۔ وہ اکثر میرے سوالوں کے جواب میں کہتے، ”بیٹا! انسان کو سمجھنا ہے تو کسان بن جاؤ۔“

ہمارے معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی ”لوک وزڈم“ کی قدر نہیں کرتے، جبکہ مغرب اسے دستاویزی شکل دیتا ہے اور جدید تحقیق کے ذریعے اس کی صداقت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

گزشتہ دنوں میں نے لنکڈاِن (LinkedIn) پر جسٹن میچم (Justin Mecham) کی ایک پوسٹ دیکھی، جس کا عنوان تھا: ”Think like a Farmer“ ۔ اس میں اُس نے سات نکات بیان کیے، جنہیں پڑھ کر مجھے اپنے دادا کی یاد آ گئی۔ یہ نکات خاندان، اداروں اور معاشرتی ترقی کے پس منظر میں نہایت عمدگی سے بیان کیے گئے ہیں۔
آج میں وہ سات نکات اردو میں پیش کر رہا ہوں۔

1: فصلوں پر نہ چلائیں۔

اپنی ٹیم کی ضروریات کو سمجھیں۔ اگر وہ خود کو کارآمد نہ سمجھیں اور تنقید کا شکار محسوس کریں گے، تو ان میں عدم تحفظ پیدا ہو سکتا ہے اس لئے مثبت اور معاون رویہ اپنانا ضروری ہے۔

2: فصل کو الزام نہ دیں کہ وہ جلدی سے نہیں بڑھ رہیں۔

انفرادی اور ادارہ جاتی ترقی کو مشترکہ مقصد بنائیں اور ہر ورکر کی اپنی منفرد ترقی کی رفتار کو سراہیں۔

3: فصل کو بڑھنے کا موقع دیے بغیر، جڑ سے نہ اکھاڑیں۔

اپنے ادارے میں خود آگہی اور صبر کی اہمیت کو فروغ دیں۔ اپنی ٹیم کے افراد میں قدرتی صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاونت کریں، چاہے وہ ابھی مکمل طور پر اپنے حقیقی فن سے آشنا نہ ہوئے ہوں۔

4: اچھی زمین کے لیے بہترین پودوں کا انتخاب کریں۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر شخص کو اُس کی مہارت اور ٹیم کے ماحول کے مطابق ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سے کارکردگی، پیداوار اور اطمینان میں اضافہ ہو گا۔

5: فصلوں کی آبپاشی کریں اور انہیں وقت پر کھاد ڈالیں۔

اپنی ٹیم کی اجتماعی ترقی کے لیے مناسب وسائل اور مواقع فراہم کریں تاکہ وہ اپنی قدرتی اور حقیقی دلچسپیوں میں مہارت حاصل کر سکیں۔ اس سے کارکردگی موثر ہوگی اور جدت کو فروغ ملے گا۔

6: جڑی بوٹیاں ہٹا دیں۔

ٹیم میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں ہر فرد کی صلاحیتیں، اجتماعی ترقی اور ٹیم ورک میں معاون ثابت ہوں۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ باہمی تعلقات ٹیم ورک پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

7: یاد رکھیں! اچھا اور برا وقت آئے گا؛ آپ موسم اور حالات پر قابو نہیں پا سکتے، مگر تیاری ضرور کر سکتے ہیں۔

اپنے ادارے میں انسانی تجسس اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیں۔ سوالات پوچھنے سے حالات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے، اور ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کا موقع ملتا ہے۔

Facebook Comments HS