ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا


میری پیاری دوست عظمیٰ سلیم کافی عرصے سے اپنی خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ میں نے سفاری ٹرین کا سفر کرنا ہے اور تمہارے ساتھ ہی کرنا ہے۔ مگر چار دن کی فرصت آرزو کی خواہش میں لہولہان ہوتی رہی اور ہم اس لہو رنگ آرزو کو گلاب کی مہک سے آشنا نہ کر پائے۔ اب کی بار عظمیٰ سلیم نے اسلام آباد آنے سے پہلے ہی فون پر الٹی میٹم دے دیا کہ اس دفعہ سفاری ٹرین پر ضرور سفر کرنا ہے۔ سو میں نے بھی سوچا انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے اِن ریلوے اسٹیشنوں پر اکیسویں صدی کی کچھ اہل قلم دوستوں کو ضرور قدم رنجہ فرمانا چاہیے۔ اور اب اس خواہش کی تکمیل ہو جانی چاہیے۔

سب سے پہلے ڈاکٹر مقصودہ کو فون کیا۔ اُس نے نعرہ مستانہ سے اپنی یقینی شرکت سے آگاہ کر دیا۔ فریدہ حفیظ نے بھی کہا نعیم میں بھی ضرور جاؤں گی۔ چلتے چلتے ذہن میں آیا فرحین سے بھی پوچھ لیا جائے انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شرکت کی یقین دہانی کروا دی۔ پوچھا تو اور دوستوں سے بھی تھا۔ مگر ان کی اپنی اپنی مجبوریاں آڑے آ گئیں۔ سفاری ٹرین اتوار کو راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے اٹک خورد تک چلتی ہے۔ اس کا ایک ٹکٹ تو ساڑھے تین ہزار فی کس اور دوسرا پانچ ہزار روپے فی کس ہے۔ اس ٹرین میں اتنے پیسے خرچ کرنے سے پہلے سفر کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی، مگر انٹر نیٹ پر واجبی سی معلومات کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ دوستوں کے ساتھ سفر کرنے کے علاوہ مجھے تجسس تھا کہ اس سفر کے بارے میں تفصیل سے جانا جائے۔ دو تین سال پہلے میں بذریعہ کار اٹک قلعہ، اٹک خورد ریلوے اسٹیشن، اور پاس بہتے دریائے سندھ کو دیکھ چکی تھی۔ مگر ریلوے کی سفاری ٹرین کے تجربے سے گزرنا ہنوز باقی تھا۔

9 فروری بروز اتوار طے یہ ہوا۔ کہ عظمیٰ، اُن کی بہن رفعت، اور ڈاکٹر مقصودہ راولپنڈی اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہوں گی۔ اور فریدہ حفیظ، فرحین اور میں گولڑہ اسٹیشن سے شامل ہوں گی۔ ہم سب اپنے اپنے وقت کے حساب سے طے کردہ اسٹیشنوں پر پہنچ گئیں۔

صبح سویرے تو ہلکی خنکی تھی مگر دن چمکتے ہوئے سورج کے ساتھ طلوع ہوا۔ گولڑہ ریلوے اسٹیشن پر قدیم برگد کے درخت ایک خاص کیفیت میں لے جاتے ہیں۔ میں اور فریدہ حفیظ چونکہ حسب عادت پندرہ منٹ پہلے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی تھیں۔ گولڑہ ریلوے اسٹیشن پر ایک چھوٹی سی پیاری بچی ہمارے پاس آئی اور کچھ پیسوں کا تقاضا کیا۔ فریدہ نے کہا، نعیم اِس پر توجہ نہ دو۔ یہ ضرورت مند نہیں لگ رہی۔ فریدہ حفیظ بہت دور اندیش ہیں۔ عام طور پر میں اِن کے تجربے سے بہت مستفید ہوتی ہوں۔ مگر آج سرکش ہوتے ہوئے میں نے اُس بچی کو پاس بلایا اور گپ شپ لگانی شروع کردی۔ کیونکہ وقت گزارنے کے لیے یہ بہترین شغل تھا۔ اُس نے بتایا کہ باپ پشاور نوکری کرتا ہے، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی ہے۔ اور وہ خود سکول جانے کی بجائے ریلوے اسٹیشن پر مانگنے کے لیے آجاتی ہے۔ رونق میلہ دیکھتی ہے۔ اور تین چار سو روپے بھی کما کر لے جاتی ہے۔

ہم نے سوچا پیشہ ور بھکاریوں کی بھوک اُجاگر کرنے کے لیے ہم سب حصہ دار ہیں۔ ہم بحیثیت قوم کتنے غافل ہیں۔ بہرحال ہمیں ابھی ریلوے اسٹیشن پر گھومتے پھرتے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک وسل ہوئی اور سفاری ٹرین وقت مقررہ پر پہنچ گئی۔ ہم سب سہیلیاں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور خوب گلے ملیں۔ کچھ اور شناسا چہرے بھی نظر آئے، تو اُن سے بھی ملے۔ اور لبوں پر یہ گیت مچلنے لگا

تھکدی نی گڈیئے تو آندی ایں تے جاندی اے
کسے نوں وچھوڑدی ایں کسے نوں ملانی ایں
میرے وانگوں دیکھدی ایں بندہ رنگ رنگ دا
ٹانگے والا خیر منگدا

عظمی، فریدہ حفیظ اور مقصودہ خوب کوٹِڈ بُوٹڈ تھیں۔ انہیں سورج کی تمازت سے زیادہ فروری کی ٹھنڈی ہواؤں پر یقین تھا۔

اسٹیشن پر اترتے ہی ڈھول ڈھمکے والوں نے استقبال کیا اور دلچسپ بات یہ کہ دو لڑکے سپیکر اور مائیک پکڑے ہجوم کے ساتھ ساتھ اناؤنسمنٹ کرتے ہوئے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ یہاں انہوں نے اعلان کیا کہ اپنے دائیں ہاتھ پر واقع میوزیم کا وزٹ کر لیجیے، اور اس کے بعد ریلوے ٹریک کے دوسری طرف میوزیم بھی دیکھ لیجیے۔ قائداعظم کی بگھی بھی آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔ میوزیم تو سکون سے دیکھنے والی چیز ہے جو میں پہلے دیکھ چکی تھی۔ بہرحال ہجوم کے ساتھ ساتھ ہم بھی چلتے چلے گئے۔ ریلوے اسٹیشن کے دوسری طرف میوزیم اور میوزیم کے سامنے ڈھول کی تھاپ پر گھوڑے کا رقص بھی خوب تھا۔

اسی دوران اعلان ہوا اب آپ ٹرین کی طرف واپس آجائیں۔ واپس آنے کے لیے ٹرین ٹریک کو پیدل عبور کرنا تھا۔ میں اور فرحین ایک ساتھ کھڑے تھے کہ کچھ فاصلے پر ہماری طرف آتی ہوئی ٹرین نے و سل دی۔ فرحین نے میرا بازو پکڑا اور اعتماد سے کہا، چلیے ہم آسانی سے پار کر سکتے ہیں۔ ہم نے ریلوے لائن کو آسانی سے پار کر لیا مگر اب سوچتی ہوں ہمیں رُک جانا چاہیے تھا۔

ہمارے پیچھے مقصودہ اپنے پورے جاہ جلال اور رعب دبدبے سے لمبا کوٹ پہنے، گلے میں مفلر، ہاتھ میں چھڑی پکڑے اپنے دھیان میں چلی آ رہی تھی۔ ٹرین کافی قریب پہنچ چکی تھی مگر مقصودہ کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔ میں اور فرحین نے حالات کی سنگینی کا جائزہ لیا تو چیخنے لگیں۔ مقصودہ رُک جاؤ۔ مقصودہ رُک جاؤ۔ مگر مقصودہ کی رفتار بدستور قائم رہی۔ اچانک ریلوے کا ایک ملازم بھاگا اور اُس نے مقصودہ کو روکا اور ان کے قریب سے ٹرین گزر گئی۔ یا خدا یہ کیا ماجرا ہوا۔ ہم تو اچھے خاصے خوفزدہ ہو گئے۔

بہرحال ٹرین گولڑہ سے تقریباً ساڑھے نو بجے چلی۔ تھوڑی ہی دیر بعد تمام مسافروں کو ناشتہ دیا گیا۔ ناشتے میں دو بڑے ٹوسٹ، جیم، مکھن اور تھوڑا سا آملیٹ۔ آملیٹ پر میری اور فرحین کی بحث ہوتی رہی میرا خیال تھا کہ آدھے انڈے کی آملیٹ ہے فرحین کا خیال تھا نہیں انڈے کا چوتھا حصہ ہے۔ بہرحال ٹرین میں ناشتہ اور گرم چائے کا ملنا بہت اچھا لگا۔ پانچ ہزار کرائے والے پالر کی سیٹیں بہت اچھی تھیں۔ ارد گرد بیٹھے لوگ بھی مہذب تھے۔

ٹرین چلتی جا رہی تھی۔ مگر گرد و پیش کا منظر دلکش نہ تھا، نہ آبادی والی جگہیں صاف تھیں اور نہ ہی غیر آبادی والی۔ ریلوے حکام کو چاہیے کم از کم اپنی حدود میں کچھ درخت اور پودے ہی لگا دیں۔ میں گرد و پیش کو دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک جادو گر تماشا دکھانے کے لیے ڈبے میں آ گیا۔ بہت سارے تماشے اور جادو دکھائے۔ اپنی زندگی میں یہ پہلا شخص دیکھا جس نے تماشا دکھا کر بچوں کو بتایا کہ یہ جادو وغیرہ نہیں ہے، بلکہ میرے ہاتھوں کی تیزی ہے، اور یہ سب میری پریکٹس کا نتیجہ ہے۔

اس کے بعد ٹرین حسن ابدال اسٹیشن پر تھوڑی دیر کے لیے رکی۔ وہاں بھی ڈھول ڈھمکا، اور کچھ کارٹون کریکٹرز نے خوب رونق لگائی۔ سکھوں کی آمد کی وجہ سے حسن ابدال اسٹیشن کی تزئین و آرائش کی گئی ہے جو دیکھنے میں بہت اچھی لگتی ہے مگر یہاں باتھ رومز کی حالت ناگفتہ بہہ تھی۔ پانی کھڑا تھا اور پانی میں چھپ چھپ کر کے باتھ روم تک جانا اچھا خاصا تکلیف دہ تجربہ تھا۔ یہاں ٹرین پندرہ بیس منٹ ہی رکی۔ روانگی کے بعد چلتی ٹرین میں لائیو میوزک پیش کیا گیا۔ ہارمونیم اور ڈھولک پر رامیش نامی لڑکے نے خوب جم کر گایا۔

سفاری ٹرین اپنی منزل اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ یہ ایک چھوٹا لیکن خوبصورت ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہاں تقریباً دو گھنٹے ٹرین رکتی ہے کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ ٹرین اسٹیشن کی پچھلی طرف شامیانے لگے ہوئے تھے اور درمیان میں میزوں پر کھانا پروسا گیا۔ میرے خیال میں ڈیڑھ سو افراد کے لیے سرونگ پوائنٹ کم تھے۔ یہاں محمود و ایاز سب برابر تھے۔ کھانے میں کوئی بھگدڑ نہیں مچی۔ لوگوں نے بڑے ہی تحمل اور سکون سے کھانا لیا۔ کھانا ذائقے میں بہت اچھا تھا۔ چکن پلاؤ، قورمہ، رائیتہ، سلاد اور نان۔ البتہ پانی خریدنا پڑتا ہے۔ ڈسپوز ایبل برتنوں میں کھانا ذرا مشکل تھا۔ اگر مسافر اپنی پلیٹ، چمچ اور پانی لے جائیں تو بہت اچھا ہو۔ ڈیڑھ سو لوگوں کے لیے ریلوے اسٹیشن پر باتھ روم تو کافی تھے مگر ان میں پانی نہیں تھا، جس سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کافی کم تھا۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے تمام درخت اور پودے مٹی سے بھرے ہوئے تھے۔ اگر ریلوے باتھ رومز کو بہتر بنا دے اور بھلے موٹروے کی طرح پچاس یا سو روپیہ بھی وصول کر لے تو سفاری ٹرین کے اس تفریحی سفر کا لطف دوبالا ہو جائے۔

Facebook Comments HS