احوال سفر ترکیہ: قسط نمبر 1
فروری 2022 میں دو ہفتے قبل ہی شیخ الجامعہ نے نوید سفر مع اذن سفر و قیام کی دی۔ منزل تھی استنبول، اسکشہر و قونیہ۔ شیخ الجامعہ نہ صرف بین الاقوامی علمی رابطوں کے پرجوش داعی ہیں بلکہ فیکلٹی و تکنیکی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کے وقتاً فوقتاً انعقاد کے راست اقدام کے حامی اور خالص پیشرو بھی، دلم اور عزیزی ڈاکٹر زاھد مجید جامعہ کے ڈائریکٹر بین الاقوامی علمی روابط ہیں۔ ان کی پیہم سعی کاملہ کی بدولت ایک چھوٹا سا قافلہ 27 فروری کی صبح اسلام آباد کے نئے تعمیر کردہ مگر غیر متاثرکن مستقر پہ روانگی کے لئے مستعد۔
قطر ائرویز کی فلائیٹ نمبر چھ سوپندرہ سواری عاجزانہ قرار پائی تاکہ ہمیں براستہ دوحہ، پہلے گرم و بعد سرد، فضائے بسیط سے گزارتی صدیوں سے آباد قدیم قسطنطنیہ کے چہرہ نورستہ سے آشنائی دے۔ گروپ ممبرز میں ڈاکٹر حسن رضا،
ڈاکٹر ہاجرہ، ڈاکٹر ناصر محمود، ڈاکٹر عبد العزیز ساحر، ڈاکٹر بخت رواں، ڈاکٹر نسیم، ملک منیر صاحب اور نوجوان ہونہار کامران میر جیسے حلیم الطبع ہمراہی شامل تھے۔
قرب کرونا میں یعنی نیو نارمل میں دیگر کار ہائے روزگار کے ساتھ ساتھ ملکوں کا سفر بھی انگریزی کا suffer بن چکا ہے۔ اسلام آباد کے مستقر سے ہی ساتھیوں کی ویزا کے حصول، متعلقہ کاغذات کی تیاری، ویکسین ٹیسٹ کے پروسیجر اور کسی خبر ناگہانی کے خدشات نے سینئر ممبران کے اعصاب کو پرجوش ارادہ ہائے سفر و حضر کے باوجود مضمحل کیا ہوا تھا۔ (عادات دیرینہ جن میں چائے نوشی اور ’کثافت کشی‘ شامل ہے کا یہاں کچھ مذکور نہیں )
نماز فجر سے پہلے جو ساعت سعی کی ابتدا ہوئی وقت چاشت قطر ائرویز کی رخصتی کی منادی پہ ختم ہوئی۔ قطر ائرویز کی ایپ (غیر ارضی عملی خاکہ) فون میں منتقل کر لینے کا فائدہ اب سمجھ میں آیا۔ جہاز نے خطہ پوٹھوار سے بلندی کو چھوا تو دل اداس ہونے لگا۔
مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی
جہاز کا اندرونی حصہ صاف شفاف میزبانوں کے سلیقہ اور تجارت میں مسابقت کی جدوجہد کا آئینہ لگا۔ ہوا سے بھی نازک اندام ”میزبانیاں“ سہولت سے زیادہ تر ورکنگ کلاس، تھوڑے سے بدیسی مسافروں اور کچھ ہم جیسے ’اتفاقیہ مسافروں‘ کی مدارت پہ فائز تھیں۔ جو عارضی مسافروں کی نیند اور طعام میں مدد پہ مبنی تھی۔ دوحہ تک سفر آرام دہ، سہل اور استنبول کی متوقع علمی سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو تک محدود رہا۔
مقررہ وقت پہ جہاز نے قطر کے سمندر کنارے ائرپورٹ کو چھوا تو پوٹھوار کے دوہے یاد سے آنے لگے۔ سیاہ مٹی، دیوہیکل مشینیں اور زمین رنگ عمارتوں میں قطار در قطار قطری جہازوں کی پارکنگ قطری معیشت اور معاشرت کی کہانی سنا رہی تھیں۔ ائرپورٹ کی عمارت بہت بلند فلکی کالموں اور وسیع و عریض دالان گاہوں (اسٹرکچر) پہ مشتمل ہے۔
جامعہ کی فیکلٹی کا دورہ ترکی، بہت سے بھولے ہوئے سبق یاد دلا رہا ہے۔ پیدل چلنا اور وہ بھی سامان بردوش کسی امتحان سے کم نہیں۔ خصوصاً قطر کے ائرپورٹ کے لمبے کاریڈور رہروان تن آسانی کے لئے مشقت سے کم نہ تھا۔ یہاں برقی فرش پہ چلتے چلتے، اپنے اجداد سے ورثے میں ملے چمکیلے نینوں، تیل رنگ جلد اور ’گھمن گھیری‘ بالوں والے قطری جوان ادھیڑ عمر مرد محافظین، چائے اور عطر فروش اور جوان پیٹرو کلچر کی جدیدیت میں رنگے نظر آئے۔ دوحہ افریقی اور عرب ثقافت کی قدیم تاریخی روایت میں گندھا دکھائی دیا۔ گہرے، کم گہرے اور کم سفید اپنے مخصوص نقوش کے ساتھ جوان جوڑے ”برقی مسافر ریڑھیوں“ پہ جھولتے نظر آرہے تھے۔ سرزمین یورپ کے تیز قدم لیتے باشندوں کی رفتار اور آس پاس چلتے سست رو افراد کا موازنہ کیا جائے تو ہر دو کے مابین علمی اور انسانی ترقی کا رویہ زیادہ ناقابل فہم نہیں لگتا۔
تو رہروان شوق ہے منزل نہ کر قبول
مشرق وسطیٰ کے رواج کے عین مطابق جہاز میں کالی چائے سے تواضع کا جو لامتناہی سلسلہ چلا اس سے گھر کی دودھ پتی بھول گئی۔ برادر بزرگ ( عمر نہیں بلکہ بوجہ متانت) ڈاکٹر ناصر محمود نے سب کی ”لازم پیدل خرامی“ کی تھکاوٹ لمبے لمبے چائے کے کاغذی جرعوں سے کی۔ ادائیگی چونکہ امریکی نقدی سے کی گئی۔ سو دیر تک پیٹرو ڈالر کے ذاتی خمار میں رہے۔
برادرم و مرشدی ڈاکٹر عبدالعزیز قدرے شاداں نظر آئے ’تسکین مشام تنفس‘ اور نماز دونوں کا انتظام بخوبی ہو گیا تھا۔ فیفا ورلڈ کپ کے دو ہزار بائیس کے میزبان ہونے کے ناتے بچے، مستورات اور جوان لوگ مسرور و پرجوش نظر آئے۔ ایک گوشہ ادب یعنی ”ریڈنگ روم“ بھی سام سنگ اور عرقیات کی دکانوں کے عقب میں نظر آیا۔ اندر جھانکا تو کچھ لوگ موبائل اور آئی پیڈ پہ پڑھتے دکھائی دیے۔
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
جن ڈالروں نے خطہ پوٹھوار کی کئی نسلیں پردیسی کر دیں۔ ان کے رشتہ دار یعنی ہم سب نے کھانا جہاز میں ہی کھا لیا تھا۔ منگولین نقوش والی فضائی میزبان نے نان جویں کے عادی مہمانوں کو دنبے کے گوشت اور چاولوں کے اجنبی ذائقے کے ساتھ پھلوں کے عرق سے سیر ہونے کا موقع فراہم کیا۔ کھانے کی ٹرالی پہ بلوریں شربت فرنگ اصلی دعوت مبارزت دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دفتر کی گرم گرم چائے کی یاد دلا رہا تھا۔ دونوں کی اثر انگیزی کی ایک دنیا قائل ہے۔
ائرپورٹ پہ چہل ہزار خرامی اور تصویر کشی سفر کی کسالت کم کر رہی تھی۔ اسلام آباد سے دوحہ اور پھر استنبول تک نشستوں کی تنگ دامنی کشادہ دل ہمسفروں، ساحر صاحب، بخت رواں صاحب، منیر ملک، ہاجرہ اور پیاری نسیم نے پوری کیے رکھی۔ ملک منیر صاحب اور جامعہ کے ہونہار نوجوان، کامران میر گروپ میں حسب مراتب سامان درد شکم و کمر کو راحت میں بدلنے کے لئے کوشاں رہے۔
ھم کھانے کی ٹرالیاں دھکیلتی مشرق قدیم حبشہ کی زمین سے آئی مسکراہٹیں بانٹتی میزبان کے حسن سلوک اور تعلقات اقوام عالم پہ بحث میں مگن رہے۔ یوں اس آہنی پرندے کے جھکولوں اور اپنے تادیر معلق ہونے کا احساس بھی کمتر رہا۔
یہ سفر جامعات استنبول و عنادولہ کی دعوت یادداشت باہمی کے نتیجے میں انعقاد پذیر ہوا۔ جس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اساتذہ اور دو تکنیکی ماہرین بھی شامل تھے
دوحہ سے استنبول تک رت جگا ہی رہا۔ جہاز جوں جوں باسفورس کے قریب آ رہا تھا دل کی دھڑکنیں کسی ٹائم مشین کے ذریعے عثمانیوں کے اسطانبول میں اترنے کی آرزو میں تھیں۔ پائلٹ باہر کم درجہ حرارت کی نوید کے ساتھ انتہائی ہموار لینڈنگ کے مرحلے میں تھا۔ بعد پہر یہ آہنی پرندہ کسی فاختہ کی سی سرعت سے زمین سے آ لگا۔
استنبول قدیم و جدید تاریخ کا طلسماتی شہر بن چکا ہے۔ خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے نسبتاً جوان انٹرپرینیور، طلبا اور پیشہ ورانہ افراد کے لیے۔ بقول مرشدی عبد العزیز ساحر ”اپنے نمانے مہمانوں“ کے لئے دامن دل وا کیا اور گندھارا کے تھکے ہارے مسافر سلطان ایوب کی قدم بوسی کو آن حاضر ہوئے۔
wyndham grand hotel کا انٹیرئر خوش رو میزبان، ”بہ وزن حور و غلمان“ اور زبان یار من کے علاوہ کھانوں کے ذائقے اگلے دو دن اجنبی ہی رہے۔ اگرچہ سامان شکم کم نا داری مگر بغیر شوربے کے سوکھے گوشت کے لقمے حلق میں پھنستے ہی رہے۔
باقاعدہ ڈنر کی خوراک ساٹھ فی صد میوہ جات اور سبزی پر مشتمل ہے۔ بھیڑ کے گوشت کے پارچوں، کباب اور چانپ کی قاب برصغیر پاک و ہند کی ہم شکل مقامی پتیری روٹی سے ڈھکی گرم گرم پیش کی جاتی ہے۔ لذیذ نمکین لسی اور تلخ قہوہ دنبے کے گوشت کے لازمی جز کو صحتمند جفاکش بدنوں میں ڈھالتے ہیں۔ ( شاید یہی دو مشروب ہمیں بھی شورش معدہ سے بچاتے رہے ) صدیوں سے پہلو بہ پہلو ساکنان یورپ و ایشیا سے مستعار لی گئی ذہنی مستعدی ہر جگہ نوجوان نسل میں نمایاں ہے۔ ٹورزم بطور صنعت اپنانے والوں کی اسکلز مقامی پیداوار اور وسائل پہ انحصار کی گہری غمازی کر رہا ہے۔ طویل سفر کے بعد ان تھک ساتھیوں کی تھکاوٹ ناشتے کی ہفت رنگی خوراک سے بھری میزیں دیکھ کے دور ہو گئی۔
صبح دم شیخ الجامعہ کی بیٹھک میں مختلف جامعات کے ساتھ باہمی تعاون کے اغراض و مقاصد کو حتمی شکل دی گئی۔ طویل مدت کے بعد جامعہ علامہ اقبال بین الاقوامی اور علاقائی تعاون برائے اعلیٰ تعلیم و تکنیکی تعلیمی ارتباط کی طرف متوجہ ہوئی۔ اجمال اس کا یہ ہے کہ شیخ الجامعہ اسلامی ملکوں کی فاصلاتی تعلیم کی کونسل کے نہ صرف نو منتخب صدر ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں کچھ بہترین کر گزرنے کی آرزو بھی رکھتے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے پروفیسر ہیں اور آفت کرونا میں یک دم تعلیمی عمل کی رکاوٹوں کے سدباب میں سب سے آگے بھی۔ اپنی جامعہ کو مختصر ترین وقت میں ”ڈیجیٹلائز“ کیا۔ اصول ایک ہی تھا نیت خالص اور ایمان کامل، قیام پاکستان کے مقدمے کو ایک درد مند پاکستانی ہونے کے ناتے قائد اور اقبال کے خوابوں کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ ٹیم بلڈنگ کے ماہر ہیں اور عزم جواں رکھتے ہیں ان کا ذوق اور حوصلہ ہمیں یورپ کے دروازے یعنی قدیم قسطنطنیہ کے گلیاروں اور چوڑی رہگزاروں پہ لے آیا۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
پہلا پڑاؤ جامعہ استنبول تھا۔ اندر داخل ہوئے تو تاریخ جیسے کتابوں کے صفحوں سے نکل کر ہمارے آس پاس رقص کرتی محسوس ہوئی۔ پندرہرویں صدی کے عثمانیوں کے ”ٹالرنٹ“ استانبول میں لمبے چغوں میں ملبوس درویش اور صوفی، خطاط اور نقش گر، جراح، قالین باف، عطر فروش مسجدوں، خانقاہوں اور قہوہ خانوں میں علم اور ایجاد کی تخلیق و تحسین میں مصروف تھے۔
فیکلٹی سے ملنے گئے تو جامعہ استنبول کی پر شکوہ عمارت اور چوڑی چوبی اور منقش چھتوں کو دیکھتے الفاظ کم پڑنے لگے۔ ریکٹر صاحب کی میٹنگ میں مہمان نوازی اور رکھ رکھاؤ ملت اسلامیہ کے پرانے وارثوں کی خوئے شاہانہ کا آئینہ دار تھا۔
موجودہ ترکی کی وضع قطع سطوت ماضی پر مبنی نئے خوابوں کی تعمیر کے ولولے کا امتزاج لگتی ہے۔ زبان غیر سے شرح آرزو نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اسلام اور پاکستانیوں سے محبت ان کا خاصہ رہی ہے اور مہمانوں کی دل جوئی وتیرہ ہے۔ جامعہ خلدون، تغواہ ( نوجوانان ترک فاؤنڈیشن) اور ایلکے فاؤنڈیشن کے سربراہان کا برادرانہ محبت کا اظہار اور مہمانان کی رخصتی تک ایستادگی اس امر کی دلیل لگی کہ حلقہ یاران کی حاضری اب بھی فولاد کو ابریشم بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔




