کہوں تو کیا کہوں اور کس سے کہوں؟


”آج یونیورسٹی نہیں جانا ہے کیا؟ اٹھو، دیر ہو رہی ہے۔“ ذکیہ کے کانوں میں ماں کی آواز گونجی تو اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ آنکھیں ادھ کھلیں تو پردوں کے درمیان سے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی سورج کی کرنوں نے اسے چندیا دیا۔ کرنوں سے نظر ہٹا کر اس نے چھت کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر پنکھے پر پڑی جو درمیانی رفتار سے چل رہا تھا اور ہر چند سیکنڈ بعد ایک ہلکی سی آواز نکالتا تھا، جیسے اپنی عمر رسیدگی پر فریاد کر رہا ہو۔

کچھ ہوش بحال ہوا تو ذکیہ نے بنا دیکھے بائیں جانب سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ آنکھیں ملتے ہوئے اس نے موبائل پر نظر ڈالی تو ساڑھے سات بج چکے تھے۔ مزید ہوش میں آ کر سوچنے لگی کہ آج اتنی دیر کیوں سوئی ہے۔ وہ عام طور پر ساڑھے چھ بجے جاگ جاتی تھی۔ آٹھ بجے کی کلاس کے لیے سات بج کر پندرہ منٹ کی بس پکڑتی تھی۔

اس نے دروازے کی طرف دیکھا جو آدھا کھلا تھا۔ شاید اس کی والدہ نے اسے جگاتے ہوئے کھلا چھوڑ دیا تھا۔ ذکیہ نے رات کے بارے میں سوچا کہ وہ کب سوئی تھی۔ وہ رات کو ساڑھے آٹھ بجے گھر آئی تھی۔ طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کر کھانا کھائے بغیر اپنے کمرے میں سونے چلی گئی تھی، لیکن وہ صبح تین بجے تک سو نہیں سکی۔ اس لیے اس کی آنکھیں بوجھل تھیں اور وہ سستی اور نقاہت محسوس کر رہی تھی۔ اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔

آہستہ آہستہ اس کے ذہن کی اسکرین پر گھر آنے سے پہلے کا وہ واقعہ ابھرنے لگا جس کی وجہ سے وہ سو نہیں سکی تھی اور یونیورسٹی جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اس کے ذہن اور احساس میں وہ واقعہ اب بھی تازہ تھا۔ وہ پروفیسر جان کے سامنے ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں روشنی مدہم تھی اور ماحول پرسکون۔ وہ کونے کے ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ریسٹورنٹ اور ٹیبل کا انتخاب پروفیسر جان نے کیا تھا۔ کھانے کا آرڈر دینے کے بعد پروفیسر نے آرٹیکل کے بارے میں بات کرنے کے بجائے ذکیہ کی ذاتی زندگی پر گفتگو شروع کر دی۔ جب بھی ذکیہ بات کو موضوع کی طرف موڑنے کی کوشش کرتی، پروفیسر رخ موڑ دیتے۔ ابھی کھانے کا آغاز ہوا ہی تھا کہ ذکیہ نے محسوس کیا کہ پروفیسر کے پاؤں اس کی ٹانگوں کو چھو رہے ہیں۔ ذکیہ نے فوراً اپنی ٹانگیں کھینچ لیں۔ اتنے میں پروفیسر نے ذکیہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ وہ اس کے حسن اور قابلیت سے بہت متاثر ہیں۔ ذکیہ کے ہوش اڑ گئے اور پریشانی کے عالم میں اپنا ہاتھ چھڑا کر ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر گھر کی راہ لی۔

اس کے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے اس کے نارمل سوچنے کی صلاحیت جیسے ختم ہو گئی تھی۔ وہ رونے لگی اور اپنے آپ سے نفرت سی ہونے لگی۔ ذکیہ نے اس کانفرنس کے بارے میں سوچا جب اس کی پہلی بار پروفیسر جان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ذکیہ یونیورسٹی میں ایم اے سوشیالوجی کی فائنل ائر کی طالبہ تھی۔ اس نے اپنے تھیسس کے لیے صنف اور زبان کے تعلق پر ریسرچ کی تھی۔ اس نے اپنا ریسرچ پیپر یونیورسٹی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ ذکیہ ایک ذہین، پراعتماد اور خوبصورت شخصیت کی مالک تھی۔ وہ آگے چل کر ایک کامیاب اکیڈمک بننے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ جب اس نے اپنا پریزنٹیشن ختم کیا تو سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا۔ کئی سوالوں کے بعد آخر میں ایک ادھیڑ عمر شخص نے مائیک اٹھایا۔ انہوں نے اپنا تعارف پروفیسر جان کے طور پر کرایا۔ انہوں نے پہلے ذکیہ کے پیپر کی تعریف کی، پھر کچھ سوالات کیے، اور آخر میں اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا پیپر کسی جرنل میں شائع کروائے۔

پریزنٹیشن کے بعد چائے کا وقفہ تھا۔ چائے کے وقفے کے دوران ذکیہ مزید رائے لینے کے لیے پروفیسر جان کے پاس چلی گئی۔ پروفیسر نے پھر اس کی ریسرچ کی تعریف کی اور کہا کہ اس کے پیپر میں اشاعت کی بڑی صلاحیت ہے۔ انہوں نے آرٹیکل شائع کرنے میں مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کر ذکیہ کو دیا اور کہا کہ وہ ان سے رابطہ کرے۔

ذکیہ جب پروفیسر سے بات کر کے اپنے دوستوں کے پاس واپس آئی تو اس کے کچھ دوست اسے دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرا رہے تھے۔ ذکیہ کو ان کی مسکراہٹ کی سمجھ نہیں آئی۔ دوستوں نے پروفیسر جان کا نام لے کر مذاق کرنا شروع کر دیا۔ پروفیسر جان انگلش ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے تھے۔ انہوں نے بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کی تھی اور کافی تنقیدی ذہن رکھتے تھے۔ وہ پوسٹ ماڈرن فلسفے کے بڑے مداح تھے اور بات بات پر فوکو، دریدا، اور بورڈیو جیسے مفکرین کا حوالہ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ طالب علموں میں ان کی عاشق مزاجی بھی مشہور تھی۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے تین شادیاں کی تھیں، جن میں سے دو اپنے ہی شاگردوں سے تھیں۔ طالب علم مذاقاً کہتے تھے کہ پروفیسر جو بھی خوبصورت لڑکی دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

ذکیہ نے جب اپنے دوستوں کی بات سنی تو اسے لگا کہ وہ حسد میں مبتلا ہیں۔ کانفرنس کے کچھ ہفتے بعد ذکیہ نے پروفیسر کو ای میل کی اور آرٹیکل شائع کرنے میں مدد کی درخواست کی۔ پروفیسر نے جواب دیا کہ وہ مصروف ہیں، لیکن جب موقع ملے گا تو ملاقات کریں گے۔ ایک دن پروفیسر کی ای میل آئی جس میں انہوں نے اپنے آفس میں ملنے کا کہا۔ ذکیہ مقررہ وقت پر پروفیسر کے آفس پہنچ گئی، لیکن اس ملاقات میں پروفیسر نے آرٹیکل پر بات کرنے کے بجائے روزمرہ کی باتیں کیں۔ اسی طرح دوسری ملاقات بھی آفس میں ہوئی۔ پروفیسر نے کہا کہ انہیں آرٹیکل کا ڈرافٹ پڑھنے کا وقت نہیں ملا اور مشورہ دیا کہ وہ کسی اور جگہ پر آرام سے بیٹھ کر اس پر بات کریں گے۔ کچھ عرصے تک خاموشی رہی، اور پھر ایک دن پروفیسر کا میسج آیا جس میں انہوں نے اگلی ملاقات یونیورسٹی کے قریب ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے طے کی۔

ذکیہ نے پنکھے کی گردش پر نظر جما کر ملاقات کے دن کے بارے میں سوچا۔ اس نے کلاس ختم کرنے کے بعد کچھ وقت لائبریری میں گزارا۔ اس نے کافی تیاری کی تھی کہ وہ پروفیسر سے کیا ڈسکس کرے گی۔ وہ چھ بجے لائبریری سے نکلی کیونکہ ڈنر کا وقت ساڑھے چھ بجے تھا۔ وہ آہستہ آہستہ ریسٹورنٹ کی طرف چلنے لگی۔ بیس منٹ بعد وہ مخصوص ریسٹورنٹ پہنچ گئی۔ تھوڑی دیر ہچکچاہٹ کے بعد وہ اندر داخل ہوئی۔ اس نے ریسٹورنٹ کا جائزہ لیا کہ پروفیسر آئے ہیں یا نہیں۔ ریسٹورنٹ میں روشنی مدہم تھی، اس لیے پروفیسر کو پہچاننا مشکل تھا۔ اتنے میں پروفیسر کی آواز آئی۔ وہ کونے والے ٹیبل پر بیٹھے تھے۔

جب ذکیہ کی سوچ کی اسکرین اس واقعے کے قریب پہنچی تو اس کی آنسو آنکھوں سے بہہ کر تکیے کو تر کرنے لگے۔ وہ اس واقعے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی، کیونکہ اس کا اعتماد چکنا چور ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا: اگر میں اس واقعے کی شکایت کروں تو کیا لوگ میری بات پر یقین کریں گے؟ اگر کہوں تو کس سے کہوں، اور کیا کہوں؟ پھر ذکیہ نے اپنا چہرہ چادر کے اندر چھپا لیا، جیسے اپنے آپ کو خود سے چھپا رہی ہو۔

Facebook Comments HS